مضافِ دریا
مضافِ دریا کے رہنے والو تمھیں ہمارا سلام پہنچے مضافِ دریا کے رہنے والو تمھارے قریوں میں زندگی ہے تمھاری مٹی کی سبز لہریں، تمھارے پھولوں کے رنگ گہرے لطیف کھیتوں کے آئینوں سے نگاہیں ٹھنڈی گھنتے درختوں کی چوٹیوں پر نزولِ آیت، وحی کے ساماں تھرکتی شاخوں پہ نور رقصاں کھڑکتے پتوں میں گیت لرزاں شبوں کے پہلو میں جگنوؤں کے ہیں زرد ہیرے سحر کے دامن میں شبنموں کے سفید موتی مضافِ دریا کے رہنے والوتمھاری گائے کے دودھ میٹھے تمھارے ہرنوں کی نرم کھالیں، تمھاری بھیڑوں کی گرم اُونیں مضافِ دریا کے رہنے والو مضافِ دریا بہشتِ روشن یہیں پرندوں کی اونچی ڈاریں خدا کی جھیلوں میں تیرتی ہیں کنول کے چوڑے سفید گاگر ہیں، تھال چاندی کے پانیوں میں یہیں پہ کھیتوں میں ہل چلاتی لحیم بیلوں کی جوڑیاں ہیں گھر والوں کو لوٹے تھکے کسانوں کی گرد پانی اُتارتا ہے مضافِ دریا کے رہنے والو، تمھارے دن کا شباب محنت تمھاری شامیں سکون پرور، تمھاری راتیں ہیں خواب آور مضافِ دریا کے رہنے والو،تمھیں ہمارا سلام پہنچے