وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

دیکھا رخِ برادر، دل کو قرار آیا

    دیکھا رخِ برادر، دل کو قرار آیا شبیرؑ کو وفا کا اب اعتبار آیا تاجِ الوہیت کا تاجِ وفا ہے مظہر وہ تاجدار لایایہ تاجدار آیا جوہر پرکھ رہی ہیں جو ہر شناس نظریں معصومۂ وفا کی گردن کا ہار آیا تنہائیوں میں کب سے دن رات کٹ رہے تھے لے اے فرات، تیرا اک غمگسار آیا شبیرؑ کا تقابل یوسفؑ سے کرنے والو یوسفؑ کو بھائیوں پر کب اعتبار آیا حیدرؑ کے لاڈلے کو بڑھنے تو دو جہاں میں اترائے گی وفا بھی وہ جاں نثار آیا تاریخ میں اکیلا عباسؑ وہ جری ہے جو تشنگی میں ٹھوکر پانی پہ مار آیا بیٹے کے رُخ سے ہٹ کر اُم البنین دیکھیں روئے حسینیتؑ پر کیسا نکھار آیا