وحید الحسن ہاشمی

وحید الحسن ہاشمی

ناموسِ وفا

    ماضی کا حال، حال کے منظر میں دیکھئے کل کا شباب آج کے پیکر میں دیکھئے جوہرصدف کا تابش ِ گوہر میں دیکھئے اوصاف ِانبیاؑ رُخِ حیدر میں دیکھئے دیروز ایک نقشِ غمِ نا تمام ہے امروز حُبّ آلِ محمدؐ کا نام ہے تہذیب کے چمن میں کھلے بے شمار پھول رنگينیِ جمال پہ دل سے نثار پھول صورت گہِ حیات کے آئینہ دار پھول بھاری ہزار خار پہ دو تین چار پھول اُکھڑی ہوا تو زیست کا نقشہ بگڑ گیا ہر خار ڈر کے پھول کی پتی میں گڑ گیا فکرِ بشر کے ڈھے گئے اک آن میں محل ٹوٹے ہر ایک گام پہ تخیل کے جبل ٹھوکر لگی نکل گئے سارے خودی کے بل کہتے تھے آج منہ سے نکلتا مگر تھا کل اپنے عمل کے تلخ نتائج سے ڈر گئے دہشت کے مارے موت سے پہلے ہی مر گئے دولت کو زندگی کی سمجھتے تھے جو اساس جن کے بدن پہ زر کی غلامی کا تھا لباس پھرتے تھے جو مآلِ تکبرّ سے بے ہراس اندھا کئے ہوئے تھی جنہیں مال و زر کی آس پلٹا ہوا کا رُخ تو مصیبت میں پھنس گئے خود اپنے ہی غرور کی دلدل میں دھنس گئے حُسنِ نظر، نظر کی کرامات کو زوال تابندہ مہ وشوں کی حکایات کو زوال انساں کی عدل سوز عنایات کو زوال خلاقیِ بشر کی روایات کو زوال ظلمت پرست فکر کے جادے فنا ہوئے جو ٹوٹتے نہ تھے وہ ارادے فنا ہوئے کلیوں کے لب پہ دَرد کا پیغام بھی فنا صبحِ طرب کی عیش طلب شام بھی فنا رحلت کے ساتھ سلسلہ ٔنام بھی فنا ہنگام کیا ہے جوششِ ہنگام بھی فنا نقشِ قدم ملیں گے نہ دن کے نہ رات کے اہلِ فنا میں دَور چلیں گے ممات کے لیکن ضیائے حُسنِ وفا کو فنا نہیں اُلفت کی دلنواز ادا کو فنا نہیں دردِ قلوبِ اہلِ ولا کو فنا نہیں عشقِ خدائے نازِ بقا کو فنا نہیں ٹھہرا کوئی نہ سوزشِ اُلفت کے سامنے سُورج ہے ماند شمعِ محبت کے سامنے بڑھتی ہے آندھیوں میں چراغِ وفا کی لو عالم کو جگمگاتی ہے اُلفت کی ایک ضو پیچھے خرد کا بحر ہے، آگے ہے دل کی رَو نفرت کا ایک نام ،محبت کے نام سَو جينا دراصل عشق میں جینے کا نام ہے انسانیت وفا کے قرینے کا نام ہے یہ زندگی، یہ رونقِ عالم وفا سے ہے فکر و نظر میں رشتۂ باہم وفا سے ہے بزم ِجہاں میں شر کا اثر کم وفا سے ہے مظلوم پر جفاؤں کا ماتم وفا سے ہے نام ِوفا بلند ہے دنیا جہان سے تہذیب بولتی ہے وفا کی زبان سے جس میں وفا نہیں وہ بشر کم نصیب ہے دولت یہ جس کے پاس نہیں وہ غریب ہے یہ رابطہ نہیں تو ہلاکت قریب ہے اس کے بغیر فطرتِ انساں عجیب ہے اس کا ہر اک جہاں میں بڑا احترام ہے اصلِ وفا خدا ہے، نبیؐ ہے ،امامؑ ہے حاصل جسے شعورِ وفا ہے وہ آدمی احساسِ عشق جس کوذرا ہے وہ آدمی اُلفت کی گود میں جو پلا ہے وہ آدمی جو دردِ لا دوا کی دوا ہے وہ آدمی مٹ جائے گر وفا کی نشانی جہان سے آنکھیں ملا سکے نہ زمیں آسمان سے آ کر دیارِ قلب سے جاتی نہیں وفا دل میں ذرا سا شک ہو تو آتی نہیں وفا اپنے قدم جما کے ہٹاتی نہیں وفا پیکار ہو تو پشت دکھاتی نہیں وفا ہر طرح سے سجا کے رُخ ما و طین کو چاہے تو آسماں پہ بٹھا دے زمین کو خالق کی بندگی کا سلیقہ یہی وفا ایمان کے حصول کا رستہ یہی وفا پیشانیِ حیات کا جلوہ یہی وفا انسانیت کا آخری سجدہ یہی وفا ان کی نظر میں دہر کی تحصیل زشت ہے اہلِ وَفا کے پاؤں کے نیچے بہشت ہے کعبے کی عظمتوں کا قرینہ وفا پرست سامانِ صد بہارِ مدینہ وفا پرست جسمِ تجلیات کا سینہ وفا پرست انگشتری ہے خلق نگینہ وفا پرست کیفیتوں کو قلب کی راہوں سے موڑ لیں چاہیں تو یہ گلاب سے خوشبو نچوڑ لیں انسانیت کے قلب میں سوغات ہے وفا سینے میں انبساط کی برسات ہے وفا ذہنِ بشر میں تاروں بھری رات ہے وفا نکلے نہ جو زبان سے وہ بات ہے وفا مرتا ہو اور دردِ جدائی نہ کہہ سکے یہ ہے وفا کہ بھائی کو بھائی نہ کہہ سکے تنہائیوں میں ذہن جو کھاتا ہے پیچ و تاب کِھلتا نہیں سکون کے گلزار میں گلاب گھٹتی ہے تابِ ضبط تو بڑھتا ہے اضطراب کھیتی پہ زندگی کے برستا نہیں سحاب اس دم وفا کی لاگ بچاتی ہے جان کو دیتی ہے رس حیات کا سوکھی زبان کو قدرت کا کائنات میں اک راز ہے وفا کعبے سے اشتیاق کا آغاز ہے وفا پیغمبری کی ہمدم و ہم ساز ہے وفا بنتِ اسدؑ کے شیر کی آواز ہے وفا منہ میں زباں نہیں ہے مگر بولتی ہے یہ حد ہے منافقت کا بھرم کھولتی ہے یہ آتا ہے انقلاب تو اٹھتی ہیں بدلیاں شمعِ وفا کو لیتی ہیں گھیرے میں آندھیاں اللہ رے اِک امام وفا کی وہ خوبیاں بٹتی ہیں ظلمتوں کو وفا کی تجلیاں جس پر معاویہ کے تصرف کی گھات ہے وہ سلطنت نہیں ہے، وفا کی زکوٰۃ ہے بنتی نہیں ہے صلح و محبت سے بات جب جب خون بے گناہ کا بہتا ہے بے سبب بڑھتا ہے جب جفا کے پرستار کا غضب جب اپنی سروری پہ اکڑتا ہے کم نسب جو ہر شرافتوں کے دکھاتی ہے پھر وفا مجبور ہو کے تیغ اُٹھاتی ہے پھر وفا تڑپی کبھی شبیہِ پیمبرؐ کے رُوپ میں اٹھی کبھی جلالتِ حیدرؑ کے رُوپ میں چمکی کبھی تبسمِ اصغرؑ کے رُوپ میں نکلی کبھی حسینؑ کی خواہر کے رُوپ میں بھائی نہ تھے تو دیں کی نگہدار بن گئی زینبؑ وفا کی قافلہ سالار بن گئی زینبؑ کی رہبری سے بڑھا دین کا وقار زینبؑ کی بیکسی نے کئے ظالموں پہ وار زينبؑ ضیائے چشمِ امامت کا اعتبار زینبؑ خزاں کے دور میں آئینہ ٔبہار رُوحِ عمل ہے عزم کی دنیا کا چین ہے بعدِ حسینؑ دہر میں زینبؑ حسینؑ ہے زینبؑ وفا کی منزلِ رفعت کا نام ہے زینبؑ شعور و فکر کی عظمت کا نام ہے زينبؑ حسینیتؑ کی حمایت کا نام ہے زینبؑ یزیدیت سے بغاوت کا نام ہے لُٹنے نہ دی عزیز کمائی حسینؑ کی زینبؑ نے خود لڑی ہے لڑائی حسینؑ کی زینبؑ کا نام مقصدِ اسلام کا پیام زینبؑ کا نام فکر کی تطہیر کا قیام زینبؑ کا نام امن کی کوشش کا احترام زینبؑ کا نام ضامنِ آزادیٔ عوام ٹوٹے ہوئے قلوب کی دم ساز بن گئی بنتِ علیؑ رسولؐ کی آواز بن گئی زینبؑ سوالِ ظلم کا بے ساختہ جواب زینبؑ قیامِ سطوتِ شاہی کا سدّباب زینبؑ ہے احتجاج کی اِک مستقل کتاب مرحب اگر یزید تو زینبؑ ہے بوترابؑ کیوں کر مقابلہ ہو بھلا ایسے وار کا اس کے بیان میں ہے اثر ذوالفقار کا زینبؑ ہے جسمِ عالمِ انسانیت کی جان زینبؑ کے نُور سے ہے عیاں پنجتنؑ کی شان زینبؑ جہاں میں مقصدِ شبیرؑ کی زبان زینبؑ نمازِ خالقِ کونین کی اذان زینبؑ کا نام جزوِ درود و سلام ہے زینبؑ نہیں تو ساری عبادت حرام ہے زینبؑ سے آدمی کے چلن کو بقا ملی زینبؑ سے ہمتِ بشری کو جلا ملی زینبؑ سے اہلِ درد کو سطحِ وفا ملی زینبؑ سے شام میں خبرِ کربلا ملی شاہی کے جم سکے نہ قدم تھر تھرا گئی زينبؑ حسینیتؑ کی صدا بن کے چھا گئی اسلام کے لباس میں شاہی تھی جلوہ گر دینِ خدا تھا دست ِحکومت میں بے اثر دُھندلا گئی تھی شام میں قرآن کی نظر بیٹھا تھا کفر مسندِ آلِ رسولؐ پر بس اک نظر سے وقت کے فرعون کٹ گئے زینبؑ بڑھی تو کفر کے سائے سمٹ گئے تشہیر غمزدوں کی جو تقدیر بن گئی زینبؑ حیا کی بولتی تصویر بن گئی اُمت کی فکر پاؤں کی زنجیر بن گئی زنجیر شانِ آیۂ تطہیر بن گئی زینبؑ کے رُخ پہ دیکھ کے جلوہ حسینؑ کا پڑھنے لگی حیات قصیدہ حسینؑ کا بڑھنے لگا تھا دہر میں نام و نسب کا زہر تھی ساحل عوام پہ حرص و ہوا کی لہر اخلاص کے ضمیر پہ تھا آدمی کا قہر لوگوں کے ذہن میں تھی رواں خودسری کی نہر قصر ِنمائشِ اُموی خاک کر دیا زینبؑ نے شیطنت کا گلا چاک کر دیا قاتل کو فکر تھی کہ جفا کی خبر نہ ہو مظلومیت کا قلبِ جہاں پر اثر نہ ہو تخریب کار کو کسی جانب سے ڈر نہ ہو مجرم کا اقتدار محلِ نظر نہ ہو زینبؑ مگر حریف جفا کار بن گئی پیشِ یزید آہنی دیوار بن گئی ہو رائیگاں حسینؑ کا غم کیا مجال ہے پرچم حسینیتؑ کا ہو خم کیا مجال ہے اُٹھیں شقی کے سبز قدم کیا مجال ہے زین العباؑ کا سرہو قلم کیا مجال ہے آئے تو کوئی قصدِ شہادت کے واسطے زینبؑ کھڑی ہے حفظِ امامت کے واسطے پھیلائیں لاکھ اہلِ ریا سازشوں کے جال باطل ہزار رُخ سے چلے مکروفن کی چال نخوت کے جس قدر بھی نمایاں ہوں خدو خال مردہ مگر یزید ہے، زندہ علیؑ کا لال ظلمت کی اس فضا میں اکیلا نہیں حسینؑ زينبؑ علم بدوش ہے تنہا نہیں حسینؑ خیر النساؑء کے دُودھ کی تاثیر دیکھنا گفتار سے جہاد کی تصویر دیکھنا قرآں لہو میں غرق ہے تفسیر دیکھنا قائد ہے اب حسینؑ کی ہمشیر دیکھنا ڈنکا حسینیتؑ کا بجے گا عوام میں جیتے گی کربلا کی لڑائی کو شام میں عباسؑ اب نہیں ہیں کہ دیکھیں بہن کی جنگ بالکل بدل گیا ہے جہادِ وفا کا رنگ طاقت نہ ہو تو یہ ہے لڑائی کا خاص ڈھنگ اس زینبیؑ جہاد پہ عقلِ یزید دنگ جور و جفا کی آخری دیوار توڑ دی زینبؑ نے دستِ ظلم کی تلوار توڑ دی شانے بندھے ہوئے ہیں مگر حوصلہ وہی سر پر رِدا نہیں ہے مگر دبدبہ وہی کیا کیا رکاوٹیں ہیں مگر راستہ وہی بھائی نے جو کہا تھا بہن کی صدا وہی یہ ارتباطِ فکر و نظر کا مقام ہے زینبؑ حسینیتؑ کی اشاعت کا نام ہے دنیا سمجھ رہی تھی کہ زینبؑ ہے مضمحل عباس ؑکے فراق میں ٹوٹا ہوا ہے دل دردِ جدائیِ علی اکبرؑ ہے جاں گُسل بیٹوں کا زخم قلب میں ہو گا نہ مندمل ہنگام ِامتحاں نہ الم ہے نہ آہ ہے زینبؑ کے لب پہ اشهَدُ اَن لا اِلٰہ ہے محبوس ہے مگر متزلزل قدم نہیں ظالم کا سامنا ہے مگر کوئی غم نہیں دل میں لگی ہے آگ مگر آنکھ نم نہیں بکھرے ہوئے ہیں بال مگر شان کم نہیں تیغِ زباں چلے گی اگر اژدھام میں اک اور کربلا نظر آئے گی شام میں اب ہے اسیرِ ظلم و شقاوت کا امتحاں دربار میں حسینؑ کی غیرت کا امتحاں بنتِ رسولِؐ پاک کی محنت کا امتحاں نامحرموں میں دین کی عزت کا امتحاں زینبؑ نے سر اُتار کے قاتل کی آن کا معیار کر دیا ہے بلند امتحان کا دل رکھ دیا تھا درد کے منظر کے سامنے زہراؑ بنی کھڑی تھی ستمگر کے سامنے لہرائی لاکھ تیغِ جفا سر کے سامنے زینبؑ جھکی نہ تمکنتِ شر کے سامنے ختم الرسلؐ نہ فاتحِ بدر و حنین سے بیٹی علیؑ کی داد طلب تھی حسینؑ سے طوفاں اٹھا جو قلب میں بھائی کی یاد کا خطبوں کی رُوح بن گیا جذبہ جہاد کا سیفِ زباں سے توڑ دیا سرعناد کا دل ہل گیا یزید کا، ابنِ زیاد کا جانے کو قید خانے میں وہ نوحہ گر گئی دربار میں حسینؑ کی مجلس تو کر گئی اب قید کی فضا میں عزاداریٔ حسینؑ ماتم بلا کی دھوپ میں تاریکیوں میں بین عابدؑ کی دیکھ بھال میں ٹھکرا کے دل کا چین زینبؑ تھی اور مقصدِ سلطانِ مشرقین سمجھا کے سطحِ صدق بیانی حسینؑ کی بچوں سے کہہ رہی تھی کہانی حسینؑ کی زنداں میں ضعفِ عابدؑ مضطر کا بھی خیال زخموں کی فکر، طوق کے لنگر کا بھی خیال اکبرؑ کا غم سکینہؑ کے گوہر کا بھی خیال بے پردہ بیبیوں کے کھلے سر کا بھی خیال خود کو بدل لیا تھا غموں کے نظام میں عباس ؑبن گئی تھی بہن، قیدِ شام میں اٹھا جو دَرد مادرِ اکبرؑ سے بات کی تڑپا جو قلب شاہ کی دختر سے بات کی آنسو رُکے تو عابدِؑ مضطر سے بات کی نیند آ گئی توشہؑ کے کٹے سر سے بات کی قابو جگر پہ رکھ نہ سکی اضطراب میں چوما بہن نے حلقِ برادر کو خواب میں پیہم صعوبتوں سے بدن ہو گیا تھا چُور چھلنی غمِ فراق سے تھا قلبِ ناصبور آتا تھا یاد اکبرِؑ گلفام کا شعور روتا تھا دُور ہو کے نظر سے نظر کا نور یہ غم تھا موت جانے کہاں دیکھتی رہی بیٹے کا دم نکل گیا، ماں دیکھتی رہی زنداں کا حبس اور وہ کعبے کے پاسباں زنداں کا حبس اور وہ ملت کے میہماں زنداں کا حبس اور وہ حیدرؑ کے قلب و جاں زنداں کا حبس اور وہ زہراؑ کی بیٹیاں آئیں مصیبتیں نگہ و دل کے سامنے زینبؑ مگر جھکی نہیں باطل کے سامنے