جس میں ہر قوم کا افادہ ہے
-
جس میں ہر قوم کا افادہ ہے وہ حسینیؑ نظر کا جادہ ہے کربلا میں نہ کیوں ہو گلگونی خاک کم ہے لہو زیادہ ہے مسکراتے ہیں کھا کے تیرِ ستم قلبِ اصغر ؑ بڑا کشادہ ہے رن کو اصغرؑ چلے ہیں یوں جیسے فتحِ کونین کا ارادہ ہے سن تو اصغرؑکا کم بہت ہے مگر اس کے خوں کا اثر زیادہ ہے مر تو سکتا ہے جھک نہیں سکتا یہ محمدؐ کا خانوادہ ہے آج قومیں جو مانگتی ہیں حقوق کربلا سے یہ استفادہ ہے اس میں کٹتے ہیں دونوں ہاتھ وحید سخت مشکل وفا کا جادہ ہے