عورتیں ہمیں دھکیلتی ہیں
ہم گندم پر اکتفا کر لیتے
لیکن ہمارے سامنے کچی روٹی کی مہک رکھی گئی
اور پھر روزے توڑنے پڑے
ہم ایک گناہ پر راضی تھے
لیکن ان میں مامتا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی
سو ہمیں سارے ثواب کھونے پڑے
ہم اپنی زمینوں پر مطمئن ہونے کو تھے
کہ جنگل میں لکڑہارے سے ملاقات ہو گئی
اور اچانک برسات
ہمیں چار کے معنی معلوم بھی نہ ہو پاتے
اگر ہم کبھی ایک سے سیر نہ ہوئے ہوتے
اور اس عمل کو ضرب مسلسل سے نہ گزارا جاتا
ہمیں ہر کنویں میں خودکشی کا شوق بھی نہ ہوتا
اگر وہ ہماری رات سے زیادہ گہرے نہ ہو سکتے
اور پانی مزید سستا
ہم ان کے پیروں تلک رہتے
اگر دل کا راستہ ناف سے ہو کر نہ جاتا
اور دماغ وہ تکیوں پہ نہ دھر آتیں
ہمیں سرخ رنگ کی عادت ڈالی گئی
جس سے ان پر لگنے والے سارے دھبے ہمارے کہلائے
اور شراب کے معنی بدلتے رہے
ہمیں آگ سے کھیلتے ہوئے
ایک رات بھی نہ مکمل ہوئی کہ اعلان ہوا
اپنی مرضی سے کھیلنے پر ہاویہ ہمیشہ کے لیے تمہاری ہوئی