محبوب خزاں

محبوب خزاں

مگر نہیں شاید

    بکھر گئے وہ خیالات پھر اندھیرا ہے ذرا سی دیر کو بجلی کی لہر آئی تھی دکھائی دینے لگے تھے ادھورے کانپتے چاند ذرا سی دیر کو جاگا تھا رات کا احساس پلٹ پلٹ کے نہ دیکھو مجھے نہیں معلوم یہ وقت کیسے کٹا رات کیسے گزرے گی جو لوگ مر نہیں جاتے وہ زندہ رہتے ہیں سنا تو ہے کہ ستارے ہیں ابر کے اُس پار تمام عمر پڑی ہے مگر نہیں شاید گزر چکا ہے وہ سب کچھ جو ہونے والا ہے