گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

سنیچر کے بعد کے دن

    سنیچر کے بعد کے دن

    ترجمہ: فاروق حسن

    ساری مصیبت جولائی میں شروع ہوئی جب ربیکا پر ، جو دو غلام گردشوں اور نو خواب گا ہوں والے بے انتہا بڑے گھر میں تنہا رہنے والی ایک تلخ مزاج بیوہ تھی، یہ انکشاف ہوا کہ اس کے گھر کی کھڑکیوں کی جالیاں ایسے پھٹی ہوئی ہیں جیسے کسی نے باہر سے ان پر پتھراؤ کیا ہو۔ پہلی بار جب اس نے اپنی خواب گاہ کی جالی ٹوٹی ہوئی دیکھی تو اس نے سوچا کہ آر خے نیدا سے بات کرے جو نہ صرف اس کی ملازمہ تھی بلکہ جب سے ربیکا کے خاوند کا انتقال ہوا تھا، اس کی ہم راز بھی تھی۔ کچھ دیر بعد کمروں کی چیزیں ہلانے جلانے سے ( عرصہ دراز سے ربیکا نے گھر کی چیزیں ادھر اُدھر رکھنے کے سوا کوئی کام نہ کیا تھا) اسے پتا چلا کہ صرف اسی کمرے کی نہیں بلکہ گھر کی تمام کھڑکیوں کی جالیاں پھٹی ہوئی ہیں ۔ ربیکا کو اپنے اقتدار کا یک نظری قسم کا احساس تھا، جو شاید اسے اپنے سگڑدادا سے وراثت میں ملا تھا۔ وہ جنوبی امریکا کا پیدائشی ہسپانوی تھا جو جنگِ آزادی میں شاہ پرستوں کی جانب سے شریک ہوا تھا اور بعد ازاں نہایت کٹھن سفر طے کر کے صرف اس مقصد سے ہسپانیہ گیا تھا کہ اُس عالی شان محل کا دیدار کر سکے جسے چارلس سوم نے سان الدے فونسو میں تعمیر کیا تھا۔ لہٰذا جب ربیکا کو گھر کی جالیوں کی صورت حال کا پتا چلا تو اس نے آرخے نیدا سے بات کرنے کے خیال کو رد کر دیا اور اس کی بجائے وہ اپنی تنکوں کی بنی ہوئی ٹوپی پہن کر جس پر مخمل کے چھوٹے چھوٹے پھول تھے ، ٹاؤن ہال کی طرف روانہ ہو گئی تا کہ اپنے گھر پر حملے کے خلاف شکایت درج کرا سکے۔ لیکن جب وہ وہاں پہنچی تو اس نے دیکھا کہ قصبے کا میئر خود قمیض کے بغیر بالوں بھرے جسم کے ساتھ اپنے وجود کا ٹھوس پن عیاں کرتے ہوئے جو ربیکا کو حیوانی محسوس ہوا ، ٹاؤن ہال کی کھڑکیوں کی جالیاں مرمت کرنے میں مصروف تھا، جو ربیکا کے گھر کی جالیوں کی طرح پھٹی ہوئی تھیں ۔

    ربیکا کاٹھ کباڑ سے بھرے اس گندے دفتر کے اندر چلی آئی اور جس چیز پر سب سے پہلے اس کی نظر پڑی وہ میز پر مُر دو پرندوں کا ڈھیر تھا، لیکن کچھ گرمی اور کچھ جالیوں کی تباہی پر برہمی کی وجہ سے وہ اتنی بد حواس تھی کہ اسے میز پر پڑے مردہ پرندوں کے ناقابل یقین منظر کو دیکھ کر لرز نے کا وقت ہی نہیں ملا ۔ نہ ہی وہ عہدے اور منصب کی توہین سے دل برداشتہ ہوئی جس کا مالک اس کی آنکھوں کے سامنے سیڑھیوں کے اوپر کھڑا ، حالی کا بنڈل اور پیچ کس ہاتھ میں لیے، کھڑکیوں کی جالیاں ٹھیک کر رہا تھا۔ اس وقت اس کے دل میں اپنے مرتبے اور اپنی کھڑکیوں کے نقصان کے سوا کوئی خیال نہ تھا اور اسی انہماک کی بدولت وہ اپنی کھڑکیوں اور ٹاؤن ہال کی کھڑکیوں کے درمیان کسی اشتراک کا تعین نہ کر سکی ۔ وہ دروازے سے دو قدم اندر ، تمیز دارانہ سنجیدگی سے کھڑی ہوگئی اور اپنے چھاتے کے طویل اور مرصع دستے پر وزن ڈالتے ہوئے بولی :’’ میں ایک شکایت درج کرانے آئی ہوں۔‘‘

      سیڑھیوں کے اوپر کھڑے میئر نے اپنا گرمی سے تپا ہوا چہرہ موڑا ۔ بیوہ کی اس وقت دفتر میں بے وجہ موجودگی پر اس نے کسی جذبے کا اظہار نہ کیا ۔ مغمومانہ لاتعلق کے ساتھ ٹوٹی ہوئی جالیوں کو اکھیڑ نا جاری رکھتے ہوئے اس نے سیڑھیوں کے اوپر ہی سے پوچھا: ” کیا شکایت ہے؟“

    ’’ محلے کے لڑکوں نے میرے گھر کی تمام جالیاں توڑ دی ہیں ۔‘‘

      میئر نے ایک بار پھر بیوہ کی طرف دیکھا۔ اس بار اس نے مخمل کے پھولوں سے لے کر پرانی چاندی کے رنگ کے جوتوں تک اس کا احتیاط سے جائزہ لیا جیسے اُسے زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا ہو ۔ جسمانی حرکت کی از حد کفایت کرتے ہوئے اور اپنی نظریں بیوہ پر سے ہٹائے بغیر وہ سیڑھیوں سے اترا۔ نیچے پہنچ کر اُس نے ایک ہاتھ اپنی پتلون کی پیٹی پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے جس میں پیچ کس پکڑا ہوا تھا، ڈیسک کی طرف اشارہ کر کے کہا:  

    ’’ سینورا، یہ کارگزاری پرندوں کی ہے۔ لڑکوں کی نہیں ۔‘‘

     تب آخر کار ربیکا کو ڈیسک پر پڑے مردہ پرندوں ، سیڑھیوں کے اوپر کھڑے آدمی اور اپنے گھر کے کمروں کی شکستہ جالیوں کے درمیان تعلق کا احساس ہوا، اور اپنے گھر کی خواب گاہوں میں   مردہ پرندوں کے ڈھیر کا سوچ کر وہ کانپ اُٹھی۔

    ’’ پرندوں کی ؟‘‘ اس نے چیخ کر کہا۔

    ’’   جی ، پرندوں کی ۔‘‘ میئر نے اُس سے اتفاق کیا ۔ ’’تعجب ہے کہ یہ بات اب تک آپ کے مشاہدے میں نہیں آئی، جب کہ پچھلے تین روز سے ہمیں پرندوں کے کھڑکیوں کے اندر گھسنے اور گھروں کے اندر آ کر مرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔“

     ٹاؤن ہال سے نکلتے وقت ربیکا شرمندہ سی تھی اور آرخے نیدا سے کچھ ناراض بھی جو شہر کی باقی تمام بکو اس گھر میں لے آیا کرتی تھی مگر اس نے ربیکا سے پرندوں کا ذکر تک نہ کیا تھا۔ اگست سے قبل کی دھوپ سے ربیکا کی آنکھیں چندھیا رہی تھیں ۔ اس نے اپنا چھاتا کھول لیا۔ سنسان اور دم گھونٹنے والی گلی میں چلتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا جیسے تمام گھروں کی خواب گاہوں میں سے مرے ہوئے پرندوں کی تیز اور چبھتی ہوئی سرانڈ اُٹھ رہی ہے۔

     یہ جولائی کا آخر تھا اور قصبے کی تاریخ میں آج تک اتنی شدید گرمی نہ پڑی تھی ۔ لیکن قصبے کے باسیوں کو ، جو پرندوں کے مرنے سے گھبرائے ہوئے تھے، گرمی کی شدت کا پتا نہ چلا تھا۔ اس عجیب و غریب واقعے نے بستی والوں کے روز کے معمول میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کی تھی، تاہم لوگوں کی اکثریت اگست کے اوائل میں اس واقعے کے باعث مخمصے میں تھی۔ اس اکثریت میں قصبے کے روکھے پھیکے پادری ، عظمت مآب اینتونی ازابیل کا شمار نہیں تھا جو کا ستانیئیدای مونتیر و کی مقدس قربان گاہ سے تعلق رکھتا تھا اور جس نے چورانوے برس کی عمر میں لوگوں کو یقین دلا دیا تھا کہ وہ تین بار ابلیس سے مل چکا ہے تاہم ابھی تک اُس نے صرف دو مردہ پرندے دیکھے تھے اور اُن کی موت سے کوئی اہمیت وابستہ نہیں کی تھی۔ پہلا مردہ پرندہ اسے ایک منگل کو ، عبادت کے بعد کلیسا کے مخزن میں نظر آیا تھا۔ اس نے سوچا شاید محلے کی کوئی بلی اسے گھسیٹ کر وہاں لے آئی ہو گی ۔ دوسرا اُسے بدھ کے دن اپنے گھر کے دالان میں پڑا ملا تھا ، جسے اس نے جوتے کی نوک سے دھکیل کر یہ سوچتے ہوئے کہ بلیاں نہایت فالتو اور غیر ضروری مخلوق ہیں ، سڑک کے بیچوں بیچ   پھینک دیا تھا۔

     لیکن جمعے کے دن جب وہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو اس بنچ پر جس پر اس نے بیٹھنے کا ارادہ کیا ، اسے تیسر امردہ پرندہ دکھائی دیا۔ جب وہ پرندے کو چھوٹی چھوٹی ٹانگوں سے اٹھا کر اپنی آنکھوں کے سامنے لایا اور الٹ پلٹ کر غور سے اس کا معائنہ کیا تو اسے اپنے اندر بجلی کا ساکڑ کا محسوس ہوا اور اس نے سخت متعجب ہو کر سوچا خدا رحم کرے ، ایک ہفتے میں یہ تیسرا مردہ پرندہ مجھے   نظر آیا ہے۔  

    اس لمحے کے بعد سے اس نے قصبے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ شروع کیا ، لیکن بہت ہی غیر واضح طریقے سے، اس لیے کہ فادر اینتھونی از ابیل ، کچھ تو اپنی عمر کے سبب اور کچھ اس باعث کہ وہ تین بار ابلیس سے ملنے کا بیان دے چکا تھا ( جو لوگوں کے خیال میں تھوڑا سا غیر موزوں تھا) اپنے مسیحی حلقے والوں کی نظر میں دماغی طور پر عادتاً غیر حاضر جانا جاتا تھا، باوجود اس کے کہ لوگ اس کی نیکوکاری ، امن پسندی اور خوش خلقی کے بھی قائل تھے، اسے احساس ہوا کہ پرندوں کے ساتھ کچھ ہو رہا ہے لیکن وہ جو کچھ بھی تھا اتنا اہم نہیں تھا کہ اس کے آئندہ خطبے کا موضوع بن سکے۔ فادر اینتونی وہ پہلا شخص تھا جسے قصبے میں پھیلی ہوئی بو کا احساس ہوا تھا۔ جمعے کی رات کو وہ خوف زدہ ہو کر اُٹھ بیٹھا تھا۔ اس کی ہلکی نیند مردہ پرندوں کی جی متلا دینے والی سڑانڈ سے اڑ گئی تھی ، لیکن وہ یہ باور نہ کر سکا کہ آیا اس بد بو کو کسی خواب بد سے منسوب کرے یا ابلیس سے جس نے اس کی نیند خراب کرنے کے لیے کوئی نیا اور انوکھا حربہ وضع کیا تھا۔ اس نے چاروں طرف سونگھا اور بستر میں کروٹیں بدلتا رہا۔ یہ تجربہ اس کے خیال میں ایک ڈرامائی وعظ کا موضوع بننے کے لائق تھا کہ ابلیس کس طرح حواس خمسہ میں سے کسی ایک کے ذریعے ، لوگوں کے دلوں میں سرایت کرنے کا اہل تھا۔

    دوسرے روز عبادت سے قبل جب وہ صحن میں چہل قدمی کر رہا تھا تو اس نے پہلی بار کسی کو مردہ پرندوں کا ذکر کرتے سنا ۔ وہ اپنے خطبے ابلیس ، اور ان گناہوں کے بارے میں غور وفکر کر رہا تھا جن کا حسِ سامعہ کے ذریعے ارتکاب کیا جا سکتا ہے، جب اس نے کسی کو کہتے سنا کہ قصبے میں پھیلی بد بو ان مردہ پرندوں کی وجہ سے ہے جو پچھلے ہفتے کے دوران میں اکٹھے کیے گئے ہیں۔ اس کے دماغ میں انجیلی نبیہات ، کر یہ بد بوؤں اور مردہ پرندوں کا ملغوبہ سا بننے لگا ،حتیٰ کہ اتوار کے روز خطبے کے دوران اسے خیرات کے موضوع پر ایک طویل پیرا گراف فی البدیہہ گھڑنا پڑا جس کا مطلب خود اس پر بھی مکمل طور پر واضح نہ تھا اور یوں ابلیس اور حواس خمسہ کا ربط ہمیشہ کے لیے اس کے ذہن سے فراموش ہو گیا۔

    تا ہم اس کی فکر کے کسی دور افتادہ کونے میں یہ تجربات ضرور پوشیدہ رہ گئے ہوں گے۔ یہ   اس کے ساتھ ہمیشہ ہوتا تھا ، نہ صرف مذہبی دار العلوم میں ، جہاں وہ ستر سال قبل طالب علم رہا تھا ، بلکہ اب نوے سال کی عمر پانے کے بعد یہ سب کچھ خاص طرح سے ہو رہا تھا۔ دارالعلوم میں ایک چمکدار سہ پہر کو جب بادل گرجے بغیر موسلا دھار بارش ہوئی تھی ، وہ سوفوکلیز کا یک انتخاب اصل زبان میں پڑھنے میں مشغول تھا۔ جب بارش تھمی تو اس نے کھڑکی سے باہر تھکے ہوئے میدان اور نئی دھلی دھلائی سہ پہر کو دیکھا تھا اور اس لمحے یونانی تھیڑ اور کلاسیکی ادب کو یکسر بھول گیا تھا۔ ویسے بھی ان دونوں میں اس نے کبھی زیادہ امتیاز نہ کیا تھا بلکہ انہیں عمومی طور پر ’پر انے وقتوں کی قدیم چیزیں ‘ ہی کہ کر پکارا کرتا تھا۔ تیس  چالیس برس بعد ایک بے بارش کی سہ پہر کو کسی نئے قصبے میں جہاں وہ دورے پر گیا ہوا گیا۔ اینٹوں والے چوک کو عبور کرتے ہوئے اس نے بغیر خواہش کے سوفوکلیز کا وہی قطعہ دو ہرا دیا تھا جو وہ اس روز دار العلوم میں پڑھ رہا تھا ۔ اسی ہفتے اس نے باتوں کے رسیا اور اثر پذیر ایک بوڑھے نائب پادری سے ’پرانے وقتوں کی قدیم چیزوں ‘ کے بارے میں اس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس نے خود ایجاد کیے ہیں ، بعد ازاں وہی معمے’ کراس ورڈ ‘کے نام سے خاصے مشہور ہوئے تھے۔

      نائب پادری کے ساتھ گفتگو سے اس کا یونانی علوم کے ساتھ پہلے جیسا دلی لگاؤ ایک بار پھر لوٹ آیا تھا۔ اسی سال کرسمس کے موقع پر اسے ایک خط موصول ہوا تھا اور اگر اس وقت تک اس کے مبالغہ آمیز تخیل ، تشریحات کی دلیری اور وعظوں میں بے وقوفی کی مکمل شہرت نہ ہو چکی ہوتی تو اس موقعے پر اسے بشپ کا عہدہ دے دیا گیا ہوتا۔

     لیکن اس نے تو اپنے آپ کو ۱۸۸۵ ء کی جنگ سے قبل ہی اس قصبے میں زندہ دفن کر دیا تھا اور ان دنوں جب پرندوں نے خواب گاہوں میں مرنا شروع کیا تھا، اس بات کو ایک مدت گزر چکی تھی کہ قصبے والوں نے خصوصاً اس کے ابلیس سے ملاقاتوں کے دعوے کے بعد اس کی جگہ کسی کم عمر پادری کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ اس کے بعد سے انہوں نے اس کی طرف دھیان دینا ہی چھوڑ دیا تھا اور یہ بات اس کی اپنی نظر سے پوشیدہ رہی تھی حالاں کہ اس کی بصارت اب بھی ایسی تیز تھی کہ وہ دعاؤں کی کتاب کے بار یک حروف عینک کے بغیر پڑھ سکتا تھا۔

     اس کی عادت ہمیشہ سے مخصوص اور معین رہی تھیں ۔ چھوٹے قد اور غیر اہم شخصیت ،نمایاں اور مضبوط ہڈیوں اور پُر سکون حرکات والے اس شخص کی آواز گفتگو میں آسودگی دینے والی تھی ،لیکن خطبے کے دوران ضرورت سے زیادہ ہی آسودگی بہم پہنچایا کرتی تھی۔ وہ دو پہر کے کھانے کے وقت تک صرف اپنی سوتی پتلون میں ملبوس، جس کے پائنچے پنڈلیوں تک مڑے ہوتے تھے، کینوس کی کرسی میں سہل انگاری سے دراز ، دن میں سپنے دیکھا کرتا تھا۔

    عبادت میں وعظ کرنے کے سوا اس کا کوئی کام نہ تھا ۔ ہفتے میں دو مرتبہ وہ اعتراف کی کو ٹھری میں جا بیٹھتا ، لیکن عرصۂ دراز سے کوئی شخص اعتراف کے لیے نہ آیا تھا۔ اس نے محض یہ سمجھا کہ نئے زمانے کے طور طریقوں کے باعث اس کے مسیحی حلقے کے لوگوں کا ایمان کمزور ہوتا جا رہا ہے اور اسی لیے اس کے حساب سے ابلیس سے اس کی تین بار ملاقات ایسا تجربہ تھا جو وقت اور   زمانے کے عین مطابق تھا۔ تا ہم اسے یہ بھی معلوم تھا کہ لوگ اس کی باتوں پر کم ہی کان دھرتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ خود بھی ان تجربات کا ذکر کرتے وقت زیادہ قابلِ یقین نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے لیے خود اپنے آپ یہ دریافت کر لینا حیران کن بات ہوتی کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران خاص طور پر ان غیر معمولی لمحوں میں جب اس نے پہلے دو مردہ پرندے دیکھے تھے ، وہ مردہ رہا تھا۔ اس میں زندگی کی تھوڑی سی رمق اس وقت پیدا ہوئی جب اس نے تیسرا مردہ پرندہ دیکھا، لہٰذا اب پچھلے چند دنوں سے وہ بین کثرت سے اسٹیشن کی بنچ پر پائے گئے پرندے کے بارے میں غور وفکر   میں مصروف تھا۔

      گرجے سے دس قدم کے فاصلے پر اس کا بغیر جالیوں کا چھوٹا سا گھر تھا، جس کا برآمدہ سڑک کی طرف تھا اور پیچھے دو کمرے تھے جو اس کے دفتر اور خواب گاہ کا کام دیتے تھے ۔ کبھی کبھی شاید ایسے لمحوں میں جب اس کا ذہن غیر واضح ہوتا ، وہ سوچتا کہ دنیا میں اگر گرمی کا وجود نہ ہوتا تو خوشی کا حصول ممکن تھا اور یہ خیال اس کے ذہن کا الجھا دیتا ۔ مابعد الطبیعیات کی دشوار گزار راہوں میں بھٹکنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ ہر صبح اپنی خواب گاہ میں دروازہ بھیڑے، آنکھیں موندے اور جسم کے پٹھے اکڑائے بیٹھا وہ یہی کیا کرتا تھا۔ تاہم اسے یہ احساس نہ تھا کہ اس کی سوچ اس قدر لطیف ہو چکی ہے کہ پچھلے تین برس سے اپنے مراقبے کے لمحوں میں وہ کسی بھی چیز کے بارے میں کچھ بھی   نہیں سوچ رہا ہوتا ۔

     ٹھیک بارہ بجے دوپہر ایک لڑکا ہاتھوں پر خانوں والا طشت اٹھائے ، برآمدہ عبور کیا کرتا، جس میں ہمیشہ وہی چیزیں ہوتی تھیں، یعنی ہڈیوں کا سوپ، یکا کا ایک ٹکڑا ، اُبلے ہوئے چاول ، بغیر پیاز کا گوشت ، تلا ہوا کیلا یا مکئی کی روٹی اور تھوڑی سی دال ، جسے مقدس قربان گاہ کا ستا نیئیدا ای نو تیرو کے پادری اینتونی از ابیل نے کبھی چکھ کر نہ دیا تھا۔

    لڑ کا طشت کو اس کرسی کے نزدیک رکھ دیتا جس پر پادری بیٹھا ہوتا تھا ، لیکن پادری اپنی آنکھیں اس وقت تک نہ کھولتا جب تک کہ برآمدے میں واپس جاتے ہوئے قدموں کی آواز ختم نہ ہو جاتی۔ اس کی اس عادت کے باعث قصبے میں مشہور ہو چکا تھا کہ پادری دو پہر کے کھانے سے قبل ہی قیلولہ کر لیتا ہے ( جو کہ نہایت فضول حرکت سمجھی جاتی تھی ) ۔ اصل واقعہ یہ تھا کہ بے چارے پادری کو رات میں بھی ٹھیک سے نیند نہ آتی تھی۔

     اس عمر میں اس کی عادتیں کم پیچیدہ بلکہ بالکل غیر مہذب کی ہو گئی تھیں ۔ مثلاً وہ دو پہر کا کھانا اپنی کینوس کی کرسی ہی میں بیٹھے بیٹھے کھا لیا کرتا ، خوراک کو طشت میں سے باہر بھی نہ نکالتا   اور رکابیاں اور چھری کانٹے بھی استعمال نہ کرتا ۔ ایک ہی چمچ سے، جس سے وہ سوپ پیتا تھا، سار اکام چلاتا ۔ بعد ازاں وہ اٹھا، تھوڑا سا پانی سر پر انڈیل کر اپنی سفید عبا پہنتا ، جس میں بڑی بڑی چوکور ٹکڑیاں تھیں اور عین اس وقت جب باقی کا قصبہ قیلولے کے لیے لیٹ رہا ہوتا ۔ وہ ریلوے اسٹیشن کا رخ کرتا ۔ پچھلے کئی ماہ سے وہ ایک ہی راستے سے، ایک خاص دعا پڑھتا ہوا ، آ جارہا تھا جو   اس نے خود ہی اس وقت وضع کی تھی جب ابلیس سے اس کی آخری ملاقات ہوئی تھی۔

    ایک سنیچر کو ۔۔۔۔۔ مردہ پرندوں کی بارش شروع ہونے کے نو دن بعد ۔۔۔۔۔ جب مقدس قربان گاہ کا پادری اینتونی ازابیل یوں ہی چلا جا رہا تھا تو ربیکا کے گھر کے عین سامنے ایک مرتا ہوا پرندہ آسمان سے اس کے پیروں میں آکر گرا۔ اس کے دماغ میں وجدان کا کوندا سا لپکا اور اسے احساس ہوا کہ باقی پرندوں کے برعکس اس مرتے ہوئے پرندے کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ اس نے پرندے کو ہاتھوں میں اٹھایا اور ربیکا کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ربیکا اس لمحے ، قیلولہ کرنے کی خاطر اپنا شلوکا اتارنے میں مصروف تھی۔

      اپنی خواب گاہ میں سے ربیکا نے دروازہ کھٹکھٹائے جانے کی آواز سنی اور جبلی طور پر جالیوں کی طرف دیکھا۔ پچھلے دو روز سے کوئی پرندہ اس کی خواب گاہ میں داخل نہ ہوا تھا لیکن جالی اب تک پھٹی ہوئی تھی۔ جالیوں کی مرمت کرانا جب تک پرندوں کی یورش جاری تھی۔ پنکھے کی آواز سے اوپر اٹھتی ہوئی دستک کی آواز سنی اور بے صبری سے اسے یاد آیا کہ آرخے نیدا برآمدے کے دوسرے کونے والے کمرے میں قیلولہ کر رہی ہے۔ اس نے اس بابت بالکل غور نہ کیا کہ اس لمحے اپنی موجودگی اس پر مسلط کرنے والا کون شخص ہو سکتا ہے۔ اپنا شلو کا اس نے دوبارہ پہن لیا ، جالی کا دروازہ کھول کر تنے ہوئے انداز میں سیدھے چلتے ہوئے پورا برآمدہ طے کیا اور نشست کے کمرے میں سے گزر کر جس میں مختلف زیبائشی اشیا اور فرنیچر کی بھر مار تھی ، دروازہ کھولنے سے قبل پیتل کی جالی میں سے باہر جھکا نکا ۔ باہر کم گو فادر اینتونی از ابیل آنکھیں بند کیے اور ہاتھوں میں ایک پرندہ اٹھائے کھڑا تھا۔ ابھی اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا کہ پادری نے کہا ’’ اگر اسے تھوڑا سا پانی پلا کر تھالی کے نیچے رکھ دیا جائے تو مجھے یقین ہے یہ اچھا ہو جائے گا۔ ‘‘اور جب ربیکا نے دروازہ کھولا تو اسے لگا جیسے خوف کے مارے وہ وہیں ڈھیر ہو جائے گی ۔

      پادری پانچ منٹ سے زیادہ وہاں نہیں ٹھہرا۔ ربیکا کو احساس ہوا جیسے اس کی کسی بات نے پادری کے قیام کو مختصر کر دیا ہو، لیکن دراصل پادری نے خود ہی ملاقات کو مختصر کیا تھا ۔ ربیکا اگر اسی لمحے غور کرتی تو اسے احساس ہو جاتا کہ پادری پچھلے تیس برسوں میں ، جب سے وہ اس قصبے میں   مقیم تھا، کبھی اس کے گھر میں پانچ منٹ سے زیادہ دیر کے لیے نہ رکا تھا۔ پادری کو اس گھر میں رکھی چیزوں کی فراوانی میں گھر کی مالکہ کی شہرت پرست روح کا عکس صاف دکھائی دیتا تھا، با وجود اس کے کہ جیسا کہ ہر ایک کو معلوم تھا، ربیکا کی بشپ سے دور کی قرابت داری بھی تھی۔ اس کے علاوہ ربیکا کے خاندان کے بارے میں ایک روایت ( یا محض ایک کہانی ) مشہور تھی جو یقیناً پادری کے خیال میں ، کلیسائی محل والوں کے کانوں تک نہیں پہنچی تھی ، حالاں کہ ربیکا کے ایک دور کے عم زاد کرنل اور یلیا نو بوئندیا نے جسے ربیکا خاندانی شفقت سے قطعی عاری سمجھتی تھی ، ایک بار قسم کھا کر بیان دیا تھا کہ بشپ نے اس پوری صدی میں قصبے میں اس لیے قدم نہ رکھا تھا کہ وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے سے گریز کرنا چاہتا تھا۔ بہر حال ، یہ خواہ تاریخی واقعہ تھا یا من گھڑت کہانی، حقیقت یہ تھی کہ مقدس قربان گاہ کے پادری اینتونی از ابیل کو اس گھر میں ہمیشہ بے آرامی کا احساس ہوا تھا، جس میں تنہا رہنے والی مالکہ نے کبھی خدا ترسی نہیں دکھائی تھی اور جو سال بھر میں صرف ایک بار اعتراف کے لیے گر جے جاتی تھی اور اس اعتراف کے دوران میں بھی ہر اس سوال کا جو اس کے خاوند کی موت کے حیرت ناک حادثے کے بارے میں ہوتا تھا، گول مول جواب دیا کرتی تھی۔ اگر پادری اس موقعے پر اس گھر میں موجود تھا اور ہاتھ میں پرندہ تھامے ربیکا کے پانی کا گلاس لا کر پرندے کو ڈبکی لگوانے کا منتظر تھا تو اس کا باعث چند اتفاقات تھے جن کے لیے وہ ہرگز جو اب دہ نہ تھا۔

    بیوہ کی واپسی کا انتظار کرتے ہوئے چوبی کام والی آرام کرسی میں دھنسے ہوئے پادری نے اس گھر کی عجیب و غریب سیلن کو محسوس کیا۔ اس لمحے سے بیس برس پہلے ایک دن اس گھر میں پستول چلنے کی آواز گونجی تھی اور حوزے آرکادیو بوئند یا  (کرنل اویلیا نو اور اپنی بیوی کا عم زاد ) گولی لگنے سے چکرا کر مہمیزوں اور بکسوؤں کے ڈھیر کے درمیان اپنے اتارے ہوئے چرمی موزوں پر گرا تھا، انہی موزوں پر جن میں اس کے جسم کی گرمی ابھی موجود تھی ، اس دن سے اس گھر کو سکون کا ایک لمحہ بھی نصیب نہ ہوا تھا۔

     ربیکا جب دوبارہ نشست کے کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے پادری کو آرام کرسی میں   بیٹھے دیکھا ۔ اس کے چہرے پر ایسی دھندلاہٹ تھی کہ وہ دہشت زدہ ہو گئی۔

    ’’ خداوند خدا کو ایک پرندے کی زندگی بھی اتنی ہی عزیز ہے جتنی ایک انسان کی ‘‘پادری نے   کہا۔

      لیکن یہ کہتے وقت اس کے ذہن میں حوزے آرکا د یو بوئند یا کا خیال نہ آیا تھا اور نہ ہی بیوہ    نے یہ سن کر اپنے مرحوم خاوند کو یاد کیا تھا۔ لیکن بیوہ کو پادری کی باتوں پر اعتقاد نہ کرنے کی عادت ہو چکی تھی ، خاص طور پر اس وقت سے جب پادری نے گرجے کے منبر پر کھڑے ہو کر ابلیس کے تین بار اس کے سامنے ظاہر ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اس کی بات پر زیادہ دھیان نہ دیتے ہوئے ربیکا نے پرندے کو ہاتھوں میں پکڑا، اسے پانی میں ڈبکی دی اور پھر جھنجھوڑا ۔ پادری نے غائر نظر سے دیکھا کہ اس عورت کے طریق کار میں خدا ترسی اور احتیاط کا فقدان تھا اور اسے پرندے کی زندگی کی ذرہ بھر پروانہ تھی۔

    ’’   تمہیں پرندے اچھے نہیں لگتے‘‘ پادری نے نرمی سے مگر اثبات کے لہجے میں کہا۔

    بیوہ نے بے صبری اور مخاصمت کے انداز سے آنکھیں اوپر اٹھا ئیں ۔ ’’ایک وقت ایسا تھا کہ مجھے پرندے پسند تھے‘‘ وہ بولی ۔ ’’مگر جب سے انہوں نے ہمارے گھروں کے اندر آ کر مرنا شروع کیا ہے مجھے زہر لگنے لگے ہیں ۔“

    ’’بہت سے پرندے مر گئے ہیں ۔‘‘ پادری کٹر پن سے بولا ۔ لیکن کسی شخص کو یہ گمان بھی ہو   سکتا تھا کہ اس کے ہموار لہجے میں بہت چالا کی چھپی ہوئی ہے۔

    ’’ سب مر گئے ہیں ‘‘ بیوہ نے کہا ۔ اور ساتھ ہی ناگواری سے ہاتھ میں تھامے پرندے کو زور سے دبا کر تھالی کے نیچے رکھتے ہوئے اضافہ کیا۔ ” مجھے ان کے مرنے کی بھی پروا نہ ہوتی اگر وہ میری جالیاں نہ توڑتے ۔“

      پادری نے باور کیا کہ اس نے اپنی تمام زندگی میں اس سے زیادہ سنگ دلی کا مظاہرہ نہیں دیکھا ۔ ایک لمحے بعد پرندے کے مختصر سے بے مدافعت جسم کو ہاتھ میں اٹھانے پر اسے پتا چلا کہ اس کی سانس بند ہو چکی ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے سب کچھ فراموش ہو گیا۔ گھر کی سیلن ، گھر کی مالکہ کی شہرت پرستی، حوزے آرکادیو بوئندیا کے جسم سے اٹھتی ہوئی بارود کی ناقابلِ برداشت بو۔۔۔۔ اور اس پر وہ عظیم الشان حقیقت آشکار ہوئی جو اس ہفتے کے آغاز سے اس کے قرب و جوار میں موجود تھی۔ بیوہ نے اسے مردہ پرندہ ہاتھوں میں تھا مے اور دہشت دلانے والا اشارہ کرتے ہوئے گھر سے نکلتے دیکھا، لیکن پادری اس وقت ایک حیرت انگیز کشت سے گزر رہا تھا کہ قصبے پر مردہ پرندوں کی بارش ہو رہی ہے اور وہ خود، خداوند خدا کا برگزیدہ اور منتخب خدمت گار جس کا زندگی میں خوشی سے اُسی وقت واسطہ رہا تھا جب گرمی نہ پڑ رہی ہو ، قرب قیامت کے بارے میں سب کچھ فراموش کر چکا ہے۔

    اس روز بھی وہ حسب سابق ریلوے اسٹیشن پر گیا، مگر اس روز وہ اپنی حرکات سے باخبر نہ تھا۔ اسے مبہم طور پر احساس تھا کہ دنیا میں کچھ ہو رہا ہے مگر اس کا ذہن گڈ مڈ اور ساکت تھا اور وہ خود حالات کا سامنا کرنے سے قطعی قاصر تھا۔ بینچ پر بیٹھے ہوئے اس نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ آیا قربِ قیامت کے آثار میں مردہ پرندوں کی بارش کا ذکر بھی تھا، لیکن اسے کچھ یاد نہ آیا۔ ایک دم سے خیال آیا کہ شاید ربیکا کے گھر میں رکنے کے سبب اس نے دیر کر دی ہو اور گاڑی آکر چلی گئی ہو، لیکن اس نے کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے اور گرد آلود شیشے کے اوپر سے گردن اٹھا کر گھنٹے پر نظر ڈالی تو اسے پتا چلا کہ ابھی بارہ بجنے میں پانچ منٹ باقی ہیں۔ جب وہ دوبارہ بینچ پر بیٹھا تو اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔ اس وقت اسے یاد آیا کہ آج سنیچر ہے۔ کھجور کے پتوں کے دستی پنکھے سے اپنے آپ کو ہوا کرتے وقت وہ ذہن کی تاریک دھند میں کھویا رہا۔ کچھ دیر وہ اپنی عبا، اپنے جوتوں اور اپنی پادریوں والی لمبی آرام دہ پتلون کے بٹنوں کے بارے میں جھنجھلاہٹ کا شکار رہا۔ تب اس نے گھبرا کر محسوس کیا کہ آج تک اسے اتنی گرمی نہ لگی جتنی اس وقت لگ رہی ہے۔

     وہیں بیٹھے بیٹھے اس نے اپنی عبا کے بٹن کھولے، آستین میں سے رومال نکال کر اپنا تپا ہو اچہرہ صاف کیا اور جذبے کی بصیرت والے ایک عارضی لمحے میں سوچا کہ شاید وہ کسی زلزلے کی تہیں کھلنے کا منظر دیکھ رہا ہے۔ یہ عبارت اس نے کہیں پڑھی تھی۔ مگر آسمان بالکل صاف تھا ، نیلا اور شفاف آسمان جس میں سے تمام پرندے پُر اسرار طور پر غائب ہو چکے تھے۔ اس نے آسمان کے رنگ اور شفاف پن کو تو دیکھا مگر ایک لمحے کے لیے پرندوں کو بھول گیا۔ اب وہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ رہا تھا، شاید کوئی طوفان آنے والا ہے۔ لیکن آسمان نتھرا ہوا پر سکون اور بے حرکت تھا جیسے وہ کسی اور قصبے کا آسمان ہو جہاں اسے گرمی کا کبھی احساس نہ ہوا ہو ، اور جیسے اس کی اپنی آنکھیں کسی اور کی آنکھیں ہوں جو اس آسمان کو دیکھ رہی ہوں۔ تب اس نے شمال کی جانب نظر دوڑائی اور وہاں کھجور کے پتوں اور زنگ آلود جست کی چھتوں سے پرے، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کے اوپر ، خوشی، آہستگی اور روانی سے اڑتے ہوئے ، شِکروں کا ایک دھبہ سا دیکھا۔

    کسی نامعلوم وجہ سے اس لمحے پادری اُسی کیفیت سے گزرا جس سے ایک اتوار کو دارالعلوم میں اپنے ادنیٰ مدارج حاصل کرنے سے کچھ روز پہلے گزرا تھا۔ ریکٹر نے اسے اپنا ذاتی کتب خانہ استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور وہ روزانہ ( خصوصاً اتواروں کو ) گھنٹوں وہاں بیٹھا میلی ہوتی ہوئی کتابیں پڑھتا رہتا تھا، جن میں سے پرانی لکڑی کی بو آیا کرتی تھی اور جن میں لاطینی زبان کے چھوٹے چھوٹے خمدار حروف میں ریکٹر نے اپنے ہاتھ سے حاشیہ آرائی کی ہوئی ہوتی تھی۔ ایک اتوار کو جب وہ صبح سے مطالعے میں مصروف تھا، ریکٹر شام کے وقت کمرے میں داخل    ہوا اور تیزی سے آگے بڑھ کر برافروختہ سا ہو کر اس نے ایک کارڈ فرش پر سے اٹھالیا جو اُس کتاب میں سے گرا تھا جسے پادری پڑھ رہا تھا ۔ پادری نے رتبے میں اپنے سے برتر اس شخص کی ذہنی ابتری کو پوشیدہ لا تعلقی سے دیکھا اور اس دوران میں کارڈ پر لکھی عبارت بھی پڑھ لی ۔ کارڈ پر جامنی روشنائی میں صاف اور سیدھے خط میں ایک ہی فقرہ درج تھا ” ما دام ای ویت آج رات مر گئی‘‘ ۔ تقریباً نصف صدی کے بعد آج شِکروں کے ایک دھبے کو ایک بھولے ہوئے قصبے کے آسمان پر دیکھ کر پادری کو اُس اتوار کو اپنے سامنے بیٹھے ہوئے ریکٹر کی مغموم کیفیت یاد آ گئی جب غروب آفتاب کے مقابل ریکٹر کا چہرہ عنابی ہو رہا تھا اور اس کی سانس تیز ہوگئی تھی۔

     یادداشت کے اس تعلق سے لرز کر پادری کو اس وقت گرمی کا نہیں بلکہ اس کے برعکس پیروں کے تلوں میں اور زیر ناف برف کی کاٹ محسوس ہوئی۔ وہ یہ جانے بغیر دہشت زدہ تھا کہ کس مخصوص وجہ سے دہشت زدہ ہے اور پراگندہ خیالات کے جال میں گرفتار تھا جن میں یہ تمیز کرنا ناممکن تھا کہ کون سا خیال کس خیال سے بڑھ کر کریہہ المنظر ہے، آیا ابلیس کے کیچڑ میں دھنسے ہوئے سموں کا یا آسمان سے مردہ پرندوں کی ڈھیروں ڈھیر بارش کا ، اگر چہ وہ خود مقدس قربان گاہ کا فادر اینتونی ازابیل اس موخر الذکر واقعے سے لاتعلقی محسوس کر رہا تھا۔ تب وہ ایک دم سیدھا ہوا بیٹھا، اپنا سہما ہو ا ہاتھ ہوا میں اوپر اٹھایا جیسے ایسی تہنیت کا بیان شروع کرنے والا ہو جو کالی فضا میں غائب ہو چکی ہو اور حواس باختہ ہو کر چیخا :’’ گردش زدہ یہودی!‘‘

     عین اس وقت ریل کی سیٹی بجی ۔ اتنے برسوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ اسے سیٹی کی آواز سنائی نہ دی۔ اس نے گاڑھے دھویں میں لپٹی ریل گاڑی کو اسٹیشن میں داخل ہوتے دیکھا اور زنگ آلود جست کی چادروں پر برستے کوئلے کے ذروں کی آواز سنی۔ لیکن یہ ایک دور افتادہ اور نا قابلِ فہم خواب کی طرح تھا، جس سے وہ اس سہ پہر ، چار بجے کے بعد تک بھی ، پوری طرح بیدار نہ ہوا تھا جب وہ اپنے ذہن میں اس متاثر کن وعظ کی نوک پلک سنوار رہا تھا جو اسے اگلے دن اتوار کو کرنا تھا۔ آٹھ گھنٹے بعد اسے ایک عورت کے لیے آخری دعائیں پڑھنے جانا پڑا۔

    نتیجہ یہ ہوا کہ پادری کو معلوم نہ ہو سکا کہ اس سہ پہر ریل گاڑی سے کون اترا ہے۔ بہت عرصے سے وہ گاڑی کے چار بے رنگ اور بودے ڈبوں کو دیکھتا آ رہا تھا جن میں سے اسے یاد نہیں تھا کہ کوئی شخص پچھلے کئی برسوں میں ٹھہرنے کے لیے یہاں اترا ہو ۔ پرانے وقتوں میں معاملہ مختلف تھا جب وہ ساری سہ پہر کیلوں سے بھری گاڑی کو گزرتے دیکھتا رہتا تھا۔ اس گاڑی کے ایک سو چالیس ڈبے ہوتے تھے اور پھلوں سے لدی وہ گاڑی لامتناہی وقت تک گزرتی رہتی تھی حتیٰ   کہ سورج ڈھلتے سمے اس کا آخری ڈبا گزرتا جس میں سے ایک آدمی سبز بتی باہر لٹکائے ہوئے ہوتا تھا۔ تب کہیں اسے قصبے کا ریل کی پٹڑی کی دوسری طرف والا حصہ نظر آتا، جہاں اب بتیاں روشن ہو چکی ہوتیں اور اسے یوں لگتا جیسے گاڑی کو دیکھنے ہی میں وہ کسی دوسرے قصبے میں جا پہنچا ہو۔ شاید اسی وجہ سے اس نے ہر سہ پہر اسٹیشن پر موجود ہونے کی عادت ڈال لی تھی جواب بھی قائم تھی حالاں کہ بعد ازاں انہوں نے کیلے کے باغوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو گولی مار دی تھی اور باغ بھی ختم ہو گئے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ ایک سو چالیس ڈبوں والی گاڑی بھی اور اس کی   جگہ یہ پیلے ڈبوں والی گرد آلود گاڑی رہ گئی تھی جو کسی کو لاتی تھی نہ لے جاتی تھی۔

     لیکن اس سنیچر کو بہر حال ایک شخص اس گاڑی سے آیا تھا۔ جب مقدس قربان گاہ کا پادری اینتونی از ابیل اسٹیشن سے باہر نکل رہا تھا تو ایک خاموش سے لڑکے نے جس کے چہرے پر بھوک کے آغاز کے سوا کوئی خاص بات نہ تھی ، گاڑی کے آخری ڈبے کی کھڑکی میں سے اُسے دیکھا تھا اور عین اسی وقت اسے یہ بھی یاد آیا تھا کہ پچھلی دو پہر سے اس نے کچھ نہیں کھایا۔ اس نے سوچا اس قصبے میں اگر پادری ہے تو یقیناً کوئی کھانے پینے کی جگہ بھی ہو گی۔ اور وہ گاڑی سے اتر آیا اور سڑک پار کر کے جس پر اگست کے دہکتے سورج کی گرمی سے چھالے پڑے ہوئے تھے، اسٹیشن کے عین سامنے ایک عمارت میں داخل ہو گیا۔ اس عمارت کے اندر سائے میں کچھ ٹھنڈک تھی اور وہاں سے ایک گھسے ہوئے گرام فون ریکارڈ کی آواز آ رہی تھی۔ اس کی حسِ شامہ نے جو دو روز کی بھوک سے اور بھی تیز ہو چکی تھی، اسے بتایا کہ یہ ہوٹل ہے اور وہ ’ہوٹل ماکوندہ‘ کے سائن بورڈ کو دیکھے بغیر اندر چلا گیا، وہ سائن بورڈ جسے پڑھنے کا اسے زندگی میں کوئی اور موقع نہیں ملنے والا تھا۔

     ہوٹل کی مالکہ کو پانچ ماہ سے زیادہ کا حمل تھا۔ اس کا رنگ سرسوں کی طرح پیلا تھا۔ بالکل ویسا ہی جیسا اُس کی ماں کا تھا جب وہ اسے کے پیٹ میں تھی ۔ لڑکے نے کھانے کا آرڈر دیا اور کہا ’’جتنی جلدی ہو سکے !‘‘ لیکن عورت نے جلدی دکھائے بغیر سوپ کا پیالا اس کے آگے رکھا۔ سوپ میں بغیر گوشت کی ایک ہڈی تھی اور کچے کیلے کے کیے ہوئے چند ٹکڑے تھے۔ اسی وقت گاڑی نے سیٹی دی۔ سوپ کی گرم اور صحت مند بھاپ میں منہمک لڑکے نے ہوٹل سے اسٹیشن تک کے فاصلے کا ذہنی طور پر اندازہ لگایا اور یک دم افراتفری سے پیدا ہونے والے اس ہول کا شکار ہو گیا جس سے وہ لوگ دو چار ہوتے ہیں جن کی گاڑی چھوٹ گئی ہو ۔

     اس نے دوڑنے کی کوشش کی ۔ وہ کرب کی حالت میں دروازے تک پہنچا ، لیکن ابھی اس نے دہلیز کے باہر ایک قدم بھی نہ رکھا تھا کہ اسے احساس ہو گیا کہ وہ گاڑی نہ پکڑ سکے گا۔ جب وہ میز پر واپس آیا تو وہ اپنی بھوک فراموش کر چکا تھا، اس نے گراموفون کے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھا جو اسے ترحم آمیز نظروں سے دیکھ رہی تھی اور اس کے چہرے پر ایسا تاثر تھا جیسا دم ہلاتے ہوئے کسی کتے کے چہرے پر ہوتا ہے ۔ تب سارے دن میں پہلی بار اس نے اپنے سر سے ہیٹ اُتار دیا جو اس کی ماں نے اسے دو ماہ قبل تحفے کے طور پر دیا تھا اور کھانے کے دوران وہ ہیٹ کو گھٹنوں میں دبائے بیٹھا رہا۔ جب وہ میز سے اٹھا تو گاڑی چھوٹ جانے کے باعث پریشان نظر نہ آتا تھا اور نہ اس امکان سے رنجیدہ تھا کہ اسے کالے دو روز اس قصبے میں گزارنے ہوں گے جس کا نام تک جاننے کی اُس نے کوشش نہیں کی تھی۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں اپنی پیٹھ کو ایک کرسی کی سیدھی اور سخت پشت سے ٹکا کر بیٹھ گیا اور دیر تک گراموفون پر بجتے ہوئے ریکارڈوں کو سنے بغیر وہاں بیٹھا رہا حتیٰ کہ ریکارڈوں کا انتخاب کرتی ہوئی لڑکی نے اسے مخاطب کر کے کہا: ’’باہر برآمدے میں گرمی کم ہے۔‘‘

      اس نے خود کو بے آرام محسوس کیا۔ اجنبیوں کے ساتھ گفتگو شروع کرنا اس کے لیے ہمیشہ سے مشکل رہا تھا۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے سے وہ خوف زدہ رہتا تھا اور جب بات کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہ جاتا تو اسے یوں لگتا جیسے الفاظ اس طرح ادا نہیں ہو سکتے جیسے وہ چاہتا تھا۔ ” ہاں‘‘ اس نے جواب دیا اور اسے خفیف سی کپکپی آئی۔ اس نے کرسی کو جھلانے کی کوشش کی مگر یہ بھول گیا کہ وہ جھولنے والی کرسی میں نہیں بیٹھا ۔

    ’’ جو لوگ بھی یہاں آتے ہیں وہ کرسی برآمدے میں لے جاتے ہیں ، اس لیے کہ وہاں ٹھنڈک ہوتی ہے ۔‘‘ لڑکی نے کہا ۔ اس کی بات سنتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی شدت سے گفتگو کرنے کی خواہش مند تھی ۔ اُس نے لڑکی پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈال ہی لی، اس وقت جب وہ گراموفون کو چابی دے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مہینوں بلکہ شاید برسوں سے وہیں بیٹھی ہے اور وہاں سے ہلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ وہ گراموفون کو چابی تو دے رہی تھی مگر اس کی پوری جان لڑکے ہی پر مرکوز تھی ۔ پھر وہ مسکرانے لگی ۔

    ’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے جواب دیا اور اٹھنے میں   اور اپنی دوسری حرکات میں کچھ روانی اور بے ساختگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی اپنی نظریں اس پر گاڑے رہی اور بولی ’’ اور وہ لوگ اپنے ہیٹ کھونٹے پر لٹکا دیا کرتے ہیں ۔“

     اس بار اسے اپنے کان جلتے ہوئے محسوس ہوئے ۔ لڑکی کے تجاویز دینے کے انداز کے بارے میں سوچ کر اسے کپکپی سی آئی ۔ اس نے تکلیف دہ حد تک اپنے آپ کو گھر ا ہوا محسوس کیا اور   وہ ایک بار پھر گاڑی چھوٹے جانے کے ہول کا شکار ہو گیا۔ لیکن اسی وقت مالکہ کمرے میں داخل   ہوئی۔

      ” تم کیا کر رہی ہو ؟“ اس نے پوچھا۔

    ’’ یہ کرسی گھسیٹ کر برآمدے میں لے جا رہا ہے ، جیسے سب کرتے ہیں ‘‘ لڑکی نے کہا۔   لڑکی کے لہجے سے اسے لگا جیسے وہ اس کا مذاق اڑا رہی ہو۔

    ’’ کرسی گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ‘‘ملکہ نے کہا۔ ” میں تمہیں اسٹول لائے دیتی ہوں ۔“

    لڑکی ہنسی اور وہ مزید بدحواس ہو گیا۔ گرمی کافی تھی ، خشک اور مسلسل پڑنے والی گرمی سے اس کا پسینہ بہہ رہا تھا۔ مالکہ ایک چمڑے کی نشست والا لکڑی کا اسٹول کھینچ کر برآمدے میں لے گئی۔ وہ کمرے سے باہر جانے ہی والا تھا کہ لڑکی نے دوبارہ بات کی ۔

    ’’ مشکل یہ ہے کہ باہر اسے پرندے خوف زدہ کریں گے ۔“ وہ بولی۔

      لڑکے نے مالکہ کی اس سخت نگاہ کو دیکھ لیا جو اس نے لڑکی پر ڈالی تھی ۔ وہ نگاہ مختصر مگر درشت تھی۔ ’’تمہارے لیے منہ بند رکھنا زیادہ مناسب ہو گا ۔“ اس نے لڑکی سے کہا اور پھر لڑکے کی طرف مڑ کر مسکرائی۔ لڑکے کا اکیلے پن کا احساس کم ہو گیا اور اسے بات کرنے کی خواہش ہوئی۔

      ”اس نے کیا کہا تھا ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

      ” یہ اس کا اپنا وہم ہے‘‘ مالکہ نے کہا اور جھک کر کمرے کے درمیان رکھی چھوٹی سی میز پر پڑے کاغذی پھولوں کے گلدان کو ٹھیک کرنے میں لگ گئی ۔ اعصابی اضطراب سے اس کی انگلیاں اینٹھ رہی تھیں ۔

    ’’ میرا وہم ہے؟ نہیں ‘‘ لڑکی نے کہا۔ ” پرسوں تم نے خود جھاڑو سے برآمدے میں سے دو   مردہ پرندوں کو پھینکا تھا۔“

     ملکہ نے زچ اور لاچار ہو کر لڑکی کو دیکھا ۔ لڑکی کے چہرے پر قابل رحم تاثر تھا اور اس کا   جی چاہ رہا تھا کہ ہر بات کو اتنی تفصیل سے بیان کرے کہ شک کی گنجائش نہ رہ جائے۔

    ’’ بھائی ، ہوا یہ تھا کہ کچھ لڑکوں نے اسے ستانے کی خاطر پرسوں دو مرے ہوئے پرندے یہاں ہال میں ڈال دیے اور اس سے کہا کہ آسمان سے مردہ پرندے گر رہے ہیں۔ اسے تو جو کوئی کچھ بتائے اس پر ایمان لے آتی ہے۔‘‘

     لڑکا مسکرایا۔ واقعے کی یہ جزئیات اسے مضحکہ خیز لگیں ۔ وہ ہاتھ ملتا ہوا لڑکی کو دیکھنے کے لیے مڑا جو کرب ناک حالت میں اسے دیکھے جا رہی تھی۔ گراموفون چلنا بند ہو گیا تھا۔ مالکہ د وسرے کمرے میں چلی گئی اور جب وہ وہاں سے گزر کر باہر آنے لگا تو لڑکی نے دھیمی آواز میں   ا صرار کیا۔

    ’’ میں نے خود انہیں گرتے دیکھا تھا۔ یقین کرو، ہر ایک نے دیکھا ہے۔“  

    لڑکے کو محسوس ہوا جیسے اسے لڑکی کے گراموفون کے ساتھ چمٹے ہونے اور مالکہ کی بے چارگی کی وجہ سمجھ آگئی ہو ۔ ” ہاں، اس نے ہمدردانہ لہجے میں کہا اور ہال کی جانب بڑھتے ہوئے   اضافہ کیا ۔’’ میں نے بھی دیکھا ہے۔“

    باہر بادام کے درختوں تلے گرمی کم تھی۔ اسٹول کو ٹیڑھا کر کے اس نے دروازے کی چوکھٹ سے ٹیک لگالی اور سر پیچھے ڈال کر اپنی ماں کے بارے میں سوچنے لگا۔ کام کاج سے تھک کر وہ جھولنے والی کرسی میں بیٹھی جھاڑو کے لمبے ڈنڈے سے مرغیوں کو پرے ہٹانے میں مشغول ہوگئی اور اسے پہلی بار یہ احساس ہوا ہو گا کہ اس کا بیٹا گھر میں نہیں ہے۔

      ایک ہفتہ پہلے تک اس لڑکے کو یہی گمان تھا کہ اس کی زندگی ایک سیدھے تار کی طرح ہے جو پچھلی خانہ جنگی کے زمانے کے اس بارش کے دن سے لے کر جب اس نے صبح سویرے قصباتی اسکول کی مٹی اور بھوسے سے بنی چار دیواری میں آنکھ کھولی تھی ، اس کے بائیسویں جنم دن جون کی اس صبح تک سیدھا کھنچا ہوا تھا ، جب اس کے میاں نے اس کے جھولنے تک آکر اسے ہیٹ کا تحفہ اور ایک کا رڈ دیا تھا جس پر لکھا تھا ” میرے پیارے بیٹے کے لیے اس کے اپنے دن پر‘‘ کبھی کبھی وہ اپنی بے حرکت زندگی کا زنگ اتار کر اپنے اسکول کے دنوں کو یاد کیا کرتا ، کلاس کے تختۂ سیاہ کی اور اس ملک کے نقشے کی یاد جو مکھیوں کے گند سے گنجان تھا اور دیوار پر لٹکی پیالیوں کی قطار کی یاد، جس میں ہر پیالی کے نیچے ایک بچے کا نام لکھا ہوا تھا اسے ستایا کرتی۔ جس قصبے میں وہ رہتا تھا وہاں گرمی نہیں پڑتی تھی۔ وہ سرسبز، پر سکون سا قصبہ تھا جہاں خاکستری رنگ کی لمبی ٹانگوں والی مرغیاں اسکول کے اندر آ جایا کرتی تھیں اور ہاتھ منہ دھونے والے چبوترے کے نیچے بیٹھ کر انڈے دیا کرتی تھیں۔ اس کی ماں ان دنوں اداس اور کم گو عورت ہوا کرتی تھی ۔ غروب آفتاب کے وقت وہ بیٹھ کر کافی کے باغوں سے نتھر کر آنے والی ہوا میں سانس لیا کرتی اور کہتی تھی کہ ’’مانورے دنیا کا سب سے خوب صورت قصبہ ہے۔‘‘ اور پھر اس کی طرف مڑ کر جو اُن دنوں اپنے جھولنے میں لیٹا روز بہ روز بڑا ہو رہا تھا، اس سے کہتی : ” بڑے ہو کر یہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی‘‘ لیکن اس کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آئی تھی۔ پندرہ سال کی عمر میں جب وہ اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا اور سست رو زندگی کی ودیعت کی ہوئی گستاخانہ اور بے دھڑک صحت سے پھٹا پڑ رہا تھا، اس وقت بھی   وہ سمجھ سے عاری تھا۔ اس کی بیسویں سالگرہ تک اس کی زندگی میں سوائے اپنے جھولنے والے بستر   میں سونے کے انداز میں تبدیلی کے کوئی اہم تبدیلی واقع نہ ہوئی تھی ۔ لیکن انہی دنوں اس کی ماں کو جوڑوں کے درد کے باعث اٹھارہ سال کی نوکری کے بعد مدرسی چھوڑنی پڑی تھی، نتیجے کے طور پر اسے اور اس کی ماں کو دو کمروں اور کشادہ آنگن والے مکان میں جا کر رہنا پڑا تھا۔ وہاں وہ خاکستری رنگ کی لمبی ٹانگوں والی وہی مرغیاں پالنے لگے تھے جیسی کسی زمانے میں اسکول کے اندر گھس آیا کرتی تھیں ۔

     مرغیوں کی نگہداشت اس کا حقیقت کے ساتھ پہلا ربط تھا اور جولائی کے مہینے تک وہی اکلوتا ربط تھا۔ جولائی میں اس کی ماں نے اپنی ریٹائر منٹ کے متعلق سوچا تھا اور اپنے بیٹے کو اس بات کا اہل جانا تھا کہ اس بارے میں عرضی دعوی ٰکرے ۔ لڑکے نے نہایت موثر طریقے سے ضروری کاغذات کی تیاری میں ہاتھ بٹایا تھا، حتیٰ کہ مناسب موقع شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حلقے کے پادری کو ماں کی بپتسمے کی تاریخ چھ ماہ پیچھے کرنے پر بھی رضا مند کر لیا تھا کیوں کہ اس تبدیلی کے بغیر اس کی ماں کی عمر ابھی ریٹائر منٹ کی نہیں بنتی تھی ۔ جمعرات کو اسے آخری ہدایات ملی تھیں جن میں اس کی ماں کی مدرسی کے تجربے کی تفصیلات انتہائی احتیاط سے بتائی گئی تھیں ۔ تب اس نے بارہ پیسو جیب میں ڈال کر کپڑوں کا ایک جوڑا اور کاغذات کا پلندا ساتھ لے کر شہر کی طرف سفر شروع کیا تھا۔ لفظ ریٹائر منٹ سے اس نے بنیادی اور خاص طور پر یہ مراد   لی تھی کہ حکومت اسے کچھ رقم دے گی تا کہ وہ سور پالنے کا کاروبار شروع کر سکے۔

     ہوٹل کے برآمدے میں اونگتے ہوئے شدید گرمی سے بے سُدھ ، اسے ابھی اپنی صورتِ حال کی سنگینی کا مکمل ادر اک نہ ہوا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگلے روز تک اس کی ساری پریشانی صرف اس حد تک تھی کہ اتوار کے روز سفر دوبارہ جاری کرنے کا انتظار کرے اور ہمیشہ کے لیے اس قصبے کو فراموش کر دے جہاں اتنی شدید گرمی پڑتی تھی۔ چار بجے سے کچھ پہلے اسے آنکس والی مگر بے آرامی کی نیند آ گئی اور وہ یہ سوچتے ہوئے سو گیا کہ اسے جھولنے والا بستر ساتھ لانا چاہیے تھا۔ اسی وقت اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے کپڑوں کی گٹھری اور ماں کی ریٹائر منٹ کے کاغذات گاڑی ہی میں بھول آیا ہے۔ وہ خوف کے مارے چونک کر اٹھ بیٹھا اور اپنی ماں کے بارے میں سوچتے ہوئے ایک بار پھر ہول کا شکار ہو گیا۔

     جس وقت وہ اسٹول کو گھسیٹ کر دوبارہ کھانے کے کمرے میں لایا ، قصبے کی بتیاں جل اٹھی تھیں ۔ اس نے کبھی بجلی کی روشنیاں نہ دیکھی تھیں اس لیے وہ ہوٹل میں غلط سلط جگہوں پر لگے بلب دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اسے یاد آیا کہ اس کی ماں نے بجلی کے بارے میں اسے ایک بار بتایا تھا۔ گھڑ مکھیوں سے بچتے ہوئے جو گولیوں کی طرح شیشوں سے ٹکرا رہی تھیں ، وہ اسٹول کو گھسیٹ کر کھانے کے کمرے کے اندر لے آیا۔ اس نے کھانا کھایا ،مگر اس کی بھوک مر چکی تھی۔ کچھ تو اپنی صورتِ حال سے، کچھ شدید گرمی کی وجہ سے اور کچھ اپنے اکیلے پن کی تلخی سے، جس سے وہ پہلی بار روشناس ہوا تھا، وہ تذبذب میں تھا۔ نو بجے کے بعد اسے عمارت کے عقبی حصے میں لکڑی کے بنے ایک کمرے میں لے جایا گیا جس کی دیواروں پر اخباروں اور رسالوں کے کاغذ چپکے ہوئے تھے۔ آدھی رات کے وقت تک وہ ایک ہیجانی اور بخار کی سی نیند میں ڈوب چکا تھا جب کہ وہاں سے پانچ بلاک پر ے مقدس قربان گاہ کا پادری اینتونی از ابیل بیٹھا سوچ رہا تھا کہ اس شام کو ہونے والے واقعات سے اس خطبے کو جو اس نے دوسرے دن صبح سات بجے کے لیے تیار کیا تھا، خاصی تقویت ملی ہے۔ بارہ بجے سے کچھ دیر پہلے وہ پورا قصبہ پار کر کے ایک عورت کے لیے آخری دنیاوی رسوم ادا کر کے آیا تھا اور ابھی تک برانگیختہ اور مضطرب تھا، جس کے نتیجے میں رسوم ادا کرنے کی مقدس اشیا اس نے اپنے بستر کے قریب ہی چھوڑ دیں اور لیٹ کر صبح کے خطبے کے بارے میں سوچ بچار کرنے لگا۔ وہ کئی گھنٹے بستر میں یوں ہی اوندھا لیٹا رہا حتیٰ کہ اسے صبح کے وقت لمبی ٹانگوں والے پلوور پرندوں کی صدائیں سنائی دینے لگیں ۔ تب اس نے بیدار ہونے کی کوشش کی اور تکلیف میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بستر سے نیچے اترتے ہوئے اس کا پاؤں مقدس گھنٹی پر پڑا   اور وہ سیدھا سر کے بل اپنے کمرے کے ٹھنڈے اور سخت فرش پر جا گرا۔

    ہوش میں آتے ہی اسے اپنے جسم کے بائیں حصے میں رعشے کا سا احساس ہوا جو اسے اوپر کی جانب اٹھتا ہوا لگا۔ اس لمحے میں وہ اپنے وجود کے بوجھ سے جس میں اس کے جسم ، گناہوں اور عمر کا بوجھ سب شامل تھے، مکمل طور پر آگاہ تھا۔ اپنے رخساروں کے نزدیک اسے پتھریلے فرش کے جمود کا احساس ہوا ۔ جب وہ اپنے خطبے تیار کیا کرتا تھا تو اسی فرش کے ٹھوس پن سے اس راستے کا واضح تعین کیا کرتا جو جہنم کی طرف جاتا تھا۔ ” خداوند‘‘ وہ خوف سے بڑبڑایا اور سوچنے لگا، اب میں کبھی نہیں اٹھ سکوں گا۔

     اسے احساس نہیں تھا کہ وہ گر کر کتنی دیر زمین پر لیٹا رہا، نہ اس دوران میں اس نے کچھ سوچا حتی ٰکہ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اسے نیک موت کے لیے دعا کرنی چاہیے۔ بس یوں تھا جیسے وہ ایک لمحے کے لیے حقیقتاً مر گیا ہو لیکن جب اسے مکمل ہوش آیا تو اسے کسی خوف یا درد کا کوئی احساس نہ رہا تھا۔ دروازے کے نیچے سے اسے صبح کا اجالا دکھائی دیا۔ اس نے دور سے مرغوں کی افسردہ اور بھرائی ہوئی آواز سنی اور اسے معلوم ہوا کہ وہ زندہ ہے اور خطبے کے الفاظ اسے پوری   طرح یاد ہیں ۔

      جب اس نے دروازے کے کواڑوں کے آگے انکی ہوئی لکڑی ہٹائی اس وقت صبح ہو رہی تھی۔ اسے اب کہیں درد کی شکایت نہ تھی بلکہ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے گرنے کی چوٹ نے اسے بڑھاپے کے بوجھ سے آزاد کر دیا ہو ۔ قصبے کی تمام اچھائی ، بدکرداری اور اذیت اس کے جسم میں اُس وقت داخل ہوئی جب اس نے مرغوں سے بھری نیلی نمی والی ہوا میں پہلا سانس لیا۔ تب اس نے اپنے ارد گرد کا جائزہ لیا جیسے خود کو تنہائی سے ہم آہنگ کرنا چاہتا ہو اور صبح کے پر سکون سائے میں برآمدے میں ایک دو تین مردہ پرندوں کو پڑے دیکھا۔

     نو منٹ تک وہ ان تین پرندوں کے خیال میں مستغرق رہا اور اپنے تیار کردہ خطبے کی روشنی میں سوچتا رہا کہ ان تین پرندوں کی اکٹھی موت کفارے کی آرزو مند ہے۔ پھر وہ چلتا ہوا بر آمدے کے دوسرے کونے تک گیا۔ تینوں مردہ پرندوں کو یکے بعد دیگرے مٹکے کے اندر سبز اور ساکت پانی میں ڈال دیا ۔ تین اور تین مل کر نصف درجن پرندے ہو گئے ، وہ سوچنے لگا اور وہ بھی ایک ہفتے کے اندر اور ذہنی درخشندگی کے معجزاتی شعلے نے اسے احساس دلایا کہ وہ اپنی زندگی کا سب سے اہم دن گزارنے والا ہے۔

    سات بجے گرمی شروع ہو گئی ۔ ہوٹل میں اکیلا کرایہ دار ناشتے کا منتظر تھا۔ گراموفون والی لڑکی ابھی بیدار ہوئی تھی ۔ مالکہ اس کے قریب آئی اور اس وقت یوں لگا جیسے گھنٹے کے ساتھ بجانے کی آواز یں اس کے پھولے ہوئے پیٹ کے اندر سے آئی ہوں ۔

     ’’ تو تمہاری گاڑی چھوٹ گئی ۔‘‘ اس نے تاخیر سے کیے گئے افسوس کے لہجے میں کہا ۔ اس نے ناشتہ لڑکے کے سامنے رکھا۔ ناشتے میں دودھ والی کافی ، تلا ہوا انڈا اور کچے کیلے کے قتلے   تھے۔

     لڑکے نے کھانے کی کوشش کی مگر اسے بالکل بھوک نہ تھی ۔ وہ ڈر رہا تھا کہ گرمی ابھی سے پڑنی شروع ہو گئی ہے۔ بالٹیوں کے حساب سے اس کا پسینہ بہہ رہا تھا اور دم گھٹ رہا تھا۔ وہ کپڑے پہنے پہنے رات ٹھیک سے سویا بھی نہ تھا اور اب اسے کچھ بخار سا تھا۔ اسے پھر ہول سا اٹھا اور اپنی ماں کی یاد آئی، عین اس وقت جب مالکہ نے آکر میز پر سے برتن اٹھانے شروع کیے، اس نے بڑے بڑے میز پھولوں والا نیا لباس پہن رکھا تھا اور بہت تابندہ لگ رہی تھی۔ اس کے لباس سے لڑکے کو یاد آیا کہ آج اتوار ہے۔

    ’’ کیا یہاں عبادت ہوتی ہے؟ ‘‘اس نے پوچھا۔

    ’’ہاں ہوتی تو ہے ‘‘مالکہ نے جواب دیا۔ ’’مگر نہ ہونے کے برابر ۔ کوئی عبادت کے لیے   جاتا ہی نہیں ۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں نیا پادری ہی نہیں بھیجا ۔“

    ’’ اس والے میں کیا خرابی ہے؟“

    ’’ایک تو وہ سو سال کا ہے اور دوسرے آدھا پاگل ہے ‘‘ عورت نے کہا ۔ وہ ساکت ، کچھ سوچتے ہوئے ایک ہی ہاتھ میں تمام برتن تھا مے کھڑی تھی۔ پھر وہ بولی ” کچھ روز پہلے کی بات ہے اس نے منبر پر قسم کھا کر کہا تھا کہ اس نے ابلیس کو دیکھا ہے۔ اس دن سے لوگوں نے عبادت   کے لیے جانا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

     چناں چہ کچھ تو اپنی امید شکن صورت حال کی وجہ سے اور کچھ سوالہ آدمی کو دیکھنے کے تجسس میں وہ لڑکا گرجے کی طرف روانہ ہو گیا۔ اسے احساس ہوا کہ یہ ایک مردہ قصبہ ہے جس کی گلیاں ختم نہ ہونے والی اور گرد آلود ہیں اور جس کے لکڑی کے بنے ، جست کی چھتوں والے اندھیرے گھر غیر آباد لگتے ہیں۔ اتوار کے دن قصبے کی یہ حالت تھی کہ گھاس سے خالی گلیاں،  بغیر جالیوں کے گھر، نیچے تمتمائی ہوئی گرمی اور او پر شان دار آسمان ۔ اس نے سوچا کہ یہاں کوئی ایسی علامت نہیں ہے جس سے اتوار اور کسی دوسرے دن کا فرق معلوم ہو سکے ۔ ویران گلیوں میں چلتے ہوئے اسے اپنی ماں کی بات بید آئی ”سارے قصبوں میں ساری گلیاں لازماً یا تو گر جے کو جاتی ہیں یا قبرستان کو‘‘ پتھر کی اینٹوں کے بنے چھوٹے سے چوک میں داخل ہوا جس میں ایک سفیدی کی ہوئی عمارت تھی جس کا ایک مینار تھا اور اوپر ایک مرغ بادنما بنا ہوا تھا اور ایک گھڑیال تھا جس کی سوئیاں چار بج کر دس منٹ پر رکی ہوئی تھیں۔

     چوک کو عبور کرنے میں جلدی کیے بغیر وہ گرجے کی ڈیوڑھی کی تین سیڑھیاں چڑھا اور اسے پرانے پیسنے اور لوبان کی ملی جلی بو آئی ۔ وہ تقریباً خالی گرجے کے اندر کے نیم گرم سائے میں داخل   ہو گیا۔

     مقدس قربان گہ کا پادری اینتونی از ابیل بھی منبر پر کھڑا ہی ہوا تھا۔ وہ اپنا وعظ شروع کرنے والا تھا جب اس نے ایک لڑکے کو ہیٹ پہنے گرجے میں داخل ہوتے دیکھا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکے نے اپنی بڑی بڑی شفاف اور پر سکون آنکھوں سے خالی گرجے کا بغور جائزہ لیا۔ پھر اس نے اسے آخری بنچ پر بیٹھتے دیکھا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ لڑکا قصبے میں نیا نیا آیا ہے۔ وہ پچھلے تیس برس سے اس قصبے میں رہ رہا تھا اور وہاں کے ہر باسی کو اس کی بو سے پہچان سکتا تھا۔ اس لیے   اسے یقین تھا کہ یہ لڑکا جو ابھی گرجے میں داخل ہوا ہے، قصبے میں اجنبی ہے۔ ایک ہی مختصر اور گہری نظر میں اس نے جان لیا کہ وہ خاموش طبع اور اداس سا ہے اور اس کے کپڑے گندے اور شکن آلود ہیں جیسے وہ انہیں پہنے پہنے دیر تک سوتا رہا ہو۔ یہ بات سوچتے ہوئے اس لڑکے سے گھن بھی آئی اور اس پر ترس بھی آیا ۔ ساتھ ہی اسے بینچ پر بیٹھے دیکھ کر اس کا دل تشکر سے بھی بھر گیا اور وہ اپنا وہ خطبہ دینے کے لیے تیار ہوا جو اس کی زندگی کا سب سے اہم خطبہ تھا۔ خداوندا، اس نے اس دوران میں سوچا ، لڑکے کو اپنا ہیٹ اتارنا یا د رہ جائے اور یہ نہ ہو کہ مجھے اسے گرجے سے بے دخل کرنا پڑے اور اس نے اپنا خطبہ شروع کر دیا۔

     شروع میں یہ جانے بغیر کہ وہ کیا کہ رہا ہے وہ بولتا چلا گیا۔ وہ اپنی بات خود نہیں سن رہا تھا۔ وہ ہموار ، بہتا ہو اصاف نغمہ جو دنیا کے آغاز سے اس کی روح کی گہرائی میں رواں تھا ، اس نے مشکل ہی سے سنا۔ اسے مبہم سا احساس ضرور تھا کہ وہ لفظ جو اس کے ہونٹوں سے ادا ہو رہے ہیں، صحیح ، مناسب اور برمحل ہیں اور متوقع ترتیب میں ہیں ۔ اسے یوں لگا جیسے نیم گرم بخارات اسے اندر سے دبا رہے ہوں، لیکن اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کی روح نمود و نمائش کے جذبے سے پاک ہے اور یہ کہ خوشی کا احساس جو اسے مفلوج کیے دے رہا ہے اُس کا تکبر ، سرکشی یا خود نمائی   سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ اس کی روح کی خداوند خدا سے محض شادمانی کا اظہار ہے۔

    اپنے سونے کے کمرے میں ربیکا ، یہ جانتے ہوئے کہ چند ہی لمحوں میں گرمی نا قابلِ برداشت ہو جائے گی ، بے ہوش ہونے کے قریب تھی ۔ اگر اسے نئی جگہوں سے گہرے خوف کی بنا پر اس قصبے میں گڑے ہوئے ہونے کا احساس نہ ہوتا تو اپنے پردادا کی طرح جس کے بارے میں اس نے سن رکھا تھا، کب کی ایک صندوق میں اپنا مال اسباب بند کر کے اور صندوق میں فینائل کی گولیاں ڈال کر وہاں سے سدھار گئی ہوتی۔ لیکن اسے علم تھا کہ اسے موت نہیں آتی ہے۔ لمبی غلام گردشوں اور نو خواب گاہوں والے اسی گھر میں جس کی جالیوں کی جگہ گرمی کا موسم ختم ہونے پر، اس کا خیال تھا کہ نیم شفاف شیشے لگوا لے گی ۔ لہٰذا اس کا وہیں رہنے کا ارادہ تھا ( اور یہ ارادہ ، وہ جب بھی الماری میں اپنے کپڑے قرینے سے رکھتی ، ہمیشہ دوہرایا کرتی تھی)  اور اس کا یہ بھی ارادہ تھا کہ اپنے ’’ عالی مرتبت عم زاد‘‘ کو بھی لکھے گی کہ اس قصبے کے لیے کوئی جوان پادری بھیجا جائے تا کہ وہ ایک بار پھر اپنا مخمل کے پھولوں والا ہیٹ پہن کر گر جے میں جا سکے اور با ربط عبادت کر سکے اور معقول اور اصلاحی وعظ سن سکے ۔ کل سوموار ہے، اس نے سوچا اور بشپ کو نوشتہ لکھنے کے لیے مناسب القاب کی تلاش شروع کر دی ( وہ القاب جنہیں کرنل بوئندیا نے بیہودہ اور گستاخانہ کہا تھا ) عین اس وقت آرخے نیدا نے جالی کا دروازہ کھولا اور چیخ کر کہا: سینورا ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ فادر منبر پر کھڑے کھڑے پاگل ہو گیا ہے!‘‘

      بیوہ نے اپنا تلخ اور غیر معمولی طور پر پژمردہ چہرہ دروازے کی جانب پھیرا ۔’’وہ تو پچھلے پانچ سال سے پاگل ہے‘‘ اس نے کہا۔ وہ کپڑے ترتیب سے رکھنے میں مصروف رہی اور پھر بولی ’’ اس نے ایک بار پھر ابلیس کو دیکھ لیا ہوگا۔‘‘

    ’’   اس بار ابلیس نہیں ہے، سنیورا ‘‘ آرخے نیدا نے کہا۔

    ’’   تو کون ہے؟‘‘ ربیکا نے سنجیدگی اور لاتعلقی سے پوچھا۔

     ’’اس بار وہ کہتا ہے کہ اس نے گردش زدہ یہودی کو دیکھا ہے۔“

     بیوہ کو اپنی جلد پر کیڑے مکوڑے رینگتے محسوس ہوئے ۔ اس کے ذہن میں الجھے ہوئے خیالات کا انبوہ ، جس میں پھٹی ہوئی جالیوں، گرمی ، مردہ پرندوں اور طاعون کے درمیان تمیز کرنا مشکل تھا ’’ گردش زدہ یہودی !‘‘ کے الفاظ سن کر اس کے ذہن سے گزرا ، جو اسے اپنے دور دراز بچپن کی کسی دو پہر میں سننے کے بعد سے یاد بھی نہ رہے تھے۔ تب اس نے برہم ہو کر اور سرد مہری سے اُس جانب قدم بڑھائے جدھر آر خے نیدا اپنا منہ پھاڑے کھڑی تھی۔

    ’’ ہاں ، یہ سچ ہے ‘‘اس نے کہا اور اس کی آواز وجود کی گہرائی میں سے برآمد ہوئی ۔ ” مجھے   اب پتا چلا کہ پرندے کیوں مر رہے ہیں ۔‘‘

     دہشت کے مارے اس نے اپنے آپ کو کڑھائی والی چادر میں لپیٹا اور وہ چشم زدن میں طویل برآمدہ اور چیزوں سے بھرا نشست کا کمرہ پار کر کے گلی کا دروازہ کھول کر اور دو بلاک کا راستہ طے کر کے گرجے میں داخل ہو گئی، جہاں مقدس قربان گاہ کا پادری اینتونی از ابیل اپنی نئی ہئیت میں بیان دے رہا تھا:

    ’’ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے اسے دیکھا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج صبح جب میں حوناس بڑھئی کی بیوی کی آخری رسوم ادا کر کے واپس آرہا تھا تو اس نے میرا راستا کا ٹا، میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس کا چہرہ یسوع مسیح کی بددعا سے تیرہ ہو چکا تھا اور وہ جس جس راستے سے گزر رہا تھا وہاں اپنے پیچھے جلتے ہوئے انگارے چھوڑ جاتا رہا تھا۔‘‘

    خطبے کے الفاظ ہوا میں تیرتے تیرتے رُک گئے ۔ پادری کو احساس ہوا کہ وہ اپنے ہاتھوں کے رعشے پر قابو پانے سے قاصر ہے، اس کا سارا جسم کپکپا رہا ہے اور پسینے کا ایک ٹھنڈا قطرہ اس کی ریڑھ کی ہڈی پر کلیری بناتا ہوا نیچے سفر کر رہا ہے۔ رعشے اور پیاس اور انتڑیوں میں شدید مروڑ کے باعث اور ایک آواز سن کر جو آرگن پر کھرج کے سُر جیسی تھی ، اسے لگا جیسے وہ سخت علیل ہو۔ لیکن اس وقت اصل حقیقت اس پر آشکار ہوئی۔

     اس نے دیکھا کہ گرجا گھروں سے بھر چکا ہے اور ربیکا ، دکھاوے اور بناوٹ کی شوقین وہی حسرت ناک عورت ، بازو کھولے اور اپنا درشت اور سرد چہرہ آسمان کی طرف اٹھائے نافِ کلیسا میں چلی آرہی ہے۔ پریشانی کے عالم میں اسے یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کے سامنے کیا ہو رہا ہے اور اسے اب اتنی سمجھ بھی تھی کہ اس واقعے کو معجزہ سمجھنا خود پسندی کی بات ہو گی ۔ انکسار کے ساتھ اس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ منبر کے چوبی کنارے پر رکھ دیے اور خطبہ دوبارہ جاری کیا۔

    ’’ تب وہ میری طرف بڑھا ‘‘اس نے کہا۔ اس بار اسے اپنی جذبے سے بھر پور اور یقین دلانے والی آواز سنائی دی ۔ ” وہ میری طرف بڑھا اور اس کی آنکھیں زمرد کی طرح تھیں ، اس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے پاس سے ایسی بو آ رہی تھی جیسی بھیڑ بکریوں کے پاس سے آیا کرتی ہے۔ تب میں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اسے یسوع مسیح کے نام پر ملامت کی اور کہا ’’ رک جاؤ ، اتوار کا دن قربانی کے لیے مناسب نہیں ہوتا“۔

    جب وہ خطبے سے فارغ ہوا گرمی اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، اگست کے مہینے کی شدید ، جامد ، سوخت کرنے والی نا قابلِ فراموش گرمی، لیکن پادری اینتونی از ابیل کو اب گرمی کا احساس نہیں تھا۔ اسے علم تھا کہ اس کی پشت پر پورا قصبہ اس کے خطبے کے اثر سے ایک بار پھر منکسر اور بے زبان بن چکا ہے، مگر یہ بات اس کے لیے باعث انبساط نہ تھی ۔ نہ ہی اسے اس امکان سے خوشی ہوئی تھی کہ شراب کا ایک گلاس اس کے گلے کی غارت گری کا علاج کر دے گا۔ وہ بے آرام اور مضطرب تھا۔ اس کا دماغ ادھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور وہ قربانی کے پر عظمت لمحے پر دھیان نہ دے پا رہا تھا۔ یہ قصہ اس کے ساتھ عرصے سے ہو رہا تھا، لیکن آج اس کے ذہن کی ابتری مختلف تھی کیوں کہ آج اس کا ہر احساس واضح بے چینی کا شکار تھا ۔ تب زندگی میں پہلی مرتبہ اسے تکبر کا تجربہ ہوا اور عین اسی طرح جیسے اس نے تکبر کو جانا تھا اور اپنے وعظوں میں بیان کیا تھا ، اسے احساس ہوا کہ تکبر بھی پیاس کی طرح جسم کی ایک ضرورت ہے۔ اس نے تبرکات رکھنے کے صندوق کا ڈھکنا زور سے بند کیا اور پکارا :’’ فیتا غوث ‘‘!

    مددگار ملازم ، منڈے ہوئے چمکدار سر والا ایک لڑکا ، جو کہ پادری اینتونی از ابیل کا لے   پالک تھا اور جس کا اُس نے خود یہ نام رکھا تھا۔ قربان گاہ کی جانب بڑھا۔

    ’’   لوگوں سے نذر کے پیسے اکٹھے کرو‘‘ پادری نے کہا۔

      لڑکے نے آنکھیں جھپکائیں اور ایڑیوں پر پورا گھوم گیا اور پھر بے حد دھیمی آواز میں بولا’’ مجھے پتا نہیں کہ نذر والی تھالی کدھر ہے۔“

     یہ ٹھیک بھی تھا ۔ مہینوں ہو گئے تھے کہ کسی نے کبھی نذرا کٹھی نہ کی تھی۔

    ’’تو مخزن میں سے ایک تھیلا لے آؤ اور جتنی رقم اکٹھی کر سکتے ہو کر و ‘‘پادری نے کہا۔

    ’’ اور لوگوں سے کہنا کیا ہے؟‘‘ لڑکے نے پوچھا ۔

      اب پادری کی آنکھیں جھپکانے کی باری تھی۔ وہ غور سے لڑکے کی منڈی ہوئی نیلی کھوپڑی   اور اس کے سر کی ہڈیوں کے جوڑوں کا مطالعہ کرتا رہا۔

    ’’ لوگوں سے کہو کہ یہ رقم گردش زدہ یہودی کو خارج کرنے کے لیے ہے ۔“ یہ کہتے وقت اسے محسوس ہوا جیسے وہ اپنے دل میں بہت بڑے بوجھ کو سنبھال رہا ہو ۔ چند لمحے تک اس نے خاموش معبد میں موم بتیوں کے جل کر پانی بننے کی اور اپنی برانگیختہ اور دشوار سانس کی آمد ورفت کی آواز سنی ۔ پھر مددگار ملازم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جو اسے اپنی گول پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھے جا رہا تھا ، پادری نے اس سے کہا :

    ’’ اور پھر ساری رقم اکٹھی کر کے جا کر اس لڑکے کو دے دینا جو خطبے کے شروع میں اکیلا بیٹھا   تھا۔ اسے کہنا کہ یہ پادری کی طرف سے ہے اور یہ کہ وہ اپنے لیے نیا ہیٹ خرید لے۔‘‘

    ☆☆☆

    (مشمولہ  :’’ ذہنِ جدید ‘‘ ، دہلی ، جلد ۱۵ ، شماره نمبر ۴۰ ،دسمبر تا فروری ۲۰۰۵ ء)