علی اکبر ناطق

علی اکبر ناطق

تریاق میں لہو کی بوندیں

    ایک بدبخت سپیرے کی سیہ میت پر پھیلتی رات، اُترتے ہوئے سایوں کا ہجوم جیسے اُجڑی ہوئی بستی میں نحوست کے عذاب ہر طرف ناچتی پھرتی ہوں جہاں بدروحیں قرن ہا قرن سے اوڑھے تھیں خباثت کے نقاب رانڈ جوگن، کہ ہوئی رقص کناں اولِ شب رات کے پچھلے پہر زور سے سینہ پیٹا ایسے ماتم میں کھڑی تھی کہ غصیلی ناگن گھر کے پالے ہوئے سانپوں کا کلیجہ کھایا اور سینے میں بھرا حاسد بدخو کا عناد چیختی ہے تو لرز جاتا ہے وحشت کا بدن شدتِ خوف سے تن جاتی ہیں چھاتی کی رگیں پی گئی زہر جو پیالوں میں بھرا تھا اُس نے اور ڈسنے لگی آئے ہوئے غم خواروں کو نیلگوں جسم پہ اُگ آئے پھپھولے لاکھوں ہر بن مو سے اُٹھی سانس دھوئیں کی صورت سرمئی دھوپ میں پھیلا ہوا بدبو کا غبار عمر بھر خستہ ستونوں سے لپٹ کر جو پڑھے دردِ زہ میں ہیں گرفتار ہزاروں منتر سڑتی لاشوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں گھر میں سوکھے پیڑوں سے اتر آئے گدھوں کے بادل سخت چونچوں سے اُکھیڑیں گے بدن کے ریشے وائے خاموش رہے کتنے برس چارہ گراں آج تریاق میں شامل ہیں لہو کی بوندیں