باطل کی سمت آنکھ اٹھائی نہ بھول کے
باطل کی سمت آنکھ اٹھائی نہ بھول کے شبیرؑ آدمی تھے بڑے ہی اصول کے کرتے تھے ہم علیؑ کی فضیلت کا تذکرہ کیوں نقش بولنے لگے دوشِ رسولؐ کے آلِ ؑرسولؐ ختم نہ ہو گی جہان سے کوئی مٹا سکا ہے کہیں رنگ پھول کے جوش عمل بہ صورتِ زینبؑ عیاں ہوا جوہر کھلے ہیں شام میں ذہنِ بتولؑ کے سیدانیوںؑ کے رُخ کے لئے بن گئی نقاب قربان اہلِ بیت ؑکے رستوں کی دھول کے انسانیت کو اپنا لہو دیں نہ کیوں حسینؑ پالے ہوئے ہیں یہ بھی نگاہِ رسولؐ کے ظالم سے کیجئے نہ وفا کی کوئی اُمید نکلا ہے کب گلاب شجر سے بُبول کے ممکن ہے روزِ حشر خدا خود کرے سوال آنسو کہاں کہاں پہ گرے ہیں بتولؑ کے