ماؤزے تنگ

ماؤزے تنگ

تیراکی

    ترجمہ: ن۔م

    شوئی تیاؤ کہہ تھوکی دھن میں

    جون 1956ء

     

    کیا تھا نوش ابھی آب چھانگ شا میں نے

    چکھا ہے اس جگہ وہ چھانگ مچھلیوں کا مزا

    عظیم یانگسی کرتا ہوں پار تیرتے اب

    نظر ہے دور کھلے آسمان پر ’’چھو‘‘ کے

    ہوائیں تیز چلیں، خواہ لہریں ٹکرائیں

    کہ خوب تر ہے یہ آنگن میں چہل قدمی سے

    ہوئی ہے آج فراغت ذرا نصیب مجھے

    کہا تھا برسردریا یہ کنفیوشس نے

    ’’بہاؤ میں ہیں اسی طرح سب کی سب اشیا!‘‘

    ہوا کے زور سے ہوئے ہیں بادباں جنباں

    پڑا ہے جامد و ساکت یہ ’’سانپ اور کچھوا‘‘

    عمل میں ڈھالے گئے ہیں عظیم منصوبے

    کھنچے گا اڑتا شمال و جنوب پر اک پل

    جو فطری روک بے بدلے گا عام رستے میں

    تنے گی سنگ کی دیوار رود مغرب پر

    کہ روک دے گی جو ووشاں کے ابروباراں کو

    اٹھے گی ٹھہری ہوئی جھیل گہری گھاٹی سے

    ہنوز ہوتی جو موجود کوہ کی دیوی

    تغیرات زمانہ پہ دنگ رہ جاتی