سوال
-
تمہارے پاس جسم ہے جمال ہے یہ آب و گِل یہ کھیلتی پھوار جیسے انتظار یہ رنگ و نم یہ زیر و بم یہ امتزاجِ خم بہ خم یہ تشنگی یہ جامِ جم نہ جانے کیوں مگر مری نگاہِ بے خیال میں یونہی سا اک خیال ہے تمہارے پاس جسم ہے جمال ہے جوابِ ہر سوال ہے تمہاری زلفِ ریشمیں بڑا حسیں خیال ہے مگر مری نظر میں ہے وہی جمالِ بے نشاں وہی سوالِ جاوداں