خواب دیکھنے والی
خواب دیکھنے والی
ترجمہ: اجمل کمال
صبح کے نو بجے ، جب ہم ہوانا کے ہوٹل ریو یئر ا کے ٹیریس میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ، یک لخت سمندر میں ایک دہشت ناک لہر اٹھی... حالاں کہ دن دھوپ بھرا اور پرسکون تھا ... اور ایک بڑے شور کے ساتھ ہم پر آپڑی۔ اتنی زبر دست لہر تھی کہ اس نے ساحل پر سے گزرتی ہوئی کاروں کو، اور نزدیک پارک کی ہوئی کچھ کاروں کو بھی اٹھا کر ہوا میں اچھال دیا اور ہمارے ہوٹل کے پہلو میں دے مارا۔ ڈائنا مائٹ کا سا دھما کا تھا جس نے ہمارے ہوٹل کی عمارت کی بیس منزلوں میں سراسیمگی پھیلا دی اور لابی کو ٹوٹے ہوئے شیشوں کے ڈھیر میں بدل ڈالا۔ ہوٹل میں مقیم بہت سے مسافر جو وہاں بیٹھے تھے، فرنیچر کی طرح زیر و زبر ہو گئے اور کئی ایک کوٹوٹے ہوئے شیشوں کی بوچھاڑ نے زخمی کر دیا۔ وہ یقیناً نہایت غیر معمولی قامت کی طوفانی لہر رہی ہوگی ، گو ہوٹل کی عمارت کو سمندر کی جانب ایک دیوار اور اس سے آگے ایک چوڑی دو طرفہ سڑک نے حفاظت میں لے رکھا تھا، مگر لہر اتنی قوت سے حملہ آور ہوئی کہ شیشے کی دیواروں والی لابی کو نیست و نابود کر دیا۔
کیو بن رضا کار ، مقامی فائر بریگیڈ کی مدد سے فوراً ملبے کو سمیٹنے میں لگ گئے اور چھ گھنٹے سے کم وقت میں ، ہوٹل کے سمندر کی جانب کھلنے والے پھاٹک کو بند کر کے اور ایک متبادل راستا کھول کر ، انہوں نے ہر چیز کو معمول کے مطابق کر دیا۔ اس پورے وقت میں کسی کی توجہ اس کار کی طرف نہ گئی جو ہوٹل کی دیوار سے ٹکرا کر چکنا چور ہو گئی تھی ، اور سب اسے ان گاڑیوں میں شمار کرتے رہے جو سڑک کے کنارے پارک کی ہوئی تھیں ۔ جس وقت اسے کرین کی مدد سے ہٹایا جانے لگا تو اندر ایک عورت کی لاش کی موجودگی کا انکشاف ہوا جسے سیٹ بیلٹ نے ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ جکڑ رکھا تھا۔ ٹکر اتنی زور دار تھی کہ اس کے جسم کی کوئی ایک ہڈی بھی ٹوٹنے سے نہ بچی تھی۔ اس کا چہرہ مسخ اور نا قابل شناخت تھا، پنڈلیوں تک لمبے بوٹ سلائی پر سے ادھڑ گئے تھے اور لباس دھجی دھجی ہو چکا تھا۔ لیکن اس کی انگلی میں ایک انگوٹھی تھی جو سلامت رہ گئی تھی ۔ انگوٹھی سانپ کی شکل میں بنی ہوئی تھی اور سانپ کی آنکھوں کی جگہ زمرد جڑے ہوئے تھے۔ پولیس نے پتا لگایا کہ وہ عورت نئے پرتگالی سفیر اور اس کی بیوی کی گھریلو ملازمہ تھی ۔ درحقیقت وہ ان کے ساتھ پندرہ روز پہلے ہی وہاں پہنچی تھی اور اس صبح ان کی نئی کار میں بازار جانے کے لیے نکلی تھی۔ جب میں نے اخباروں میں اس واقعے کے بارے میں پڑھا تو اس عورت کے نام نے مجھ میں رد عمل پیدا نہ کیا لیکن اس انگوٹھی کے ذکر نے مجھے متجسس کر دیا جو سانپ کی شکل کی تھی اور جس میں آنکھوں کی جگہ زمرد جڑے ہوئے تھے۔ مگر بد قسمتی سے میں یہ نہ جان سکتا تھا کہ انگوٹھی کون سی انگلی میں تھی۔
یہ ایک بے حد اہم تفصیل تھی، مجھے اندیشہ تھا کہ یہ عورت وہ ہے جس سے میں واقف رہا ہوں اور جسے کبھی فراموش نہیں کر سکوں گا ، اگر چہ مجھے اس کا نام کبھی معلوم نہ ہو سکا تھا۔ وہ بھی سانپ کی شکل کی انگوٹھی پہنتی تھی جس میں آنکھوں کی جگہ زمرد جڑے ہوئے تھے، لیکن وہ اسے ہمیشہ اپنی پہلی انگلی میں پہنا کرتی تھی جو اس زمانے میں بھی ایک غیر از معمول بات تھی۔ میں اس سے چھیالیس سال پہلے ویانا میں ملا تھا جب وہ ایک مے خانے میں ، جہاں لاطینی امریکی طلبا بہت آیا کرتے تھے، ساسج اور ابلے ہوئے آلو کھانے اور پیپے سے براہ راست بیئر پینے میں مشغول تھی ۔ میں اسی صبح روم سے وہاں پہنچا تھا اور مجھے آج تک وہ تاثر یا د ہے جو اس کے اوپیرا کی مغلیہ کے سے بھرے بھر سینے ، اس کے کوٹ کے کالر کے گرد جمع جھولتی ہوئی پشموں اور سانپ کی شکل کی اس مصری انگوٹھی نے مجھ پر طاری کیا تھا۔ وہ کسی ہانپتے ہوئے دکان دار کے سے انداز میں بہت ابتدائی قسم کی ہسپانوی بول رہی تھی اور میں نے اسے آسٹریائی... اس طویل میز کے گرد بیٹھے ہوئے تمام لوگوں میں واحد آسٹریائی ... فرض کر لیا۔ میرا خیال غلط نکلا وہ کولومبیا میں پیدا ہوئی تھی اور اس نے دونوں جنگوں کے درمیانی عرصے میں موسیقی اور گائیگی سیکھنے کی غرض سے آسٹریا کا سفر اختیار کیا تھا۔ جب میری اس سے ملاقات ہوئی ، اس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ رہی ہو گی اور وہ اپنے وقت سے پہلے ہی ڈھلنے لگی تھی ۔ اس کے باوجود اس کی شخصیت میں ایک سحر تھا اور علاوہ ازیں ، وہ میری جان پہچان کے سب سے زیادہ خوف زدہ کر دینے والے افراد میں سے تھی۔
اس زمانے میں ... یعنی سن چالیس کی دہائی کے اواخر میں ... ویانا کی حیثیت ایک قدیم دار السلطنت سے زیادہ کی نہ رہ گئی تھی جسے تاریخ نے دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں رونما ہونے والی دو باہم منحرف دنیاؤں کے درمیان واقع ایک دور افتادہ علاقائی صدر مقام میں بدل ڈالا تھا اور جو بلیک مارکیٹ اور بین الاقوامی جاسوسی کی جنگ کی طرح تھا ۔ میں اس سے زیادہ موزوں گردو پیش کا اپنی اس سرگرداں ہم وطن کے لیے تصور نہیں کر سکتا تھا جو نکڑ کے اس مے خانے میں محض اپنی اصل سے دور ہونے کی بے قراری میں آیا کرتی تھی، حالاں کہ اس کے پاس اتنی دولت تھی کہ وہ اسے اس میں آنے جانے والوں سمیت ، خرید سکتی تھی۔ اس نے ہمیں اپنا اصل نام کبھی نہیں بتایا، ہم سب اسے ہمیشہ زبان کو بل دینے والے اس جرمن نام سے یاد کیا کرتے تھے جو لاطینی امریکی طلباء نے اس کے لیے وضع کیا تھا ، فراؤ فریڈا ، جوں ہی میرا اس سے تعارف ہوا، میں اس سے یہ سوال کرنے کی اتفاقیہ جسارت کر بیٹھا کہ وہ کولومبیا کے خطے کی نیدو کے، تیز ہوا کے جھکڑوں کی زد میں واقع پہاڑی مقام سے دنیا کے اس حصے میں کیوں کر آ پہنچی ۔ اس نے حقیقت گویانہ انداز میں جواب دیا ” میں معاوضے پر لوگوں کے لیے خواب دیکھتی ہوں ۔“
یہ اس کی معاش تھی ۔ وہ کالداس کے قدیمی علاقے کے ایک خوشحال دکاندار کے گیارہ بچوں میں تیسری تھی، اور بولنے کی عمر کو پہنچنے تک یہ عادت اختیار کر چکی تھی کہ ناشتے سے ... جب اس کے بیان کے مطابق، اس کی پیش گوئی کی قوت اپنی خالص ترین صورت میں ہوتی تھی ... اپنے تمام خواب گھر والوں کو سنایا کرتی تھی ۔ سات برس کی عمر میں اس نے خواب دیکھا کہ وہ ایک طوفانی ریلا اس کے ایک بھائی کو بہا کر لے گیا ہے۔ اس کی ماں نے محض اعصابی و ہم زدگی کے زیر اثر ، اپنے بیٹے کو اس کے سب سے پر لطف شغل ، یعنی پہاڑی تالاب میں تیرنے کی ممانعت کر دی۔ لیکن فراؤ فریڈا اپنی پیش گوئیوں کی تعبیر کرنے کا اپنا نجی نظام اس وقت وضع کر چکی تھی ۔
’’ خواب کا مطلب یہ نہیں ہے۔“ اس نے وضاحت کی ’’کہ وہ ڈوب کر مرے گا ، بلکہ یہ ہے کہ اسے مٹھائیاں نہیں کھانی چاہئیں ۔‘‘
یہ تعبیر ایک سخت سزا سے کم نہ تھی ، خصوصاً پانچ سالہ لڑکے کے لیے جو اتوار کے دن کی ان شیرینیوں کے بغیر زندگی کا تصور نہ کر سکتا تھا۔ لیکن ماں نے جسے اپنی بیٹی کی غیبی صلاحیت پر مکمل اعتقاد تھا، اس کے فرمان کو پوری طرح نافذ کیا۔ بدقسمتی سے بس ایک لمحے کی چوک ہو گئی ۔ لڑکے کے حلق میں ایک لڈو پھنس گیا اور اس کی جان نہ بچ سکی ۔
فراؤ فریڈا نے اس وقت تک کبھی گمان نہ کیا تھا کہ وہ اپنی اس صلاحیت کو روزی کمانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے جب زندگی نے اسے گردن سے دبوچ لیا اور اس نے ویانا کے شدید جاڑوں میں ، اس پہلے مکان کی گھنٹی پر انگلی رکھی جس میں رہنے کو اس کا جی چاہا۔ جب پوچھا گیا کہ وہ کیا کام کر سکتی ہے، تو اس نے یہ سادہ جواب دیا ’’میں خواب دیکھتی ہوں ‘‘۔ ایک مختصر سی وضاحتی گفتگو کے بعد خاتون خانہ نے اسے ملازم رکھ لیا۔ تنخواہ اگر چہ معمولی جیب خرچ سے زیادہ نہ تھی ،لیکن رہنے کو ایک عمدہ کمرہ اور تین وقت کا کھانا اس کے علاوہ تھا ۔ ان کھانوں میں سب سے بڑھ کر ناشتہ تھا، جب گھر کے سب لوگ اپنی اپنی فوری تقدیر سننے بیٹھتے ۔ باپ، جو ایک نفیس شخصیت والا سرمایہ کار تھا، ماں ، جو رومانی چیمبر موسیقی کی دل دادہ ایک خوش طبع عورت تھی اور دو بچے جو بالترتیب گیارہ اور نو برس کی عمر کے تھے۔ وہ سب مذہبی خیال کے تھے ، اور اس باعث قدیم تو ہمات کے زیر اثر آنے کی حس رکھتے تھے ۔ فراؤ فریڈا کی گھر میں آمد سب کے لیے خوشی کی بات تھی ۔ بشرطیکہ وہ ہر روز اپنے خوابوں کے ذریعے ان کی تقدیر کا انکشاف کیا کرے۔
اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ، خصوصاً فوری بعد آنے والے جنگ کے برسوں میں ، جب حقیقت کسی بھی بھیانک خواب سے زیادہ سنگین تھی۔ ہر صبح ناشتے کی میز پر یہ فیصلہ بلا شرکت غیرے اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا کہ گھر کا ہر فرد اس روز کیا کرے گا اور کس طرح کرے گا، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی پیش گو آواز نے گھر کی واحد حاکمانہ آواز کی حیثیت اختیار کر لی ۔ گھرانے پر اس کی حاکمیت مطلق تھی ، خفیف سے خفیف جنبش بھی اس کے حکم کی محتاج تھی ۔ باپ کا انتقال میرے ویانا آنے سے ذرا ہی پہلے ہوا تھا اور اس نے موزوں شائستگی سے کام لیتے ہوئے اپنی دولت کا ایک حصہ فراؤ فریڈا کے نام چھوڑا تھا۔ شرط وہی تھی کہ جب تک اس کی یہ صلاحیت اس کا ساتھ نہ چھوڑ دے وہ گھر والوں کی تقدیر کے انکشاف کے لیے خواب دیکھنا جاری رکھے گی ۔
ویانا میں میں نے ایک مہینہ ایک ایسے طالب علم کے طور پر گزارا جسے کبھی نہ آنے والی رقم کا انتظار تھا۔ مے خانے میں فراؤ فریڈا کی غیر متوقع اور کشادہ دست آمد ہماری تنگ مایہ اقلیم میں ایک جشن کی طرح ہوتی تھی ۔ ایک رات ، جب ہمارے اردگرد بیئر کی تیز بو پھیلی ہوئی تھی ، اس نے آکر مجھ سے اتنے تیقن کے ساتھ سرگوشی کی کہ میرے لیے اس کی بات پر توجہ نہ دینا ناممکن ہو گیا۔
’’ میں خاص طور پر تمہیں یہ بتانے آئی ہوں کہ میں نے کل رات تمہیں خواب میں دیکھا ہے۔‘‘ اس نے کہا ۔’’ تم اسی وقت ویانا سے چلے جاؤ اور پانچ سال تک یہاں واپس نہ آنا ۔“
اس کا لہجہ اتنا محکم تھا کہ اس نے مجھے اسی رات روم جانے والی آخری ٹرین میں سوار کرا دیا۔ میں اتنا دہشت زدہ ہو گیا تھا کہ مجھے اس کے بعد سے رفتہ رفتہ یقین ہو گیا ہے کہ میں ایک ایسے سانحے سے بچ نکلا ہوں جو مجھے پیش نہیں آیا۔ میں نے آج تک ویانا میں دوبارہ قدم نہیں رکھا۔
ہوانا والے حادثے سے پہلے فراؤ فریڈا سے میری ایک بار اور ملاقات ہوئی تھی ۔ بارسلونا میں اس سے مڈ بھیڑ اتنی غیر متوقع تھی کہ مجھے خاص طور پر پراسرار معلوم ہوئی۔ یہ وہ دن تھا جب پابلو نیرودا نے ، چیلے کی شہر والیر یزو کی جانب اپنے طویل بحری سفر میں ایک وقفے کے دوران ، خانہ جنگی کے بعد سے پہلی بار ہسپانوی سرزمین پر قدم رکھا تھا۔ اس نے صبح کا وقت ہمارے ساتھ قدیم کتابوں کی دکانوں میں ، گویا کسی کم یاب شکار کی تلاش میں گزارا۔ اس نے بالآخر اڑتی ہوئی روشنائی اور پھٹی ہوئی جلد والی ایک کتاب خریدی اور اس کے لیے یہ جور رقم ادا کی وہ رنگون میں چیلے کے کونسل خانے کی دو مہینے کی تنخواہ کے برابر تو ضرور رہی ہوگی ۔ وہ کسی گھٹیا کے مریض ہاتھی کی طرح رک رک کر پر شور انداز میں چلتا رہا اور اپنی نگاہ کے سامنے آنے والی ہر شے کے اندرونی کل پرزوں اور کام کرنے کے طریقوں سے بچوں کی سی دلچسپی ظاہر کرتا رہا۔ دنیا اسے ہمیشہ چابی سے چلنے والا ایک بڑا سا مشینی کھلونا دکھائی دی۔
میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں جانا جو نشاۃ الثانیہ کے زمانے کے پوپ کی اکتسابی شکل صورت ہے ۔ یعنی پر خوری اور تہذیب نفس کے آمیزے سے ۔ اس قدر قریبی مشابہت رکھتا ہو جتنا یہ شخص جو کسی بھی میز پر بیٹھتا ، نہ چاہتے ہوئے بھی صدرنشین اور حاکم کی حیثیت اختیار کر لیتا۔ اس کی بیوی ماتیلد نے اس کے گلے کے گرد ایک بب سی باندھ دی جو کسی ریستوران کے نیپکن سے زیادہ حجام کی دکان کا ایپرن دکھائی دیتی تھی، لیکن یہ اسے شور بے اور چٹنی میں نہا جانے سے روکنے کا واحد طریقہ تھا۔ اس روز نیرودا نے تین سالم لو بسٹر ، کسی سرجن کی سی باریک بین توجہ کے ساتھ قطع کر کے ، کھائے اور اس دوران ہر شخص کی ڈش کو حرص آمیز نگاہوں ہی نگاہوں میں نگلتا رہا، یہاں تک کہ ہر پلیٹ میں سے کچھ نہ کچھ لینے کی ترغیب نے اسے مغلوب کر لیا۔ کالیسیا کے کھونگے ، کشا بریا کی بطخیں ، الی کانتے کے جھینگے ، کوستا براوا کی سور ڈش ...اور یہ سب اس نے ایسی اشتہا کے ساتھ کیا جسے ہر شخص نے متعدی پایا۔ تمام وقت وہ فرانسیسیوں کی طرح، دوسرے خوش مزہ کھانوں کی ، خصوصاً چیلے کی ماقبل تاریخ شیل فش کی باتیں کرتا رہا جو اسے سب کھانوں سے زیادہ مرغوب تھی۔ کھاتے کھاتے اچانک وہ رک گیا، اس کے کان لوبسٹر کے انتینوں کی طرح کھڑے ہو گئے اور اس نے مجھ سے سرگوشی کی ۔ ” میرے پیچھے کوئی شاعر بیٹھا ہے جو مجھے متواتر گھورہا ہے۔“
میں نے اس کے کندھے کے اوپر سے نظر ڈالی ۔ وہ سچ کہہ رہا تھا ۔ اس کے پیچھے ، تین میزیں چھوڑ کر ، ایک عورت پرانے فیشن کا کینوس کا ہیٹ اور جامنی سکارف پہنے سکون سے بیٹھی آہستہ آہستہ کھانا کھا رہی تھی اور اس کی نگاہ نیرودا پر جمی ہوئی تھی ۔ میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ وہ بوڑھی اور فربہ ہوگئی تھی لیکن وہ وہی تھی، اپنی پہلی انگلی میں سانپ کی شکل کی انگوٹھی سمیت۔
دو نیپلز سے اسی کشتی پر چلی آرہی تھی جس پر نیرودا اپنے کنبے کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، لیکن سفر کے دوران ان کی آپس میں ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔ ہم نے اسے ساتھ کافی پینے کے لیے اپنی میز پر بلا لیا اور میں نے اسے دعوت دی کہ وہ شاعری کو محظوظ کرنے کی خاطر ہی سہی ، اپنے خوابوں کے بارے میں گفتگو کرے۔ لیکن شاعر اس کے لیے ہرگز تیار نہ تھا، اس نے صاف صاف اعلان کر دیا کہ اسے خوابوں کے الوہی ہونے پر قطعاً اعتقاد نہیں ۔
’’ صرف شاعری پیش آگہی کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
دوپہر کے کھانے اور رمبلاس کے کنارے کی ناگزیر سیر کے بعد میں جان بوجھ کر فراؤ فریڈا کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا ذرا پیچھے رہ گیا تا کہ ہم دوسروں کی سماعت سے باہر اپنی شناسائی کی تجدید کر سکیں ۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ آسٹریا میں اپنی جائیداد بیچ کر پرتگال کے شہر پورتو منتقل ہو گئی ہے اور وہاں ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہے جو اس کے الفاظ میں ایک نقلی قلعہ ہے جو ایک اونچی چٹان پر بنا ہوا ہے جہاں سے وہ پورے بحر اوقیانوس کو ، امریکا تک ، دیکھ سکتی ہے۔ یہ واضح تھا ، اگر چہ اس نے کھل کر کہا تھا، کہ خوابوں کے ذریعے سے رفتہ رفتہ اس نے اپنے سابقہ ویا نیز مالکوں کی تمام جائیداد کی ملکیت حاصل کر لی ہے۔ اس کے باوجود میں متاثر نہ ہوا ، صرف اس وجہ سے کہ میں نے ہمیشہ اس کے خوابوں کو پیسہ کمانے کی شعوری کوشش خیال کیا تھا ۔ میں نے یہ بات اسے بتا بھی دی۔
وہ اپنے مخصوص ، مضحکہ اڑانے والے انداز میں ہنسی ۔’’ تم ہمیشہ کی طرح ڈھیٹ ہو ۔‘‘ اس نے کہا۔ ہمارے بقیہ ساتھی اب نیرودا کے انتظار میں ٹھہر گئے تھے جو پرندوں کی دکان میں طوطوں سے چیلے کی بول چال کی زبان میں باتیں کرنے لگا تھا۔ جب ہم نے اپنی بات چیت دوبارہ شروع کی تو فراؤ فریڈا نے موضوع بدل دیا۔
’’ ویسے‘‘ وہ بولی’’ تم چاہو تو اب ویانا واپس جا سکتے ہو۔“
اس پر مجھے احساس ہوا کہ ہماری پہلی ملاقات کو تیرہ برس ہو چکے ہیں ۔
’’ حالاں کہ تمہارے خواب غلط ہیں ، مگر میں کبھی واپس نہیں جاؤں گا۔‘‘ میں نے اسے بتایا ۔”کیا پتا!‘‘
تین بجے میں اس سے جدا ہو کر نیرودا کے ساتھ چلا تا کہ وہ ہمارے گھر میں اپنا متبرک قیلولہ کر سکے، جسے اس نے کئی بے حد سنجیدہ ابتدائی رسومات کے بعد شروع کیا جن سے مجھے کسی وجہ سے جاپانیوں کی چائے کی تقریب کا خیال آیا۔ بعض کھڑکیاں کھلی جانی تھیں ، بعض بند کی جانی تھیں ۔ ایک مخصوص درجہ حرارت بہت ضروری تھا ... اور صرف ایک مخصوص زاویے سے آنے والی مخصوص قسم کی روشنی قابل برداشت تھی ۔ اور اس کے بعد انتہائی مکمل خاموشی ۔ نیرودا فوراً ہی سو گیا اور جیسے بچے کرتے ہیں ، دس منٹ بعد ، جب ہمیں اس کی ذرا بھی توقع نہ تھی ، اٹھ بیٹھا۔ جب وہ لونگ روم میں داخل ہوا تو تازہ دم تھا اور تکیے کے غلاف کا مونوگرام اس کے رخسار پر چھپا ہوا تھا۔
’’ میں نے خواب دیکھنے والی عورت کو خواب میں دیکھا۔‘‘ وہ بولا۔
ماتیلد نے اس سے ہمیں اپنا خواب سنانے کو کہا۔
’’ میں نے دیکھا کہ وہ خواب میں مجھے دیکھ رہی ہے۔‘‘ وہ بولا ۔
’’یہ تو بورخیس کی طرح لگتا ہے۔ ‘‘میں نے کہا۔
اس نے اترے ہوئے منھ کے ساتھ میری طرف دیکھا ۔ ’’کیا اس نے لکھ دیا ہے؟‘‘
’’ اگر نہیں لکھا ہے تو ایک نہ ایک دن ضرور لکھے گا۔ ‘‘میں نے کہا ۔ ’’یہ اسی کی بھول بھلیوں میں سے ایک ہوگی۔ ‘‘
اس سہ پہر چھ بجے نیرودا جوں ہی جہاز پر سوار ہوا، اس نے ہم سے الوداعی کلمات کہے ؟ ووڈ کی ایک میز پر جا بیٹھا اور سبز روشنائی والے اسی قلم سے شعر لکھنے لگا جسے وہ اپنی کتابوں پر دستخط کرتے وقت پھول ، مچھلیاں اور پرندے بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا تھا۔ روانگی کا پہلا اعلان ہوتے ہی ہم نے جہاز میں فراؤ فریڈا کو تلاش کرنا شروع کر دیا اور بالآخر اسے سیاحوں کے عرشے پر اس وقت پایا جب ہم مایوس ہو کر تلاش کو خیر باد کہنے کو تھے۔ وہ بھی ابھی ابھی قیلولے سے بیدار ہوئی تھی ۔
’’ میں نے خواب میں تمہارے شاعر کو دیکھا ۔‘‘ اس نے ہمیں بتایا۔
میں نے حیرت زدہ ہو کر اس سے خواب سنانے کو کہا۔
” میں نے دیکھا کہ وہ خواب میں مجھے دیکھ رہا ہے ۔“ اس نے کہا اور میرے چہرے پر بے یقینی کا تاثر دیکھ کر گڑ بڑا سی گئی ۔ ’’ تم کیا سمجھتے ہو؟ کبھی کبھی تمام خوابوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔“
میں نے اس کے بعد نہ کبھی اسے دیکھا نہ اس کے بارے میں سوچا۔ پھر میں نے سانپ کی شکل کی اس انگوٹھی کا ذکر پڑھا جو سمندری حادثے میں ہوٹل ریویئرا کے قریب ہلاک ہونے والی عورت کی انگلی میں پائی گئی ۔ جب چند ماہ بعد ایک سفارتی استقبالیے میں میری ملاقات پرتگالی سفیر سے ہوئی تو میں اس سے اس کے بارے میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔
سفیر نے اس عورت کا ذکر جذبے اور بے پناہ ستائش کے ساتھ کیا ۔ ” تم تصور نہیں کر سکتے کہ وہ عورت کتنی غیر معمولی تھی۔‘‘ وہ بولا ۔ ” تم اس پر کہانی لکھنے کی ترغیب کی مزاحمت نہ کر پاتے۔‘‘ وہ اسی رو میں بولتا رہا۔ کبھی کبھار درمیان میں کوئی حیران کن تفصیل آتی لیکن اس گفتگو کے ختم ہونے کے کوئی آثار دکھائی نہ دیتے تھے۔
’’ اچھا ، مجھے یہ بتاؤ ۔‘‘میں نے بالآخر اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ’’ کہ وہ کام کیا کرتی تھی۔‘‘
’’کچھ بھی نہیں ۔ “ اس نے تسلیم و رضا کے انداز میں کندھے جھٹک کر جواب دیا۔ ” وہ بس خواب دیکھتی تھی۔‘‘
☆☆☆
( مشمولہ: ’’ادبیات‘ ‘ ، ( بین الاقوامی ادب نمبر ۵) ، جلد ۱۱ ، شماره ۴۵-۴۳ ، اسلام آباد، بہار تا گرما ۱۹۹۸)