علی اکبر ناطق

علی اکبر ناطق

پری خانے سے آواز

    کچھ دن سے مرا نام مجھے یاد نہیں ہے کچھ روز ہوئے میں نے دھواں پھیلتے دیکھا اب رقص کی گردش میں بکھر جاؤں میں شاید تم مجھ کو پری خانے سے آواز نہ دینا سو بار کرے ابر مرے نام پہ گریہ اس بار مرا درد اُسے راہ نہ دے گا سو بار مجھے شمس و قمر ڈھونڈنے نکلیں اس بار نشاں میرا کسی خواب میں ہو گا شاید مجھے افلاک سے آواز بھی آئے اس وقت میرا نام مجھے یاد نہ ہو گا ناکام پلٹ جائے گی آواز وہ آخر اور لوگ کہیں گے کہ مجھے موت نہ آئی میں موت سے بچ جاؤں گا پر دیکھ مرے دوست تم مجھ کو پری خانے سے آواز نہ دینا