وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

کیا اسے تشہیر کا احساس ہو

    کیا اسے تشہیر کا احساس ہو چادرِ تطہیر جس کے پاس ہو کیوں علیؑ کی بیٹیاں گھبرائیں گی جب تحفظ کے لیے عباسؑ ہو دل میں ملتی ہے ولائے پنجتنؑ شرط ہے وہ دل بھی نہ اپنے پاس ہو کیوں نہ بچے روئیں اس کی موت پر پیاس میں پانی کی جس سے آس ہو کہہ رہی ہے سب سے آغوشِ ربابؑ ماں کا بیٹا ہے تو ماں کے پاس ہو الفت ِشبیرؑ کی یہ شرط ہے قول میں کردار کی بو باس ہو جبر میں ڈھلتا ہے شاہی کا مزاج جب قلم نامحرمِ قرطاس ہو پھر نظر آیا نہ بعدِ کربلا ایک سجدہ دیں کا جو عکاس ہو