یہ قیدِ غم یہ تمنائے مختصر ہے بہت
یہ قیدِ غم یہ تمنائے مختصر ہے بہت مرے لئے میرے مولاؑ کا سنگِ در ہے بہت انہیں سے ہوتی ہے سیراب کشتِ اہلِ عزا یہ دیکھنے میں ہیں آنسو مگر اثر ہے بہت حسینؑ سے جو گریزاں ہیں ان کے سینوں میں خدا کا خوف ہے کم آدمی کا ڈر ہے بہت بڑے خیال سے چنئے غمِ حسین کے پھول کہ باغ دہر میں کانٹا اِدھر اُدھر ہے بہت بڑا وقار ہے آلِ عباؑ کی چوکھٹ کا ادھر سے ہو کے جو آئے تو معتبر ہے بہت بڑھی ہوئی ہے طلب کی حدوں سے حدِ عطا ہزار در کو کریں کیا کہ ایک در ہے بہت یہ ریسماں، یہ رنڈا پے کی سختیاں کیسی ربابؑ کو تو فقط اک غمِ پسر ہے بہت سپاهِ شام سے لڑنے چلا علی اصغرؑ یہ شاہزادہ ٔکرب و بلا نڈر ہے بہت