وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

جذبہ غمِ حسینؑ کا ناکام ہی نہیں

    جذبہ غمِ حسینؑ کا ناکام ہی نہیں یہ وہ سحر ہے جس کی کوئی شام ہی نہیں حیوانیت کے ذیل میں ڈھونڈو یزید کو انسانیت کی فرد میں یہ نام ہی نہیں اتنی حسینیتؑ کی ہے کونین پر گرفت آئے نہ کربلا سے تو پیغام ہی نہیں اسلام کے پیامِ محبت نواز میں شامل نہیں حسینؑ تو اسلام ہی نہیں عشقِ غمِ حسینؑ کی ہے ایک ہی فضا اس سرز میں پہ گردشِ ایام ہی نہیں اب یوں گزر رہے ہیں مسلماں کے رات دن جیسے کہ اس جہاں میں کوئی کام ہی نہیں اہلِ ستم کی کس سے شکایت کریں ربابؑ گودی اُجڑ گئی ہے تو آرام ہی نہیں ہم اس دیارِفکر سے بیزار ہیں وحید قاتل جہاں بھی موردِ الزام ہی نہیں