ایک نہ ایک دن
ایک نہ ایک دن
ترجمہ: فاروق حسن
سوموار کی گرم صبح بغیر بارش کے طلوع ہوئی ۔ علی الصباح بیدار ہونے کے عادی ، بغیر ڈگری کے دنداں ساز اور یلیوایسکو بار نے چھ بجے اپنا دفتر کھولا ۔ پلاسٹر کے سانچے میں نصب چند نقلی دانت اُس نے شیشے کی الماری میں سے نکالے اور مٹھی بھر اوزاروں کو اُن کی قامت کے مطابق ترتیب دے کر میز پر رکھا، یوں جیسے ان کی نمائش کی جانے والی ہو اور یلیو ایسکو بار نے بے کالر کی قمیض پہن رکھی تھی جس کا گلا سونے کی کیل سے بند تھا اور اُس کی پتلون کو گارٹرز نے اپنی جگہ پر سنبھالا ہوا تھا۔ جسمانی لحاظ سے وہ سوکھا ہوا آدمی تھا جو ہر وقت عموداً سیدھا کھڑا رہتا تھا اور اُس کے چہرے پر ایسا تاثر رہتا تھا جیسا عموماً بہرے لوگوں کے چہروں پر ہوتا ہے ، حالاں کہ اس تاثر کی اصل صورت حال سے مطابقت کم ہی تھی۔
اوزار میز پر ترتیب دینے کے بعد دانتوں کی صفائی کی مشین کو اپنی طرف کھینچ کر وہ کرسی پر بیٹھ گیا اور نقلی دانتوں کو چمکانے کے کام میں مصروف ہو گیا۔ اُس کا ذہن اپنی اس مصروفیت کے بارے میں ہر طرح کی سوچ سے عاری لگتا تھا ، لیکن وہ انہماک اور باقاعدگی سے ، ضرورت بے ضرورت ، مشین کو پاؤں کے پیڈل سے ہلاتا اور دانتوں کو چمکا تا رہا۔
آٹھ بجے کے بعد وہ تھوڑی دیر کے لیے رکا۔ کھڑکی سے باہر جھانک کر اُس نے آسمان کا جائزہ لیا اور پڑوس کے گھر کی چھت پر نصب آڑی چوب پر وہ مغموم گدھوں کو بیٹھے سورج کی گرمی میں اپنے پروں کو سکھاتے دیکھا۔ اُس نے اندازہ لگایا کہ دو پہر کے کھانے کے وقت سے قبل بارش ہونے کا امکان ہے، پھر وہ دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ اُس کے گیارہ سالہ بیٹے کی چیختی ہوئی آواز نے اُس کے انہماک کا تسلسل تو ڑا:
’’ پاپا‘‘۔
’’ ہاں؟“
’’باہر قصبے کا میئر آیا ہے، وہ پوچھتا ہے آپ اُس کا ایک دانت نکال دو گے؟“
’’ اُسے کہہ دو میں موجود نہیں ہوں۔“
وہ سونے کے ایک دانت کو چمکا رہا تھا۔ ہاتھ بھر کے فاصلے پر رکھ کر اور آنکھیں آدھی بند کر کے اُس نے دانت کو غور سے دیکھا۔ اُس کے بیٹے نے انتظار کے کمرے سے دوبارہ آواز لگائی:
’’ پاپا وہ کہتا ہے آپ موجود ہو، کیوں کہ وہ آپ کی آواز سن سکتا ہے۔“
دنداں ساز دانت کے معائنے میں مصروف رہا۔ کچھ دیر بعد اُس نے دانت کو دوسرے پالش کیے ہوئے دانتوں کے قریب میز پر رکھا اور بیٹے کو جواب دیا:
’’تب تو اور بھی بہتر ہے۔‘‘
اُس نے دوبارہ مشین کو چلانا شروع کیا۔ گتے کے ایک ڈبے میں سے ، جس میں سب طرح کی نامکمل چیزیں پڑی رہتی تھیں، اُس نے دانتوں کے پُل کا ایک حصہ نکالا اور اُس کے سونے کو چمکانے لگا۔
’’پاپا‘‘۔
’’ ہاں؟‘‘
اُس کے چہرے کے تاثر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔
’’ میئر کہتا ہے اگر آپ اس کا دانت نہیں نکالو گے تو وہ آپ کو گولی مار دے گا۔“
کسی قسم کی عجلت دکھائے بغیر اس نے اطمینان سے مشین کے پیڈل کو ہلانا بند کیا اور اُسے پرے دھکیلا ۔ تب اُس نے میز کی ایک دراز کو پورا باہر نکالا، وہاں ایک ریوالور پڑا تھا۔ ” ٹھیک ہے‘‘ اُس نے کہا: ’’اُسے کہو آ کر گولی مار دے مجھے ۔‘‘
کرسی کو دھکیل کر اُس نے دروازے کے سامنے کر دیا اور اپنا ہاتھ میز کی دراز پر ہی رکھا۔ میئر دروازے میں نمودار ہوا۔ اُس کے چہرے کا بایاں حصہ شیو کیا ہوا تھا لیکن اُس کے سوجے ہوئے اور درد کرتے ہوئے دائیں گال پر پانچ دن کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ دنداں ساز نے میئر کی بے حس آنکھوں میں یاس اور بے بسی کی متعدد راتوں کو جھانکتے ہوئے پایا۔ اُس نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے دراز کو بند کر دیا اور نرمی سے بولا :
’’ بیٹھ جاؤ۔‘‘
’’صبح بخیر ‘‘ میئر نے کہا۔
’’ صبح بخیر ‘‘ دنداں ساز نے کہا۔
دانت نکالنے کے اوزار پانی میں اُبل رہے تھے ۔ میئر نے اپنا سر کرسی کی پشت کے ساتھ لگا دیا، یوں تھوڑا سا آرام محسوس ہوا۔ اُس کا سانس یخ تھا۔ اُس نے دفتر کا جائزہ لیا۔ نہایت غریبانہ سا انتظام تھا۔ لکڑی کی ایک پرانی کرسی ، پیڈل والی مشین اور شیشے کی ایک الماری جس میں سفالی بوتلیں رکھی تھیں ۔ کرسی کے مقابل کھڑکی میں شانوں کی اونچائی پر کپڑے کا پردہ لٹک رہا تھا۔ دنداں ساز کو اپنی طرف آتے دیکھ کر میئر نے ایڑیاں مضبوطی سے جوڑیں اور منہ کھول دیا۔
اور یلیوایسکو بار نے اُس کا چہرہ روشنی کی طرف موڑا اور اُس کے متاثرہ دانت کو دیکھا۔ پھر اُس نے جبڑا انگلیوں کے محتاط دباؤ سے بند کر دیا اور کہا:
’’ تمہیں بے ہوش کیے بغیر یہ دانت نکالنا پڑے گا !‘‘
’’ کیوں؟ ‘‘
’’ اس لیے کہ دانت کے نیچے پیپ بھری ہوئی ہے۔‘‘
میئر نے ڈاکٹر کی آنکھوں میں جھانکا ۔ ” ٹھیک ہے‘‘ اُس نے کہا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ دنداں ساز نے اُس کی مسکراہٹ کا جواب نہ دیا۔ اُبالے ہوئے اوزاروں والا گرم تسلا اُس نے میز پر رکھا اور ایک ٹھنڈی چمٹی سے، کسی عجلت کے بغیر ، اوزار باہر نکالے ۔ جوتے کی نوک سے اُگال دان کو ہلا کر اُس نے ٹھیک جگہ رکھا اور ہاتھ دھونے کے لیے نلکے کے آگے جا کھڑا ہوا۔ ان سب کاموں کے دوران میں اُس نے ایک بار بھی میئر کی طرف نہ دیکھا۔ لیکن میئر نے ایک لمحے کے لیے بھی ڈاکٹر کو اپنی نظر سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔
متاثرہ دانت نچلے جبڑے کی عقل داڑھ تھی۔ دنداں ساز نے اپنے پاؤں پھیلائے اور گرم زنبور سے دانت کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ میئر نے اپنی تمام قوت سے دونوں ہاتھوں سے کرسی کے بازوؤں کو جکڑا اور پاؤں اکڑا کر بیٹھ گیا۔ اُسے اپنے گردوں میں یخ آلود خلا کی موجودگی کا احساس ہوا، لیکن اُس نے آواز نہ نکالی۔ دنداں ساز فقط اپنی کلائی کو حرکت دے رہا تھا۔ کسی کینے کے بغیر ، بلکہ ایک ترشی آمیز ملائمت سے اُس نے میئر سے کہا:
’’ ہمارے بیس آدمیوں کے قتل کا حساب تم اب چکاؤ گے۔‘‘
میئر نے اپنے جبڑے میں ہڈی کی کڑ کڑاہٹ کو محسوس کیا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ لیکن جب تک دانت منہ سے باہر نہ آ گیا اُس نے سانس تک نہ لیا۔ آنسوؤں کے عقب سے اُس نے دانت کو دیکھا ۔ اُسے یہ دانت اپنی ساری تکلیف سے اس قدر غیر متعلق لگا کہ وہ پچھلی پانچ راتوں کی اذیت کو سمجھنے میں ناکام رہا۔
پسینے میں شرابور کانپتا ہوا ، وہ اُگال دان کے اوپر جھکا رہا۔ اُس نے اپنے کوٹ کے بٹن کھولے اور پتلون کی جیب سے رومال نکالنے کی کوشش کی۔ دنداں ساز نے صاف کپڑا اُس کی طرف بڑھایا۔
’’اپنے آنسو صاف کرو‘‘ اُس نے کہا۔
میئر نے آنسو پونچھے ۔ وہ کانپ رہا تھا۔ جب تک دنداں ساز ہاتھ دھوتا رہا، میئر بوسیدہ چھت کو دیکھتا رہا جس پر گرد آلود جالے لگے ہوئے تھے جن میں مکڑیوں کے انڈے اور مردہ کیڑے مکوڑے لٹکے ہوئے تھے۔ دنداں ساز ہاتھ پونچھتا ہوا واپس آیا ۔ ’’گھر جا کر آرام کر‘‘وہ بولا ” اور نمک کے پانی کے غرارے کرتے رہو۔‘‘
میئر اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اُس نے تقریباً فوجیوں کے سے سرسری انداز میں دنداں ساز کو سلیوٹ کیا اور دروازے کی طرف چلا ۔ چلتے ہوئے اُس نے اپنی ٹانگوں کو جھٹک کر سیدھا کیا اور کوٹ کے بٹن بند کیے۔
’’ بل بھیجوا دینا ‘‘ اُس نے کہا۔
’’ کس کے نام؟ تمہارے یا ٹاؤن کمیٹی کے؟‘‘
میئر نے اس کی طرف دیکھے بغیر کلینک کا دروازہ بند کیا۔ جالی کے دروازے کے باہر سے اُس کی آواز آئی: ” کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سالی ایک ہی بات ہے۔‘‘
✩✩✩
(مشمولہ:’’ ذہنِ جدید ‘‘ ، دہلی ، جلد ۱۵ ، شمارہ نمبر ۴۰ دسمبر تا فروری ۲۰۰۵ ء)