محبوب خزاں

محبوب خزاں

دیوداسی

    ایک سچا آدمی وہ بھی نہیں مہرباں سمجھی جسے اپنا دل اپنا لہو سب کچھ نچھاور کر دیا آنسوؤں سے پاؤں دھوئے، پاؤں سے آنکھیں ملیں کون سمجھے گا مجھے ہر طرف دیوار ہے رنگ وہ بانہوں سے اُترا ڈالیاں مرجھا گئیں ان بہاروں کو بہاریں کھا گئیں خواب ہے سب خواب ہے زندگی میری سہیلی، ساتھ کھیلی کہ بس اب میں تو بالکل تھک گئی اس ناچ سے رقص و نغمہ کچھ نہیں ضرب ہے مضراب ہے پھینک دے یہ پھول اس کھڑکی سے باہر پھینک دے پھول اب کس کے لیے دیوتا سچے نہیں دیوتا سچے نہیں وہ بھی نہیں