حسین اور قربانی
وہم و گماں کے دشت میں حیراں ہے آدمی اک مستقل خیالِ پریشاں ہے آدمی! خود اپنی زندگی سے گریزاں ہے آدمی ہر دم شکارِ گردشِ دوراں ہے آدمی دوشِ نظر سے چادرِ غیرت اتار کے دُنیا لیے ہے دین کی توفیق ہار کے! خنجر ہے آدمی کے لیے آدمی کی بات! خودرفتگی کے زہر سے مضطر ہے کائنات کم ظرف چھینتا ہے گلوں سے زرِ حیات نقد ِحواس پر ہے خریدار ششجہات بگڑی ہوئی ہے بات خدا جانے کیا بنے اب آدمی کو فکر یہی ہے خدا بنے یہ فکر ہے جہاں کے لیے دردِ مستقل یہ فکر ہے خلافِ تقاضائے آب و گل یہ فکر ہے نگاہ کی دشمن رقیب ِدل انسانیت ہے آج اسی فکر سے خجل قدرت شعور پر نہ بھروسا شعار پر لب پر خدا خدا ہے نظر اقتدار پر رہزن کی اب یہ ضد ہے کہ رہبر کہیں اُسے مفلس یہ چاہتا ہے تو نگر کہیں اُسے قطرے کی آرزو ہے سمندر کہیں اُسے جاہل مصر ہے نفس پیمبر کہیں اُسے حکمِ امام اس کی نظر میں عناد ہے! اپنی روش غلط ہو تو وہ اجتہاد ہے کیا کیا فریب آپ سے کرتا ہے آدمی جینے کے اشتیاق میں مرتا ہے آدمی خود سازِ گمرہی سے گزرتا ہے آدمی تسکیں دیں رسول تو ڈرتا ہے آدمی اس کی نظر میں حق کا قرینہ کوئی نہیں دشتِ عرب ہے دل میں مدینہ کوئی نہیں کتنا حریص منصبِ دنیا ہے آدمی! غارت گری کی جھیل میں ڈوبا ہے آدمی جاگا اگر تو خواب میں جاگا ہے آدمی سلجھے ہوئے نظام سے الجھا ہے آدمی الزام رکھ رہا ہے خرد کی اساس پر حق پر اسے گماں ہے یقیں ہے قیاس پر مانند روز و شب ہے بیان و عمل میں فرق غربت کی گفتگو ہے تو پوشاک زرق برق! درسِ خودی زمانے کو خود بے خودی میں غرق خواہش یہ ہے کہ زیرِ اطاعت ہوں غرب و شرق اتنی ہوس کہ ذہن کا محور بھی چھین لے بس میں نہیں ہے ورنہ مقدر بھی چھین لے اب بھی رہِ نفاق پہ چلتا ہے آدمی! اب بھی گناہ کرکے مچلتا ہے آدمی اب بھی نفس کی آگ میں جلتا ہے آدمی اب بھی قدم قدم پہ بدلتا ہے آدمی دھندلا ہے دل کا آئینہ دنیا کی دھول سے اب بھی گلاب پست ہے کاغذ کے پھول سے ہر ذات اپنی ذات سے رسوا ہے ان دنوں عقبیٰ کے رخ پہ غازۂ دنیا ہے ان دنوں سستا بہت ضمیر کا سودا ہے ان دنوں غیرت کسی غریب کا لاشا ہے ان دنوں کتنا حسیں فریب نظر کھا رہا ہیں لوگ! دو کشتیوں میں پاؤں ہیں اور جا رہے ہیں لوگ ڈوبا ہوا ہے بحر انا میں مزاج ِدہر! اٹھتی نہیں لہو میں خلوص و وفا کی لہر جاری ہے دشت ذہن میں خود غرضیوں کی نہر پیتا ہے آج آدمی اپنے بدن کا زہر! ایثار جسم و جاں کی کوئی گفتگو نہیں اب کائناتِ دل میں فقط من ہے تو نہیں مومن کو یہ طریق رعونت ہے ناگوار مومن قبائے فخر کو کرتا ہے تار تار نخلِ وفا کو دے کے مقدس لہو کی دھار مومن خریدتا ہے خدا سے خدا کا پیار وہ چاہتا ہے مرضیِ حق پر نظر رہے کڑیل جواں پسر نہ رہے حق مگر رہے تسکین آرزو کا بھرم ہے جواں پسر باقی ہے یہ بھرم تو جواں ہے دل پدر ہر سخت مرحلے پر غرض مند ہے بشر دل کی کشش جدھر ہو نظر کا سفر ادھر لیکن وہی خلیل ہے وحدت کی راہ میں لائے جو اپنے لال کو خود قتل گاہ میں قربانی ِپسر سے نکھرتا ہے آدمی! قربانی ِپسر میں ہے منشائے ایزدی لاریب یہ نماز ہے تقدیرِ بندگی قربانی پسر ہے ادائے پیمبری حق ہے فضیلتوں پر فضیلت عطا ہوئی اس کے سبب نبی کو امامت عطا ہوئی کتنا نظر فروز ہے یہ جذبۂ حسیں! یہ کیفیت ہے عشق کی صہبائے انگبیں انسان ہے اسی کی بدولت فلک نشیں! اس کے طفیل عرش سے بالا ہوئی زمیں حق ان کے ساتھ ہے جو مٹے ہیں برائے حق ٹھہری ہے ایک نفس کی قیمت رضائے حق لیکن بشر کو اپنے سوا کچھ خبر نہیں اس طرح جی رہا ہے کہ جیسے بشر نہیں اہلِ نظر کے اشک رواں پر نظر نہیں غربت زدوں کی بات کوئی معتبر نہیں نظریں ہر ایک قلب پریشاں سے موڑ کے تصویر دیکھتا ہے یہ آئینہ توڑ کے یہ کیا حسن سرو و سمن اپنے واسطے غیروں کو دشت خارِ چمن اپنے واسطے دنیا کو دکھ سکونِ بدن اپنے واسطے پردیس دوسروں کو وطن اپنے واسطے! زندہ معاشرے میں اسیرِ مرض کہو! ایسے بشر کو کچھ نہ کہو خودغرض کہو! یہ کیا کہ ہر خیال کا محور ہو اپنی ذات یہ کیا کہ ہر نگاہ کا منظر ہو اپنی ذات یہ کیا کہ ہر خلوص کا جوہر ہو اپنی ذات یہ کیا کہ ہر بشر کا مقدر ہو اپنی ذات جو زندگی میں نفس کی خواہش سے دور ہے وہ آدمی امام ہے وحدت کا نور ہے قربانیوں کا حو صلۂ زندگی بڑھا قربانیوں سے سلسلۂ آگہی بڑھا! قربانیوں سے مرتبۂ عاشقی بڑھا قربانیوں سے دبدبۂ، آدمی بڑھا لا علم تھے ملک ہدفِ بے بسی بنے پچھتا رہے ہیں ہم بھی نہ کیوں آدمی بنے قرباں گہِ حیات میں رکھتے ہیں جو قدم ان کی نظر بہشت ہے ان کی نظر ارم رکھتے ہیں اپنے دل میں جو خلقِ خدا کا غم سائل تو کیا سوال کا رکھتے ہیں وہ بھرم سب کچھ وہ جان لیتے ہیں چہرے کے حال سے سائل کو بخش دیتے ہیں پہلے سوال سے قربانیوں کو ان کے لہو سے بقا ملی دستِ طلب کو شوخی رنگِ حنا ملی ایثار کے وجود کو روحِ عطا ملی کعبے کے قلب کو نظرِ کربلا ملی پھیلی فروغ بزم کی ضو رزم گاہ میں یہ دل بچھا گئے ہیں شہادت کی راہ میں بیدارئی عمل کا جو گھٹنے لگا وقار ہمدردئی نظر کا جو لٹنے لگا سنگار! چلنے لگی جو حق کے گلے پر چھری کی دھار! اہلِ فساد کہنے لگے صبر کو فرار کی سرکشی جو حرص و ہوس کے کمیت نے قربانیوں کو پیار کیا اہل بیت نے قربانیوں کا حسن مجسم ہیں اہل بیت عظمت ہے زندگی تو معظم ہیں اہل بیت! قربانیاں کرم ہیں مکرم ہیں اہل بیت دنیا اگر ہے زخم تو مرہم ہیں اہل بیت! ان کے عمل سے گلشنِ ہستی میں رنگ ہے ان کے بغیر صلح ہے کوئی، نہ جنگ ہے انسانیت کی پیاس بجھاتے ہیں اہل بیت! اجڑے ہوئے دلوں کو بساتے ہیں اہل بیت پہلو میں غمزدوں کو بٹھاتے ہیں اہل بیت آنسو رکیں تو خون بہاتے ہیں اہل بیت تالیف دل میں شب سے سحر ہو گئی انہیں! آنسو بہے کسی کے خبر ہو گئی انہیں دنیا سے اپنا درد چھپاتے ہیں اہل بیت زخموں کے پھول تن پہ سجاتے ہیں اہل بیت تاریکیوں میں راہ دکھاتے ہیں اہل بیت! قندیل حق لہو سے جلاتے ہیں اہل بیت حق کی طرف سے شاہد مطلقِ ہیں دین پر ساکن یہ عرش کے ہیں بسے ہیں زمین پر قربانئ حیات کو اب ڈر نہیں رہا ذہنوں کو خوفِ ناؤک و خنجر نہیں رہا عزمِ خلیل رہ گیا آذر نہیں رہا آئینہِ حق ہے دین ِسکندر نہیں رہا ایثار کی کماں کو نئے تیر مل گئے قربانیاں اداس تھیں شبیر مل گئے شبیر کے حصار میں قربانیاں بڑھیں سامان لے کے بے سروسامانیاں بڑھیں! حد سے سوا جو کذب کی جولانیاں بڑھیں تردید ظلم و جور کو سیدانیاں بڑھیں اہرام کفر و شرک کی بنیاد ہل گئی! قربانی حیات کو معراج، مل گئی! قانونِ زندگی کو حسینی نظر ملی مجروح فکر کو نگہِ چارہ گر ملی غیرت کو حق پسندیِ دردِ جگر ملی رہرو کو کربلا کی رہِ معتبر ملی اٹھی قضا حیات کا ساغر پئے ہوئے قربانیاں سمٹ گئیں مقتل لیے ہوئے ہمت کسی میں ہو تویہ انداز روک لے انجام کی خبر دمِ آغاز روک لے! دم ہے تو جبرئیل کی پرواز روک لے ہاں اب کوئی حسین کی آواز روک لے لشکر کا زعم لے کے اگر آئے گا یزید! اصغر کے لب ہلیں گے تو مر جائے گا یزید! گزرے جہاں میں یوں تو شہیدانِ نیک نام اصغر پہ ختم ہو گئیں قربانیاں تمام وہ بے کسی کی دھوپ وہ تنہائیِ امام اک باپ ہے جو فوج عدو سے ہے ہم کلام سچائیوں کو عزم کا محور کیے ہوئے! قرآں کی شکل ہے علی اصغر لیے ہوئے! پانی کا نام لے تو حمیت کے ہے خلاف کچھ مانگنا غیور طبیعت کے ہے خلاف! پیچھے قدم ہٹیں یہ شجاعت کے ہے خلاف آواز دیں رباب کو غیرت کے ہے خلاف اپنی مثال منزل غیرت یہ آپ ہے! بیٹا سمجھ رہا ہے کہ مجبور باپ ہے!! یہ فکر تھی مدد میں تغافل کوئی نہ ہو معیار صبر و ضبط میں کوئی کمی نہ ہو نامِ علی کی دہر میں بے حرمتی نہ ہو در پر کھڑی رباب کہیں دیکھتی نہ ہو قرآن کو حسین نے کعبہ بنا دیا! بچے کو کربلا کی زمیں پر لٹا دیا! وہ گرم گرم ریت وہ جان و دل رباب صحرا میں دھوپ دھوپ کے صحرا میں اک گلاب تھا دیدنی زمیں کے مقدر کا آفتاب پوتا بنا ہوا تھا علی کا ابوتراب! کیا کیا گزر رہی تھی دلِ ما وطین پر ڈر تھا کہ آفتاب نہ اترے زمین پر شبیر کی پسر کے ارادوں پہ تھی نظر تنہا تھے امتحان ِوفا کے محاذ پر! ہموار کر رہے تھے شہادت کی رہگذر! کمسن پسر کا تول رہے تھے دل و جگر دنیا کو رنگِ عدل میں حیران کر دیا اصغر کو اور دین کو میزان کر دیا کچھ سوچ کر پسر کو اٹھایا حسین نے قرآن کو گلے سے لگایا حسین نے اصغر کی آستیں کو چڑھایا حسین نے بچے کو شہ سوار بنایا حسین نے یہ فکر سب کہیں کہ قیامت کا ڈھنگ ہے اصغر کی یہ دغا نہیں اکبر کی جنگ ہے اصغر پدر کی صدق بیانی سمجھ گئے الفاظِ بے صدا کے معانی سمجھ گئے! پیتے ہیں کیسے تیغ کا پانی سمجھ گئے! لائے ہیں کیوں حسین، کہانی سمجھ گئے شیر خدا کے زور کا منظر دکھا دیا خیبر رگِ گلو پہ اٹھا کر دکھا دیا! تیر ِاجل سے جذبۂ اصغر نہ چھپ سکا رنگِ مزاج ِ سورہ کوثر نہ چھپ سکا! گردِ خزاں سے حسنِ گلِ تر نہ چھپ سکا! ہارا یزید مقصد سرور نہ چھپ سکا! ناؤک چلا جو دشت میں کمسن شہید پر جا کر لگا دمشق میں قلبِ یزید پر! معصوم کے گلے سے اٹھی وہ لہو کی دھار سہمی اجل الٹ گیا میدانِ کارزار! دستِ پدر پہ فاتح احساس شیرخوار پروردگار صبر کی قوت بروئے کار! خاموشیوں میں حاصل گفتار مل گیا اصغر ہنسے تو شام کا دربار ہل گیا دست قضا نے کھول دیں بچے کی مٹھیاں گویا جہاں میں کھل گئے اسلام کے نشاں ہر اہل دل سے کہہ گئیں معصوم ہچکیاں! اب مقصدِ حیات ہے آوازِ بے زباں رنگِ بہار خونِ گل تر کا نام ہے! دینِ خدا شہادتِ اصغر کا نام ہے! زندہ ہے آسماں کی نظر میں یہ انقلاب زہرا کا آفتاب ہے اور سرخ ماہتاب احساس اک سوال ہے احساس اک جواب ننھی سی ایک لاش ہے یا درد کی کتاب! انسانیت کی فتح کا عنواں ہے سامنے اصغر نہیں ہیں صبر کا قرآں ہے سامنے چہرے پہ اپنے لال کا خوں اور جگر میں درد شبیر چپ کھڑے ہوئے بھرتے ہیں آہ سرد زخموں کو پیار کرنے لگی کربلا کی گرد! دیکھا جو اپنے چاند کے رخسار زرد زرد! پیکِ خیال قافلۂ دل میں آگیا صبر ِحسین اشک کی منزل میں آگیا آنسو گرے تو ہل گئی بنیادِ کائنات! گلہائے صبر دیکھ کے رونے لگی حیات ساحل کے ساتھ سر کو پٹخنے لگی فرات دشتِ بلا نے خاک اڑا کر کہی یہ بات! سبطِ رسول خیمے میں جائیں گے کس طرح بچے کی لاش ماں کو دکھائیں گے کس طرح شبیر نے نگاہ جو کی کائنات پر دیکھا رخِ رسول ہے تازہ لہو میں تر زہرا سنبھالتی ہیں کبھی دل کبھی جگر لیکن ابھی رباب کی جھولے پہ ہے نظر واقف ذرا نہیں ہیں مقدر کے پھیر سے گھبرا رہی ہیں گود جو خالی ہے دیر سے منصف مزاج ہے تو بتائے کوئی بشر اب کیا کہیں رباب سے سلطانِ بحر و بر بچے کے انتظار میں ماں ہے قریب در کس طرح لے کے جائیں وہاں میتِ پسر کس دل سے اب یہ جا کے بتائیں رباب کو اک سنگدل نے توڑ لیا ہے گلاب کو! ٹوٹے ہوئے گلاب پہ قربان ہے نگاہ پلکوں پہ آنسوؤں کی جگہ خونِ بے گناہ ماحول میں گھلا ہوا طوفانِ درد و آہ مظلومئی حسین ہے اور آخری گواہ! اک مسئلہ ہے دشت میں لخت جگر کی قبر ماں سامنے ہے کیسے بنائیں پسر کی قبر میت لیے، ہوئے جو بڑھے جانبِ خیام دل نے بہ اقتضائے مشیت کیا کلام مقتل میں اک نشبب ہے اس چاند کا مقام سوئے گا تھوڑی دیر وہیں اب یہ لالہ فام مسکن دہکتی ریت ہے اس ماہتاب کا دفنائیے زمیں میں کلیجہ رباب کا! مظلوم نے لحد جو بنائی تو ایک بار! کہنے لگے زمین سے اشک رواں کے تار! اے کربلا غریب کی دولت سے ہوشیار جھولے سے تیری گود میں آیا ہے شیرخوار ابن علی کو پیار ہے اس نور عین سے رکھنا ابو تراب کے پوتے کو چین سے رکھا لحد کی چھاؤں میں جب اپنا نور عین صحرا کی نذر ہو گیا اک ماں کے دل کا چین اس واقعے پہ کانپ گئی روحِ مشرقین! ہموار کرکے قبر کو کہنے لگے حسین! بے چین کیوں ہو نیزے پہ معراج پاؤ گے اصغر تم اپنے باپ کے ہمراہ جاؤ گے! تلوار نے کہا مری آنکھوں میں ہے لہو آلِ رسول قتل ہو زندہ رہیں عدو حیدر کا لال خونِ پسر سے کرے وضو یہ گرم ریت اور یہ اصغر سا ماہ رو! یا بو تراب دیر ہے کیوں انتقام میں ماں گھر میں بے قرار میں بے کل نیام میں خالی ہوئی جو ہاتھ، اٹھے سید الانام کچھ سوچ کر اٹھائے قدم جانبِ خیام آئے قریبِ در تو کیا اس طرح کلام سیراب ہو گیا مرا معصوم تشنہ کام! چین آیا اے رباب مہِ نصف سال کو جھولا جھلا رہی ہے زمیں تیرے لال کو اب درد و غم کی آخری منزل ہے اے رباب اصغر کا خون صبر کا حاصل ہے اے رباب مقتل میں اب حیات کا ساحل ہے اے رباب اب خنجروں میں فاطمہ کا دل ہے اے رباب کچھ دیر بعد خاک میں تیرا سہاگ ہے! شبیر کی نگاہ میں خیموں کی آگ ہے! (تمام شد) یہ مرثیہ ٢٨ جنوری ١٩٧٧ء کو ٤ بجے دن رضویہ اماہ باڑہ کراچی میں پڑھا گیا۔ وحید الحسن ہاشمی