سگِ نیلگوں کی آنکھیں
ترجمہ: ناصر بغدادی
پھر اس نے میری طرف دیکھا۔ میں نے سوچا وہ پہلی مرتبہ میری طرف دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس کے بعد جب وہ چراغ کے دوسری طرف مڑی تو میں نے اپنی پشت، اپنے کندھوں کے اوپر اس کی چکنی، پھسلتی نظروں کی تھپتھپاہٹ کو بے اختیار محسوس کیا۔ تب مجھے لگا کہ اس کی بجائے درحقیقت یہ میری نظریں تھیں جو اس پر جم کر رہ گئی تھیں۔ میں نے آہستہ سے سگریٹ سلگائی اور زور زور سے کش کھینچنے لگا۔ اس وقت میں کرسی کے اندر دھنسا ہوا کرسی کو اِدھر اُدھر گھما رہا تھا اور پچھلے پیروں کی وجہ ہی سے کرسی کا سارا توازن برقرار تھا۔ میں نے ایک بار پھر اس کو اسی جگہ کھڑے دیکھا اور عین اسی لمحے جیسے ایک غیر مانوس احساس نے میرے اندر جنم لیا ہو ۔ میں نے محسوس کیا جیسے وہ تو ہر رات اسی جگہ، اسی زاویے سے میری طرف دیکھتی رہتی ہے۔ ہم نے ایک مرتبہ پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ہمارے درمیان چند ثانیوں تک اس صورت حال ، اس واردات کی نا قابل بیان لذت برقرار رہی۔ میں اب بھی کرسی کے پچھلے پیروں پر تو ازن قائم رکھ کر اُس کی جانب دیکھتا جا رہا تھا۔ دوسری طرف وہ چراغ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھے خاموشی کے ساتھ کھڑی مجھ کو تکتی جارہی تھی اور تب یکا یک مجھے معمول کی وہ بات یاد آگئی تو میں نے اس سے کہا: ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں ‘‘ اُس نے چراغ پر سے اپنا ہاتھ اٹھائے بغیر جواباً کہا۔ ” ہاں وہ ۔ ہم اس کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ‘‘۔ وہ جیسے اپنے حصار کے چنگل سے باہر نکل آئی تھی ۔ آہستہ سے سانس بھرتی ہوئی بولی ۔ ’’سگ ِنیلگوں کی آنکھیں ‘‘ ۔میں نے ہر جگہ یہی کچھ لکھ رکھا ہے۔
میں نے اُس کو سنگھار میز کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ۔ اور پھر چند لمحوں بعد آئینے کے مد ورشیشے میں اس کا سراپا ابھر آیا تھا۔ اس وقت بھی وہ میری طرف سے بالکل غافل نہیں تھی ۔ اسی حالت میں اس نے ایک چھوٹا سا صندوقچھ کھولا ۔ پھر میں نے اس کو ناک پر پاؤڈر لگاتے ہوئے دیکھا۔ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اس نے صندوقچے کو پھر سے بند کیا اور سنگھار میز پر رکھ کر دوبارہ چراغ کے قریب آگئی۔
’’میں محسوس کر رہی ہوں کہ کوئی پھر اپنے خواب میں اس کمرے کو دیکھ کر میرے سارے راز فاش کر رہا ہے۔ ‘‘یہ بات اس نے خاموشی سے کہی اور چلتی ہوئی پھر چراغ کے پاس آ گئی۔ اب چراغ کے تھر تھراتے شعلے کے اوپر اس کا پھیلا ہوا ہاتھ تھر تھرا رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا۔ ’’کیا تم ٹھنڈک محسوس نہیں کرتے ۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ ” بعض اوقات ۔‘‘ یہ سُن کر اس نے فوری کہا۔ ” تمہارا اس وقت ٹھنڈ محسوس کرنا بے حد ضروری ہے ۔‘‘ اور تب مجھے خیال آیا کہ میں کرسی پر بیٹھا کیوں خود کو تنہا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ یہ سردی ہی تھی جس نے میری تنہائی کو تیقن کے احساس سے ہمکنار کر دیا تھا۔
’’ ہاں، اب میں محسوس کر رہا ہوں ۔‘‘ میں نے اس سے کہا۔’’ مگر یہ عجیب سی بات ہے کہ آج کی رات خاموش خاموش سی ہے ۔‘‘ میری بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پھر سنگھار میز کی طرف چلی گئی ہے۔ میں نے اپنی کرسی کو یوں زور سے گھما دیا کہ اب میری پشت اس کی جانب ہو گئی تھی۔ اس کو بنا دیکھے بھی میں کہہ سکتا تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ میں جانتا تھا کہ وہ پھر مدّور شیشے کے آگے بیٹھ گئی ہے۔ مجھے علم تھا کہ اس کی نظروں کا مرکز میری پشت ہے جس کا بھرپور انعکاس شیشے میں اتر آیا تھا۔ اس کی تیز نگاہوں کی گرفت سے یوں بھی میرے وجود کا کوئی حصہ آزاد نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ میری پشت کو دیکھتے ہوئے بھی میرے چہرے کے راستے میرے باطن میں اتر سکتی تھی۔ اب پھر اس کے دونوں ہاتھوں میں تحرک سا پیدا ہو گیا۔ وہ آئینے میں مختلف زاویوں سے خود کو دیکھتی رہی اور اسی دوران اس کے ہونٹوں کا رنگ گہرا ارغوانی ہو کر رہ گیا ۔ میرے سامنے جو ہموار دیوار کھڑی تھی ، اس کی حیثیت ایک اور کور شیشے جیسی تھی جس میں جھانک کر بھی میں اس کا دیدار نہیں کر سکتا تھا مگر اپنے باطن کی کسی بے کراں مگر بے نام قوت کو بروئے کار لا کر اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ میرے پیچھے کہاں کھڑی ہے اور کیا کر رہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس وقت میرے سامنے کی دیوار میرے تمثال دار آئینے کا کام انجام دے رہی تھی۔ میری سوچ ، میرے گیان دھیان نے بنا دیکھے ہی میرے نگار خانے میں اس کے جلوؤں کی رونقوں کو دوبالا کر دیا تھا۔
’’میں اس حالت میں بھی ، بنا دیکھے، تمہیں دیکھ سکتا ہوں ۔‘‘ میں نے اس سے کہا اور عین اسی لمحے میں نے مفید ہموار دیوار پر دیکھا کہ اس نے پلکوں کی چلمن کو اٹھا دیا ہے۔ اب وہ بڑے غور سے مجھے دیکھے جارہی تھی۔ میری پشت اس کی طرف ہونے کے باوجود وہ اپنے تمام تر وجود کی تجلیوں کو میرے سامنے بکھیرنے کے عمل میں مصروف نظر آرہی تھی۔ ہم دونوں کے چہرے دو مخالف سمتوں میں تھے مگر یوں لگ رہا تھا جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ایک دوسرے کے چہرے کے جذباتی ردعمل کا مطالعہ کر رہے تھے۔ میں نے دیکھا ایک بار پھر اس کی آنکھیں جھک گئی ہیں اور وہ مسلسل اپنی انگیا کو تکے جا رہی ہے۔ اس نے بتایا چوں کہ میری پشت اس کی طرف ہے اس لیے اس نے بھی اپنی نگاہیں جھکالی ہیں۔ اس کی بات سنتے ہی میں کرسی کو گھما کر معکوس پوزیشن میں لے آیا۔ میں نے سگریٹ کو مضبوطی کے ساتھ ہونٹوں میں دبا رکھا تھا، جب میں اس کے مقابل آگیا تو وہ شیشے سے ہٹ کر چراغ کے قریب آگئی ۔ اب اس کے دونوں پھیلے ہوئے ہاتھ چراغ کے بلند شعلے کے اوپر رکھے ہوئے تھے ۔ شاید یہ گرم آگ پر سینکنے کا نتیجہ تھا کہ اس کے لانبے ، گہرے سرخ رنگ کے ناخنوں کی طرح اس کا سرخ چہرہ بھی اور زیادہ روشن اور تا بندہ ہو گیا۔
’’ لگتا ہے میں بھی سردی کا شکار ہوگئی ہوں ۔‘‘ وہ آہستہ سے منمناہٹ کے انداز میں بولی۔ ”میرے خدا یہ شہر تو اچھا خاصا ایک برف خانہ ہے۔‘‘ اس کی آواز کے ساتھ ہی اس کے چہرے کا رنگ بدلا اور اس کے جلد کی رنگت بھی بدل گئی۔ اس کے تانبے جیسی جلد اب دہکتے ہوئے شعلے کی طرح سرخ ہو گئی تھی۔ میں نے محسوس کیا وہ یکا ایک اداس اداس ہی نظر آنے لگی ہے۔
’’ کچھ کرو خدا کے لیے کچھ کرو۔‘‘اس نے کہا اور اپنے جسم پر سے لباس اتارنا شروع کر دیا۔ ابتدا انگیا سے ہوئی اور پھر یکے بعد دیگرے جسم سے لپٹی ہوئی ہر چیز اترتی چلی گئی۔
’’ میں اپنا پورا چہرہ دیوار کی طرف کرلوں گا۔‘‘ میری بات پر اس نے فوری جواب دیا۔ ’’نہیں ، اس کی ضرورت نہیں کہ ہر جہت سے تم مجھے دیکھ لوگے جیسا کہ کچھ دیر پہلے اپنی پشت میری طرف کر کے تم میری نقل و حرکت کا جائزہ لے رہے تھے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ چند ثانیوں میں وہ مادر زاد بر ہنہ ہو چکی ہے اور چراغ کا کپکپاتا شعلہ اس کی تانبے جیسی جلد کو چاٹنے میں مصروف ہو گیا ہے۔
’’ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ تم کو اس حالت میں دیکھوں ۔ تمہارے ناف کے اطراف کی جلد پر گڑھوں کا ایک جال سا پھیل جائے اور دیکھنے والے کو لگے کہ تمہاری خوب پٹائی ہوئی ہے۔‘‘ اس سے پیشتر کہ اس کی برہنگی کا نظارہ دیکھتے ہوئے مجھے اپنے الفاظ کی پامالی اور بے ڈھنگے پن کا احساس ہوتا ، وہ چراغ کے شعلے کے عین سامنے مجسمے کی طرح جامد اور غیر متحرک حالت میں کھڑی ہو گئی۔
’’ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے دھات کے سانچے میں ڈھل کر میرا جسمانی وجود مکمل ہوا ہے ۔‘‘ یہ کہہ کر چند لفظوں کے لیے اس نے خاموشی سادھ لی ۔ میں نے دیکھا کہ شعلے پر رکھے اس کے دونوں ہاتھوں کے انداز میں بھی تھوڑی سی تبدیلی آگئی ہے۔
’’ بعض اوقات میں نے دوسرے خوابوں میں تمہیں ایک ایسے کانسی کے مجسمے کے روپ میں دیکھا ہے جس کو میوزیم کے ایک کونے میں رکھ دیا گیا ہے ۔‘‘ میری آواز پُر سکون تھی ۔ ’’ شاید یہی وجہ ہے کہ تم اس قدر سرد ہو چکی ہو ۔‘‘ میری بات سن کر وہ بولی ۔’’ کبھی کبھی جب میں بائیں کروٹ پر سوتی ہوں تو لگتا ہے میرا بدن اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے اور میری جلد پھیل کر پلیٹ کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ایسے موقعوں پر خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی میرے شکم کے دروازے پر دستکیں دے رہا ہے۔ بستر میں تانبے کے کوٹنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ سب کچھ ایسا ہی ہے۔ کیا کہتے ہیں اسے۔ ورق دار دھات ۔“ وہ چراغ کے کچھ اور قریب آگئی ۔
’’میں تمہارے اندر کی اس آواز کو سننا پسند کروں گا ۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اگر ہم دونوں کبھی یکجا ہوئے اور میں بائیں کروٹ پر سو گئی تو تم میری پسلیوں پر اپنے کان رکھ کر سن سکتے ہو۔‘‘ وہ بولی’’ تم محسوس کرو گے کہ میں اپنے اندر گونج پیدا کر رہی ہوں ۔ میں نے بار بار خواہش کی ہے کہ تم ایسا کر کے دیکھو۔ میں نے دیکھا کہ وہ بات کرتے ہوئے یوں گہری گہری سانسیں بھرتی جارہی ہے جیسے اس کا نظام تنفس بے قابو ہوتا جا رہا ہو ۔۔۔۔ جو کچھ اس نے کہا تھا وہ اس گفتگو کا حصہ تھا جو وہ برسوں سے مجھ سے کرتی آرہی تھی ۔ مگر تا حال اس نے اس کے برعکس کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا تھا یا بالفاظ دیگر اٹھانے سے قاصر رہی تھی۔ اس کی زندگی کا ایک خاص مشن تھا جس کے لیے وہ خود کو وقف کر چکی تھی۔ اس خاص مشن کا تعلق میری اپنی ذات سے تھا کہ وہ چلتی پھرتی حقیقی زندگی میں مجھ کو ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں‘ ‘ والے قابل شناخت فقرے کے حوالے سے دریافت کرنے اور حاصل کرنے کی خواہش مند تھی۔ اپنے اس خاص مقصد کے حصول کے سلسلے میں اب یہ فقرہ اس کی زبان کا وظیفہ بن چکا تھا۔ جن راستوں سے بھی اس کا گزر ہوتا وہ بہ آواز بلند اس مخصوص فقرے کی قرآت میں مصروف ہو جاتی تاکہ لوگوں کے اژ دہام میں اس یکتا و تنہا شخص کی بازیافت ممکن ہو سکے جو اس کے باطن کی تہہ نشیں صورت حال سے پوری طرح واقف تھا۔ اس کو ہجوم سے کوئی سروکار نہ تھا۔ اس جملے یا فقرے کو لگا تار دہرانے کے عمل سے گزارنے کا مطلب صرف اور صرف اس واحد شخص کی تلاش تھی جس کو اس فقرے سے وابستہ تمام جزئیات کا ادراک تھا مگر وہ شناسا اجنبی اس کی زندگی کے کس راستے پر مل سکتا تھا، یہ بات خود اس کو معلوم نہیں تھی ۔
اس نے مزید بتایا کہ اس کی یہ تلاش اس کو نہ معلوم کہاں کہاں بھٹکنے پر مجبور کرتی ہے۔ جب وہ ریستورانوں میں جاتی ہے تو آرڈر لکھوانے سے پہلے ویٹروں سے کہتی ہے، ”سگِ نیلگوں کی آنکھیں ‘‘ اور تب ویٹرز تعظیم و تکریم سے اس کے آگے اپنے سر کو جھکا دیتے ہیں مگر انہیں یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ان کے خوابوں میں یہ بات ان سے کہی گئی تھی۔ پھر وہ وہیں کاغذ کے رومالوں پر یہ فقرہ لکھ دیتی ہے اور میزوں کی وارنش کو کھرچ کر چاقو کے تیز پھل سے کندہ کر دیتی ہے ۔ ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں ‘‘ جب بھی موقع ہاتھ آتا تو وہ بلا ہچکچاہٹ ہوٹلوں، اسٹیشنوں اور عوامی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشوں پر اس مخصوص فقرے کو نمایاں کر دیتی۔ اس نے بتایا کہ ایک مرتبہ جب وہ ایک میڈیکل اسٹور میں داخل ہوئی تو ایک خاص قسم کی مانوس مہک نے اس کے سونگھنے کی قوت کو بری طرح چونکا دیا تھا۔ یقیناً یہ وہی مہک تھی جس کو اس نے مجھے اپنے خواب میں دیکھنے کے بعد اپنے کمرے میں پھیلتے ہوئے محسوس کیا تھا۔ اور اس لمحے اسٹور میں کھڑے کھڑے اسے لگا کہ میں اس کے آس پاس کہیں قریب ہی کھڑا ہوں ۔ اس کا یہ تیقن اس وقت نا قابل تسخیر ہو گیا جب اس نے میڈیکل اسٹور کے صاف و شفاف ، چہچہاتے ہوئے فرش پر نظر دوڑائی۔ اس نے اسٹور کے کلرک سے کہا۔ ’’میں ہمیشہ ایک ایسے شخص کو خواب میں دیکھتی ہوں جو مجھ سے کہتا ہے ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں“۔ اس کا کہنا ہے کلرک اس بات سن کر بولا ۔’’ حقیقت تو یہ ہے محترمہ کہ آپ کی آنکھیں کچھ ایسی ہی ہیں ۔‘‘ اس نے کلرک سے مزید کہا۔ ” مجھے ہر حال میں اس شخص سے ملنا ہے جو میرے خوابوں میں یہ الفاظ کہتا ہے ۔‘‘ کلرک کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ زور زور سے قہقہے لگاتا ہوا کاؤنٹر کے دوسرے کونے کی طرف چل دیا۔ وہ اس جگہ یوں کھڑی کی کھڑی رہ گئی جیسے زمین کی مقناطیسی طاقت نے اس کے پیروں کو جکڑ لیا تھا۔ اس کی نگاہیں اب بھی شفاف، چمک دار فرش کو گھور رہی تھیں اور اس کے جسم کے ہر حصے کو اس مخصوص مہک نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ اچانک نہ جانے اسے کیا سوجھی کہ اس نے پرس سے ارغوانی لپ اسٹک نکالی اور فرش پر جا بہ جا نمایاں طور پر ، ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں ‘‘ کا فقرہ لکھ دیا۔ کلرک نے واپس آ کر یہ سب کچھ دیکھا تو غصے کی حالت میں آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے اس سے کہا ’’مادام ! آپ نے فرش کے سارے ٹائلز کو کس قدر گندہ کر دیا ہے ۔“ اس نے اس کے ہاتھ میں فرش صاف کرنے کا گیلا کپڑا تھما دیا اور تحکمانہ انداز میں ” اپنے کیے پر پانی پھیرنے ‘‘ کی ہدایت جاری کر دی۔۔۔۔ چراغ کے قریب اپنی سابقہ جگہ پر کھڑے کھڑے اس نے بتایا کہ ساری دو پہر وہ کیے کو اُن کیا کرنے کے عمل میں ذلیل و خوار ہوئی۔ وہ فرش کے ٹائلز کو صاف کرتے ہوئے بھی زور زور سے ”سگِ نیلگوں کی آنکھیں‘‘ کی مالا جپتی جاتی تھی۔ اسی دوران اس کے ارد گرد بہت سارے لوگ جمع ہو گئے ۔ ان کا خیال تھا کہ وہ کوئی محبوط الحواس عورت ہے ۔
جب وہ گفتگو ختم کر چکی تو اس وقت بھی میں ایک کونے میں کرسی کے اندر دھنسا خود کو ادھر اُدھر گھما رہا تھا۔
”ہر روز میں اس فقرے کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس کی مدد سے تم میری ہو سکتی ہو۔‘‘ میں نے کہا ’’ہر بار میں یہی سوچتا ہوں کہ کل ہر حالت میں وہ فقرہ مجھے یاد رہے گا۔ لیکن جب میں نیند سے بیدار ہوتا ہوں تو وہ فقرہ میرے حافظے سے بالکل ہی غائب ہو جاتا ہے جس کے دہرانے سے تم مجھے حاصل ہو سکتی ہو ۔‘‘ میری بات سن کر وہ بولی ” جن الفاظ کو تم بھول جاتے ہو ان کو تمہاری ہی قوت اختراع نے جنم دیا تھا، اور وہ بھی پہلے ہی دن۔‘‘ میں نے جواباً کہا۔ ” میں ان الفاظ کا بانی اس وقت ہی ہوا جب میں نے تمہاری آنکھوں کی گہرائی میں جھانکنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ میری مجبوری ہے کہ ’’رات گئی بات گئی“ کے مصداق ہر اگلی صبح جاگنے پر سب کچھ بھول جاتا ہوں ۔‘‘ وہ اب بھی چراغ کے قریب ہی کھڑی تھی۔ میری بات پر اس نے بھینچی ہوئی مٹھیوں کے ساتھ طویل سی سانس بھری اور بولی ۔ ’’کاش تمہیں اس وقت اتنا تو یاد ہوتا کہ میں کس شہر میں بیٹھ کر تمہیں لکھتی رہی ہوں ۔‘‘
میں نے دیکھا اس کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دانت چراغ کی روشنی میں دمک رہے ہیں ۔ ’’اس وقت تم کو چھو لینے کو جی چاہتا ہے ۔‘‘ میں نے اس سے کہا۔ اس نے اپنا چہرہ اٹھایا ۔ اب وہ چراغ کی بجائے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس لمحے اس کے بدن ، اس کے ہاتھوں کی طرح اس کی آنکھیں بھی جل رہی تھیں ۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ بڑے غور سے مجھے دیکھ رہی ہے اور میں کرسی پر جھولنے کے انداز میں بیٹھا اس کو دیکھ رہا تھا۔ ’’تم نے پہلے ایسا کبھی نہیں کہا تھا۔‘‘ وہ بولی اور میں نے اسے جواب دیا۔ ’’لیکن اب میں تم سے کہہ رہا ہوں اور یہ سچ بھی ہے۔‘‘ چراغ کی دوسری جانب سے اس نے مجھ سے ایک سگریٹ مانگا میں یہ بات بھی بھول چکا تھا کہ میں خود بھی سگریٹ نوشی کر رہا تھا اور اس وقت بجھی ہوئی سگریٹ کا بچا کھچا حصہ میری انگلیوں کے درمیان دب کر تقریباً غائب ہو چکا تھا۔ وہ بولی ل’’لگتا تو عجیب سا ہے مگر میں یہ بات بھول چکی ہوں کہ کہاں بیٹھ کے میں نے یہ سب کچھ لکھا تھا۔‘‘ میں نے اس سے کہا ” اس کی وجہ بھی وہی ہوگی جس کی بنا پر میں صبح جاگنے پر ان الفاظ کو بھول جاتا تھا۔ ‘‘میری بات سن کر وہ اداس سی ہوگئی اور بولی ’’ نہیں بس کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ وہ سب بھی محض ایک خواب ہی ہے ۔ “ میں کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا اور چہل قدمی کے انداز میں چراغ کے قریب آ گیا۔ وہ مجھ سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں تھی۔ میں نے ایک سگریٹ اس کی طرف بڑھا دیا۔ اس نے سگریٹ کو ہونٹوں میں دبایا اور چراغ کے شعلے پر جھک سی گئی ۔ مگر اس دوران مجھے ماچس کی تیلی جلانے کا موقع مل گیا۔ ’’دنیا کے چند شہروں کی تمام دیواروں پر ان الفاظ کا لکھنا بے حد ضروری ہے ۔ ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں“ اس کی بات سن کر میں نے کہا۔ ’’ اگر صبح آنکھ کھلنے پر مجھے یا درہا تو میں تمہیں پا سکتا ہوں۔“ اس نے پھر اپنا سر اٹھایا۔ اس کے ہونٹوں کے درمیان دبی ہوئی سگریٹ کا ایک حصہ راکھ کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔’’ سگِ نیلگوں کی آنکھیں ‘‘ اس نے آہ بھری۔ پھر شاید خیال آیا کہ سگریٹ اس کی ٹھوڑی پر جھک رہی ہے اور اس کی ایک آنکھ آدھی سے زیادہ بند ہو چکی ہے۔ اسی حالت میں اس نے سگریٹ کا کش چوسنے کے انداز میں کھینچا اور پھر سگریٹ کو ہونٹوں کے درمیان سے رہائی دلا کر اپنے ہاتھ کی دو انگلیوں کے درمیان قید کر لیا۔ ’’اب کیفیت کچھ بدل سی گئی ہے۔ مجھے گرمی محسوس ہونے لگی ہے۔‘‘ بات کہتے ہوئے اس کا لہجہ بدل سا گیا تھا اور طرز عمل کی تبدیلی کو بھی میں محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔ ایسا لگا جیسے اس کی بجائے یہ بات کسی اور نے کہی ہو یا یہ کہ یہ بات وہ کاغذ پر لکھ کر چراغ کے شعلے کے قریب لے آئی ہو اور اس کی بجائے میں نے پڑھا ہو ۔ ” مجھے گرمی سی محسوس ہو رہی ہے۔‘‘ اس وقت ارد گرد کی ہر چیز عجیب سی لگ رہی تھی اور میں اس کی بات کی گہرائیوں میں ڈوب چکا تھا۔ کاغذ کا ٹکڑا جیسے شعلے کی زد میں آگیا تھا اور اس کے الفاظ یکے بعد دیگرے جل کر خاکستری لبادہ اوڑھتے جارہے تھے اور پھر جیسے سارا کاغذ جل گیا اور راکھ کا ڈھیر کسی ان دیکھی چھلنی میں سے چھن چھن کر فرش پر گرتا گیا۔ ’’میرا خیال ہے یہ ٹھیک ہی ہوا۔‘‘ میں نے اس سے کہا۔ ” بعض مرتبہ تمہیں یوں چراغ کے قریب کپکپاتے ہوئے دیکھ کر میں ڈر سا جاتا ہوں۔“
ہم دونوں کی شناسائی اب کافی پرانی ہو چکی تھی ۔ برسوں سے ہم ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ بعض اوقات ہم دونوں کی ملاقات کے درمیان باہر کوئی آواز پیدا کرتا تو ہم ہڑ بڑا کر آنکھیں ملتے ہوئے جاگ پڑتے ۔ آہستہ آہستہ یہ بات ہماری سمجھ میں آگئی کہ ہماری دوستی ، ہماری جان پہچان چھوٹے بڑے واقعات سمیت خارجی عوامل کی رہین منت ہے، اور ان پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ۔ بس ملاقاتوں کے دوران جب ہم دونوں کے احساسات ایک دوسرے میں جذب ہونے کی کوشش کرتے تو ایک معمولی سی آواز بھی خلل اندازی کا جواز بن کر صبحِ صادق سے کچھ پہلے ہم دونوں کو بیدار ہونے پر مجبور کر دیتی۔
اب وہ پھر چراغ کے قریب کھڑے ہو کر مجھے بڑے غور سے دیکھے جا رہی تھی، اس کی نگاہوں کے متعلق کچھ کہنا میرے بس کی بات نہیں ۔ مگر میں جانتا ہوں کہ ماضی میں بارہا اس نے مجھے ایسی ہی نظروں سے دیکھا تھا۔ اور میں خواب کے ان مناظر میں ہمیشہ کرسی پر بیٹھا بے مقصد اپنی ٹانگیں ہلاتا ہوا اجنبی عورت کی خاکستری آنکھوں کے آگے ایک بے بس معمول بن کر رہ جاتا تھا۔ میں نے ایسے ہی ایک خواب میں پہلی مرتبہ اس سے پوچھا تھا کہ ” تم کون ہو؟“ اور اس نے جواب دیا تھا۔ ” مجھے یاد نہیں میں کون ہوں ۔‘‘ اس کی بات سن کر میں نے کہا تھا ” میرا خیال ہے ہم دونوں پہلے بھی مل چکے ہیں ‘‘ اور وہ لا تعلقی کے انداز میں بولی تھی ۔ ” مجھے محسوس ہوتا ہے میں ایک مرتبہ خواب میں اسی کمرے کے اندر تمہیں دیکھ چکی ہوں۔“ اس کی بات سن کر میں نے کہا تھا ’’ہاں یہی بات ہو سکتی ہے۔ اب مجھے یاد آنے لگا ہے ۔ “ اس پر وہ بول پڑی تھی ۔ ” عجیب سی بات ہے مگر اب میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ہم دوسرے خوابوں میں مل چکے ہیں ۔“
اس نے سگریٹ کے دو طویل کش کھینچے ۔ میں ہنوز چراغ کے سامنے کھڑا تھا کہ اچانک اس کو تکنے کے انداز میں دیکھنے لگا۔ میں اس کے جسم کے اوپری اور پھر نچلے حصے کو دیکھتا گیا۔ وہ اب بھی تابنے کا ایسا مجسمہ معلوم ہو رہی تھی جو بظاہر نہ تو سخت تھا اور نہ ہی نرم ، بلکہ چمک دار ، پیلے رنگ کا ملائم اور بے حد لوچ دار قسم کا۔۔۔۔ ’’میں چاہتا ہوں تمہیں چھو کر دیکھوں ۔‘‘ میں نے دوبارہ اپنی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بے ساختہ بول پڑی۔ ’’یوں تم ہر چیز کو ختم کر دو گے۔“ مگر میرے اصرار کی شدت میں کمی واقع نہیں ہوئی ۔ ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہو گا، دوبارہ ملاقات کے لیے ہم کو محض تکیے پر سر رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔ ‘‘ میں اپنے ہاتھ کو چراغ کے قریب لے آیا۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت و صامت کھڑی رہی ۔ ’’ تم اچھی بھلی ہر چیز کو برباد کر دو گے ۔‘‘ اس کی آواز نے ایک بار پھر مجھے خبر دار کیا ۔’’ ممکن ہے تمہارے ایسا کرنے سے ہم خوفزدہ حالت میں دنیا کے ایسے دور افتادہ حصے میں بیدار ہو جائیں جس کے متعلق ہمیں کچھ علم نہ ہو۔“ اس کی یہ بات سن کر بھی میں بضد رہا۔ ’’بالفرض ایسا ہو بھی گیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔‘‘ اور وہ بولی ’’یہ سچ ہے بقول تمہارے کہ ہمیں دوبارہ ملنے کی خاطر محض تکیے کو الٹا کر لیٹ جانے کی ضرورت ہے۔ مگر تم جاگو گے تو ہر بات بھول چکے ہو گے ۔‘‘ میں کمرے کے دوسرے کونے کی طرف قدم اٹھانے لگا۔ وہ میرے پیچھے چراغ کے شعلے کی حرارت سے اپنے ہاتھوں کو گرمانے کی کوشش میں مصروف رہی۔ جب میں نے اس کی آواز سنی تو اس وقت بھی میں کرسی کے قریب نہیں تھا۔ وہ کہہ رہی تھی ” جب بھی آدھی رات کو میری آنکھ کھل جاتی ہے تو میں اپنے بستر پر کروٹوں پر کروٹیں بدلتی رہتی ہوں ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تکیے کی جھالر سے میرا گھٹنا جلنے لگا ہے اور میں اسی حالت میں صبح ہونے تک دہراتی جاتی ہوں ۔ ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں‘‘۔
میں دیوار کی طرف منہ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔ ’’صبح ہونے کے آثار نظر آنے لگے ہیں ۔‘‘ میں اس کو دیکھے بغیر بول پڑا ۔ اب بھی میں اسی پوزیشن میں کھڑا تھا۔ ’’جب رات کے دو بجے تھے تو میں جاگ رہا تھا اور یہ ایک عرصے قبل کی بات معلوم ہوتی ہے۔‘‘ اب میں دروازہ کے قریب کھڑا ہو چکا تھا۔ جب میں نے دروازے کا گول دستہ ہاتھ میں پکڑا تو مجھے اس کی وہی غیر متغیرسی آواز سنائی دی ۔ ’’ دروازہ مت کھولو ۔ “ وہ بولی۔ ’’ برآمدہ عجیب و غریب خوابوں سے بھرا پڑا ہے۔‘‘ اس کی بات سن کر میں نے اس سے دریافت کیا ۔’’ تم یہ بات کیسے جانتی ہو؟‘‘ اور اس نے جواب دیا ’’ کیوں کہ کچھ دیر قبل میں وہاں گئی تھی مگر جب مجھے معلوم ہوا کہ میں بائیں کروٹ پر سو رہی ہوں تو میں فوراً وہاں سے واپس آگئی ۔‘‘ اس کے منع کرنے کے باوجود میں نے دروازے کو تھوڑا سا کھول دیا۔ مجھے چند قدم پیچھے ہٹ جانا پڑا۔ سرد ہوا کا ایک لطیف جھونکا تر و تازہ سبزیوں کے کھیتوں اور بھیگے ہوئے میدانوں کی بو باس کو اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ اس نے پھر کچھ کہا تھا مگر میں نہیں سن سکا اور دروازے کو تھوڑا اور کھولتے ہوئے میں نے اس سے کہا ’’میں نہیں سمجھتا کہ دروازے کے باہر کوئی برآمدہ ہے میں تو مضافاتی علاقے کی مخصوص بو باس سونگھ رہا ہوں ۔“ وہ تھوڑے فاصلے پر کھڑی تھی اور شاید یکسوئی کے ساتھ اس نے میری بات کو سنا بھی تھا وہ بولی ’’دروازے کے باہر جو کچھ ہے اس کا علم مجھے تم سے زیادہ ہے۔ اصلاً بات یہ ہے کہ باہر اس وقت ایک عورت دیہات کا خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔‘‘ اس نے شعلے کی تیز آگ پر سے اپنے بازو کو گزارا اور سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولی ’’درحقیقت یہ وہ عورت ہے جو ہمیشہ دیہات میں زندگی گزارنا چاہتی تھی مگر اس کے لیے شہر چھوڑ نا کبھی ممکن نہیں تھا۔‘‘ مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے اپنے کسی گزشتہ خواب میں اس عورت کو دیکھا تھا مگر اس وقت ادھ کھلے دروازے کے پاس کھڑا میں جانتا تھا کہ آدھے گھنٹے کے دوران مجھے نیچے ناشتے کے لیے جانا ہی پڑے گا۔ میں نے اس سے کہا ’’ بہر حال اب مجھے یہاں سے جانا ہوگا تا کہ بستر پر جاگ سکوں ۔‘‘
’’ اچانک چند ثانیوں کے لیے ادھ کھلے دروازے کے باہر ہوا کا شور تیز ہو گیا۔ مگر پھر فوراً ہی ہر طرف سکوت پھیل چکا تھا۔ اس دبیز خاموشی میں ایک سوئے ہوئے شخص کے تنفس کی مخصوص آواز سنائی دینے لگی جو ابھی ابھی بستر پر دراز ہو کر خواب خرگوش میں کھو گیا تھا۔ بھیگے ہوئے میدانوں کی طرف سے آنے والی ہوا بھی اب دم تو ڑ چکی تھی ۔ اب بو باس کا بھی کہیں کوئی پتا نہیں تھا۔ ”کل میں تمہیں پہچان لوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔ ” اس وقت پہچان لوں گا جب میں سڑک پر ایک عورت کو دیواروں پر فقرہ لکھتے ہوئے دیکھوں گا، ’’سگِ نیلگوں کی آنکھیں“ میں نے اس کے چہرے پر ایک اداس سی مسکراہٹ کو ابھرتے ہوئے دیکھا۔ یہ ایک ایسی عورت کی مسکراہٹ تھی جس کو ناممکن کی جستجو میں ناکام ہونے کے بعد ہتھیار ڈال دینا پڑا تھا۔ ’’تم بھلا مجھے کیسے پہچان سکو گے جب دن میں جاگنے کے دوران تو تمہیں کچھ یاد ہی نہیں رہتا۔“ اس نے ایک مرتبہ پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو چراغ پر رکھ دیا۔ اس کے چہرے پر کالی گھٹاسی چھا گئی تھی۔ وہ بڑی مایوسی سے بولی۔ ’’ تم وہ واحد مرد ہو جس کو جاگنے کے بعد یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کیا خواب دیکھا تھا۔‘‘
٭٭٭
(مشمولہ: ” بادبان‘‘ ، کراچی، شمارہ نمبر ۸ ، اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۲ ء)