بالتازار کی حیرت انگیز سہ پہر
بالتازار کی حیرت انگیز سہ پہر
ترجمہ: آصف فرخی
پنجرہ تیار ہو چکا تھا ۔ بالتازار نے اسے اپنی عادت کے مطابق چھجے سے لٹکا دیا اور جب دو پہر کا کھانا کھا کر واپس آیا تو لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ دنیا کا خوب صورت ترین پنجرہ ہے۔ پنجرے کو دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے مجمع لگ گیا اور بالتازار کو اسے نیچے اتار کر دکان بند کرنی پڑی۔
’’ داڑھی بنا لو‘‘ اس کی گھر والی اُرسلا نے کہا۔ ”بالکل کا پوچین لگ رہے ہو!“
’’ کھانے کے بعد حجامت بنانا بُرا ہوتا ہے‘‘ بالتازار نے جواب دیا۔ اس کے چہرے پر کوئی دو ہفتے کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی ۔ گھوڑے کی ایال جیسے چھوٹے چھوٹے سخت اور کھردرے بال تھے اور چہرے پر سہمے ہوئے لڑکے کا سا تاثر رہا تھا ، نہ اس سے شادی کی تھی نہ کوئی اولاد ہوئی تھی ، زندگی نے اسے محتاط تو بنا دیا تھا مگر ڈرایا نہیں تھا۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس نے ابھی ابھی جو پنجرہ مکمل کیا ہے وہ بعض لوگوں کے نزدیک دنیا کا خوب صورت ترین پنجرہ ہے۔ وہ بچپن سے پنجرے بنانے کا عادی تھا اور یہ پنجرہ اس کے لیے دوسرے پنجروں سے زیادہ مشکل ثابت نہیں ہوا تھا۔
’’ پھر کچھ دیر آرام کر لو‘‘ اُرسلا نے کہا۔ ’’اس داڑھی کے ساتھ تو تم کہیں بھی اپنا منہ نہیں دکھا سکتے۔‘‘
آرام کرنے کے دوران کئی دفعہ اسے پڑوسیوں کی خاطر جھولنے سے اتر کر انہیں پنجرہ دکھانا پڑا۔ اُرسلا نے اس وقت تک پنجرے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ۔ وہ اس بات پر چڑی ہوئی تھی کہ اس کے شوہر نے اپنی بڑھئی کی دکان کو نظر انداز کر کے سارا وقت اس پنجرے میں لگا دیا، اور وہ دو ہفتوں سے چین کی نیند نہیں سویا ، رات بھر کروٹیں بدلتا رہتا ہے، بڑبڑاتا رہتا ہے اور اسے داڑھی مونڈنے کا خیال تک نہ آیا۔ مگر اس کی خفگی پنجرے کو دیکھ کر ہوا ہوگئی ۔ بالتازار نیند لے کر اٹھا تو وہ اس کے لیے پتلون اور قمیض پر استری کر چکی تھی ، اس نے انہیں جھولنے کے پاس کرسی پر رکھ دیا تھا اور پنجرے کو کھانے کی میز پر لے گئی تھی ۔ وہ خاموش بیٹھی پنجرے کو گھور رہی تھی ۔
’’ اس کے کیا دام لگاؤ گے ؟“ وہ پوچھنے لگی ۔
’’ معلوم نہیں ‘‘ بالتازار نے جواب دیا۔ ” تیس پیسو مانگوں گا تا کہ بیس تو مل جائیں ۔“
’’پچاس مانگو !‘‘ اُرسلا نے کہا۔ ’’دو ہفتے تم نے اپنی نیندیں حرام کی ہیں اور پھر یہ بڑا بھی بہت ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اس سے بڑا پنجرہ نہیں دیکھا۔“
بالتازار داڑھی مونڈنے لگا۔
’’ تمہارے خیال میں وہ مجھے اس کے پچاس پیسو دے دیں گے؟“
’’جیسے مونتیئل صاحب کے لیے تو یہ کوئی بات ہی نہیں اور یہ پنجرہ واقعی اس لائق ہے۔ ‘‘ اُرسلا نے کہا۔
’’ تمہیں ساٹھ مانگنے چاہئیں ۔“
گھر پر گھٹی گھٹی چھاؤں پھیلی ہوئی تھی۔ اپریل کا پہلا ہفتہ تھا اور ٹڈوں کی چرچراہٹ کی وجہ سے گرمی اور بھی نا قابل برداشت ہو رہی تھی ۔ کپڑے بدل کر بالتازار نے صحن کے کواڑ کھول دیے کہ مکان ٹھنڈا ہو جائے اور بچوں کی ٹولی گھر میں گھس آئی۔
پنجرے کی خبر پھیل چکی تھی ۔ بوڑھا معالج ڈاکٹر اوکتاویو حیرالدو ، زندگی سے مطمئن لیکن اپنے پیشے سے بے زار ، اپنی مفلوج بیوی کے ساتھ دو پہر کا کھانا کھاتے ہوئے اس پنجرے کے بارے میں سوچتا رہا۔ اندر برآمدے میں جہاں گرم دنوں میں وہ میز بچھا لیا کرتے تھے ، پھولوں کے بہت سے گملے رکھے ہوئے تھے اور دو پنجرے تھے جن میں سنہری پروں والی کینری چڑیاں پلی ہوئی تھیں ۔ اس کی بیوی کو پرندے بہت پسند تھے اور اس حد تک پسند تھے کہ اسے بلیوں سے نفرت ہوگئی تھی کیوں کہ بلیاں پرندوں کو کھا جاتی ہیں ۔ اُس کے بارے میں سوچتے سوچتے ڈاکٹر حیرالدو دو پہر کے وقت ایک مریض کو دیکھنے گیا اور واپسی میں بالتازار کے گھر کی طرف ہوتا گیا کہ پنجرے کا معائنہ کر لے۔
کھانے کے کمرے میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ میز پر پنجرہ نمائش کے لیے رکھا ہوا تھا۔ تار کا بنا ہوا بے حد بڑا گنبد ، تین منزلیں ، راستے ، الگ الگ خانے ، سونے اور کھانے کے خانے الگ اور چڑیوں کے لیے ایک مخصوص جگہ میں جھولے بھی لگے ہوئے۔ یہ پنجرہ چھوٹے پیمانے پر کسی دیو ہیکل برف کے کارخانے کا نمونہ معلوم ہوتا تھا۔ ڈاکٹر نے بہت غور سے اس کا معائنہ کیا، چھوئے بغیر اور یہ سوچتا رہا کہ جیسا سنا تھا پنجرہ اس سے بھی بہتر تھا۔ اتنا خوب صورت کہ اپنی بیوی کے لیے اس نے کبھی ایسے پنجرے کا خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔
’’ یہ تو تخیل کی کارفرمائی کا نمونہ ہے‘‘ اس نے کہا۔ اس نے لوگوں کے ہجوم میں بالتازار کو ڈھونڈ نکالا اور مادرانہ شفقت سے بھر پور نظریں اس پر جماتے ہوئے کہا ’’ تم تو غیر معمولی ماہر تعمیر ثابت ہوئے ۔“
بالتازار کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
’’ شکریہ ‘‘ اس نے کہا۔
’’یہ بالکل سچ ہے ۔‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔ وہ گول مٹول تھا اور اس کے مٹاپے میں کسی عورت کی سی نزاکت تھی جو اپنی جوانی میں حسین رہی ہو اور اس کے ہاتھ بہت نازک تھے۔ اس کی آواز ایسی تھی جیسے کوئی پادری لاطینی بول رہا ہو ۔ ’’ تمہیں اس میں چڑیاں پالنے کی بھی ضرورت نہیں ‘‘ اس نے کہا اور پنجرہ حاضرین کی نظروں کے سامنے گھمانے لگا جیسے اس کا نیلام کر رہا ہو۔ ’’اسے تو بس پیڑ میں لٹکا دو اور یہ خود بخود چہچہانے لگے گا۔‘‘ اس نے پنجرہ واپس میز پر رکھ دیا، ایک لمحے کو سوچا، پنجرے کی طرف دیکھا اور کہا: ” ٹھیک ہے، پھر میں اسے لے لوں گا۔“
’’ یہ بک چکا ہے‘‘ اُرسلا بولی ۔
’’یہ جیسے مونتیئل صاحب کے بیٹے کا ہے۔‘‘ بالتازار نے کہا۔ ’’ اس نے خاص طور پر آرڈر دیا تھا۔“
ڈاکٹر یہ سنتے ہی با ادب ہو گیا۔
’’ اس کا نمونہ اسی نے تمہیں دیا تھا ؟‘‘
’’ نہیں ‘‘ بالتازار نے کہا۔ ” اس نے تو یہ کہا تھا کہ اسے بڑا سا پنجرہ چاہیے، ترو پیالیوں کے جوڑے کے لیے ۔“
ڈاکٹر نے پنجرے کی طرف دیکھا۔
’’ مگر یہ تر و پیالیوں کے لیے نہیں ہے۔‘‘
’’ اور کیا؟ بالکل ہے !‘‘بالتازار نے میز کے قریب آتے ہوئے کہا۔ بچے اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ ” اس کی پیمائش کا بڑی احتیاط سے حساب لگایا گیا ہے۔‘‘ اس نے انگلی سے مختلف خانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اس نے پنجرے کے گنبد پر انگلیوں کے گٹوں سے چوٹ لگائی اور سارے پنجرے میں سُر گونجنے لگے۔
’’ اس سے زیادہ مضبوط تارمل نہیں سکتا اور ہر جوڑ پر اندر باہر لوہے کا ٹانکا لگایا گیا ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ یہ تو طوطے کے لیے بھی کافی ہوگا ۔‘‘ بچوں میں سے کوئی بولا ۔
’’ بالکل !‘‘ بالتازار نے کہا۔
ڈاکٹر نے گھوم کر دیکھا۔
’’ ٹھیک ہے ، لیکن اس نے تمہیں یہ نمونہ تو نہیں دیا تھا ‘‘اس نے کہا ۔ ’’اس نے تمہیں کوئی ہدایات تو نہیں دی تھیں ، سوا اس کے کہ اتنا بڑا پنجرہ بنا دو جو تر و پیالوں کے لیے کافی ہو ۔ ٹھیک ہے نا ؟‘‘
’’ ٹھیک ہے۔‘‘ بالتازار نے کہا۔
’’ بس پھر کوئی مسئلہ نہیں ‘‘
ڈاکٹر نے کہا۔ ’’ایک چیز ہوئی تر و پیالوں کے لیے بڑا سا پنجرہ ۔ اور یہ پنجرہ جو تم نے بنایا ہے وہ دوسری چیز ہے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ وہی پنجرہ ہے جو تم سے بنانے کے لیے کہا گیا تھا۔“
’’یہی تو ہے وہ ! ‘‘بالتازار نے پریشان ہو کر کہا۔ ” اسی وجہ سے تو میں نے بنایا تھا۔“
ڈاکٹر نے بے صبری سے ہاتھ ہلا دیا ۔
’’ تم ایک اور بنالینا ‘‘ اُرسلانے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر ڈاکٹر سے کہنے لگی’’ آپ کو جلدی تو نہیں ہے؟‘‘
’’ میں نے اپنی بیوی سے آج دوپہر کا وعدہ کیا تھا۔“ ڈاکٹر نے کہا۔
’’ مجھے بہت افسوس ہے ڈاکٹر صاحب !‘‘ بالتازار بولا ۔’’ مگر میں آپ کے ہاتھ ایسی چیز نہیں فروخت کر سکتا جو پہلے ہی بِک چکی ہو۔“
ڈاکٹر نے اپنے کندھے اُچکائے ۔ رومال سے گردن کا پسینا پو نچھتے ہوئے وہ اس طرح خاموشی کے ساتھ پنجرے کو تکنے لگا جیسے وہ شخص جو ٹکٹکی باندھ کر دُھندلی نظروں سے جہاز کو سمندر میں دور جاتا دیکھ رہا ہو۔
’’ اُنہوں نے تمہیں اس کے کتنے پیسے دیے ہیں ؟“
بالتازار نے جواب دیے بغیر اُرسلا کی طرف دیکھا۔
’’ ساٹھ پیسو ‘‘ وہ بولی۔
ڈاکٹر پنجرے کو دیکھتا رہا۔ ’’بہت خوب صورت ہے !‘‘ اس نے ٹھنڈی سانس بھری ۔ ’’حد سے زیادہ خوب صورت ۔‘‘ دروازے کی طرف جاتے ہوئے وہ بہت مستعدی سے اپنے آپ کو پنکھا جھلنے اور مسکرانے لگا اور اس واقعے کے تمام نشان اس کی یادداشت سے ہمیشہ کے لیے مٹ گئے۔
’’ مونتیئل کے پاس بہت پیسہ ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
سچ پوچھو تو حوزے مونتیئل اتنا پیسے والا تھا نہیں جتنا نظر آتا تھا، مگر وہ دولت حاصل کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ وہاں سے چند گلیاں آگے ، ساز و سامان سے اَٹے ایک گھر میں، جہاں کسی نے آج تک ایسی بو نہیں سونگھی تھی جو برائے فروخت نہ ہو ، وہ پنجرے کی اطلاع سے لاتعلق رہا۔ اس کی بیوی نے جسے موت کا خوف دن رات عذاب میں مبتلا رکھتا تھا۔ دو پہر کے کھانے کے بعد دروازے کھڑکیاں بند کر دیں اور اپنی آنکھیں کمرے کے سائے پر جمائے ہوئے وہ گھنٹے کے لیے لیٹ گئی اور حوزے مونتیئل قیلولہ کرنے لگا۔ اس کی بیوی کو کئی آوازوں کے شور نے چونکا دیا۔ وہ اٹھ کر بڑے کمرے کا دروازہ کھولنے گئی اور دیکھا کہ گھر کے سامنے مجمع لگا ہوا ہے اور مجمعے کے درمیان بالتازار پنجرہ لیے، اُجلے کپڑے پہنے، داڑھی بنائے اور چہرے پر خوش سلیقہ بے باکی کا وہ تاثر لیے کھڑا ہے جو غریب غربا کے چہروں پر اس وقت آجاتا ہے جب وہ کسی دولت مند کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔
’’ کیا عمدہ چیز ہے !‘‘ حوزے مونتیئل کی بیوی پکار اُٹھی اور اس کا چہرہ جگمگا اُٹھا۔ اس نے خوشی خوشی بالتازار کو اندر بلا لیا۔ ”میں نے زندگی میں ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔‘‘ لیکن دروازے پر جمع ہونے والی بھیٹر سے چڑ کر یہ بھی کہا: ” اندر لے آؤ اسے ، اس سے پہلے کہ یہ لوگ کمرے کو گھڑدوڑ کی تماشہ گاہ بنا دیں۔“
حوزے مونتیئل کے گھر کے لیے بالتازار اجنبی نہ تھا۔ مختلف موقعوں پر اسے اس کی مہارت اور معاملے کا پکا ہونے کی وجہ سے بڑھئی کے چھوٹے موٹے کام کاج کے لیے یہاں بلایا جا چکا تھا۔ مگر اسے دولت مند لوگوں کے درمیان بے چینی ہوتی تھی۔ وہ ان کے بارے میں سوچا کرتا ، ان کی بدصورت جھگی بیویوں کے بارے میں ، ان ہولناک بیماریوں کے بارے میں جوان لوگوں کو لاحق رہتیں اور اس کے اندر رحم کا جذبہ بیدار ہو جاتا۔ جب وہ ان کے گھروں میں داخل ہوتا تو پیر گھسیٹے بغیر نہیں چل سکتا تھا۔
’’ پیپے گھر پر ہے؟‘‘
اس نے پنجرہ کھانے کی میز پر لگا دیا۔
’’ وہ اسکول گیا ہوا ہے‘‘ حوزے مونتیئل کی بیوی نے کہا۔ ” مگر آتا ہی ہوگا ‘‘اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہنے لگی ۔ ” مونتیئل نہا رہا ہے۔‘‘
اصل میں مونتیئل کو نہانے کی مہلت نہیں ملی ۔ وہ جلدی جلدی اپنے بدن پر الکحل ملنے لگا کہ جا کر دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ اس قدر محتاط تھا کہ بجلی کا پنکھا چلائے بغیر سوتا تھا کہ گھر کی ایک ایک آواز پر کان دھر سکے۔
’’ایدیلیدے !‘‘ وہ چلایا ۔ ’’کیا ہو رہا ہے؟“
’’ باہر آ کر دیکھو کیا شاندار چیز ہے !‘‘ اس کی بیوی نے پکار کر کہا۔
حوزے مونتیئل ، موٹا تازہ اور جھبرا سا آدمی ، گردن پر تو لیا ڈالے خواب گاہ کی کھڑکی میں نمودار ہوا۔
’’ یہ کیا ہے؟“
’’ پیپے کے لیے پنجرہ ‘‘ بالتازار نے کہا۔
مونتیئل کی بیوی حیران ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
’’کس کا ؟‘‘
’’پیپے کا‘‘ بالتازار نے جواب دیا اور پھر حوزے مونتیئل کی طرف مڑ کر کہا: ” پیپے نے اس کا آرڈر دیا تھا ؟‘‘
اس لمحے کچھ نہیں ہوا، مگر بالتازار کو یوں لگا جیسے کسی نے اس پر غسل خانے کا دروازہ کھول دیا ہو ۔ حوزے مونتیئل خواب گاہ سے زیر جامہ پہنے ہوئے نکلا۔
’’پیپے!‘‘ وہ دہاڑا ۔
’’وہ ابھی نہیں آیا ‘‘ اس کی بیوی نے سرگوشی کی ۔ وہ دم سادھے کھڑی تھی ۔
پیپے دروازے میں نمودار ہوا ۔ وہ کوئی بارہ سال کا ہوگا اور اُس کی ویسی ہی مڑی ہوئی گھنی پلکیں اور قابل دید انداز تھا جو اُس کی ماں کا تھا۔
’’ یہاں آؤ ! ؟؟ حوزے مونتیئل نے اس سے کہا۔ ’’ اس کا آرڈر تم نے دیا تھا ؟‘‘
بچے نے سر جھکا لیا۔ اس کو بالوں سے پکڑ کر حوزے مونتیئل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔
’’ میری بات کا جواب دو۔“
بچے نے کچھ کہے بغیر اپنا ہونٹ دانتوں میں دبا لیا۔
’’ مونتیئل !‘‘ اس کی بیوی نے سرگوشی کی۔
مونتیئل نے بچے کو چھوڑ دیا اور غضب ناک ہو کر بالتازار کی طرف مڑا ۔ ” مجھے افسوس ہے بالتازار‘‘ اس نے کہا۔ ’’لیکن کام کرنے سے پہلے تمہیں مجھ سے پوچھ لینا چاہیے تھا۔ یہ تمہارے ہی دماغ میں آسکتی تھی کہ نابالغ سے معاہدہ کر لو ‘‘اور یہ کہتے کہتے اس کے چہرے پر سکون لوٹ آیا۔ اس نے پنجرہ اٹھایا اور دیکھے بغیر بالتازار کو پکڑا دیا۔
’’اسے فوراً لے جاؤ اور جس کے ہاتھ بیچ سکتے ہو بیچ ڈالو‘‘ اس نے کہا : ” اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میری درخواست ہے مجھ سے بحث نہ کرنا ۔‘‘ اس نے بالتازار کی پیٹھ تھپتھپائی اور اسے سمجھایا ’’ڈاکٹر نے مجھے غصہ کرنے سے منع کیا ہے۔‘‘
بچہ بالکل ساکت کھڑا تھا اور پلک تک نہیں جھپکا رہا تھا کہ بالتازار نے ہاتھ میں پنجرہ اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ پھر بچے کے حلق سے ایک آواز نکلی ، کتے کے غرّانے جیسی اور وہ فرش پر گر کر چیخنے لگا۔
حوزے مونتیئل نے کوئی اثر قبول کیے بغیر اسے دیکھا اور ماں اسے چپ کرانے لگی ۔ ’’اسے اٹھاؤ بھی مت !‘‘ اس نے کہا۔ ’’اسے فرش پر اپنا سر پھوڑ لینے دو، پھر اس پر لیموں اور نمک تھوپ دینا تا کہ دل بھر کے رو پیٹ لے۔ ‘‘بچہ آنسو بہائے بغیر چلا رہا تھا اور اس کی ماں اسے کلائیوں سے پکڑے ہوئے تھی۔
’’ اسے چھوڑ دو!“ حوزے مونتیئل نے اصرار کیا۔
بالتازار بچے کو یوں دیکھتا رہا جیسے سگ گزیدہ جانور کی جاں کنی کا عالم دیکھ رہا ہو ۔ چاربج رہے تھے۔ اس گھڑی اس کے گھر میں اُرسلا ایک بہت ہی پرانا گیت گا رہی تھی اور پیاز کے چھلکے اُتار رہی تھی ۔
’’ پیپے!‘‘ بالتازار نے کہا۔
وہ مسکراتا ہوا بچے کے پاس آیا اور پنجرہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ بچہ اُچھلا اور پنجرے سے لپٹ گیا۔ جو قد میں تقریباً اس کے برابر تھا۔ وہ اس کے تاروں میں سے بالتازار کو جھانکتا رہا اور اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہے۔ اس آنکھ سے ایک آنسو نہیں نکلا تھا۔
’’ بالتازار !‘‘ حوزے مونتیئل نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ” میں تم سے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ اسے لے جاؤ تھا۔“
’’واپس کر دو !‘‘ اس کی بیوی نے بچے سے کہا۔
’’رکھ لو!‘‘ بالتازار نے کہا اور پھر حوزے مونتیئل سے بولا ” بنایا تو میں نے اس کے لیے تھا۔‘‘
حوزے مونتیئل اس کے پیچھے پیچھے بڑے کمرے میں آگیا۔
’’ بے وقوف مت بنو بالتازار !‘‘ اس نے رستہ روک کر کہا۔ ” اپنا یہ ٹیم ٹماق اٹھا کر اپنے گھر لے جاؤ ، میں تمہیں ایک دھیلا بھی دینے کا ارادہ نہیں رکھتا ۔‘‘
’’ کوئی بات نہیں !‘‘ بالتازار نے کہا۔ ” میں نے یہ خاص طور پر پیپے کو تحفہ دینے کے لیے بنایا تھا۔ میں اس کے دام وصول کرنے کی توقع بھی نہیں رکھتا۔‘‘
جب بالتازار ہجوم میں سے راستہ بناتا ہوا واپس جا رہا تھا تو حوزے مونتیئل کمرے میں کھڑا ہوا چیخ رہا تھا ۔ اس کا رنگ اُڑ گیا اور اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھیں ۔
’’ احمق !‘‘ وہ چلا رہا تھا۔ ’’اپنا یہ کھلونا لے جاؤ یہاں سے ۔ ہمیں نہیں ضرورت کہ کوئی ہمارے گھر میں آکر ہم پر حکم چلائے۔ کتے کے بچے !‘‘
سٹا گھر میں بالتازار کا باقاعدہ استقبال ہوا ۔ اب تک اس نے یہی سوچا تھا کہ اس نے پہلے سے بہتر پنجرہ بنایا ہے اور حوزے مونتیئل کے بیٹے کو دے دیا ہے کہ وہ روتا نہ رہے اور ان میں سے کوئی بات بھی بہت اہم نہیں تھی ۔ مگر پھر اسے احساس ہوا کہ ان سب باتوں کی بہت سے لوگوں کے نزدیک خاصی اہمیت تھی اور وہ کچھ پُر جوش ہو گیا۔
’’ تو انہوں نے تمہیں پنجرے کے پچاس پیسو د یے؟“
’’ ساتھ‘‘ بالتازار نے کہا۔
’’ تم نے خوب کام کر دکھایا۔‘‘ کسی نے کہا۔ ’’ تم واحد شخص ہو جو مو نتیئل صاحب سے اتنی بڑی رقم وصول کر سکے ہو ۔ اس کا جشن منانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے اسے بیئر لا کر دی اور بالتازار نے سب کے لیے ایک ایک گلاس کا آرڈر دے دیا۔ اب چوں کہ یہ پہلی دفعہ تھی جو وہ باہر پینے نکلا تھا تو جھٹ پٹے کے وقت تک بالکل دُھت ہو گیا اور نہایت عظیم الشان منصوبے کی باتیں کرنے لگا جس میں ایک ہزار پنجرے تھے ، ساٹھ پیسو کا ایک ، پھر ایک لاکھ پنجرے اور اس کے پاس ساٹھ لاکھ پیسو آ گئے ۔ “ ہمیں بہت سی چیزیں بنانی ہیں ، امیروں کے ہاتھ بیچنے کے لیے، اُن کے مرنے سے پہلے‘‘ نشے میں دھت وہ کہہ رہا تھا۔ ’’وہ سب بیمار ہیں ، وہ مرجائیں گے۔ وہ اس قدر مشکل میں ہیں کہ غصہ بھی نہیں کر سکتے ۔‘‘ وہ دو گھنٹے سے جُیوک باکس کی موسیقی کے دام ادا کیے جا رہا تھا اور موسیقی مسلسل بجے جا رہی تھی ۔ تم لوگوں نے بالتازار کی صحت ، خوش قسمتی اور امیروں کی موت کے لیے جام تجویز کیے اور پی گئے ، لیکن کھانے کا وقت آیا تو سب اسے سٹا گھر میں اکیلا چھوڑ گئے۔
اُرسلا آٹھ بجے تک ، تلے ہوئے گوشت پر پیاز کے قتلے سجائے ،بیٹھی اس کی راہ دیکھتی رہی۔ کسی نے اسے بتایا کہ اس کا شوہر سٹا گھر میں ہے اور خوشی کے مارے بدحواس ہو کر سب کو بیئر خرید کر پلا رہا ہے، مگر اُرسلا نے یقین نہیں کیا کیوں کہ بالتازار نے کبھی نشہ نہیں کیا تھا۔ جب آدھی رات کے قریب وہ بستر میں لیٹ گئی اس وقت بالتازار ایک روشن کمرے میں تھا جہاں چھوٹی چھوٹی میزیں بچھی ہوئی تھیں اور ہر میز کے ساتھ چار کرسیاں اور باہر کھلی رقص گاہ تھی جہاں پلوور پرندے پھدک رہے تھے ۔ اس کے چہرے پر غازہ پھیل گیا تھا اور چوں کہ وہ ایک قدم بھی نہیں چل سکتا تھا تو اسے خیال آیا کہ وہ دو عورتوں کے ساتھ ایک ہی بستر میں لیٹ جائے ۔ اس نے اتنے پیسے خرچ کیے تھے کہ وہاں سے جانے کے لیے اسے اپنی گھڑی گروی رکھ کر اگلے دن ادائیگی کا وعدہ کرنا پڑا۔ اگلے ہی لمحے گلی میں ڈھیر پڑے پڑے اسے احساس ہوا کہ کوئی اس کے جوتے اتار رہا ہے، مگر اس کا جی نہیں چاہا کہ اپنی زندگی کے حسین ترین خواب سے چونکے ۔ صبح پانچ بجے والی عبادت کے گرجے جانے والی عورتوں کو وہاں سے گزرتے ہوئے ہمت نہیں پڑی کہ اس کی طرف دیکھ لیں ، اس خیال سے کہ وہ مرا ہوا پڑا ہے۔ ✩✩✩
( مشمولہ :’’ ذہنِ جدید ‘‘ ، دہلی ، جلد ۱۵ ، شمارہ نمبر ۴۰، دسمبر تا فروری ۲۰۰۵ ء)