گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

قیلولہ

     

    ترجمہ: خاقان ساجد

     

      ( مارکیز کولمبیا (لاطینی امریکہ ) میں ٦ مارچ ۱۹۲۸ ء کو پیدا ہوا۔ اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔ وہ کسی بھی مذہب پر اعتقاد نہیں رکھتا ۔ ۱۹۵۰ ء سے وہ لاطینی امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں کے جرائد و اخبارات کے ساتھ بطور صحافی منسلک رہا۔ اس نے ایڈیٹر سکرین رائٹر اور کاپی رائٹر کی حیثیت سے   بھی کام کیا۔

    گیبرئیل گارسیا مارکیز عہد جدید کا عظیم ناول نگار اور کہانی کار ہے اور ساری دنیا میں مقبول ہے۔ اس کے ہر ناول اور کہانی کا ترجمہ دنیا کی متعدد زبانوں میں ہو چکا ہے ۔ اردو میں بھی اس کی کئی کہانیاں اور ناول ترجمہ ہوئے ہیں ۔ اس کا ناول ’’تنہائی کے سو سال‘‘ اس دور کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ اس کے ناولوں اور کہانیوں میں حقیقت اور صداقت کے ساتھ فنکارانہ انداز میں قوت متخیلہ کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ انسانی زندگی کی کشمکش کو بڑی فنکاری سے بیان کیا ہے۔ اس کے ہاں الیگوری ، سرئیلزم اور عہد حاضر کی صداقت یک جان ہو جاتے ہیں ۔ وہ نظریاتی اعتبار سے دنیا بھر کے محنت کشوں اور ناداروں کا حامی ہے ۔ اس کی سیاسی تحریریں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔ مارکیز بیسویں صدی کی اہم شخصیت بن گیا   ہے۔  

    مارکیز کے اثرات عالمی ادب پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں ۔   وہ بیسویں صدی کا ایک خلاق ترین کہانی کار اور ناول نویس ہے۔)

    ( گیبریئل گارسیا مارکیز کے لیے مترجم کا تعارفی نوٹ )  

    ☆☆☆

      ریل گاڑی ریتیلے پتھروں کی مرتعش سرنگ میں سے برآمد ہوئی اور کیلوں کے لامتناہی اور متناسب کاشت کیے ہوئے باغوں میں سے گزرنے لگی۔ ہوا زیادہ بوجھل ہوگئی اور اب انہیں سمندر کی جانب سے آنے والی ہوا کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ دھویں کا ایک دم گھونٹنے والا جھونکا گاڑی کے ڈبے کے اندر داخل ہوا۔ یہ گاڑی کی پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی تنگ سڑک پر کچے کیلوں سے لدی بیل گاڑیاں آجارہی تھیں ۔ سڑک سے پرے ، غیر مزروعہ زمین پر ، غیر یکساں فاصلوں پر قائم ، دفتروں کی بجلی کے پنکھوں سے آراستہ عمارتیں ، سرخ اینٹوں کے مکان اور بنگلے دکھائی دینے لگے تھے جن میں میزیں اور چھوٹی سفید کرسیاں گرد آلود کھجور کے پودوں اور گلاب کی جھاڑیوں کے درمیان چبوتروں پر پڑی ہوئی تھیں ۔ ابھی صبح کے گیارہ بجے تھے اور گرمی شروع   نہیں ہوئی تھی ۔

    ’’ بہتر ہے کہ کھڑکی بند کر دو ۔‘‘ عورت نے کہا۔ ” تمہارے بالوں میں کا لک بھر جائے گی۔‘‘

      لڑکی نے کوشش کی مگر زنگ کی وجہ سے کھڑ کی ہل نہ سکی ۔

     گاڑی کے تیسرے درجے کے ڈبے میں صرف یہی دونوں مسافر تھیں ۔ گاڑی کا دھواں لگا تار ڈبے کے اندر آرہا تھا، اس لیے لڑکی کھڑکی کے پاس سے اُٹھ گئی۔ اپنا اسباب، جس میں کھانے کے سامان والی پلاسٹک کی تھیلی تھی اور اخبار کے کاغذوں میں لپٹا ہوا ایک گل دستہ ، اس نے وہیں نشست پر رہنے دیا اور خود ، کھڑکی سے دور ، اپنی ماں کے سامنے والی نشست پر جا کر بیٹھ گئی ۔ دونوں سادہ اور غریبانہ ماتمی لباس پہنے ہوئے تھیں ۔

      لڑکی بارہ سال کی تھی اور پہلی بار ریل گاڑی کا سفر کر رہی تھی ۔ عورت اتنی عمر رسیدہ تھی کہ اس کی ماں نہ لگتی تھی ، اس کے پپوٹوں پر نیلی رگیں اُبھر آئی تھیں ، اس کا جسم مختصر، نرم اور بے ڈھب تھا، اور لباس کسی پادری کے جبے کی وضع کا تھا۔ وہ اپنی ریڑھ کی ہڈی کی ٹیک مضبوطی سے کرسی کی پشت کے ساتھ لگا کر بالکل سیدھی بیٹھی تھی اور گود میں اس نے چمک دار نقلی چمڑے کا دستی تھیلا دونوں ہاتھوں سے تھام رکھا تھا۔ تھیلے کا چھڑا کئی جگہ سے پھٹ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر    ایسے متقی لوگوں کی سی استقامت تھی جو غربت اور تنگ دستی کے عادی ہوں ۔

     بارہ بجے تک گرمی شدید ہو چکی تھی۔ گاڑی ایک اسٹیشن پر ، جس کے ساتھ کوئی قصبہ نہ تھا، پانی لینے کے لیے دس منٹ ٹھہری ۔ باہر ، باغوں کی پر اسرار خاموشی میں ، سائے زیادہ گہرے لگ رہے تھے ۔ ڈبے کے اندر کی ہوئی ہوا میں کچھ چمڑے کی سی بو تھی ۔ گاڑی نے رفتار نہ پکڑی ۔ وہ دو با ہم مشابہ اسٹیشنوں پر ر کی جن کے اردگر دشوخ رنگوں والے لکڑی کے بنے گھر تھے ۔ عورت سر جھکا کر اونگھنے لگی۔ لڑکی نے اپنے جوتے اتار دیے۔ پھر وہ غسل خانے میں جا کر گل دستے پر پانی چھڑ کنے لگی۔

     جب وہ اپنی نشست پر واپس آئی تو اس کی ماں کھانا کھانے کے لیے اس کی منتظر تھی ۔ اس نے پنیر کا ٹکڑا،مکئی کی آدھی روٹی اور ایک بسکٹ لڑکی کو دیا اور اپنے لیے بھی اتنی ہی مقدار میں کھانا پلاسٹک کی تھیلی میں سے نکالا ۔ جس وقت وہ دونوں کھانا کھا رہی تھیں ، گاڑی نے آہستہ رفتار سے    لوہے کا ایک پل پار کیا اور ایک قصبے میں سے گزری جو کہ پہلے دو قصبوں جیسا ہی تھا ، صرف اس کے چوک میں لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا۔ شدید دھوپ میں ایک بینڈ شگفتہ سی دھن بجا رہا تھا ۔ قصبے کے دوسرے سرے پر ، جہاں باغ ختم ہوتے تھے، زمین خشک سالی کے سبب تڑخ چکی تھی ۔

      عورت نے کھانا ختم کیا۔

    ’’ جوتے پہن لو۔“ اس نے کہا۔

     لڑکی نے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔ جہاں سے گاڑی کی رفتار تیز ہونا شروع ہوئی تھی وہاں بے آباد زمین کے سوا کچھ نہ تھا تاہم اس نے بسکٹ کا ٹکڑا تھیلی میں رکھ دیا اور جلدی سے جوتے پہن لیے ۔ عورت نے اس کے ہاتھ میں کنگھی تھمادی۔

    ’’ اپنے بال بھی ٹھیک کر لو۔“ اس نے کہا۔

    جس وقت لڑکی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی ، گاڑی نے سیٹی بجانا شروع کر دی ۔ عورت نے اپنی گردن پر سے پسینا پونچھا اور انگلیوں پر لگی چکنائی کو صاف کیا۔ جب لڑکی بال سنوارنے سے فارغ ہوئی ، گاڑی کسی قصبے کے مضافات میں سے گزر رہی تھی ۔ یہ قصبہ پہلے تمام قصبوں سے بڑا تھا مگر ان سب سے زیادہ اداس بھی دکھائی دے رہا تھا۔

     ’’اگر تمہیں کچھ اور کرنا ہے تو ابھی کر لو‘‘ عورت نے کہا۔ ’’بعد میں خواہ پیاس سے تمہارا دم   نکل رہا ہو کسی کے گھر پانی کا گھونٹ تک نہیں پینا ۔ اور یا درکھو، رونا نہیں ہے۔“

    لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا ۔ خشک اور گرم ہوا کا جھونکا ، گاڑی کی سیٹی اور پرانے ڈبوں کی کھٹاکھٹ کے ہمراہ اندر داخل ہوا۔ عورت نے پلاسٹک کی تھیلی میں کھانے کی چیزیں رکھ کر ، اسے تہہ کر کے، اپنے تھیلے میں ڈال لیا۔ ایک لمحے کے لیے قصبے کا مکمل عکس، اگست کے اس روشن منگل کے دن ، کھڑکی کے شیشے میں اُجا گر ہوا۔ لڑکی نے گل دستے کو اخبار کے گیلے کاغذوں میں لپیٹا اور کھڑکی سے تھوڑی دور کھڑی ہو کر اپنی ماں کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگی۔ ماں جواباً مسکرائی ۔ گاڑی   نے سیٹی دی اور آہستہ ہونے لگی ، اور تھوڑی دیر بعد رک گئی ۔

     اسٹیشن پر کوئی نہ تھا۔ سڑک کی دوسری جانب ، بادام کے درختوں کے سائے میں ،صرف بلیرڈ ہال کھلا تھا۔ سارا قصبہ گرمی میں تیر رہا تھا۔ گاڑی سے اتر کر انہوں نے ویران اسٹیشن کو عبور کیا۔ اسٹیشن کے فرش کی ٹائلیں درمیان میں گھاس اُگنے سے پھٹ رہی تھیں ۔ وہ دونوں دوسری جانب ،سڑک کی سایہ دارسمت میں چلی گئیں ۔  

    اس وقت تقریباً دو بجے کا عمل تھا اور غنودگی کے بوجھ تلے دبا ہوا قصبہ قیلولہ کر رہا تھا۔ دکانیں ، دفتر ، سکول ، سب گیارہ بجے بند ہو جاتے تھے اور چار بجے سے پہلے ، جب گاڑی واپس جاتی تھی، نہیں کھلتے تھے ۔ صرف اسٹیشن کے سامنے والا ہوٹل ، اپنے بلیرڈ ہال اور شراب خانے سمیت اور چوک کے ایک کونے میں واقع تار گھر دو پہر میں کھلے رہتے تھے۔ قصبے کے گھر، جن میں سے زیادہ تر بنانا کمپنی کے ماڈل کے مطابق ایک ہی وضع کے بنے ہوئے تھے ، اندر سے بند تھے اور ان کے پردے گرے ہوئے تھے۔ ان میں سے بعض گھروں کے اندر اتنی گرمی ہوتی تھی کہ گھر کے باسی باہر آنگن میں بیٹھ کر دو پہر کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ باقی لوگ اپنی کرسیاں بادام کے درختوں کے سائے میں ، دیوار کے ساتھ ٹکا کر سڑک پر ہی قیلولہ کر لیا کرتے تھے۔

    بادام کے درختوں کے پر حفاظت سائے میں چلتے چلتے اور قیلولے میں خلل ڈالے بغیر ،   عورت اور لڑکی قصبے میں داخل ہوئیں۔ وہ سیدھی پادری کے گھر گئیں ۔ عورت نے اپنے ناخن سے گھر کے باہر لوہے کے جنگلے کو کھر چا، پھر ایک لمحہ انتظار کرانے کے بعد دوبارہ یہی عمل دہرایا۔ اندر بجلی کا پنکھا گھوں گھوں کر رہا تھا، اور ماں بیٹی اندر سے آنے والی قدموں کی آہٹ کو بھی نہ سن سکیں۔ انہوں نے بہ مشکل دروازے کی ہلکی سی چرچراہٹ اور اس کے فوراً بعد کی محتاط آواز سنی، جو جنگلے کے قریب سے آئی تھی اور جس نے دریافت کیا تھا: ’’کون ہے؟‘‘

     عورت نے جنگلے کے درمیان میں سے گھر کے اندر دیکھنے کی کوشش کی ۔

      ” مجھے پادری سے ملنا ہے ۔‘‘ اس نے کہا۔

     ’’وہ آرام کر رہے ہیں ۔‘‘

    ’’معاملہ بہت ہنگامی نوعیت کا ہے۔‘‘ عورت کی آواز میں ٹھہراؤ والا عزم تھا۔

     دروازه آواز پیدا کیے بغیر تھوڑا سا کھلا اور اندر سے بڑی عمر کی ایک فربہ عورت باہر آئی جس   کے چہرے کی جلد پیلی اور سر کے بال فولاد کے رنگ کے تھے ۔ موٹے شیشوں والی عینک کے عقب   میں اس کی آنکھیں بہت چھوٹی لگ رہی تھیں ۔

     ’’ اندر آ جاؤ ۔“ اس نے کہا اور دروازہ پورا کھول دیا۔

      وہ کمرے کے اندر داخل ہوئیں ۔ اندر پرانے پھولوں کی بوبسی ہوئی تھی ۔

      وہ عورت انہیں ایک لکڑی کی بنچ کی طرف لے گئی اور بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ لڑکی تو بیٹھ گئی ، مگر ماں ، غیر حاضرسی ، دونوں ہاتھوں میں تھیلے کو تھامے کھڑی رہی۔ بجلی کے پنکھے کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ گھر کے اندر کوئی اور آواز سنائی نہ دیتی تھی۔

     کمرے کے دوسرے سرے پر دروازے میں گھر والی عورت پھر نمودار ہوئی ۔ ’’وہ کہہ رہے   ہیں کہ تین بجے کے بعد آنا‘‘اس نے دبی زبان میں کہا۔

    ’’ ابھی پانچ منٹ پہلے وہ سونے کے لیے لیٹے ہیں ۔‘‘

    ’’   گاڑی ساڑھے تین بجے واپس چلی جاتی ہے۔ ‘‘عورت نے کہا۔  

    یہ جواب مختصر تھا، لیکن وثوق اور خود اعتمادی سے دیا گیا تھا، اور جواب دیتے وقت عورت کا   لہجہ خوش گوار اور دھیما تھا ۔ گھر والی عورت پہلی بار مسکرائی۔

    ’’   ٹھیک ہے۔“ اس نے کہا۔

     جب کمرے کے دوسرے سرے پر دروازہ پھر بند ہو گیا تو عورت اپنی بیٹی کے نزدیک بیٹھ   گئی ۔ انتظار کا تنگ سا کمرہ غریبانہ ، مگر نہایت صاف ستھرا تھا۔  

    لکڑی کے ایک کٹہرے نے کمرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہوا تھا ۔ کٹہرے کے دوسری جانب ایک سادہ سی میز تھی جس کے مومی میز پوش کے اوپر ایک قدیم طرز کا ٹائپ رائٹر گل دان کے نزدیک رہا تھا۔ ذرا دور مسیحی حلقے کے تمام کوائف رکھے ہوئے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے کسی غیر شادی شدہ عورت نے اس دفتر کا انتظام سنبھال رکھا ہو۔

    سامنے والا دروازہ کھلا اور پادری اپنی عینک کے شیشے رومال سے صاف کرتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ عینک پہن لینے پر ہی اس کی مشابہت سے ظاہر ہوا کہ دروازہ کھولنے والی عورت اس کی بہن   تھی۔

    ’’ میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’   قبرستان کی کنجیاں !‘‘ عورت نے جواب دیا۔

     لڑکی گود میں گل دستہ سنبھالے بیٹھی تھی اور بنچ کے نیچے اس کے پیر ایک دوسرے کو قطع کر رہے تھے۔ پادری نے اس کی طرف اور پھر عورت کی طرف دیکھا اور پھر کھڑکی کی لوہے کی جالی   میں سے روشن اور بادلوں سے خالی آسمان کو دیکھ کر کہا:

    ’’   اس گرمی میں ؟ سورج غروب ہونے کا انتظار کر لیا ہوتا ۔“

     عورت نے آہستگی سے سر ہلایا۔ پادری کٹہرے کے دوسری جانب چلا گیا۔

    وہاں الماری میں سے اس نے ایک کاپی جس پر مومی کاغذ چڑھا ہوا تھا، لکڑی کا قلم دان اور سیاہی کی دوات نکالی اور میز کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھوں کی پشت پر اتنے بال تھے کہ سر پر بالوں کی کمی کی کافی حد تک تلافی ہو رہی تھی۔

    ’’   کس کی قبر پر جانا چاہتی ہو؟“ پادری نے پوچھا۔

    ’’کارلوس سانتیسنو‘‘ عورت نے جواب دیا۔

    پادری کے پلے اب بھی کچھ نہ پڑا تھا۔

    ’’   وہ چور جو پچھلے ہفتے یہاں مارا گیا۔‘‘ عورت نے اسی لہجے میں کہا۔ ” میں اس کی ماں ہوں۔‘‘

      پادری نے غور سے عورت کا جائزہ لیا۔ عورت نظریں جما کر پر سکون اعتماد کے ساتھ اسے دیکھتی رہی، حتیٰ کہ پادری جھینپ گیا۔ اس نے اپنا سر جھکا لیا اور لکھنے لگا۔ صفحہ بھر تے اس نے عورت سے کہا کہ اپنی شناخت کرائے ۔ بغیر حیل و حجت کے عورت نے وضاحت اور تفصیل سے بات کی جیسے کوئی لکھی ہوئی عبارت پڑھ رہی ہو ۔ پادری کا پسینا بہنا شروع ہو گیا۔ لڑکی نے اپنے بائیں جوتے کا بکسوا کھولا ور ایڑی جوتے میں سے نکال کر بنچ کے نیچے لگی ہوئی لکڑی پر رکھ لی پھر دائیں پاؤں کے ساتھ یہی کیا ۔

      اس واقعے کا آغاز پچھلے ہفتے کے سوموار کو صبح کے وقت یہاں سے چند بلاک پرے ہوا تھا۔ بیوہ ربیکا نے جو عجیب اگڑم بگڑم چیزوں سے بھرے ہوئے گھر میں تنہا رہتی تھی ، اس روز بوند اباندی کی آواز سے بلند ، باہر سے کسی دروازہ کھولنے کی آواز سنی۔ وہ اٹھی اور الماری میں سے ڈھونڈ کر ایک قدیم ریوالور نکالا، جسے کرنل اوریلیا نو بوئندیا کے زمانے کے بعد سے کسی نے استعمال نہ کیا تھا۔ ریوالور لے کر ، اور گھر کی بتیاں جلائے بغیر، وہ نشست کے کمرے میں آگئی ۔ اس کا یہ رد عمل دروازے کے تالے کے کھولے جانے کی آواز کے باعث کم اور اس دہشت کی وجہ سے زیادہ تھا جو اٹھائیس برسوں کی تنہائی نے اس کے دل میں پیدا کر دی تھی۔ اپنے ذہن میں اس نے نہ صرف دروازے کی جگہ کا، بلکہ تالے کی زمین سے اونچائی کا بھی قطعی حساب لگایا، اور دونوں ہاتھوں میں ریوالور پکڑ کر آنکھیں بند کر کے گھوڑا دبا دیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار کوئی آتشیں ہتھیار چلایا تھا۔ دھماکے کے فوراً بعد اسے جست پر بارش کی کن من کے سوا اور کوئی آواز سنائی نہ دی ۔ پھر اسے با ہر انگنائی کے سیمنٹ والے فرش پر کسی بھاری چیز کے گرنے کی آواز آئی اور کسی نے آہستہ سے، تلخی کے بغیر مگر سخت تھکے ہوئے لہجے میں ’’ہائے ماں“ کے الفاظ ادا کیے ۔ جو شخص اس صبح ربیکا کے گھر کے باہر مردہ پایا گیا ( اس کی ناک کے پر خچے اڑ گئے تھے ) اس نے فلالین کی رنگ دار دھاریوں والی قمیض پہن رکھی تھی۔ اس کی پتلون روز مرہ والی تھی جسے اس نے پیٹی کے بجائے رسی سے باندھ ہوا تھا اور وہ ننگے پاؤں تھا۔ قصبے میں اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔

    ’’   تو اس کا نام کارلوس سانتیسنو تھا؟“ پادری نے لکھنے کا کام ختم کر کے کہا۔

    ’’ سینتنیسو نویالا‘‘ عورت نے کہا۔ ’’وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔“

    پادری دوبارہ الماری کی طرف چلا گیا ۔ الماری کے دروازے کے اندر دوزنگ آلود بڑی کنجیاں نکلی ہوئی تھیں ۔ لڑکی نے سوچا جیسے کہ اس کی ماں نے اپنے لڑکپن میں سوچا تھا، اور جیسے کہ پادری نے بھی کسی نہ کسی وقت سوچا ہو گا، کہ وہ حضرت پطرس کی کنجیاں ہیں ۔ پادری نے کنجیوں کو کیل سے اتارا ، انہیں کٹہرے پر رکھی کھلی ہوئی کاپی کے صفحے پر رکھ کر اپنی شہادت کی انگلی سے   صفحے پر ایک جگہ اشارہ کیا اور عورت سے کہا:

    ’’ یہاں دستخط کرو۔‘‘

     عورت نے تھیلے کو بغل میں دبا کر اپنا نام اس جگہ پر گھسیٹ کر لکھنا شروع کر دیا۔ لڑکی نے   گل دستہ ہاتھ میں اٹھایا اور پاؤں رگڑتی ہوئی کٹہرے کے پاس آ کر ماں کو غور سے دیکھنے لگی ۔

      پادری نے آہ بھری۔

    ’’   تم نے کبھی اسے سیدھے راستے پر لانے کی کوشش نہیں کی ؟‘‘

      عورت نے دستخط ختم کرنے کے بعد پادری کو جواب دیا:  

    ’’وہ بہت اچھا آدمی تھا۔‘‘

      پادری نے پہلے عورت کی طرف اور پھر لڑکی کی جانب دیکھا اور صالح تحیر کے ساتھ باور کیا کہ ماں بیٹی دونوں میں سے کسی کا آنسو بہانے کا ارادہ نہیں ہے۔ عورت نے اسی انداز میں بات جاری رکھی : ’’ میں نے اس سے کہا تھا کہ جو چیز کسی کے کھانے کی ہوا سے چوری نہ کرے اور اس     نے ہمیشہ میرا کہا مانا۔ اس کے برعکس، پہلے ، جب وہ مکے بازی کیا کرتا تھا، مارکھا کر بے حال ہو جانے کے باعث اس کے تین تین دن بستر پر گزرتے تھے۔“

    ’’ اور اسے اپنے دانت بھی تو نکلوانے پڑے تھے ۔‘‘ لڑکی نے اضافہ کیا۔

    ’’ہاں‘‘ عورت نے اتفاق کیا۔ ” ان دنوں میرے ہر نوالے میں اس مارکا ذائقہ ہوتا تھا جو   میرے بیٹے نے ہفتے کی راتوں کو کھائی ہوتی تھی۔‘‘

    ’’   خدا کی منشا کو کون جان سکتا ہے ؟‘‘ پادری نے کہا۔

      مگر یہ اس نے بغیر کسی یقین کے کہا تھا، کچھ تو اس لیے کہ اس کو زندگی کے تجربے نے ذرا شک میں ڈال دیا تھا اور کچھ گرمی بھی بہت زیادہ تھی ۔ اس نے انہیں مشورہ دیا کہ سرسام سے بچنے کے لیے اپنے سروں کو ڈھانپ کر باہر جائیں ۔ جمائیاں لیتے ہوئے اور تقریباً سوتے سوتے اس نے انہیں کارلوس کی قبر تک پہنچنے کا راستہ سمجھایا اور کہا کہ کنجیاں لوٹانے کے لیے واپسی پر انہیں دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں ، باہر کے دروازے کے نیچے کنجیاں رکھ دیں اور اگر ممکن ہو تو گرجے کے لیے نذرو نیاز بھی وہیں چھوڑ دیں۔ عورت نے بہت توجہ سے پادری کی ہدایات کو سنا ،   لیکن شکر یہ ادا کرتے وقت اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔

     سڑک والا دروازہ کھولنے سے پیشتر ہی پادری نے بھانپ لیا تھا کہ کوئی شخص لوہے کے جنگلے سے تاک لگائے گھر کے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ باہر بہت سارے بچے جمع ہو گئے تھے۔ جب دروازہ کھلا تو سب ادھر ادھر ہو گئے ۔ عموماً دو پہر کے اس وقت سڑک پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔ آج نہ صرف وہاں بچے تھے ، بلکہ بادام کے درختوں کے نیچے بالغوں کے گروہ بھی موجود تھے۔ پادری نے گرمی میں تیرتی ہوئی سڑک کا جائزہ لیا اور ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی ۔

      اس نے آہستگی سے دروازہ بند کر دیا ۔

    ’’   ایک منٹ ٹھہر و۔‘‘ اس نے عورت کی طرف دیکھے بغیر اس سے کہا۔

    پادری کی بہن پرے دروازے پر نمودار ہوئی ۔ اس نے شب خوابی کے کپڑوں پر کالی   جیکٹ پہن رکھی تھی اور بال شانوں پر کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔

    ’’ کیا بات ہے؟‘‘ پادری نے اس سے پوچھا ۔

    ’’لوگوں کو پتا چل گیا ہے۔‘‘ اس کی بہن نے سرگوشی کی۔

    ’’ بہتر ہوگا کہ تم دونوں انگنائی والے دروازے سے باہر جاؤ ۔‘‘ پادری نے کہا۔

    ’’ وہاں بھی وہی حال ہے۔ ‘‘پادری کی بہن نے کہا ۔’’ سب لوگ کھڑکیوں میں سے   جھانک رہے ہیں ۔‘‘

    اس وقت تک بات عورت کی سمجھ میں نہ آئی تھی ۔ اس نے لوہے کے جنگلے میں سے باہر دیکھنے کی کوشش کی ۔ تب اس نے لڑکی کے ہاتھ سے گل دستہ لے لیا اور دروازے کی طرف بڑھی۔   لڑکی بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔

    ’’   سورج غروب ہونے تک رک جاؤ ۔‘‘ پادری نے مشورہ دیا۔

    ’’ تم پگھل جاؤ گی ۔ ‘‘پادری کی بہن نے کہا، جو کمرے کے عقب میں بے حس و حرکت   کھڑی تھی ۔ ” ٹھہرو، میں تمہیں اپنا چھا تا دیے دیتی ہوں۔“

    ’’نہیں شکریہ ‘‘ عورت نے جواب دیا۔ ” ہم یونہی ٹھیک ہیں ۔‘‘

     اس نے لڑکی کا ہاتھ تھاما اور دروازہ عبور کر کے سڑک پر نکل گئی ۔

    ☆☆☆

    ( مشمولہ : ’’ نوبل انعام یافتہ ادیبوں کے بہترین افسانے‘‘ ، مترجم: خاقان ساجد   ،راولپنڈی، نواب سنز پبلی کیشنز، ۲۰۰۳ ء)