گبریل گارشیا مارکیز

   گبریل گارشیا مارکیز

کاغذی پھول

    ترجمہ: ندا محسن

     

      صبح کاذب کے ملگجے اندھیرے میں مینا نے راستہ محسوس کرتے ہوئے اپنا وہ لباس پہنا جس کی آستینیں الگ ہو جاتی تھیں۔ پھر ٹرنک میں اس لباس کی آستینیں تلاش کرنے لگی۔ اُس نے کھونٹیوں پر اور دروازوں کے پیچھے تلاش کیا مگر بے سود۔ اُس کی کوشش تھی کہ سارے عمل کے دوران کمرے میں سوئی ہوئی اس کی نابینا دادی کی آنکھ نہ کھل جائے ۔ لیکن جب وہ اندھیرے سے مانوس ہوئی تو اُس نے محسوس کیا کہ اس کی دادی جاگ چکی تھی اور باورچی خانے میں موجود   تھی۔ وہ باورچی خانے میں دادی سے اپنی آستینوں کے بارے میں پوچھنے چل دی۔

    ’’وہ غسل خانے میں ہیں ۔ “ اندھی دادی نے کہا: ” میں نے انہیں دھو ڈالا تھا۔‘‘

     دھلی آستینیں لکڑی کی کھونٹیوں سے لٹکی ہوئی تھیں اور ابھی تک گیلی تھیں۔ مینا دوبارہ   باورچی خانے میں گئی اور آتشدان کے پتھروں پر انہیں پھیلا دیا۔

    نابینا خاتون کافی کو ہلا رہی تھی اور اُس کی بے جان پُتلیاں برآمدے کے پتھر یلے کناروں   پر ٹکی ہوئی تھیں، جہاں ادویات کی جڑی بوٹیوں کے گملے قطار میں رکھے ہوئے تھے۔

    ’’ میری چیزوں کو مت چھیڑا کرو ۔ آج کل سورج کا کوئی بھروسہ نہیں ۔‘‘ مینا نے کہا۔

     اندھی عورت نے آواز کی سمت اپنا رخ موڑا اور کہا۔ ’’میں بھول گئی تھی کہ آج پہلا جمعہ   ہے۔‘‘

      ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اندھی عورت نے اندازہ لگایا کہ کافی تیار ہو چکی ہے۔ اس نے   کافی کا برتن چو لہے سے ہٹا لیا۔

      ” نیچے کا غذ کا ایک ٹکڑا رکھ لینا کیوں کہ پھر گندے ہیں۔ ‘‘ اُس نے مینا سے کہا۔

    مینا نے انگلی پتھر کے کناروں پر پھیری ۔ وہ گندے تھے لیکن گرد اتنی جم چلی تھی کہ آستینیں   اُن سے رگڑ نہ کھاتیں تو گندی نہ ہوتیں ۔  

    ’’اگر پتھر گندے ہیں تو اس کی ذمہ دار تم ہو ۔ “ اُس نے کہا۔

     اندھی عورت کپ میں کافی ڈال چکی تھی۔

    ’’ تم ناراض ہو ؟‘‘ کرسی برآمدے میں کھینچتے ہوئے وہ مینا سے مخاطب ہوئی ۔ ” ناراضی میں   مقدس دعا میں جانا گناہ ہے۔“

    وہ کافی پینے کے لیے صحن میں گلابوں کے پھولوں کے سامنے بیٹھ گئی۔ جب دعا کے لیے تیسری گھنٹی بجی تو مینا نے آتش دان سے آستینیں اتار لیں۔ وہ ابھی بھی گیلی تھیں، لیکن مینا نے انہیں پہن لیا۔ فادر اینجل اسے برہنہ کندھوں میں دیکھ کر کبھی درس نہیں دیں گے، ( اُس نے   سوچا ) ۔

     اس نے منہ نہیں دھویا لیکن گیلے تولیے سے غازے کے نشانات رگڑ کر صاف کر لیے،   دعاؤں کی کتاب اور شال کمرے سے اٹھائی اور باہر گلی میں نکل گئی۔

    تقریباً پندرہ منٹ بعد واپس گھر آگئی اور سیدھی غسل خانے کی طرف چل دی۔

    ’’ تم وہاں انجیلِ مقدس پڑھے جانے کے بعد جاؤ گی !‘‘

    صحن میں گلابوں کی مخالف سمت بیٹھی ہوئی اندھی عورت نے کہا۔

     ” میں دعا میں نہیں جا سکتی، آستینیں گیلی ہیں اور میرے سارے لباس پر سلوٹیں پڑی   ہیں۔‘‘

    اُس نے محسوس کیا کہ ایک جانکاری والی نگاہ اس کے تعاقب میں ہے۔

    ’’پہلا جمعہ ہے اور تم دعا میں نہیں جا رہی !‘‘ اندھی عورت بول اٹھی۔

    غسل خانے سے واپس آ کر مینا نے اپنے لیے ایک کپ میں کافی ڈالی اور سفید روغن شده   داخلی راستے کے سامنے اندھی عورت کے پاس بیٹھ گئی لیکن وہ کافی نہ پی سکی۔

    ’’ تمہارا ہی قصور ہے ۔‘‘ وہ دبے ہوئے غصے میں بڑ بڑائی ۔ اُسے محسوس ہوا جیسے وہ آنسوؤں   میں ڈوب رہی ہے۔

    ’’تم رو رہی ہو؟‘‘ بوڑھی عورت بولی۔

      اُس نے پانی دینے والا فوارہ آرگینو کے گملوں کے پاس رکھا اور باہر صحن میں نکل گئی۔

    مینا نے اپنا کپ زمین پر رکھ دیا، ” میں غصے سے رو رہی ہوں۔“ اور جیسے ہی وہ اپنی دادی   کے پاس سے گزری اُس نے مزید کہا۔  

    ’’تمہیں اعترافِ گناہ کے لیے لازماً جانا چاہیے کیوں کہ میں صرف تمہاری غلطی کی وجہ سے   پہلے جمعے کی دعا میں نہیں جاسکی۔“

     اندھی خاتون بے حس و حرکت اس انتظار میں بیٹھی رہی کہ مینا خواب گاہ کا دروازہ بند کر دے۔ پھر وہ خود برآمدے کے دوسرے سرے تک چلی گئی اور رُکتے ہوئے جھکی تا کہ کافی کا کپ اٹھالے جو مینا نے ویسے کا ویسا پڑا رہنے دیا تھا۔ جب وہ کافی مٹی کے پیالے میں واپس اُنڈیل رہی تھی تو اُس نے اپنی بڑ بڑا ہٹ جاری رکھی، ” خدا جانتا ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے۔“

     مینا کی ماں خواب گاہ سے باہر آئی ۔

    ’’   تم کس سے بات کر رہی ہو؟“ اس نے پوچھا۔

    ’’ کسی سے بھی نہیں۔ میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں خبطی ہوتی جارہی ہوں۔“

     اپنے کمرے میں بند ہو کر مینا نے اپنے لباس کے بٹن کھولے اور تین چھوٹی چھوٹی چابیوں والا گچھا نکالا ، جو اُس نے ایک سیفٹی پن سے اپنے زیریں لباس کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔ ایک چابی سے اس نے نچلا دراز کھولا اور اُس میں سے ایک ننھا سا صندوق نکالا، پھر ایک اور چابی سے اس صندوق کو کھولا ۔ اندر رنگین کاغذوں پر لکھے ہوئے کچھ خطوط تھے جن کو ایک ربڑ بینڈ سے اکٹھے باندھا ہوا تھا۔ مینا نے ان خطوط کو اپنی زیریں بنیان کے اندر چھپا لیا۔ چھوٹے سے صندوق کو واپس اس کی جگہ پر رکھا اور دراز مقفل کر دیا۔ پھر وہ غسل خانے میں گئی اور خطوط اس کے اندر   پھینک دیے۔

      مینا باورچی خانے میں آئی تو اُس کی ماں نے کہا، ’’میرا خیال تھا کہ تم چرچ گئی ہوگی۔‘‘

    ’’ وہ نہیں جاسکی ۔‘‘ اندھی عورت نے مداخلت کی ۔” میں بھول گئی تھی کہ یہ پہلا جمعہ تھا اور   میں نے کل سہ پہر آستینیں دھو ڈالی تھی ۔‘‘

    ’’ وہ ابھی بھی گیلی ہیں ۔‘‘ مینا بڑبڑائی ۔

     ’’ مجھے ان دنوں بہت زیادہ کام کرنا پڑا ۔‘‘ اندھی عورت نے وضاحت کرنے کی کوشش کی ۔

    ’’مجھے ایسٹر کے لیے پچاس در جن پھول دینے ہیں ۔‘‘مینا نے کہا۔

     اس روز سورج کی تمازت جلد شروع ہو گئی۔ سات بجنے سے پہلے ہی مینا نے اپنی مصنوعی گلابوں کی دکان سیٹ کر لی تھی۔ ایک بالٹی پتیوں اور لوہے کی تاروں سے بھری تھی۔ کریپ پیپروں کا ایک صندوق ، دو قینچیاں ، دھاگے کا ایک گچھا اور ایک گوند کا ڈبہ بھی وہاں رکھا تھا۔ کچھ دیر کے بعد ٹرینڈیڈ Trinidad) ) وہاں پہنچ گئی۔ اس نے بغل میں پھول چپکانے والا تختہ دبایا ہوا تھا۔ اس نے بھی مینا سے پوچھا کہ وہ دعا میں کیوں نہیں گئی۔

      ” میرے پاس آستینیں نہیں تھیں ۔ “ مینا نے جواب دیا۔

     ’’تمہیں کوئی ادھار دے سکتا تھا۔‘‘ ٹرینڈیڈ نے کہا۔

      اُس نے ایک کرسی کھینچی اور پتیوں والی ٹوکری کے پاس بیٹھ گئی۔

    ’’مجھے دیر ہو چکی تھی ۔‘‘  

    اُس نے ایک گلاب بنا لیا تو ٹوکری مزید قریب کرلی تا کہ وہ پتیوں کو تراش سکے۔ ٹرینڈیڈ   نے تختہ فرش پر رکھا اور کام میں شریک ہو گئی ۔ مینا نے صندوق کو دیکھا۔

    ’’کیا تم نے جوتے خریدے؟ ‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’ وہ مردہ چوہے جیسے ہیں ‘‘ ٹرینڈیڈ نے کہا۔

    چوں کہ ٹرینڈیڈ پتیوں کی تراش خراش میں ماہر تھی اس لیے مینا تاروں پر سبز کاغذ لپیٹ کر شاخیں بنانے لگ گئی۔ وہ دونوں خاموش سے کام میں مشغول رہیں اور انہیں احساس بھی نہیں ہوا کہ سورج کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔ مینا ٹرینڈیڈ کی طرف مڑی تو اُس کا چہرہ غیر مرئی سا محسوس ہو رہا تھا ۔ ٹرینڈیڈ بے حد نفاست سے پیتاں تراش رہی تھی اور پتیوں کی حرکت اُس کی انگلیوں میں محسوس تک نہیں ہو رہی تھی۔

     مینا نے اس کے مردانہ قسم کے جوتوں کا مشاہدہ کیا۔ ٹرینڈیڈ اس کی نظروں سے گریز کر رہی   تھی۔ اس نے اپنے پاؤں پیچھے سمیٹتے ہوئے سر اٹھائے بغیر پوچھا۔ ” کیا بات ہے؟“

     مینا اُس کی جانب جھک کر بولی ،’’ وہ چلا گیا۔‘‘

      ٹرینڈ یڈ کے ہاتھوں سے قینچی چھوٹ کر اُس کی گود میں جا گری۔

    ’’نہیں‘‘

     ’’ہاں ! وہ چلا گیا۔‘‘ مینا نے دہرایا۔

      ٹرینڈیڈ بغیر پلک جھپکے اس کی طرف دیکھتی رہی۔ اس کے دونوں ابروؤں کے درمیان   عمودی لکیر میں گہری جھری پڑ گئی تھی۔

    ’’   اور اب ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

     مینا نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا، ’’اب کچھ بھی نہیں ۔‘‘

      ٹرینڈیڈ نے دس بجے سے پہلے اسے خدا حافظ کہہ دیا۔

      شنا سائی کے بوجھ سے آزاد ہو کر مینا نے ایک لمحہ کے لیے اُسے روکا ، تاکہ وہ اس کے   چوہے جیسے جوتوں کو غسل خانے میں پھینک سکے۔

      اندھی خاتون گلاب کی پتیاں تراش رہی تھی۔

    ’’   میں شرط لگا سکتی ہوں کہ تم نہیں جانتیں اس صندوق میں کیا ہے؟“ مینا نے اس سے کہا   جب وہ پاس سے گزری ۔

      اس نے صندوق کو ہلایا لیکن اندھی عورت شناخت نہ کر سکی۔

    ’’ اس کو دوبارہ ہلاؤ۔‘‘  

    مینا نے اس حرکت کو دہرایا لیکن اندھی عورت پھر بھی شناخت نہ کر سکی۔ اس کے تیسری مرتبہ   ہلانے پر بھی اندھی عورت شناخت میں ناکام رہی۔

     ’’یہ وہ چو ہے ہیں جو ہم چرچ کے چوہے دان میں پکڑتے تھے ۔ ‘‘

     جب وہ واپس آئی تو اندھی عورت کے قریب سے بنا بولے گزر گئی، لیکن بوڑھی عورت اس کے تعاقب میں گئی۔ جب وہ کمرے میں پہنچی تو مینا بند کھڑکی کے پاس اکیلی کھڑی مصنوعی گلاب   تراش رہی تھی۔

    ’’مینا اگر تم خوش ہونا چاہتی ہو تو اجنبیوں کے ساتھ اقرار مت کرو۔“  

    مینا کچھ کہے بغیر اسے دیکھتی رہی۔ اندھی عورت اس کے سامنے کرسی پر بیٹھ گئی اور کام میں   اس کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کرنے لگی، لیکن مینا نے اسے منع کر دیا۔

    ’’ تم پریشان ہو؟‘‘ اندھی عورت نے کہا، ’’ تم دعا میں کیوں نہیں گئیں؟ ‘‘

    ’’ تم خوب جانتی ہو کہ کیوں ۔‘‘ مینا نے کہا۔

    ’’ اگر یہ آستینوں کی وجہ سے ہوتا تو تم گھر سے نکلنے کی ہی زحمت نہ کرتیں۔ کوئی راستے   میں تمہارا منتظر تھا جس نے تمہیں مایوس کر دیا ۔ ‘‘

     مینا نے اپنا ہاتھ نا بینا خاتون کی آنکھوں کے سامنے اس طرح لہرایا جیسے کسی اَن دیکھی دھند کو   صاف کر رہی ہو۔

    ’’ تم ایک جادو گرنی ہو۔‘‘ مینا نے کہا۔

    ’’تم آج صبح دو مرتبہ غسل خانے میں گئی۔‘‘ اندھی خاتون بولی ۔ ” تم ایک مرتبہ سے زیادہ   کبھی نہیں جاتیں۔‘‘  

      مینا بدستور پھول بنانے میں مشغول رہی۔  

    ’’کیا تم مجھے وہ دکھاؤ گی جو دروازوں میں چھپا رہی تھی ؟‘‘ اندھی عورت نے کہا۔

     مینا نے پھولوں کو بلاتا خیر کھڑ کی میں رکھا اور اپنے کپڑوں سے تین چابیوں کا گچھا نکال کر   اندھی خاتون کے ہاتھ میں تھما دیا، ’’تم خود دیکھ سکتی ہو۔‘‘

      بوڑھی خاتون نے چابیوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کیا، ” میری آنکھیں غسل   خانے میں نیچے تک نہیں دیکھ سکتیں۔“  

    مینا نے اپنا سر او پر اٹھایا اور ایک عجیب سنسنی محسوس کی ۔ اس نے محسوس کیا جیسے اندھی عورت   جانتی ہو کہ وہ اس کی جانب دیکھ رہی ہے۔

     ”اگر تمہیں میرے سارے کاموں سے اتنی ہی دل چسی ہے تو تم خود کو غسل خانے کے   اندر گرا کر دیکھ لو۔‘‘

     اندھی عورت نے قطع کلامی کو نظر انداز کر دیا۔

    ’’ تم بستر میں صبح تک لکھتی رہتی ہو ۔ “ اس نے کہا۔

    ’’تمہی لائٹ بند کرتی ہو۔‘‘ مینا نے کہا۔

    ’’   اور تم فوراً ہی فلیش لائٹ استعمال کرنا شروع کر دیتی ہو اور مجھے معلوم ہے کہ تم اپنی ہر   سانس کے ساتھ لکھتی رہتی ہو ۔“

    مینا نے خاموش رہنے کی کوئی کوشش نہ کی۔ اپنا سر اوپر اٹھائے بغیر وہ بولی، ” ٹھیک ہے،   فرض کر لو ایسا ہی ہے تو اس میں کیا خاص بات ہے؟‘‘

    ’’ کچھ نہیں ۔‘‘ اندھی عورت نے جواب دیا۔ ’’صرف یہ کہ اس کی وجہ سے تمہارے پہلے   جمعہ کی دعارہ گئی۔‘‘

     دونوں ہاتھوں سے مینا نے دھاگے کا گچھا، قینچی ، ٹہنیاں اور گلاب اٹھائے ، یہ سب ایک   ٹوکری میں رکھا اور اندھی عورت کے سامنے بیٹھ گئی۔

    ’’ کیا تم یہ جاننا چاہو گی کہ میں غسل خانے میں کیا کرنے گئی تھی ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

     دونوں تجس میں تھیں ، تب مینا نے اپنے سوال کا جواب خود ہی دے دیا۔

    ’’   میں پاخانہ لینے کے لیے گئی تھی۔‘‘

      اندھی عورت نے چابیاں ٹوکری میں پھینک دیں۔

    ’’   یہ ایک اچھا بہانہ ہے۔ ‘‘وہ باورچی خانے میں جاتے ہوئے بڑبڑائی۔

    ’’میں یقین کر لیتی اگر تمہاری زندگی میں یہ پہلی مرتبہ ہوتا، تم ہمیشہ ایسا کرتی ہو۔‘‘

     مینا کی ماں اپنے بازوؤں میں کانٹے دار گلاب سمیٹے برآمدے میں آ رہی تھی۔

    ’’   کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اُس نے پوچھا۔

      ’’میں پاگل ہوگئی ہوں۔‘‘ اندھی عورت نے کہا۔ ” مگر بظاہر تم مجھے پاگل خانے بھیجنے کا نہیں   سوچ رہیں کیوں کہ میں نے ابھی لوگوں پر پتھر پھینکنا شروع نہیں کیے۔“

    ☆☆☆

    ( مشمولہ :’’ نقاط‘‘ ، فیصل آباد، شمارہ نمبر ۵ ، دسمبر ۲۰۰۷ ء)