گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

مونتیئل کی بیوہ

    مونتیئل کی بیوہ

    ترجمہ: فاروق حسن

     

    حوز ے مونتیئل کے مرنے پر اُس کی بیوی کے سوا، ہر شخص نے ایک پر کینہ اطمینان محسوس کیا۔ لیکن ہر شخص کو یہ باور کرنے میں کئی گھنٹے لگے کہ وہ واقعی مر چکا ہے۔ کئی لوگوں کو تو اُس کی نعش کو گرمی سے تپے کمرے میں ، تربوز کی طرح گول کیے ہوئے کناروں والے پیلے تابوت میں لنن کی چادروں میں لپٹے اور تکیوں کے سہارے لیٹے ہوئے دیکھنے کے بعد بھی اُس کی موت کا یقین نہیں آیا۔ اس کی داڑھی نہایت اچھی طرح شیو کی گئی تھی اور سفید کپڑوں میں ملبوس ، چمک دار جوتے پہنے، وہ اتنا صحت مند اور زندہ لگ رہا تھا کہ زندگی بھر نہ لگا تھا۔ یہ شخص وہی چیپے مو نتیئل صاحب تھا جو ہر اتوار کو گرجے میں آٹھ بجے صبح کی عبادت کے لیے موجود ہوتا تھا، صرف اس موقعے پر اُس نے ہاتھ میں گھڑ سواری کی چھڑی کی بجائے صلیب تھام رکھی تھی۔ جب اس کے تابوت کا ڈھکنا میخیں ٹھونک کر بند کر دیا تھا اور اسے اس کے ٹیپ ٹاپ والے خاندانی قبرستان میں دفن کر دیا گیا ، تب ہی لوگوں کو مکمل یقین آسکا کہ وہ مرنے کی ادا کاری نہیں کر رہا تھا۔

     تدفین کے بعد اُس کی بیوی کے سوا ہر ایک کے لیے تعجب کی بات صرف یہ رہ گئی تھی کہ حوزے مو نتیئل طبعی موت کیسے مر گیا۔ جب کہ ہر شخص کے دل میں یہی توقع تھی کہ وہ گھات میں بیٹھے کسی شخص کی گولی پشت پر لگنے سے مرے گا، اس کی بیوی کو یہ یقین تھا کہ مو نتیئل کو اُس کی نظروں کے سامنے بوڑھے ہو کر اپنے بستر میں اعترافات کرنے کے بعد آج کل کے زمانے کے کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی طرح اذیت کے بغیر موت آئے گی۔ صرف چند تفصیلات میں اس کا خواب پورا نہ ہو سکا تھا۔ حوزے مو نتیئل اپنے چھولنے والے بستر میں دو اگست ۱۹۵۱ ء کو دوپہر کےدو بجے برہمی اور غصے کے ایک دورے کے سبب میرا ۔ ایسے دوروں کے خطرناک نتائج سے ڈاکٹر اسے پہلے ہی آگاہ کر چکا تھا۔ اس کی بیوی کو یہ بھی توقع تھی کہ جنازے کو کندھا دینے کے لیے پورا قصبہ اُمڈ آئے گا اور یہ کہ مختلف جگہوں سے آئی ہوئی پھولوں کی چادروں کے لیے اس کا گھر نا کانی ثابت ہوگا۔ لیکن فی الواقع صرف خاندان کے چند لوگ اور مو نتیئل کی مذہبی برادری کے ارکان ہی جنازے میں شریک ہوئے اور اُس کی قبر کے لیے پھولوں کی چادریں صرف وہی تھیں جو میونسپل کمیٹی والوں نے بھجوا ئیں ۔ مو نتیئل کے بیٹے نے جو جرمنی میں کونسل کے عہدے پر فائز تھا اور دو بیٹیوں نے جو پیرس میں مقیم تھیں، تین تین صفحے کے تار استعمال کر کے وہ تار رقم کیے ہوں گے اور یہ بھی کہ تاروں کی آخری عبارت ترتیب دینے میں انہوں نے کتنے ہی فارم پھاڑ کر پھینکے ہوں گے اور یوں ہر تار میں بیس بیس ڈالر کی قیمت کے الفاظ جمع کیے ہوں گے۔ اُن میں سے کسی نے بھی واپس آنے کی ہامی نہ بھری تھی۔ اُس رات باسٹھ سال کی عمر میں تکیے پر سر رکھ کر اُس شخص کے لیے روتے ہوئے جس نے اُسے خوشی سے ہمکنار کیا تھا، مو نتیئل کی بیوہ نے پہلی بار آزردگی کا مزہ چکھا۔ میں اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے گھر میں قید کرلوں گی ، وہ سوچ رہی تھی ۔ میرے بچوں نے اپنی دانست میں مجھے بھی اپنے باپ کے ساتھ ہی دفن کر دیا ہے۔ میں اس دنیا کے بارے میں کچھ اور جاننا نہیں چاہتی۔

     مونتیئل کی بیوہ ، نازک ، اپنی تو ہم پرستی کے ہاتھوں لاچار، مگر مخلصی عورت تھی ۔ اُس کے ماں باپ نے اُس کی شادی بیس برس کی عمر میں اُس پہلے شخص سے کر دی تھی جسے تیس فٹ سے کم فاصلے سے دیکھنے کی اُسے اجازت ملی تھی۔ دنیا کے حقائق سے براہِ راست تعلق قائم کرنے کا اُسے کبھی موقع نہ ملا تھا۔ اپنے خاوند کا جنازہ اٹھائے جانے کے تین دن بعد اُسے اپنے آپ کو سنبھالنے کی ضرورت کا احساس ہوا ،لیکن وہ اپنی زندگی کی سمت کا تعین کرنے سے قاصر تھی۔ اُسے از سر نو جینا شروع کرنا تھا۔

      اُن بے شمار رازوں میں جو حوزے مو نتیئل اپنے ساتھ قبر میں لے گیا تھا، گھر میں رکھی تجوری کو کھولنے کی ترکیب بھی تھی۔ قصبے کے میئر نے تجوری کھلوانے کا کام اپنے ذمے لیا۔ اُس نے حکم دیا کہ تجوری کو صحن میں دیوار کے ساتھ لگا کر رکھ دیا جائے اور دو سپاہی تالے پر فائر کریں۔ پوری صبح مو نتیئل کی بیوہ اپنے سونے کے کمرے میں لیٹی میئر کے پُر شور احکام کے جواب میں سپاہیوں کی دبی دبی آواز یں سنتی رہی۔

    یہ تو حد ہو گئی ، اس نے سوچا ۔ میں نے پانچ سال خدا سے دعائیں کرنے میں گزارے کہ قصبے میں گولیاں چلنی بند ہوں اور آج میرے ہی گھر میں گولیاں چل رہی ہیں اور ان گولیوں کے لیے مجھے لوگوں کا شکر گزار بھی ہونا پڑے گا !

     اُس روز مو نتیئل کی بیوہ نے اپنے تمام احساسات اور قو تیں مجتمع کر کے موت کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کی ، مگر اس کی کوشش بار آور نہ ہوئی ۔ جب وہ سونے کو تھی، اُس وقت آنگن سے ایک زور دار دھماکے کی آواز نے سارے گھر کو ہلا دیا۔ تجوری کے تالے کو بارود سے اُڑانا پڑا   تھا۔

      مو نتیئل کی بیوہ نے آہ بھری۔ اکتوبر کا مہینہ اپنی بارشوں اور کیچڑ سمیت طویل ہوتا جا رہا تھا۔ حوزے مو نتیئل کی ابتری کی شکار لیکن لامحدود جائیداد پر موجود، بغیر تحریک اور سمت کے زندگی بسر کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو راہ گم کردہ محسوس کر رہی تھی۔ خاندان کے ایک پرانے اور محنتی دوست ، مسٹر کار مائیکل نے جائیداد کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ جب مو نتیئل کی بیوہ نے اُس ٹھوس حقیقت کا سامنا کیا کہ اُس کا خاوند مر چکا ہے، تب وہ خود گھر کی دیکھ بھال کی خاطر سونے کے کمرے سے برآمد ہوئی۔ گھر میں سب نمائشی چیزوں کو اُس نے نکال کر پھینک دیا، فرنیچر پر ماتمی رنگوں کے غلاف چڑھوا دیے اور دیواروں پر آویزاں مرحوم کی تمام تصویروں کے گرد تعزیتی ربن باندھ دیے۔ تدفین کے بعد کے دو ماہ کے وقفے میں اس نے دانتوں سے ناخن کترنے کی نئی عادت ڈال لی تھی۔ ایک روز جب دیر تک رونے سے اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور سرخ تھیں، اُسے احساس ہوا کہ مسٹر کار مائیکل چھاتا لیے گھر کے اندر داخل ہو رہا ہے۔

    ’’مسٹر کار مائیکل ، چھاتا بند کرو۔“ اس نے کہا۔’’پہلے ہی اس گھر میں کم بد قسمتی ہے کہ   تمہارے کھلا چھاتا اندر لے کر آنے کی کسر باقی ہے!‘‘

    مسٹر کار مائیکل نے چھاتا ایک کونے میں رکھ دیا ۔ وہ ایک عمر رسیدہ نیگر و تھا جس کی جلد چمک دار اور لباس ہمیشہ سفید ہوتا تھا اور اس نے اپنے جوتوں کے چمڑے پر چاقو سے گھاؤ کر رکھے تھے تاکہ اس کے پوروں کی سوجن کو چمڑے کی رگڑ سے زیادہ تکلیف نہ ہو۔

    ’’ صرف سکھانے کی خاطر چھاتا کھلا رکھا ہے۔“

     خاوند کی موت کے بعد پہلی بار اُس کی بیوہ نے کھڑ کی کھولی۔

    ’’ پہلے ہی اتنی بد قسمتی کا سامنا ہے اور اوپر سے یہ سردی کا موسم !‘‘ اس نے دانتوں سے   ناخن کترتے ہوئے کہا ۔’’لگتا ہے بارش کبھی بند نہیں ہوگی۔‘‘

    ’’ آج یا کل تو مطلع صاف ہونے سے رہا ‘‘ جائیداد کے منتظم نے کہا: ’’کل رات میرے   پوروں کی سوجن نے مجھے بالکل سونے نہیں دیا ۔‘‘

    موسم کے بارے میں مسٹر کار مائیکل کے پاؤں کی سوجن کی پیشین گوئیوں کی وہ مکمل طور پر قائل تھی۔ اُس نے کھڑکی کے باہر سنسان چوک کو دیکھا اور اُن بے صدا گھروں کو جن کے درواز ے حوزے مو نتیئل کا جنازہ دیکھنے کے لیے وا نہیں ہوئے تھے اور اپنی ناخن کترنے کی عادت سے ، اپنی بے انتہا زمینوں سے اور اپنے خاوند سے ورثے میں ملے ہوئے متعدد فرائض سے، جنہیں سمجھنے سے وہ قطعی قاصر تھی ، نا امیدی محسوس کی۔

    ’’ دنیا کا سارا انتظام ہی غلط ہے ۔‘‘ وہ سسکی بھر کر بولی۔

      اُن دنوں اس کے گھر آنے والے مہمانوں کے پاس یہ سمجھنے کی بہت سی وجوہ تھیں کہ وہ پاگل ہو گئی ہے۔ لیکن اُس کا ذہن اتنی واضح سوچ کے قابل پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ قصبے میں سیاسی استبداد اور خون ریزی سے قبل وہ اکتوبر کی صبحیں اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے بیٹھ کر ، مرے ہوؤں کی روحوں کے لیے دعا کرنے اور یہ سوچنے میں گزارا کرتی تھی کہ اگر خداوند خدا نے اتوار کے دن آرام نہ کیا ہوتا تو شاید اس نے دنیا کی زیادہ بہتر طور پر تکمیل کی ہوتی ۔ ’’ اُسے چاہیے تھا کہ اتوار کا دن دنیا کی چھوٹی موٹی غلطیاں اور بے ترتیبیاں درست کرنے میں صرف کرتا‘‘ وہ کہا کرتی:’’ کیا مضائقہ تھا۔ بعد میں اس کے پاس ابد تک آرام کرنے کا وقت تھا۔“ اس کے خاوند کی وفات کے بعد صرف اتنا فرق پڑا تھا کہ اُس وقت اس کے پاس ایسی تیرہ سوچوں کے لیے ٹھوس دلیل موجود ہوا کرتی تھی۔

     سوجس زمانے میں ناامیدی مونتیئل کی بیوہ کو گُھن کی طرح کھائے جا رہی تھی، مسٹر کار مائیکل ڈوبتے ہوئے سفینے کو بچانے کی کوشش میں جتا ہوا تھا۔ کاروبار اور جائیداد کا انتظام از حد خراب تھا ۔ حوزے مونتیئل نے تشدد اور دہشت پسندی کی مدد سے قصبے کی تمام تجارت پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ اُس کے خوف سے آزاد ہونے پر اب سارا قصبہ اس سے انتقام لینے کے درپے تھا۔ گاہکوں کے انتظار میں ، جو ہفتوں ادھر کا رُخ نہ کرتے تھے، صحن میں رکھے بڑے بڑے برتنوں میں دودھ پھٹ جاتا، شہد چھتوں میں پڑا پڑا خراب ہو جاتا اور پنیر کے کمرے کی تاریک الماریوں میں رکھے پنیر میں کیڑے رینگنے لگتے۔ حوزے مونتیئل بغیر قمقموں سے روشن مزار میں، نقلی سنگ مرمر کے بنے فرشتوں کے پروں کے سائے میں لیٹا اب اپنے پچھلے چھ برسوں میں جبر اور قتل و غارت کا حساب چکا رہا تھا۔ ملک کی تاریخ میں کوئی شخص اتنے کم عرصے میں اتنا زیادہ مالدار نہ ہوا تھا۔ جس زمانے میں آمریت کا نامزد کیا ہوا پہلا میئر قصبے میں وارد ہوا ، حوزے مونتیئل اپنی آدھی عمر ، زیرِ جامے میں     ملبوس ، اپنی چاولوں کی مل کے سامنے بیٹھے گزار چکا تھا اور ہر طرح کی حکومت کا پوشیدہ حامی رہا تھا۔ ایک وقت تھا کہ اسے لوگوں کی نظروں میں ایک خوش قسمت شخص اور ایک اچھے مسیحی کی شہرت حاصل تھی، مثلاً ایک بار اُس نے علانیہ کہا تھا کہ اگر اُسے لاٹری میں انعام مل گیا تو وہ گرجے میں سینٹ جوزف کا قد ِآدم مجسمہ نصب کروائے گا۔ اس اعلان کے دو ہفتے بعد جب اُسے انعام کی بڑی سی رقم وصول ہوئی تو اُس نے اپنا وعدہ مکمل طور پر نبھایا تھا۔ پہلی بار جوتے پہنے ہوئے اسے اُس روز دیکھا گیا تھا جس روز نیا میئر جو کہ نہایت وحشی اور بدطینت پولیس سارجنٹ تھا، قصبے میں آیا۔ نئے میئر کا پہلا کام حکومت کے خلاف ہر طرح کی مزاحمت کا قلع قمع کرنا تھا۔ حوزے مونتیئل نے میئر کا خفیہ مخبر بن کر اپنی زندگی کا دھارا بدلا۔ اس معمولی سے تاجر نے جس کی موٹے آدمیوں کی سی مزاح کی حِس نے کبھی کسی کو رنجیدہ نہیں کیا تھا، مخبر بننے کے بعد اپنے دشمنوں کو امیروں اور غریبوں کے دو طبقوں میں بانٹ دیا۔ غریبوں کو تو قصبے کے چوک میں گولی مار دی گئی اور امیروں کو قصبے سے نکل جانے کے لیے چوبیس گھنٹے کا نوٹس دے دیا گیا۔ اس قتل و غارت گری کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانے کی خاطر حوزے مونتیئل میئر کے ساتھ اپنے چھوٹے سے گھٹے ہوئے دفتر میں کئی کئی دن مقید رہتا اور اُس کی بیوی قصبے کے مردوں کے لیے دعائے خیر میں مصروف رہتی جب میئر اس کے گھر سے نکل کر باہر جاتا تو وہ اپنے خاوند کا راستہ روکتی ۔’’یہ آدمی قاتل ہے۔‘‘  وہ اُسے بتاتی ’’ حکومت سے اپنا اثر و رسوخ کام میں لا کر اس سے اس قصبے کی جان چھر واؤ ۔ یہ یہاں ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑے گا ۔‘ حوزے مونتیئل جو اُن دنوں نہایت مصروف آدمی تھا، اپنی بیوی کی طرف دیکھے بغیر اسے جھڑک دیتا۔ ’’بے وقوفی کی بات مت کرو۔‘‘ اصل میں مونتیئل کا بنیادی کام غریبوں کا قلع قمع کرنا نہ تھا بلکہ قصبے سے امیروں کا اخراج کروانا تھا۔ چناں چہ جب میئر کی پولیس نے امرا کے دروازے گولیوں سے چھلنی کر دیے اور انہیں چوبیس گھنٹے کا نوٹس دیے دیا تو حوزے مونتیئل نے اُن کی جائیداد ، مویشی اور مال اسباب اپنی مرضی سے طے کی ہوئی قیمتوں پر اُن سے خرید لیے ۔’’یہ کیا فضول حرکت ہے‘‘ اس کی بیوی نے اس سے کہا۔ ” تم ان لوگوں پر احسان کرتے کہ وہ کسی اور جگہ جا کر بھوکے نہ مریں، خود کو تباہ کر لو گے اور ان میں سے کوئی تمہارا شکر گزار بھی نہ ہوگا ۔‘‘ حوزے مونتیئل نے جس کے پاس اُن دنوں مسکرانے کے لیے بھی وقت نہ تھا، اُسے ڈانٹ دیا اور کہا۔ ’’ تم باورچی خانے میں جا کر اپنا کام کرو اور میرا دماغ مت چاٹو ۔“ اس رفتار سے ایک سال کے اندر اندر قصبے سے مخالفت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اُس نے اپنی بیٹیوں کو پیرس بھجوایا، لڑکے کو جرمنی میں کونسل کی نوکری دلوائی اور خود کو اپنی سلطنت مستحکم کرنے کے لیے وقف کر دیا۔ لیکن اسے اپنی بے پناہ دولت سے لطف اندوز ہونے کے لیے چھ سال کی مہلت   بھی نصیب نہ ہوئی۔

    اس کی پہلی برسی کے بعد اُس کی بیوہ کے گھر کی سیڑھیوں میں صرف اُسی لمحے چرچراہٹ ہوتی جب کوئی شخص بُری خبر لے کر آتا ۔ ایسے لوگ عموماً شام کے وقت آیا کرتے ۔ ’’ایک بار پھر ڈا کا پڑ گیا ہے۔‘‘ وہ کہتے ۔ ’’کل پچاس بچھیا ئیں لے کر بھاگ گئے ۔‘‘ اپنی جھولنے والی کرسی میں ہلے بغیر مونتیئل کی بیوہ دانتوں سے ناخن کترتی رہتی اوردنیا سے بدظن اور کشیدہ خاطر ہوتی   رہتی۔

     ’’حوزے مونتیئل ، میں نے تمہیں کیا کہا تھا ؟‘‘ وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہی تھی ۔’’ یہ قصبہ ناشکرے لوگوں کا ہے۔ ابھی قبر میں تمہار ا جسم بھی ٹھنڈا نہیں ہوا اور ان لوگوں نے آنکھیں   پھیر لی ہیں۔‘‘

     اس کے گھر کوئی نہیں آتا تھا۔ اُن دنوں میں جب لگا تار بارش ہوتی رہتی تھی ، صرف ایک انسان جو باقاعدگی سے اُس کے گھر آتا رہا وہ مسٹر کار مائیکل تھا اور وہ ہمیشہ کھلا چھاتا لیے اندر داخل ہوتا تھا۔ کاروبار کے حالات میں کوئی تبدیلی نہ ہو رہی تھی۔ مسٹر کار مائیکل حوزے مونتیئل کے بیٹے کو کتنے ہی خط لکھ چکا تھا۔ اُس نے مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ قصبے میں واپس آکر کاروبار کا انتظام سنبھال لے تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ اس نے مرحوم کی بیوہ کی صحت کی خرابی کے بارے میں بھی اپنے تاثرات لکھ ڈالے تھے ۔ مگر مونتیئل کے بیٹے کی جانب سے اُسے ہمیشہ ٹال مٹول والے جواب ہی موصول ہوئے ۔ آخر کار مونتیئل کے بیٹے نے لکھا کہ واقعہ یہ ہے کہ وہ قصبے میں واپس آنے سے خوف زدہ ہے، اسے یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی اسے گولی سے اُڑا دے گا۔ تب مسٹر کار مائیکل کو خواب گاہ میں بیوہ کے سامنے جا کر اعتراف کرنا پڑا کہ اس کی مالی حالت تباہ ہو چکی   ہے۔

     ” یہی بہتر ہے‘‘ اُس نے جواب دیا۔ ” میں تو مکھیوں اور پنیر سے تنگ آ چکی ہوں ۔ تمہارا   بھی جو جی چاہے یہاں سے لے لو اور مجھے چین کی موت مرنے دو۔“

     اس کے بعد بیوہ کا دنیا سے تعلق صرف اُن خطوں کے ذریعے قائم رہا جو وہ اپنی بیٹیوں کو ہر ماہ کے اختتام پر لکھا کرتی تھی ۔ ’’ یہ نہایت منحوس جھلسا ہوا، پالا لگا قصبہ ہے ۔‘‘ وہ انہیں لکھتی ۔ ’’ تم ہمیشہ کے لیے وہیں رہو اور میرے بارے میں فکر مند نہ ہو۔ میں یہ جان کر مطمئن ہوں کہ تم وہاں خوش ہو ۔‘‘ اس کی بیٹیاں باری باری اس کے خطوں کا جواب دیتیں ۔ اُن کے خط ہمیشہ مسرت اور   شادمانی سے پُر ہوتے اور صاف محسوس ہوتا کہ وہ خط گرم اور روشن جگہوں میں بیٹھ کر لکھے گئے ہیں اور یوں لگتا جیسے دونوں لڑکیاں جب سوچنے کو رکتی ہوں گی تو انہیں مختلف آئینوں میں اپنے عکس نظر   آتے ہوں گے۔ انہیں بھی وطن واپس آنے کی کوئی خواہش نہ تھی۔

    ’’   تہذیب صرف یہیں ہے۔‘‘ وہ اپنی ماں کو لکھتیں ۔ ” وہاں تمہارے ملک میں ہمارے لیے ماحول اچھا نہیں ہے۔ کسی ایسے وحشی ملک میں رہنا قطعی ناممکن ہے جہاں لوگ سیاسی وجوہات پر قتل کر دیے جاتے ہوں ۔‘‘ ان خطوں کو پڑھ کر مونتیئل کی بیوہ کو خوشی اور بہتری کا احساس ہوتا اور وہ خطوں کے ہر جملے کے ساتھ رضا مندی میں اپنا سر ہلاتی رہتی۔

      ایک موقعے پر اس کی بیٹیوں نے اسے پیرس کے قصابوں کے بارے میں لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے گلابی رنگ کے ملائم سور وہاں درازوں میں لیٹے رہتے ہیں اور کیسے انہیں پھولوں کے ہاروں سے سجا   کر رکھا جاتا ہے۔ خط کے آخر میں کسی اور نے جس کے لکھنے کا انداز اُس کی بیٹیوں کے انداز سے مختلف تھا، اس جملے کا اضافہ کیا ہوا تھا: ” ذرا غور کریں کہ کار نیشن کا سب سے بڑا اور سب سے خوب صورت پھول سور کے چوتڑوں میں ٹکا ہوا ہوتا ہے۔‘‘

     یہ جملہ پڑھ کر مونتیئل کی بیوہ دو سال کے عرصے میں پہلی دفعہ مسکرائی ۔ گھر کی بتیاں جلائے بغیر وہ اپنے سونے کے کمرے میں چلی گئی۔ بستر پر دراز ہونے سے پہلے اس نے بجلی کے پنکھے کا رُخ موڑ کر دیوار کی طرف کر دیا۔ پھر اس نے چھوٹی میز کی دراز میں سے قینچی ، پٹی اور اپنی تسبیح نکالی اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر جہاں ناخن کترتے رہنے سے اُسے درد کا احساس ہو رہا تھا۔ پٹی باندھی ۔ تب اس نے تسبیح پھیرنا شروع کی لیکن دوسرے ہی منتر پر اس نے تسبیح کو بائیں ہاتھ میں لے لیا کیوں کہ دائیں انگوٹھے پر پٹی کی وجہ سے تسبیح کے دانے اسے محسوس ہی نہ ہو رہے تھے ۔ ایک لمحے کو اس نے دور سے طوفان کی گرج کی آواز سنی لیکن جلد ہی اس کا سر سینے پر جھک گیا اور وہ سو گئی۔ اس کا تسبیح والا ہاتھ ایک طرف گر گیا اور خواب میں اُس نے ”بڑی ماما‘‘ کو دیکھا جو سفید چادر لپیٹے اس کے گھر کے صحن میں بیٹھی تھی، اس کی کنگھی اُس کی آغوش میں پڑی تھی اور وہ اپنے ناخنوں سے جوئیں مارنے میں مشغول تھی۔ اُس نے بڑی ماما سے پوچھا۔ ’’ مجھے موت کب آئے گی؟‘‘

      بڑی ماما نے اپنا سر اُٹھایا ۔

    ’’ جب تھکن تمہارے بازو میں اُتر آئے گی۔‘‘

    ☆☆☆

    (مشمولہ  :’’ ذہنِ جدید ‘‘ ، دہلی ، جلد ۱۵ ، شماره نمبر ۴۰ ،دسمبر تا فروری ۲۰۰۵ ء)