گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

محبت کے اُس پار منتظر موت

    محبت کے اُس پار منتظر موت

    ترجمہ: راشد مفتی

     

    سینیٹر او نے سیمو سانچیز کے پاس مرنے سے پہلے چھ مہینے اور گیارہ دن تھے کہ اسے وہ عورت ملی جو اُس کی زندگی کا حاصل تھی۔ ان کی ملاقات روزل ویل ویرے نامی ایک گمنام سے گاؤں میں ہوئی جو رات کے وقت اسمگلروں کے جہاز کے لیے خفیہ بندرگاہ کا کام دیتا تھا۔ اور، دوسری طرف ، روز روشن میں کسی انتہائی ناکارہ صحرائی راستے کی طرح ایسے سمندر پر کھلتا نظر آتا تھا جو نہ صرف بے سمت اور بے کیف تھا، بلکہ ہر جگہ سے اتنی دور تھا کہ وہاں کسی ایسے شخص کے رہنے کا خیال بھی نہیں آسکتا تھا جو کسی کی تقدیر بدلنے پر قادر ہو ۔ اس گاؤں کا نام بھی ایک طرح کا مذاق تھا، کہ وہاں دستیاب واحد گلاب کا پھول سینیٹر او نے سیموسانچیز نے اُس سہ پہر جب وہ لورا فارینا سے ملا۔ خود اپنی قمیض میں لگا رکھا تھا۔

      یہ اُس انتخابی مہم کا ایک ناگزیر پڑاؤ تھا جو سینیٹر ہر چوتھے سال چلایا کرتا تھا۔ تماشے والی گاڑیاں صبح ہی آچکی تھیں۔ ان کے بعد مقامیوں سے بھرے ہوئے ٹرک آئے ، جنہیں مختلف قصبوں میں جلسوں کی حاضری بڑھانے کے لیے کرائے پر لایا جاتا تھا۔ گیارہ بجے سے ذرا قبل موسیقی ، آتش بازی اور حواریوں کی جیپوں کے جلو میں اسٹرابری سوڈے کی سی رنگت والی بڑی سی وزارتی گاڑی نمودار ہوئی۔ ایر کنڈیشنڈ کار میں سینیٹر او نے سیموسانچیز موسم سے بے نیاز ، پرسکون بیٹھا تھا، لیکن جوں ہی اس نے دروازہ کھولا ، گرم ہوا کے تھپیڑے نے اسے ہلا دیا اس کی خالص ریشم کی قمیض ایک طرح کے نور رنگ سُوپ میں بھیگ گئی اور وہ خود کو اپنی عمر سے کئی سال بڑا اور پہلے سے کہیں زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ حقیقی زندگی میں وہ ابھی ابھی بیالیس سال کا ہوا تھا۔ اس نے گوٹنگن سے اعزاز کے ساتھ میٹلر جیکل انجینئر کی حیثیت سے گریجویشن کیا تھا۔ وہ ناقص طور پر ترجمہ کی ہوئی لاطینی کلاسیکی کتابوں کا مشتاق قاری تھا ، گو اس مطالعے سے اسے کچھ زیادہ حاصل نہ تھا۔ اس نے ایک خوش حال جرمن عورت سے شادی کی تھی ، جس سے اس کے پانچ بچے تھے جو سب کے سب اپنے گھر میں مسرور تھے۔ ان سب سے زیادہ مسرور وہ خود تھا، تا آں کہ، تین ماہ قبل ، اسے بتایا گیا کہ اگلے کرسمس تک وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرچکا ہوگا۔

    جب تک جلسۂ عام کی تیاریاں مکمل ہوتیں، سینیٹر نے اس مکان میں جو اس کے لیے مخصوص کیا گیا تھا، آرام کے لیے ایک گھنٹہ نکال لیا۔ لیٹنے سے قبل اس نے پانی سے بھرے گلاس میں وہ گلاب ڈال دیا جسے اس نے سارے صحرا کے سفر میں زندہ رکھا تھا، پر ہیز کی غذا کھائی جو وہ ساتھ رکھتا تھا تا کہ بکری کے گوشت کے تلے ہوئے ٹکڑوں سے بچ سکے جو باقی دن میں اس کے سامنے بار بار آنے والے تھے ، اور وقت سے پہلے کئی دردکش گولیاں کھائیں تا کہ درد اٹھے تو اس کا مداوا پہلے سے موجود ہو ۔ پھر اس نے بجلی کا پنکھا جھولنے کے نزدیک کیا اور برہنہ ہو کر پندرہ منٹ کے لیے گلاب کے سائے میں دراز ہو گیا۔ اونگھنے کے دوران موت کے خیال سے دھیان ہٹانے کے لیے اسے انتہائی کاوش کرنا پڑی۔ ڈاکٹروں کے سوا یہ بات کسی کو معلوم نہ تھی کہ اسے ایک مقررہ میعاد کی سزا ملی ہے، کیوں   کہ اس نے اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی لائے بغیر اس راز کو اکیلے ہی برداشت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اس کا باعث فخر نہیں بلکہ شرم تھی۔

      آرام کرنے اور نہانے دھونے کے بعد جب تین بجے سہ پہر وہ جلسے میں آیا تو خود پر مکمل قابو محسوس کر رہا تھا۔ اس نے کھردری لینن کی پتلون اور پھولوں والی قمیض پہن رکھی تھی ، اور اس کی روح درد کش گولیوں سے سنبھالا لے چکی تھی۔ تاہم موت کی کاٹ اس کے اندازے سے کہیں زیادہ مضرت رساں تھی کیوں   کہ پلیٹ فارم پر چڑھتے ہی اس نے ان لوگوں کے لیے ایک عجیب سی تحقیر محسوس کی جو اس سے ہاتھ ملانے کی خوش بختی کے لیے لڑ رہے تھے ، اور گزشتہ کے برعکس اسے ان بر ہنہ پا مقامیوں پر افسوس نہیں ہوا جو چھوٹے سے بنجر چوک میں شورے کے گرم ڈلوں کی تپش بمشکل برداشت کر پا رہے تھے ۔ اس نے تالیوں کے شور کو تقریباً طیش میں آتے ہوئے ، اپنے ہاتھ کے اشارے سے روکا اور گرمی سے ہانپتے سمندر پر نظریں جمائے ہوئے ، اپنے ہاتھوں کو حرکت دیے بغیر بولنا شروع کر دیا۔ اس کی نپی تلی گہری آواز میں پرسکون پانی کی سی کیفیت تھی۔ لیکن اپنی رٹی ہوئی اور بار بار دہرائی ہوئی تقریر اس کی زبان پر سچی بات کی طرح نہیں ، بلکہ مارکس   اور یلئیس کے مراقبات کی کتاب چہارم میں درج کسی جبر یہ فیصلے کے طور پر ابھری تھی۔

      ”ہم یہاں فطرت کو شکست دینے آئے ہیں ‘‘ ، اس نے اپنے تمام معتقدات کے برعکس آغاز کرتے ہوئے کہا۔ ’’اب ہم اپنے ملک میں ناپرساں نہیں رہیں گے ، پیاس اور دشوار آب و ہوا کی اس مملکت میں خدائی یتیم نہیں رہیں گے ، اپنی زمین پر جلاوطن نہیں رہیں گے۔ ہم ایک مختلف قوم ہوں گے ، خواتین و حضرات ، ہم ایک عظیم اور مسرور قوم ہوں گے۔“

    اس تماشے کا ایک خاص ڈھب تھا۔ اس کی تقریر جاری تھی کہ اس کے نائبین نے کاغذی پرندوں کے جھنڈ ہوا میں اچھال دیے۔ ان مصنوعی مخلوقات میں جان سی پڑ گئی اور وہ تختوں کے بنے ہوئے پلیٹ فارم پر سے اُڑتی ہوئی سمندر کی طرف چلی گئیں۔ اسی دوران دوسرے آدمیوں نے گاڑیوں میں سے نمدے کے پتوں والے مصنوعی درخت نکال کر ہجوم کے عقب میں شور زدہ زمین میں لگا دیے۔ انہوں نے یہ سوانگ گتے کا ہیش منظر لگا کر مکمل کیا جس میں سرخ اینٹوں اور شیشے کی کھڑکیوں والے جھوٹ موٹ کے مکان بنے تھے ، اور اس طرح انہوں نے حقیقی زندگی کے خستہ حال چھونپڑوں کو ڈھانپ دیا۔

     اس سوانگ کو مزید وقت دینے کے لیے سینیٹر نے اپنی تقریر کو لاطینی کے دو اقتباسات کے ذریعے طویل کر دیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ بارش برسانے والی مشین ، غذائی جانوروں کی افزائش کے دستی آلات ، شورے میں سبزیاں اور کھڑکیوں میں پھول اُگانے والا روغن ِمسرت فراہم کرے گا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی افسانوی دنیا تیار ہے تو اس کی طرف اشارہ کیا : ”ہماری   دنیا ایسی ہوگی ، خواتین و حضرات !‘‘ اس نے بلند آواز سے کہا، ’’ دیکھیے !ہماری ایسی ہوگی۔‘‘

     حاضرین نے مڑ کر دیکھا۔ رنگ دار کاغذ کا بنا ہوا بحری جہاز ، جو اس مصنوعی شہر کی بلند ترین عمارتوں سے بھی اونچا تھا، مکانوں کے عقب سے گزر رہا تھا۔ یہ بات صرف سینیٹر ہی نے محسوس کی کہ بار بار لگانے ، اتار نے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے باعث گتے کا شہر شدید موسمی اثرات سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے اور اب اتنا ہی خستہ و خراب ہے جتنا خود یہ روزل دیل ویرے کا گاؤں ۔

    بارہ سال میں یہ پہلا اتفاق تھا کہ نیلسن فارینا سینیٹر کا سواگت کرنے نہیں گیا۔ اس نے اپنے باقی ماندہ قیلولے کے دوران گھر کے ایک ٹھنڈے کنج میں جھولنے پر لیٹے لیٹے تقریرسنی۔ ناتراشیدہ تختوں کا یہ گھر اس نے انہی دوا ساز ہاتھوں سے بنایا تھا جن سے اپنی پہلی بیوی کو گھسیٹ کر اس کے ٹکڑے کیے تھے ۔ وہ ڈیولز آئی لینڈ سے فرار ہو کر معصوم طوطوں سے لدے ہوئے ایک جہاز کے ذریعے روزل ویل ویرے میں وارد ہوا تھا۔ اس کے ہمراہ ایک خوبصورت اور بے دین سیاہ فام عورت تھی جو اسے پارامار یبو میں ملی تھی اور جس سے اس کی ایک بیٹی تھی۔ کچھ عرصے بعد یہ عورت فطری اسباب سے مرگئی اور اس طرح اُس عورت کے انجام سے بچ گئی جس کے ٹکڑوں نے اس کے گوبھی کے قطعے کو زرخیز کیا تھا ، اور سالم حالت میں ، ولندیزی نام کے ساتھ ، مقامی قبرستان میں دفن ہوئی ۔ لڑکی کو اپنے باپ کی زرد اور متحیر آنکھوں کے ساتھ اپنی ماں کا رنگ روپ ورثے میں ملا تھا؛ یوں نیلسن کے پاس یہ تصور کرنے کی معقول وجہ تھی کہ وہ دنیا کی حسین ترین عورت کی پرورش کر   رہا ہے۔

      سینیٹر او نے سیمو سانچیز سے اُس کی پہلی انتخابی مہم کے دوران ملاقات ہونے کے دن سے نیلسن فارینا ، قانون کی پہنچ سے دور ہونے کے لیے، اس سے درخواست کر رہا تھا کہ اسے جعلی شناختی کارڈ بنوا دے۔ سینیٹر نے دوستانہ مگر سخت انداز میں انکار کر دیا تھا، لیکن نیلسن فارینا نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ وہ کئی سال تک، جب بھی اسے موقع ملتا، اپنی درخواست مختلف انداز میں دُہراتا رہا۔ لیکن اس بار وہ قزاقوں کے اس جلتے ہوئے بھٹ میں اپنے جھولنے میں پڑا سڑتا رہا۔ اس نے اختتامی تالیاں سن کر اپنا سر اٹھایا اور باڑھ کے تختوں کے اوپر سے نظریں دوڑاتے ہوئے ، سوانگ کا عقبی حصہ دیکھا جو عمارتوں کے پیل پایوں ، درختوں کے سہاروں اور بحری جہاز کو دھکیلتے ہوئے پوشیدہ فریب کاروں پر مشتمل تھا۔ اس نے کوئی نفرت محسوس کیے بغیر تھوک دیا۔

    ’’   ہونہہ ! سیاست کا شعبدہ باز !‘‘ اس نے فرانسیسی میں تبصرہ کیا۔

     تقریر کے بعد ، جیسا کہ رواج تھا، سینیٹر موسیقی اور آتش بازی کے شور میں شہر کی گلیوں میں گھومنے لگا۔ اپنی اپنی بپتا سناتے ہوئے شہر کے باسیوں نے اسے گھیر رکھا تھا۔ وہ ان کی شکایتیں خندہ پیشانی سے سن رہا تھا۔ اسے ہر ایک کو ، کوئی خاص مہربانی کیے بغیر ، مطمئن کرنے کا گر آتا تھا۔ چھ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ ایک مکان کی چھت پر استادہ عورت نے شوروغل اور آتش بازی کے ہنگامے میں جیسے تیسے اپنی آواز اس کے کانوں تک پہنچائی۔

    ’’میں کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہی ہوں، سینیٹر ‘‘، وہ بولی، ’’پھانسی پانے والے کے کنویں   سے پانی لانے کے لیے صرف ایک گدھا۔“

     سینیٹر نے چھ سوکھے بچوں پر نظر کی ۔ ” تمہارے شوہر کا کیا بنا؟“ اس نے پوچھا۔

    ’’   وہ قسمت آزمانے آروبا کے جزیرے میں گیا تھا‘‘، عورت نے خوش مزاجی سے جواب   دیا، ’’لیکن وہاں ایک غیر ملکی عورت کا ہو رہا ، اس طرح کی جو اپنے دانتوں پر ہیرے جڑتی ہیں۔“

     اس جواب نے قہقہوں کا طوفان برپا کر دیا۔

    ’’خوب!‘‘ سینیٹر نے فیصلہ کیا ۔ ’’تمہیں گدھا مل جائے گا۔“

    تھوڑی دیر بعد اس کا ایک نائب عورت کے گھر ایک اچھالد و گدھا چھوڑ گیا جس کے پٹھے   پر انمٹ رنگ سے ایک انتخابی نعرہ لکھا تھا تا کہ لوگ سینیٹر کے تحفے کو بھول نہ جائیں۔

     گلی کی مختصر طوالت طے کرتے ہوئے اس نے دیگر چھوٹی چھوٹی نوازشات کیں۔ اس نے ایک بیمار آدمی کو ، جس نے اسے گزرتا دیکھنے کے لیے اپنا بستر گھر کے دروازے پر لگوایا تھا، چمچے سے دوا بھی پلائی ۔ آخری نکڑ پر باڑھ کے تختوں کی جھریوں میں سے اس نے نیلسن فارینا کو جھولنے میں لیٹے دیکھا جو زرد اور ملول نظر آرہا تھا۔ تا ہم سینیٹر نے کوئی لگاوٹ ظاہر کیے بغیر اس کی مزاج   پرسی کی ۔

    ’’ہیلو، کیسے ہو؟‘‘

      نیلسن فارینا نے جھولنے میں کروٹ لی اور اپنی نظر کی اداسی سے اسے بھگو دیا ۔

    ’’   کون ؟ میں؟ آپ جانتے ہی ہیں ‘‘، اس نے فرانسیسی میں جواب دیا۔

     اس کی بیٹی نے علیک سلیک کی آواز سنی تو وہ آنگن میں آگئی۔ اس نے مقامیوں کی گھٹیاسی پرانی گواہیر و پوشاک پہن رکھی تھی، سر پر رنگین کپڑے کی تتلیاں سجا رکھی تھیں اور چہرے پر دھوپ سے بچاؤ کے لیے رنگ ملا ہو ا تھا؛ لیکن اس خستہ حالی میں بھی یہ تصور کرنا ممکن تھا کہ دنیا میں اس سے زیادہ حسین عورت نہیں رہی ہوگی۔ سینیٹر دم بخودرہ گیا۔ ’’ مارا گیا؟ ‘‘ اس نے حیرت سے سانس لیا۔ ’’خدا بھی عجب بدحواسیاں کرتا ہے!‘‘

     اس رات نیلسن فارینا نے اپنی بیٹی کو بہترین پوشاک پہنا کر سینیٹر کے پاس بھیجا۔ دو رائفل بردار محافظوں نے ، جو عاریتی مکان میں گرمی کی شدت سے اونگھ رہے تھے، اسے راہ داری میں پڑی اکلوتی کرسی پر انتظار کرنے کو کہا۔

    سینیٹر دوسرے کمرے میں تھا، جہاں وہ روزل دیل ویرے کے سرکردہ لوگوں سے ملاقات کر رہا تھا۔ اس نے ان لوگوں کو اس غرض سے اکٹھا کیا تھا کہ اپنی تقریروں کے بچے کھچے نکتے ان کے کانوں میں انڈیل سکے ۔ وہ ان سب لوگوں سے جن سے سینیٹر کا صحرا کے سبھی شہروں میں ہمیشہ سابقہ پڑتا تھا، اس قدر مشانہ تھا کہ ان مستقل شبینہ اجلاسوں سے وہ خود تنگ آچکا تھا۔ اس کی قمیض پینے سے تر تھی اور وہ اسے اپنے بدن پر اس گرم ہوا سے سکھانے کی کوشش کر رہا تھا جو کمرے کی   شدید گرمی میں گھڑ مکھی کی طرح بھنبھناتے ہوئے بجلی کے پنکھے سے آ رہی تھی۔  

    ’’ہم کاغذی پرندے نہیں کھا سکتے‘‘ وہ کہہ رہا تھا، ’’میں اور تم جانتے ہیں کہ جس دن بھی اس گوبر کے ڈھیر میں درخت اور پھول اُگے ، جس دن بھی جوہڑوں میں کیڑوں کی جگہ مچھلیاں دکھائی دیں ، اُس دن یہاں تم نظر آؤ گے نہ میں ۔ میری بات سمجھ رہے ہونا ؟‘‘

    کسی نے جواب نہیں دیا۔ اس اثنا میں سینیٹر نے کیلنڈر سے ایک ورق پھاڑ کر اسے کاغذی   تتلی کی شکل دے دی تھی۔ اس نے اس تتلی کو ، بغیر کسی خاص نشانے کے پنکھے سے آنے والی ہوا کی رو میں اچھال دیا۔تتلی کمرے میں ادھر اُدھر اُڑا کی اور پھر ادھ کھلے دروازے سے باہر نکل گئی۔ سینیٹر نے موت کی ساز باز سے تقویت پائے ہوئے ضبط کے ساتھ گفتگو جاری رکھی۔

    ’’لہٰذا‘‘، اس نے کہا، ” مجھے وہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں جو تم پہلے ہی جانتے ہو ۔ یعنی میرا دوبارہ انتخاب مجھ سے زیادہ تمہارے لیے سود مند ہے، کیوں   کہ میں بند پانی اور پسینے کی بو سے تنگ آچکا ہوں جب   کہ دوسری طرف تم لوگ روٹی اس کی کھاتے ہو۔“

    لورا فارینا نے کاغذی تتلی کو باہر آتے دیکھا۔ صرف اس نے تتلی کو دیکھا کیوں   کہ راہداری میں موجود محافظ اپنی رائفلوں کو لپٹائے ، سیڑھیوں پر سو چکے تھے۔ چند گردشوں کے بعد کاغذی تتلی کی تہیں مکمل طور پر کھل گئیں اور وہ دیوار کے ساتھ چپک کر وہیں جم گئی ۔ لورا فارینا نے اسے اپنے ناخنوں سے کھرچ کر اتارنے کی کوشش کی۔ ایک محافظ نے ، جو دوسرے کمرے میں تالیوں کی گونج سے جاگ گیا تھا، اس کی رائیگاں کوشش دیکھی۔  

    ’’یہ نہیں اترے گی ۔‘‘ وہ غنودگی میں بولا ۔ ’’یہ دیوار پر نقش ہے۔‘‘

     لوگ کمرے سے باہر آنے لگے تو لورا فارینا دوبارہ بیٹھ گئی۔ سینیٹر دروازے کی بلَّی پر ہاتھ   رکھے دہلیز پر کھڑا تھا۔ اس نے لورا فارینا کو تبھی دیکھا جب راہداری خالی ہوگئی۔

    ’’ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘

    ’’ مجھے میرے ابا نے بھیجا ہے‘‘، وہ فرانسیسی میں بولی۔

      سینیٹر سمجھ گیا۔ اس نے خوابیدہ محافظوں کا جائزہ لیا، پھر لورا فارینا کو بغور دیکھا جس کا غیر معمولی حسن اس کے درد سے کہیں زیادہ توجہ طلب تھا ، اور تب اسے یقین ہو گیا کہ جو فیصلہ اس کو   کرنا تھا وہ موت کر چکی ہے۔

    ’’   اندر آ جاؤ ‘‘،اس نے لڑکی سے کہا۔

    لور افار ینا دہلیز پر قدم رکھتے ہی ششدر رہ گئی۔ ہزاروں نوٹ اس تتلی کی طرح پھڑ پھڑاتے ہوئے ہوا میں تیر رہے تھے ۔ سینیٹر نے پنکھا بند کر دیا اور نوٹ بے ہوا ہو کر کمرے کی مختلف اشیا پر   اتر گئے۔

    ’’   دیکھا تم نے ؟“ وہ بولا ۔ ’’غلاظت بھی اُڑ سکتی ہے۔“  

    لورا فارینا ایک چھوٹے سے اسٹول پر بیٹھ گئی۔ اس کی جلد، جس کا رنگ اور سنولا یا ہوا گاڑھا پن خام تیل جیسا تھا، ہموار اور تنی ہوئی تھی، اس کے بال کسی نو عمر گھوڑی کی ایال تھے اور اس کی بڑی بڑی آنکھیں روشنی سے زیادہ چمکد دار تھیں ۔ سینیٹر نے اس کے تارِ نظر کا تعاقب کیا اور بالآخر گلاب تک پہنچ گیا جو شورے میں اپنی چمک کھو چکا تھا۔

    ’’   گلاب ہے‘‘ ، اس نے کہا۔

    ’ ’ہاں‘‘، لڑکی نے قدرے الجھاؤ سے کہا ” میں نے ریو ہا چا میں پہلی بار دیکھے تھے۔“

    سینیٹر ایک فوجی چار پائی پر بیٹھ گیا اور اپنی قمیض کے بٹن کھولتے ہوئے ، گلابوں کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے سینے پر، اس طرف جہاں اس کے خیال میں اس کا دل تھا، کسی قزاق کی طرح تیر سے گدا ہوا دل نقش تھا۔ اس نے گیلی قمیض فرش پر پھینکی اور لورا فارینا سے اپنے جوتے اتارنے میں   مدد کرنے کو کہا۔

    وہ چار پائی کے مقابل گھٹنوں کے بل جھک گئی۔ سینیٹر کچھ سوچتے ہوئے اس کا جائزہ لیتا رہا اور جب تک وہ اس کے تسمے کھولتی رہی ، حیران ہوتا رہا کہ اس حادثے کی بدنصیبی دونوں میں سے کس کے حصے میں آئے گی۔

    ’’   تم تو ابھی بالکل بچی لگتی ہو !‘‘ اس نے کہا۔

    ’’ اس پر نہ جاؤ ۔‘‘وہ بولی ! ’’میں اپریل میں انیس سال کی ہو جاؤں گی۔‘‘

      سینیٹر کی دلچسپی جاگ اٹھی ۔

    ’’ کس تاریخ کو ؟‘‘

    ’’   گیارہ “ ،وہ بولی۔

      سینیٹر بہتر محسوس کرنے لگا، ’’ہم دونوں کا برج حمل ہے“ ،اس نے کہا، اور پھر مسکراتے   ہوئے اضافہ کیا۔

    ’’   یہ تنہائی کی علامت ہے۔‘‘

      لورا فارینا توجہ نہیں دے رہی تھی، کیوں   کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اُس کے جوتوں کا کیا   کرے۔ ادھر سینیٹر بھی نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ لورا فارینا کا کیا کرے۔ وہ اچانک معاشقوں کا عادی نہیں تھا اور وہ جانتا تھا کہ موجودہ معاملے کی جڑیں تو ذلت میں پیوست ہیں۔ سوچنے کے لیے چند لمحے چرانے کو اس نے لورا فارینا کو اپنے گھٹنوں کے درمیان مضبوطی سے جکڑ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیے اور پشت کے بل چار پائی پر لیٹ گیا۔ تب اسے احساس ہوا کہ لڑکی پوشاک کے نیچے برہنہ ہے ، کیوں   کہ اس کے بدن سے کسی جنگلی جانور کی سی پُر اسرار خوشبو آ رہی تھی، لیکن اس کا دل خوفزدہ تھا اور اس کی جلد ٹھنڈے پسینے سے نم ۔

    ’’   ہم لوگوں سے کوئی محبت نہیں کرتا‘‘ ، سینیٹر نے آہ بھری۔

      لورا فارینا نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن وہاں صرف اتنی ہوا تھی کہ وہ سانس لی لے پائی۔ سینیٹر نے اسے سنبھالا دینے کے لیے اپنے برابر لٹا لیا۔ اس نے روشنی گل کر دی اور کمرہ گلاب کے سائے میں آ گیا۔ لڑکی نے اپنے آپ کو قسمت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ سینیٹر ٹٹولتے ہوئے ہاتھوں سے نرمی کے ساتھ اس کا بدن سہلانے لگا، لیکن جہاں اسے اس کی نسوانیت پانے کی توقع تھی ، وہاں کوئی سخت سی چیز اس کی راہ میں حائل تھی ۔

    ’’   ارے یہ کیا ہے؟‘‘

    ’’تالا ‘‘، لڑکی نے بتایا۔

    ’’   لعنت ہو‘‘ ، سینیٹر نے مشتعل ہو کر کہا، اور وہ سوال کیا جس کا جواب وہ اچھی طرح جانتا تھا۔

    ’’ چابی کہاں ہے؟‘‘  

    لورا فارینا نے سکون کا سانس لیا۔

     ”میرے ابا کے پاس ‘‘،اس نے جواب دیا ۔ ’’انہوں نے کہا ہے کہ آپ چابی کے لیے اپنا   آدمی بھیج دیں، اور اس کے ہاتھ پہ تحریری پیغام بھی کہ آپ ان کا مسئلہ حل کر دیں گے۔‘‘

     سینٹر کا پارہ چڑھ گیا۔ ’’ حرامی مینڈک ‘‘ ، وہ برہمی سے بڑبڑایا ۔ اس نے سکون کی خاطر اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اندھیرے میں اپنے آپ سے ملا ۔ یادرکھو، اسے یاد آیا ، چاہے تم ہو یا کوئی اور ، اس میں زیادہ دیر نہیں ہے کہ تم فنا ہو جاؤ گے ، اور اس میں بھی زیادہ دیر نہیں ہے کہ تمہارا نام بھی باقی نہیں رہے گا۔

     اس نے تھر تھری کے گزرنے کا انتظار کیا۔

    ’’ ایک بات بتاؤ‘‘، اس نے پوچھا ” تم نے میرے بارے میں کیا سنا ہے؟‘‘

    ’’   سچ سچ سننا چاہتے ہو؟“

    ’’سچ سچ‘‘

    ’’اچھا‘‘ ، لورا فارینا نے جرأت کی ۔’’ لوگ کہتے ہیں کہ تم دوسروں سے بدتر ہو، کیوں   کہ تم   مختلف ہو۔‘‘

      سینیٹر برہم نہیں ہوا۔ وہ آنکھیں بند کیے کافی دیر خاموش رہا، اور جب اس نے دوبارہ   آنکھیں کھولیں تو اپنی انتہائی پوشیدہ جبلتوں سے لوٹا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

     ”اوہ، کیا مصیبت ہے‘‘، اس نے فیصلہ کیا۔ ’’اپنے حرامی باپ کو بتا دینا میں اس کا کام   کردوں گا۔‘‘

    ’’آپ چاہیں تو میں خود جا کر چابی لاسکتی ہوں ‘‘، لورا فارینا نے کہا۔  

    سینیٹر نے اسے روک دیا۔

    ’’چابی کو بھول جاؤ ‘‘، اس نے کہا ،’’بس کچھ دیر میرے ساتھ لیٹی رہو۔ آدمی تنہا ہو تو کسی کا   پاس ہونا اچھا ہوتا ہے۔‘‘

    پھر لڑکی نے اپنی نظریں گلاب پر جماتے ہوئے اس کا سر اپنے شانے پر رکھ لیا۔ سینیٹر نے اسے کمر سے تھام کر اپنا چہرہ اس کی بغل میں چھپا لیا اور دہشت کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ چھ مہینے اور گیارہ دن بعد ، لورا فارینا کے اسکینڈل کے باعث بے قدر اور مسترد ہو کر ، اور اس کے بغیر مرنے پر غصے سے روتے ہوئے ، وہ اسی حالت میں مر جائے گا۔

    ☆☆☆

    ( مشمولہ : ’’ گابریل گارسیا مارکیز: منتخب تحریریں ‘‘ ، کراچی ، آج ، ۲۰۱۱ ء)