زنجیر سفر
تکمیلِ سفر کیجئے زنجیر ِ سفر سے آلام کا رُخ موڑئیے زخموں کی سپر سے دنیا کی نظر کاٹیے شمشیرِ نظر سے ظلمت کا گلا گھونٹیے مقتل کی سحر سے یوں سجدۂ صد شکر ہو زنداں کی زمیں پر تقدیس کا ہر نقش اُبھر آئے جبیں پر اثنائے سفر پاؤں میں پڑ جائیں جو چھالے احساس کے سورج سے برس جائیں اُجالے تلووں کا لہو درد کو یوں پیار سے پالے کانٹوں پہ قدم آئیں تو جبریلؑ سنبھالے گردش کا عمل دیدۂ حیراں کی طرح ہو ہر موجِ خلش تختِ سلیماںؑ کی طرح ہو زنجیر کی جھنکار سناتی ہو مسلسل ناقص غم تقدیر ہے، تدبیر ہے اکمل جو فخر یداللہ ہیں وہ ہاتھ ہیں افضل انسان کی ہتھیلی میں ہے کونین کی جدول ہر سانس میں کردار کا اعجاز دکھا دے بیمار ہو ایسا کہ مسیحا کو دوا دے دیوارِ ستم سے نہ رُکے عزمِ مسافر دُرّوں کی ہو بارش تو رہے صبر پہ قادر تپتے ہوئے صحرا پہ تفکر نہ ہو ظاہر انگاروں پہ ہنس ہنس کے چلے دین کی خاطر آزادیاں ہر حلقۂ زنجیر میں بھر دے قیدی ہو مگر خضرؑ کو منزل کی خبر دے نیزوں پہ ہو ہمراہ عزیزوں کے کٹے سر ناموس کے ہاتھوں میں رسن، درد کا منظر سائے کی جگہ سر پہ کڑی دھوپ کی چادر غیرت کی جوانی کا پسینہ ہو جبیں پر جب یوں کوئی پابندِ مسافت نظر آئے انسان کو معراجِ قیادت نظر آئے برسائے فلک آگ جہاں روئے زمیں پر چہرہ ہو مسافر کا وہاں سورۂ کوثر انگاروں کے صحرا میں جہاں عقل ہو ششدر ظاہر ہو وہاں ہمتِ انساں کا سمندر سیرابیِ احساس وہ اعجاز دکھا دے ٹپکے جو پسینہ تو وہیں پھول کھلا دے کیا شے ہے دہکتے ہوئے ذرات کا طوفاں خُلت کا دوشالہ ہو تو کھلتا ہے گلستاں جھلسائے گی کیا خاک اسے آتشِ دوراں بن جائے عبا جس کے لیے رحمتِ یزداں گُل پاشی رفتار پہ اتنا تو یقیں ہو پڑ جائیں جہاں پاؤں وہیں خلدِ بریں ہو زیبا ہے اسے خواہشِ تسخیر ِزمانہ جو ضبط سے بدلے رُخِ تدبیرِ زمانہ پڑھتا ہے وہی گردشِ تحریرِ زمانہ اک آہ سے جو کاٹ دے زنجیر ِزمانہ ڈرتا نہیں وہ شخص مصائب کے سفر سے جو تول لے دنیا کو پیمبرؐ کی نظر سے مقصد ہو اگر ارفع و اعلیٰ تو سفر حق منزل کا یقیں جس سے ہو پیدا وہ خبر حق مانے جسے قرآن وہی راہ گزر حق حق یہ ہے کہ معصوم کی ہر فکر ہے برحق ظالم کی کمر توڑ دے مظلوم وہی ہے عصیاں کی زباں کاٹ دے معصوم وہی ہے پردیس میں جب آئے مسافر کو وطن یاد جب صدق بیانی پہ ہنسے ظلم کی روداد غالب ہو جہاں حوصلۂ شکر پہ فریاد اسلام وہاں کہتا ہے یا سیّدِ سجادؑ جو دشمنِ جاں ہیں انہیں اُلفت کا سبو دے کانٹوں کی زباں خشک ہے تلوؤں کا لہو دے اسلام کی آواز پہ فطرت کا جریدہ شخصیتِ سجادؑ کا پڑھتا ہے قصیدہ تحریر میں آتے ہیں وہ اوصاف ِحمیدہ خود کہتی ہے انسان سے ہر نظمِ شنیده کہیے جسے اعجاز وہ توصیف یہی ہے جبریلؑ بھی تھک جائیں وہ تعریف یہی ہے آفاق میں سجدوں کا بھرم سیّدِ سجادؑ دنیا کے لیے ابرِ کرم سیّدِ سجادؑ ہاشم کے قبیلے کا حشم سیّدِ سجادؑ قدرت ہے بیاں زورِ قلم سیّدِ سجادؑ ہر رُخ سے محمدؐ کی سیادت میں ڈھلے ہیں یہ وحیِ الٰہی کے سفینے میں پلے ہیں محبوبِؐ خدا کے دل و جاں سیّدِ سجادؑ حیدرؑ کی جلالت کا نشاں سیدِ سجادؑ قرآن ہے خاموش زباں سیّدِ سجادؑ کفار کے نرغے میں اذاں سیّدِ سجادؑ آئینہ اسلاف ہیں، نورِ ازلی ہیں یہ اور نہیں اپنے زمانے کے علیؑ ہیں تہذیب کی معراجِ نظر سیّدِ سجادؑ تقدیس کی تکمیلِ سفر سیدِ سجادؑ نسلِ بنی ہاشم کا شجر سیّدِ سجاد شبیرؑ ہیں کعبہ تو گہر سیّدِ سجادؑ ایسا شہِ خوشخو کہ پسند آیا سبھی کو یہ وہ عربی، ناز ہے جس پر عجمی کو تدبیرِ عجم، فکرِ عرب سیّدِ سجادؑ صورت گرِ ہر علم و ادب سیدِ سجادؑ تکوینِ دو عالم کا سبب سیدِ سجادؑ ہمت کا خدا بندہ ٔرب سیدِ سجادؑ بے لوث عبادت کا اثر پوچھ لو اُن سے جو غیب میں پنہاں ہے خبر پوچھ لو اُن سے پابندِ مشیت رہو پیغام ہے اُن کا اُمت کی جفاؤں پہ دُعا کام ہے اُن کا اللہ سے مشتق ہے علیؑ نام ہے اُن کا ہم آج مسلماں ہیں یہ انعام ہے اُن کا بندے جو شریعت کی زباں بول رہے ہیں سجادؑکے سجدوں کے نشاں بول رہے ہیں انسان کو معیارِ وفا ان سے ملا ہے اسلام کو عرفانِ بقا ان سے ملا ہے قرآں کو فصاحت کا مزا ان سے ملا ہے ہر دور کے بندوں کو خدا ان سے ملا ہے حیدرؑ کی طرح نطق میں طاقت سمٹ آئے یہ کہہ دیں تو ڈوبا ہوا سورج پلٹ آئے آفاق میں یہ سبطِ پیمبرؐ کی دُعا ہیں عقدوں کی ہے آواز کہ یہ عقدہ کُشا ہیں معیارِ امامت ہیں، نبوت کی ادا ہیں یہ عینِ خدا، وجہِ خدا، دستِ خدا ہیں صدموں میں کوئی یادِ خدا پوچھ لے ان سے زنجیر پہن کر بھی وغا پوچھ لے ان سے آلام رہے حضرتِ یوسفؑ کے مقابل ماحول کی سازش سے پریشان رہا دل تکذیب سے ہرگز نہ دبا جذبۂ کامل لیکن ہے جدا یوسفِ شبیرؑ کی منزل زندان میں سجادؑ وہ عصمت کا نگیں ہے الزام تو کیا، جرأتِ الزام نہیں ہے طفلی میں ملا حیدرِؑ کرار کا سایا شبرؑ نے قناعت کا سبق ان کو پڑھایا شبیرؑ نے بھی صبر کا شہکار بنایا زینبؑ نے بڑے پیار سے ہر ناز اُٹھایا کب اہلِ جہاں ان سے مراتب میں بڑھے ہیں یہ سایۂ تطہیر میں پروان چڑھے ہیں اسلاف میں دیکھو تو سبھی ضیغم و صفدر ہاشمؑ سا اولوالعزم ،محمدؐ سا پیمبر ایمان کے دو مہر مبیں حمزہؑ و جعفرؑ داداؑاسد اللہ، ولی، فاتحِ خیبر باپ ایسا کہ اسلام کے گلشن کی نمو ہے ماں ایسی کہ خاتونِ قیامت کی بہو ہے خاتونِ قیامت کی بہو پیکر ِعفّت فطرت میں بسائے ہوئے خوشبوئے عدالت آغوشِ تجسس میں لیے جلوہ ٔوحدت آئیں جو مدینے تو ملی عرش کی عظمت تائیدِ من اللہ سے کامل نظر آئیں شہزادیٔ عادل تھیں تو عادل کے گھر آئیں ڈالی سرِ اقدس پہ یداللہؑ نے چادر شبیرؑ سے وہ عقد، وہ معراجِ مقدر آنکھوں کی ضیا جلوہ گہِ سبط ِپیمبرؐ انوار کی بارش ہوئی تاریخِ عجم پر بانو نے شرف پایا ہے شبیرؑ کے دم سے مہتاب کو ضو مل گئی خورشیدِ حرم سے انگشتری بانوؑ میں نگیں سیّدِ سجادؑ اقدارِ شرافت کے امیں سیّدِ سجادؑ فخرِ فلک و فخر ِزمیں سیّدِ سجادؑ دو ملک کی تہذیب حسیں سیّدِ سجادؑ اس طرح کے انداز بہت کم نظر آئے اک پھول میں خوشبو کے دو عالم نظر آئے کسریٰ کی عدالت، بنی ہاشم ؑکی شجاعت سجادؑ کی رگ رگ میں ہے دونوں کی صداقت اک ہاتھ میں دنیا کو اُلٹ دینے کی قوت اک ہاتھ میں وحدت کا علم بارِ امانت یہ تاب و تواں شام کے بازار سے پُوچھو دربار میں زنجیر کی جھنکار سے پُوچھو یادِ غمِ شبیرؑ سے پلکوں پہ چراغاں زخموں کی طرح کیفیتِ شام غریباں تکمیل وفا کر گئے عاشور کے مہماں اب سیدِ سجادؑ تھے اور صبر کا میداں ہلچل ہوئی دربار میں انداز و ادا سے حاکم کا جگر کاٹ دیا تیغِ دُعا سے حاکم کی یہ خواہش تھی کہ سب کر لیں زباں بند مخلوق کی تبلیغ ہو، خالق کی اذاں بند کھل جائے خوشامد کی دکاں کارِ جہاں بند غوغا ہو حکومت کا امامت کا بیاں بند خوں پی لیا ظالم نے بہتّر شہداء کا اک وار مگر سہ نہ سکا تیغِ دُعا کا تاریکیٔ شب اور وہ سجادؑ کی آہیں دشمن کے لیے بھی وہ ہدایات کی راہیں ہر خستہ و بیمار پہ اُلفت کی نگاہیں زخمی کے لیے مرہمِ احساس کی بانہیں جب دین مٹانے سگِ دنیا نکل آئے یہ مثلِ نبی لے کے صحیفہ نکل آئے جس دور میں ہو صدق بیانی کی سزا موت تشہیر جفاؤں کی ہو، کہلائے وفا موت احکامِ بشر زیست ہوں، احکامِ خدا موت جب آلِ پیمبرؐ کے لیے قید ہو یا موت اس دور میں شمشیر نہ خنجر نہ وغا ہے دنیا کی ہدایت کے لیے صرف دُعا ہے اس واسطے سجادؑ نے یہ تیغ اٹھائی منظور تھی افکارِ مسلماں کی بھلائی مومن پہ اگر کوئی مصیبت کبھی آئی ہو سکتی ہے ہر دل میں دعاؤں کی رسائی حاکم کی نظر دل کی اداؤں پہ نہیں تھی تقریر پہ بندش تھی دعاؤں پہ نہیں تھی سجادؑ کا گریہ بھی نہیں ضعف ارادہ یہ چُپ رہے صدمہ ہوا جس وقت زیادہ خود آپ نے منظور کیا صبر کا جادہ ورنہ علویؑ غیظ کا کرتے جو اعادہ رستہ بھی نہ ملتا کہیں مغرور سروں کو رہ جاتے سمیٹے ہوئے جبریل ؑپروں کو مقصود یہ تھا فوت نہ ہو دین کا مقصد اُلجھے نہ کہیں سلسلۂ فکرِ اب وجد محفوظ ہو ہر طرح سے اسلام کی سرحد قرآں سے جدا ہو نہ کبھی آلِ محمدؐ طوفانِ حوادث میں کہیں رُک نہیں سکتا مر سکتا ہے سجادؑمگر جھک نہیں سکتا سجادؑ کا مقصد تھا کہ ہوں کذب و ریا ختم بے جرم کو ملتی ہے جو نا گفتہ سزاختم قرآن کے تفہیم کی خود کار فضا ختم ذہنوں نے بنائی ہے جو تصویر خدا ختم خود ساز حدیثوں کے اداروں کے ہوں دَر بند جو مومن و کافر کو کہے ایک، نظر بند یہ ملت اسلام کے کیسے ہیں بہی خواہ رستہ ہے الگ قوم کا ان کی ہے الگ راہ پابندِ عدالت، نہ شریعت سے ہیں آگاہ دل پیرو ابلیس، زبانوں پہ ہے اللہ سب کچھ انہیں معلوم ہے، انجان نہیں ہیں اسلام کی حد میں ہیں مسلمان نہیں ہیں سجادؑ پہ بے حد تھی گراں دہر کی حالت تھی شام میں محصور مدینے کی قیادت اشراف پہ وہ فاسق و فاجر کی حکومت سازش سے بگاڑی ہوئی اسلام کی صورت کیا حال ہو اُن کا یہ ستم جن پر پڑے ہیں مند پہ لعیں بیٹھے ہیں سجادؑ کھڑے ہیں سجادؑ سمجھتے تھے کہ عیّار ہے دشمن گفتار کے پردے میں ہے کردار کا رہزن اسلام تو ہونٹوں پہ ہے دل کفر کا مامن تاحدِ حکومت ہے زر و مال کا دامن ذہنوں میں بھری نسل پرستی کی ہوا ہے ہر شخص کا اِک اپنا نبی، اپنا خدا ہے یہ فکر اُمید تھی شہیدوں کے لیے ننگ صحرا میں ہوئی شام ومدینہ کی فقط جنگ قربانیاں دینے سے بھی بدلہ نہ کوئی رنگ اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا جیت گیا سنگ احسن نہیں اقدام یہ دنیا کی نظر میں شبیرؑ نے خود آپ کو ڈالا ہے خطر میں سجاڈ نے ہر دَرد بھرے دل سے یہ پوچھا کیا اپنے حرم بھی کوئی میدان میں لایا دل ہے تو کوئی باپ بتا دے مجھے اتنا کس جنگ میں آیا کوئی بچہ کوئی جھولا تاریخ سمجھتی ہے مفادات ِعدو کو ہر دَور کے قاتل نے چھپایا ہے لہو کو شبیرؑ نے خود نفس کو خطرے میں نہ ڈالا اسلام کی عظمت کو ضلالت سے نکالا انسان کوپہنا کے تقدس کا دوشالا جلتے ہوئے خیموں میں نئی نسل کو پالا تم کہتے ہو مقتول حسینؑ ابنِ علیؑ ہے تلوار تو اسلام کی گردن پہ چلی ہے شبیرؑ کا خیمہ نہیں، یہ گھر ہے خدا کا ہے خانۂ زہراؑ کی زمیں عرش ِمعلیٰ زینبؑ کو نہیں، چادرِ تطہیر کو لوٹا اصغرؑ نہیں، تڑپا ہے محمدؐ کا کلیجا میدان میں جو برچھی صفِ اعدا سے چلی ہے اکبرؑ نہیں، قرآن کے سینے میں لگی ہے مقتل میں جو تھا مقصدِ شبیرؑ وہی ہے آلوده بخوں نقش ہیں تصویر وہی ہے بکھرے ہوئے قرآن کی تفسیر وہی ہے خاموش دُعائیں ہوئیں تاثیر وہی ہے ذرّوں سے سمندر کی روانی نہ رُکے گی اے روکنے والو! یہ کہانی نہ رُکے گی ہر ظلم کا انجام ہے ظالم کی تباہی جاگے گا جب انساں تو بکھر جائے گی شاہی چھو سکتی نہیں نور کے دامن کو سیاہی میزان کی عظمت ہے فقط عدلِ الٰہی تہذیب کے ہر دَور میں بدنام رہے گی ہو گی نہ وہاں صبح، جہاں شام رہے گی سجادؑ کو یہ فکر کہ بیدار ہو انساں دنیا میں کرے حریت ِفکر کا ساماں ہر عہد میں کہلائے حقیقت کا نگہباں جاہل کی قیادت سے مسلسل ہو گریزاں تاریکیوں میں جس کا عمل رشک ِسحر ہے وہ امر ِالٰہی کی نگاہوں میں امر ہے شبیرؑ کے مقصد کا اثر ختم نہ ہو گا دنیا سے کبھی علم کا دَرختم نہ ہو گا قرآن کا خاموش سفر ختم نہ ہو گا یہ گھر ہے محمدؐ کا، یہ گھر ختم نہ ہو گا زردار کی محفل سے نہ بے زر کی گلی سے اسلام ملے گا تو حسینؑ ابنِ علیؑ سے شاید یہ سمجھتا ہے یزید ستم آرا اولاد پیمبرؐ کا نہیں کوئی سہارا بہتا ہے حکومت کی طرف وقت کا دھارا وہ لوگ فنا ہو گئے، اِس نے جنہیں مارا لیکن خبرِ شاہ ہدیٰ مٹ نہیں سکتی سجادؑ کے ہونٹوں کی دُعا مٹ نہیں سکتی جس بزم میں مقتول کا چھڑتا ہے فسانہ قاتل کو بھی کرتا ہے وہیں یاد زمانہ مقتول کا خوں جب کبھی لیتا ہے نشانہ کام آتا ہے قاتل کے نہ لشکر، نہ خزانہ عالم میں یہی فیصلۂ اہلِ خبر ہے قاتل کو بشر کہنا ہی توہینِ بشر ہے خاموشیٔ سجادؑ نہیں فکر کی پستی کیا ان کے مقابل کسی فرعون کی ہستی یہ ہاتھ اُٹھا لیں تو تزلزل میں ہو بستی کچھ بھی نہیں مغرور شہنشاہوں کی مستی پڑ جائے جو ہلکی سی شکن ان کی جبیں پر افلاک سے جبریلؑ اتر آئیں زمیں پر ظالم یہ سمجھتا ہے کہ سجادؑ ہے مجبور گفتار کی قوت بھی ہوئی جسم سے کافور وہ جذبۂ اظہارِ سیادت بھی ہوا دُور ممکن نہیں ٹھکرائے وہ اب شام کا منشور جس کا کوئی ثانی ہی نہیں ارض و سما میں وہ شیر ہے جکڑا ہوا زنجیر بلا میں سجادؑ نے اس فکر کے جادو پہ کیا وار دیکھا سوئے حاکم تو لرزنے لگا دربار شبیرؑ کے چہرے پہ نظر، لب پہ یہ گفتار زنجیر ہلائی تو ہلا مجمعٔ کفار حاکم کا کوئی حکم نہ منشور چلے گا اب دہر میں عاشور کا دستور چلے گا بیمار نے کچھ سوچ کے چتون جو چڑھائی سورج نے سُنی چرخِ چہارم کی دُہائی تصویر کا گھر چھوڑ کے صورت نکل آئی انگڑائیاں لینے لگی رہ رہ کے کلائی اس طرح جلال آیا تھا سجادؑ حزیں کو زینبؑ جو نہ ہوتیں تو اُلٹ دیتے زمیں کو زینبؑ نے کہا صبر ہی لازم ہے مرے لالؑ دل تھام کے پوچھو تو سکینہؑ کا ذرا حال کانوں کا لہو پونچھ دو مل جائے جو رُومال سر اپنا جھکائے ہے کہ چھوٹے ہیں ابھی بال رسّی سے گلا گھٹتا ہے تکلیف بڑی ہے یہ آپ نہیں، میرے سہارے سے کھڑی ہے دل پھٹتا ہے سنتی ہوں جو معصوم کراہیں معصوم کراہوں میں قیامت کی ہیں آہیں ہٹتی ہی نہیں باپ کے چہرے سے نگاہیں یہ کہہ کے اٹھاتی ہے کبھی ننھی سی بانہیں آ جائیے دامن کی ہوا دیجئے بابا نیند آئی ہے بیٹی کو سلا دیجئے بابا بچی نے بھری بزم میں ہلچل سی جو ڈالی گھبرا گئی ماں درد سے اک آہ نکالی سجادؑ نے رُخ پھیر کے زنجیر سنبھالی فرمایا کہ اے جانِ اخی نازوں کی پالی بھائی نے تحمل سے ہر اک ظلم سہا ہے گردن کا لہو دیکھ لو تلوؤں سے بہا ہے بھائی کے لیے میری بہن روک لو فریاد عمو کو کرو یاد نہ بابا کو کرو یاد افسوس کہ تاریخ سنائے گی یہ روداد پایا نہ کفن باپ نے زندہ رہا سجادؑ غم اس کا نہیں پاؤں میں زنجیر پڑی ہے غم یہ ہے پھوپھی مجمعِ اعدا میں کھڑی ہے بھائی کی اس آواز پہ چپ ہو گئی بچی لیکن سر ِدربار اک آواز یہ گونجی مل جائے یہ معصوم مجھےبہرِ کنیزی اب چہرہ ٔاسلام تھا اور غیظ کی سُرخی زور ِشہ ِمرداں کے سب آثار جلی تھے زنجیروں میں قیدی نہیں خیبر میں علیؑ تھے دربار میں گونجی ہوئی آواز کو روکا طوفان کا رُخ موڑ کے حالات کو بدلا اِک آہ بھری اور سر ِشبیرؑ سے پوچھا اب کیسے کروں صبر بتا دیجئے بابا یہ شدتِ غم بعد یتیمی تو نہیں ہے محضر میں سکینہؑ کی کنیزی تو نہیں ہے