گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

پن ککڑیوں کی رات

    پن ککڑیوں کی رات

    ترجمہ: محمد عاصم بٹ

      ہم تینوں میز کے گرد بیٹھے تھے جب کسی نے مشین میں سکہ ڈالا اور ورلنیز رنے پھر سے وہی ریکارڈ چلا دیا جو رات بھر بجتا رہا تھا۔ اس کے بعد سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ہمیں سوچنے کی مہلت ہی نہ ملی۔ اس سے پیشتر کہ ہم یاد کرتے کہ ہم کہاں تھے اور جغرافیائی حدود اربع سے متعلق ہماری حسیات بیدار ہوتیں ۔ یہ سب کچھ ہو چکا تھا۔ ہم میں سے ایک نے اپنا ہاتھ کاؤنٹر پر رکھا اور اِدھر اُدھر ٹو ہنے لگا ( ہمیں ہاتھ دکھائی نہیں دیتا تھا صرف اس کی آواز سنائی دے رہی تھی ) ہاتھ ایک گلاس میں جا پھنسا اور پھر خاموشی چھا گئی ، وہ دونوں ہاتھوں کو سخت سطح پر رکھے ہوئے تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کی کھوج میں اندھیرے میں دیکھا اور ہم تینوں نے ایک دوسرے کو پالیا۔ تیس  انگلیوں کے مشترکہ جوڑ تھے جو کاؤنٹر پر ڈھیر کی صورت میں پڑی تھیں ۔ ہم میں سے ایک نے کہا   ’’ہمیں چلنا چاہیے۔‘‘

      ہم اٹھ کھڑے ہوئے جیسے کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم تا حال اپنے حواس میں تھے۔

     ہال میں سے گزرتے ہوئے ہم نے قریب ہی بجتی موسیقی سنی جس کی لہریں ہم سے ٹکرا رہی تھیں ۔ ہم نے وہاں بیٹھی اور انتظار کرتی ہوئیں مغموم عورتوں کی بو سونگھی ۔ دروازے کی طرف چلتے ہوئے ہمیں اپنے سامنے ہال کے وسیع کھو کھلے پن کا احساس ہوا اور دوسری بار بو ہمیں خوش آمدید کہتی محسوس ہوئی۔ دروازے کے نزدیک بیٹھی ہوئی عورت کی تیکھی بو ۔۔

     ہم نے کہا ’’ ہم جا رہے ہیں ۔‘‘

     عورت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہمیں ایک جھولتی ہوئی کرسی کی بلند ہوتی چڑ چڑاہٹ سنائی   دی جو اس کے کھڑے ہونے سے پیدا ہوئی تھی۔ ہم نے ڈھیلے تختوں پر قدموں کی چاپ سنی اور پھر عورت واپس لوٹ گئی ۔ پھر سے قمیضوں کی چڑچڑاہٹ سنائی دی اور ہمارے عقب میں دروازہ بند ہو گیا۔ ہم پیچھے مڑے بالکل ہمارے عقب میں ایک غیر مرئی صبح کی تیز اور کٹیلی ٹھنڈی ہوا تھی اور ایک آواز تھی جس نے کہا ’’ راستے سے ہٹ جاؤ۔ اس راستے پر میں چل رہی ہوں ۔‘‘ ہم پیچھے مڑ گئے ۔ آواز نے پھر سے کہا ” تم ابھی تک دروازے کے مقابل کھڑے ہو۔“

    تب ہم اپنے ہر طرف مڑتے گئے ۔ ہر جگہ وہی آواز سنائی دیتی ۔ ہم نے کہا ” ہم یہاں   سے باہر نہیں جا سکتے ۔ پن ککڑیوں نے ٹھونکیں مار کر ہماری آنکھیں نوچ لی ہیں ۔“

    عین اسی لمحہ ہمیں بہت سے دروازے کھلتے ہوئے سنائی دیئے۔ ہم میں سے ایک ساتھی ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ وہ ہمیں تاریکی میں گھسٹ گھسٹ کر چلتے ، چکر کھاتے اور ہمارے ارد گرد چیزوں سے ٹکراتے ہوئے سنائی دیا ، تاریکی میں کہیں سے وہ بولا ’’ ہم قریب ہی ہیں۔ یہاں ارد گر دلدے ہوئے صندوقوں کی سڑانڈ پھیلی ہوئی ہے۔‘‘

      ہم نے دوبارہ اس کے ہاتھوں کو پکڑ لیا اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے ہو گئے ۔ ایک   آواز ہمارے قریب سے گزری لیکن مخالف سمت کو ہولی ۔

    ’’   یہ تابوت ہوں گے۔“ ہم میں سے ایک نے کہا۔ وہ جو کونے میں دبکا ہوا اور تیز تیز سانس لے رہا تھا۔ بولا’’ یہ صندوق ہیں۔ بچپن ہی سے میں جان لیتا تھا کہ یہ ذخیرہ کیے گئے کپڑوں کی باس ہے ۔“

    ہم باس کی سمت میں آگے بڑھے ۔ زمین نرم اور ہموار تھی ۔ ہم ایک عمدہ خطہ پر چل رہے تھے۔ کسی نے ہمارا ہاتھ پکڑا ہمیں تازہ اور زندہ جلد کا لمس محسوس ہوا تاہم ہمیں سامنے کوئی دیوار نہ ملی۔

    ’’ یہ ایک عورت ہے ۔ “ ہم نے کہا۔

      جس نے صندوقوں کی سڑانڈ محسوس کی تھی۔ بولا ’’میرا خیال ہے یہ سوئی ہوئی ہے۔‘‘

     ہمارے ہاتھوں کے تلے جسم میں جھٹکا لگا، وہ کپکپایا اور پھسلتا محسوس ہوا ۔ وہ ہماری دسترس سے باہر نہیں تھا لیکن وہ صریحاً غائب ہو رہا تھا ۔ ایک تاریخ کے بعد جس بیچ ہم یکسر ساکت اکڑے ہوئے اور ایک دوسرے کے کندھوں پر جھکے کھڑے رہے ۔ ہمیں اس کی آواز سنائی دی ۔

    ’’   وہاں کون ہے ۔“ اس نے پوچھا ۔

    ’’ یہ ہم ہیں۔ ‘‘ ہم نے بغیر ہلے جواب دیا ۔ ہمارے بستر کی سرسراہٹ سنی جا سکتی تھی ، تاریکی میں چپل کی تلاش میں چرچرانے اور رگڑ کھاتے ہوئے پیروں کی آواز ابھری ۔ ہم نے ایک بیٹھی ہوئی عورت کو دیکھا۔ وہ ہماری طرف دیکھ رہی تھی۔ لیکن ابھی پوری طرح جاگی نہیں تھی۔

    ’’ تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔ “ وہ بولی ۔

      ہم نے جواب دیا، ” ہم خود نہیں جانتے ، ہماری آنکھیں پن ککڑیوں نے ٹھونگیں مار کر نوچ   لی ہیں۔‘‘

    آواز نے کہا کہ اس نے اس بارے میں کچھ سن رکھا ہے۔ اخبار میں لکھا تھا کہ تین آدمی صحن میں بیٹھے مے نوشی کر رہے تھے وہیں پانچ یا چھ پن ککڑیاں بھی تھیں بلکہ سات پن ککڑیاں ۔ ان میں سے ایک آدمی ان کی نقل اتارتے ہوئے گانے لگا۔

    ’’   بدترین بات یہ تھی کہ وہ ایک گھنٹہ پیچھے تھا۔‘‘ اس نے کہا ’’ چھپے  پرندے اچک کر میزوں پر چڑھ گئے اور ان کی آنکھیں نوچ لیں ۔‘‘ اس نے کہا کہ یہ تو وہ بات تھی جو اخبار نے لکھی ۔ لیکن کوئی اس پر یقین نہیں کرتا ۔ ہم نے کہا ’’اگر لوگ وہاں گئے ہوں تو انہیں پن ککڑیاں ضرور دکھائی   دی ہوں گی ۔‘‘

    عورت نے کہا ’’وہ گئے تھے‘‘ اگلے روز سارا صحن لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک عورت نے   ان پن ککڑیوں کو وہاں سے غائب کر دیا تھا۔

     ہم واپس مڑے تو عورت خاموش ہو گئی۔ ہمارے سامنے پھر سے ایک دیوار تھی ۔ یوں مڑتے ہی ہم نے اس دیوار کو پا لیا تھا۔ ہمارے ارد گرد ہمیں گھیرے ہوئے وہاں ہمیشہ سے ایک دیوار تھی۔ ہم میں سے ایک پھر سے ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ گیا۔ ہم نے اسے رینگتے اور زمین کو سونگھتے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہا تھا ’’میں نہیں جانتا کہ صندوق کہاں ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ ہم کسی دوسری جگہ پر ہیں ۔“

    ہم نے کہا ” یہاں آؤ، ہمارے نزدیک کوئی ہے۔‘‘ پھر اسے نزدیک آتے سنا ۔ ہم نے محسوس کیا کہ وہ ہمارے سامنے آن کھڑا ہوا تھا۔ اور اس کی گرم سانس ہمارے چہروں سے ٹکرا رہی   تھی۔

    ’’   فوراً ادھر جاؤ ‘‘ہم نے اسے بتایا ” ہم جانتے ہیں کہ وہاں کوئی موجود ہے۔“ وہ پہنچا ہو گا اور ہماری بتائی ہوئی سمت میں گیا ہو گا ایک ہی لحہ بعد وہ لوٹا اور بولا ” میرا خیال ہے کہ یہ کوئی لڑکا   ہے۔“  

    ہم نے اسے بتایا ” خوب ، اس سے پوچھو کیا وہ ہمیں جانتا ہے۔“

     اس نے سوال کیا۔ ہمیں ایک لڑکے کی سادہ اور بے حس آواز سنائی دی ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔’’   ہاں ، میں تمہیں جانتا ہوں۔ تمہیں وہ تین آدمی ہو ، جن کی آنکھیں پن ککڑیوں نے نوچ لی ہیں ۔“

     پھر ایک بالغ آواز ابھری۔ یہ ایک نسوانی آواز تھی ۔ عورت جو بند دروازے کے پیچھے کھڑی   معلوم ہوتی تھی ، وہ کہہ رہی تھی ’’ تم پھر سے خود ہی سے باتیں کر رہے ہو ۔“

    بچے کی آواز نے اس سے کوئی تاثر لیے بغیر کہا ”نہیں ، دراصل جن مردوں کی آنکھیں پن   ککڑیوں نے نوچ لی تھیں وہ پھر سے یہاں موجود ہیں ۔“

     قبضوں کی چرچراہٹ کی آواز آئی ۔ بالغ عورت بولی جو پہلے سے زیادہ نزدیک تھی ۔

    ’’   انہیں گھر لے جاؤ ۔ “ وہ بولی ۔

      لڑکے نے کہا۔ ”میں نہیں جانتا ، یہ کہاں رہتے ہیں ۔‘‘

      بالغ آواز نے کہا ” اتنے گھٹیا مت بنو، اس رات کے بعد سے جب پن ککڑیوں نے ان کی   آنکھیں نوچ لی تھیں ۔ ہر کسی کو ان کے گھر کا پتہ معلوم ہو گیا ہے۔“  

    عورت نے اپنا لہجہ بدلا۔ جیسے وہ اب ہم سے مخاطب تھی ۔ ’’اب یہ ہوا ہے کہ کوئی اس بات کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اخبارات نے اپنی اشاعت بڑھانے کی نیت سے یہ فرضی قصہ گھڑا ہے۔ کسی نے پن ککڑیوں کو نہیں دیکھا۔“

     وہ بولا’’ اگر میں انہیں باہر لے جاؤں تب بھی کوئی یقین نہیں کرے گا۔“

    ہم مطلق اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ ہم ساکت دیوار سے لگے کھڑے سن رہے تھے ۔ عورت نے کہا ’’ کوئی دوسرا تمہیں لے جانا چاہے تو یہ مختلف بات ہوگی ۔ لیکن لڑکے کی کہی ہوئی پر کون توجہ   دے گا۔‘‘

      بات کو کاٹتی ہوئی لڑکے کی آواز سنائی دی ۔ ’’اگر میں ان کے ساتھ باہر گلیوں میں جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہی وہ آدمی ہیں جن کی آنکھیں پن ککڑیوں نے نوچ لی ہیں تو بچے ہمیں پتھر ماریں گے ۔ گلی میں ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘

      ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی رہی۔ دروازہ پھر سے بند ہو گیا۔ لڑکا بولا ’’ دراصل بات یہ   ہے کہ میں ’’ٹیری اینڈ دی پائریٹس ‘‘ پڑھ رہا ہوں ۔ ‘‘

    کسی نے ہمارے کان میں کہا ’’میں اسے قائل کرلوں گا ۔‘‘ پھر وہ رینگتا ہوا آواز کی سمت میں بڑھا ’’یہ لڑکا مجھے اچھا لگتا ہے۔‘‘ وہ بولا ’’ کم از کم یہ ہمیں اتنا تو بتائے گا کہ اس ہفتے ٹیری کے   ساتھ کیا بیتی ۔‘‘

      ہم نے سوچا کہ وہ اس کا اعتماد جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن بچے نے کہا’’ اس بات میں   میری کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ میری دلچسپی صرف رنگوں میں ہے۔“

     ہم نے کہا ” ٹیری ایک چیستاں میں ہے۔‘‘

     لڑکے نے جواب دیا ’’ یہ سب کچھ جمعہ کے دن ہوا۔ آج اتوار ہے۔ آج میں صرف رنگ   دیکھنا چاہتا ہوں ۔‘‘ وہ ایک سرد، بے حس اور بے مروت لہجہ بول رہا تھا۔

    جب ہم میں سے تیسرا لوٹ آیا تو ہم نے کہا ” ہم تین دنوں سے کھوئے ہوئے ہیں ۔ ہم   نے ایک لمحے کے لیے بھی آرام نہیں کیا۔ ‘‘

     ہم میں سے ایک بولا ’’ٹھیک ہے ہمیں آرام کرنا چاہیے۔ لیکن کوئی دوسرے کا ہاتھ نہیں   چھوڑے گا۔“

     ہم نیچے بیٹھ گئے ۔ ایک دکھائی نہ دینے والا سورج ہمارے کندھوں پر اپنی تپش ڈال رہا تھا۔ لیکن ہمیں سورج کی موجودگی سے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ ہمیں یہاں وہاں ہر جگہ محسوس ہوتا ہم فاصلے ، وقت اور سمت کے احساسات سے عاری ہو چکے تھے۔

     جبھی کتنی ہی آوازیں ہمارے قریب سے گزریں۔

    ’’   پن ککڑیوں نے ہماری آنکھیں نوچ لی ہیں ۔ “ ہم نے کہا۔

     ان آوازوں میں سے ایک بولی ’’دیکھو! یہ اخبارات کو سنجیدگی سے پڑھتے ہیں ۔‘‘

     آوازیں غائب ہو گئیں ۔ ہم وہاں بیٹھے رہے اسی طرح کندھے سے کندھا ملائے ، انتظار کرتے ہوئے ۔ آوازوں کے بہاؤ میں اور ہیولوں کے بہاؤ میں ۔ صرف اس لیے کہ شاید کوئی ایک شناسا آواز یا باس ہمارے قریب سے گزرے۔ سورج ہمارے سروں کے عین اوپر تھا۔ ہمیں   حدت پہنچارہا تھا۔“    کسی نے کہا ” چلو پھر سے دیوار کی طرف چلتے ہیں ۔‘‘

     تب دوسروں نے حرکت کیے بغیر اپنے سروں کو غیر مرئی روشنی کی طرف بلند کیا ’’ نہیں ،   ابھی نہیں ۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا ۔ حتیٰ کہ سورج ہمارے چہروں کو جھلسانے لگے ۔‘‘

    ✩✩✩

    (مشمولہ : ’’ادبیات‘‘، (بین الاقوامی ادب نمبر ۵) ، جلد ۱۱ ، شمارہ نمبر ۴۵-۴۳ ، اسلام آباد،   بہار تا گرما ۱۹۹۸)