اوتار
اوتار
ہندو دیومالا کی ایک کہانی
پرتھوی گائے کا روپ دھار ہون کرتی ہوئی دیوتاؤں کے راجہ اندر کی سبھا میں پہنچی اور یوں فریادکرنے لگی:
’’ دو ہائی ہے اندر مہاراج کی ۔ مہاراج ! سنسار سے دھرم تو اٹھ گیا۔ اور پاپ کا اندھیرا چھا گیا ہے۔ شہر شہر نگری نگری گاؤں گاؤں نردوشوں کی ہتیا ہو رہی ہے۔ ان کی پوری پوری بستیوں کو جلا کر راکھ کیا جارہا ہے۔ گر بھ وتی استریوں کے پیٹ سے ان جنے بچے نکال کر انہیں بھالوں کی انیوں پر لٹکایا جاتا ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں اور ناک کان کاٹ کر انہیں زندہ چتاؤں پر جلا دیا جاتا ہے۔ منش پشو سے بھی نیچ ہو گیا ہے ۔ میں یہ اتیا چار نہیں دیکھ سکتی مہاراج ۔ آگیا دیجیے کہ میں نر پور چھوڑ پاتال چلی جاؤں۔“
اندر مہاراج آکاش کے دیوتا ہیں۔ وہ ایک سفید ہاتھی پر سوار ہوتے ہیں جس کا نام ایراوت ہے۔ وہ مینہ برساتے اور فصلیں اگاتے ہیں۔ بجلی کا کڑکا اور دھنک ان کے ہتھیار ہیں ۔ وہ پرتھوی کی یہ بات سن کر بڑے دکھی ہوئے ۔ اور دیر تک سوچ ساگر میں ڈوبے رہے ۔ پھر انہوں نے گنیش جی کو بلوایا ۔گنیش جی کی ہاتھی کی سی سونڈ ہے۔ وہ شوجی اور پاربتی دیوی کے بیٹے ہیں ۔ مشکلوں کوحل کرنے والے، فہم وفراست کے دیوتا۔
گنیش جی کے مشورے سے اندر مہاراج نے تمام دیوتاؤں کو اکٹھا کیا۔ ان میں آگ کے دیوتا اگنی ، پانی کے دیوتا ورن، ہوا کے دیوتا وایو، رتوں کے دیوتا بسنت ، پریت کے دیوتا مدن ،سورج کے دیوتا سوریہ، چاند کے دیوتا سوم اور بہت سے اور دیوتا بھی تھے ۔ پھر وہ ان سب کو ساتھ لے برہما جی کے پاس پہنچے ۔
بر ہما جی نے سنسار جنم دیا۔ ان کا رنگ سرخ ہے۔ ان کے چار چہرے، آٹھ کان اور چار ہاتھ ہیں۔ انہوں نے ان ہاتھوں میں سے ایک میں کمان، دوسرے میں کھوپڑیوں کی مالا ، تیسرے میں پانی کی گڑوی اور چوتھے میں وید تھام رکھے ہیں۔ علم و دانش کی دیوی سرسوتی ان ہی کی استری ہے۔
اندر مہاراج نے پرتھوی کی کتھا برہما جی کو کہہ سنائی مگر وہ بھی اس کا دکھ دور نہ کر سکے اور سب کو ساتھ لے مہادیو جی کے پاس پہنچے۔
مہادیو جی کو شو جی بھی کہتے ہیں ۔ ان کے پانچ چہرے چار بازو اور تین آنکھیں ہیں ۔ تیسری آنکھ ماتھے کے درمیان ہے۔ وہ ایک بیل پر جس کا نام نندی ہے سوار ہوتے ہیں ۔ وہ جٹا دھاری سادھو کا روپ بنائے انگوں میں مسانوں کی بھبھوت لگائے کمر پر مرگ چھالا لٹکائے ، گلے میں پھنکارتا ہوا سانپ مالا کی طرح ڈالے، بن بن پھرتے رہتے ہیں ۔ جب بھی وہ دارو پی کر اپنی استری جگد مبا کے ساتھ جوش و مستی کی حالت میں تانڈ و ناچ ناچتے ہیں تو بھومی ڈولنے لگتی ہے ۔ وہ دکھوں کو ہرن اور پاپوں کو نشٹ کرتے ہیں مگر پرتھوی کے دکھ کا علاج اینی کے پاس بھی نہ تھا۔ اور وہ سب دیوتا ؤں کو ساتھ لے وہاں پہنچے جہاں چھیر سمندر میں وشنو جی اپنی اپنی لکھشمی رانی کے ساتھ شیش ناگ اننت پر بسرام لے رہے تھے۔
وشنو بھگوان میں ایسی شکستی ہے کہ وہ اپنے تین ہی قدم میں دنیا کے ساتوں طبق الانگ لیتے ہیں۔ وہ کوہ پیکر پرند گرڑ پر سوار ہوتے ہیں۔ گنگا ندی ان ہی کے چرنوں سے نکلی ہے ۔ وہ بڑے سجیلے جوان ہیں ۔ ان کا دل بڑا نرم ہے ۔ وہ ہمیشہ مظلوموں کی فریاد کو پہنچتے ہیں۔ وہ سو رہے تھے مگر اتنے سارے دیوتاؤں کے آنے سے ان کی نیند اچٹ گئی ۔ اس پر سب دیوتا ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے کھڑے ہو گئے اور ان کے گن گانے لگے :
’’مہاراج ادھیر آج ! آپ کی مہما کون کر سکے ۔ مچھلی کا اوتار لے سارے سنسار کو اور ویدوں کو ڈوبنے سے بچایا۔ کچھوے کا اوتاردھارمندرا چل پہاڑ کواپنی پیٹھ پر اٹھایا جس سے سمندر بلو یا گیا۔ سؤر کا اوتار لے دھرتی کو اپنے دانتوں سے اٹھا سمندر کی تہہ سے نکالا۔ نرسنگھ کا اوتار لے جس کا سر شیر کا اور دھڑ آدمی کا تھا پر ہلاد کی جان اس کے ظالم باپ سے بچائی۔ بونے بامن کا اوتار لے راجہ بل سے چھل کیا۔ پر سو رام کے روپ میں اکیس بار کشتریوں کا ناش کیا۔ اور راج برہمنوں کو دلوایا ۔ رام چندر جی کا اوتار دھار راکھشوں کے سردار مہادشٹ راون کو مارا ۔ کرشن بھگوان بن کر متھرا کے کھٹور راجہ کنس کوموت کے گھاٹ اتارا۔ گوتم بدھ کا اوتار لے سنسار میں سکھ شانتی پھیلائی۔“
’’ناتھ جی ! جب جب سنسار میں کھٹور تائی اور نٹھورائی حد سے بڑھی تب تب آپ انا تھوں اور نردوشوں کی رکشا کے لیے دھرتی پر گئے۔ آج پھر سنسار پر ادھرم اور پاپ کا اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ دھرتی نرناری کے خون سے لال ہو رہی ہے۔ وہ گائے کا روپ دھار یہاں دیولوک میں فریاد کرنے آئی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ میری چھاتی پر ان دنوں ایسی ایسی بھیانک گھٹنا ئیں ہو رہی ہیں کہ پہلے کبھی نہ ہوئی تھیں۔ میں اب یہ اتیا چار نہیں دیکھ سکتی۔ مجھے پاتال میں چلے جانے کی آگیا دے دیجئے۔ ‘‘
’’ناتھ جی ! ہم آپ سے بنتی کرنے آئے ہیں کہ ایک بار پھر سنسار کی سدھ لیجئے۔ پاپوں کا ناش کیجئے تا کہ نر ناری آئند ہوکر ر ہیں ۔ یہ کام آپ کے سوا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔“
وشنو بھگوان کے کومل دل پر اس کتھا کا بڑا اثر ہوا ۔ان کے چہرے پر اداسی چھا گئی ۔وہ ایک گہری سوچ میں ڈوب گئے ۔ لکھشمی رانی ابھی تک شیش ناگ اننت پر بے خبر سورہی تھیں ۔ نیند میں ان کے کنول ایسے سند رمکھڑے سے بڑا سکھ چین برس رہا تھا۔ آخر وشنو جی نے ایک پریم بھری نظر اپنی پتنی پر ڈالی اور پھر ایکا ایکی وہ اپنے استھان سے غائب ہو گئے .....
٢
سنبھل ضلع مراد آباد کا ایک پرانا قصبہ ہے ۔ یہ قصبہ ہندوستان کے دوسرے قصبوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ وہی گرد سے اٹی ہوئی سڑکیں ، وہی تنگ بازار اور گلی کوچے ۔ کہیں مٹی کے گھروندے کہیں پختہ اینٹوں کے مکان ۔ دیہاتی اور شہری زندگی کی آمیزش ،مگر ایک بات جو اسے دوسرے قصبوں سے ممیز کرتی ہے یہ ہے کہ یہاں مندروں کی کثرت ہے جو قصبے اور اس کے اطراف میں جا بجا دیکھنے میں آتے ہیں۔
ملک کی تقسیم سے پہلے سنبھل میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی تھی۔ مگر تقسیم کے بعد ہندوستان کے دوسرے شہروں اور قصبوں کی طرح یہاں بھی ہنگاموں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اور ہندو جو بھاری اکثریت میں تھے مسلمانوں کو تاخت و تاراج کرنے لگے۔ ان کے مسلح جتھے مسلمانوں کے محلوں پر ٹوٹ پڑے۔ مکانوں کو آگ لگا دی گئی ۔ اور ان گنت مردوں عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ جو مسلمان اس قتل عام سےبچ رہے، وہ جان بچانے کے لیے قصبے سے بھاگ نکلے۔
سنبھل سے چار پانچ کوس کے فاصلے پر ایک سنسان گھاٹی تھی جو راہ باٹ سے کٹی ہوئی تھی ۔مسلمانوں کے لٹے پٹے گھرانوں کے کچھ افراد کسی نہ کسی طرح جان بچا کر اس گھاٹی میں پہنچ گئے ۔ ان میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے اور کچھ ایسے لوگ بھی جو ہندوؤں کے ہاتھوں زخمی ہو گئے تھے ۔ چوں کہ اس وقت سارے ملک میں آگ لگی ہوئی تھی اور مسلمانوں کو ہر طرف موت ہی موت دکھائی دیتی تھی اس لیے انہوں نے آگے بڑھنا خطرے سے خالی نہ سمجھا اور اسی گھاٹی میں چھپ کر بیٹھ رہے ۔ جب ذرا کھڑکا سنتے تو گھاٹی میں نیچے اتر جاتے ۔ وہ کئی دن تک وہیں چھپے رہے اور درختوں کے پتے یا گھاس کھا کر پیٹ بھرتے رہے۔ انہیں گھاٹی میں دور نیچے اتر کر ایک چھوٹے سے نالے کا سراغ مل گیا تھا جس میں پچھلی برسات کا پانی ابھی تک کچھ کچھ باقی تھا ۔ وہ اس پانی سے اپنی پیاس بجھاتے رہے۔
ادھر اس عرصے میں سنبھل کے ہندوؤں کا جوش دھیما پڑ چکا تھا۔ کیوں کہ مسلمانوں کی بیشتر آبادی یا تو نیست و نابود ہو چکی تھی یا قصبے سے بھاگ چکی تھی اور ان کے مکانوں ان کی دکانوں اور دوسری املاک پر ہند و قبضہ کر چکے تھے۔ چناں چہ انہوں نے اپنی اس کامیابی پر مطمئن ہو کر بھاگنے والوں کا پیچھا کرنے یا ان کی ٹوہ لگانے کا خیال چھوڑ دیا تھا۔
رفتہ رفتہ ملک کے حالات سدھرنے لگے ۔ ہر مذہب وملت کے پیشوا اور لیڈرا کٹھے ہو ہو کر شہر شہر گاؤں گاؤں دورے کرنے لگے ۔ امن کمیٹیاں بننے لگیں اور ان مسلمانوں کو جو اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کرنے کی کوششیں ہونے لگیں ۔ ایسی ہی ایک جماعت گھومتی گھامتی اس گھاٹی میں بھی پہنچ گئی جہاں سنبھل کے یہ مسلمان کئی ہفتوں سے پناہ گزیں تھے ۔ اس جماعت کے اراکین نے مسلمانوں کو بہتر سمجھایا بجھایا مگر وہ سنبھل کے ہندوؤں کے درمیان رہنے کے خیال سے ایسے خائف تھے کہ کسی طرح قصبے میں واپس جانے پر آمادہ نہ ہوئے ۔ ناچار انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔
جب ان مسلمانوں کو جان کا خطرہ نہ رہا تو انہوں نے اس گھاٹی کے آس پاس زمین صاف کر کے درختوں کی ٹہنیوں ،گھاس پھونس اور مٹی سے جھونپڑیاں بنانی شروع کر دیں ۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں کے کچھ اور خاندان بھی جو ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے تھے ان میں آملے اور اس طرح تھوڑے ہی دنوں میں وہاں ایک کالونی سی آباد ہوگئی جو سوسوا سونفوس پر مشتمل تھی ۔
سنبھل کے مسلمانوں کے قتل عام کی شب کو جن لوگوں نے بھاگ کر گھا ٹ میں پناہ لی تھی ان میں ابراہیم نامی ایک لوہار بھی تھا۔ بڑا محنتی اور خوش اخلاق ۔ وہ اپنے باپ اور تین بھائیوں کے ساتھ قصبے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتا تھا۔ وہ اپنے بڑے بھائی اسحاق کے ساتھ دکان پر کام کرتا تھا۔اس کے دوسرے دو بھائی جو کم عمر تھے ، ابھی مدرسے میں پڑھتے تھے ۔ جب مسلح ہندوؤں کے جتھے نے ان کے مکان میں آگ لگائی تو خاندان کے سب افراد گھر پر ہی تھے ۔ یہ لوگ آگ سے خوف زدہ ہو کر مکان سے نکلے ہی تھے کہ ہندو برچھیاں بھالے لیے ان پر ٹوٹ پڑے۔ مردوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا۔ اور انہیں کے ہتھیار چھین کر دو چار کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مگر ہند و تعداد میں زیادہ تھے یہ لوگ زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکے اور آخر کار ابراہیم کا باپ ، بڑا بھائی اسحاق ، دونوں چھوٹے بھائی ، اسحاق کی دو جوان لڑکیاں جو باپ اور چچا کے پہلو بہ پہلو ہندو غنڈوں کا مقابلہ کر رہی تھیں ، اور ابراہیم کا چھوٹا بچہ شہید کر دیاگیا ۔ ان لوگوں کی مدافعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابراہیم کی بیوی اور بھاوج کو کسی نہ کسی طرح اندھیرے میں بھاگ نکلنے کا موقع مل گیا۔
ادھر ابراہیم کو ہندوؤں سے لڑتے ہوئے زخم تو کئی آئے تھے مگر کوئی کاری نہ تھا۔ اور وہ بھی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اسے تھوڑی سی تلاش کے بعد دونوں عورتیں قریب ہی کی ایک تاریک گلی میں چھپی ہوئی مل گئیں ۔ وہ ان کا ہاتھ پکڑ اندھیرے میں چھپتا چھپاتا سایوں کی آڑلیتا انہیں قصبے سے نکال لایا۔ پھر انہیں لے کر دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جو اس قتل عام سے بچ نکلے تھے اسی گھاٹی کی سمت روانہ ہو گیا۔
اسحاق کی بیوی نے جس کا نام بلقیس تھا اپنی آٹھ ماہ کی بچی کو سینے سے چمٹ رکھا تھا۔ آمنہ خالی ہاتھ تھی ۔ اپنے دوسالہ معصوم بچے اصغر کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے دیکھ کر غم اور دہشت سے اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی ۔ اور وہ ہر طرف پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی تھی ۔ ان لوگوں کا صدمہ ایسا تو نہ تھا کہ آسانی سے بھلایا جا سکتا۔ مگر جب انہوں نے اپنے چاروں طرف ہر شخص کو اپنے ہی جیسا مظلوم اور ستم رسیدہ دیکھا تو ان کے دل کو کچھ کچھ قرار آ گیا۔
اس گھاٹی کے قریب ہی پرانے وقتوں کا کوئی مندر تھا جو بڑی خستہ حالت میں تھا۔ اس کی چھت غائب تھی اور کوئی دیوار بھی سالم نہ تھی۔ اس مندر کے بت محکمہ آثار قدیمہ کے افسر مدت ہوئی کسی عجائب خانے میں رکھنے کے لیے اٹھالے گئے تھے ۔ اور اب یہاں سوائے کھنڈروں کے کچھ نہ رہا تھا۔ اس مندر کے باہرایک کنواں تھا جو مدتوں سے بند پڑا تھا۔ چمگادڑوں اور نہ جانے کن کن جانوروں نے اس میں مسکن بنارکھے تھے اور اس میں سے سخت بدبو آتی تھی۔ کالونی والوں نے درختوں کے ریشوں کو بٹ کر ایک رسی بنائی۔ پھرٹین کا ایک پرانا کنستر مہیا کیا گیا۔ کالونی کے زن و مرد کئی دن تک لگا تار کنوئیں کا گندہ پانی نکالتے رہے۔ آخر ان کی محنت ٹھکانے لگی۔ اور انہیں پینے کے لیے صاف اور میٹھا پانی مل گیا۔
ان لوگوں کے پاس نہ تو روپیہ پیسہ تھا نہ زیور یا کوئی اور قیمتی چیز اس لیے چوروں اور ڈاکوؤں سے تو وہ محفوظ رہے ۔ البتہ سنبھل کے بعض شرپسند ہندو جو ان کے اس کالونی میں اچھوتوں کی طرح رہنے کے بھی روادار نہ تھے کبھی کبھی رات کو چپکے سے آکر ان کی جھونپڑیوں میں آگ لگا جاتے ۔ کالونی والے جو ہر وقت چوکنے رہتے تھے اکثر جلد ہی آگ پر قابو پالیتے تھے۔ مگر ایک مرتبہ ایسی زبردست آگ لگی کہ آدھی سے زیادہ جھونپڑیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ اس واقعے سے ان لوگوں کو رنج تو بہت ہوا مگر انہوں نے ضبط و تحمل سے کام لیا۔ اور تھوڑے ہی دنوں میں پھر اپنی جھونپڑیاں استوار کر لیں ۔اب کے انہوں نے کالونی کے گردا گر دمٹی اور پتھروں سے ایک دیوار بھی کھینچ دی۔ اور یوں آگ لگانے والوں کے شر سے کسی قدرمحفوظ ہو گئے ۔
ضرورت نے ان مسلمانوں کو کئی کام سکھلا دیے مثلاً رسیاں بننا، ٹوکریاں اور جھاڑو بنانا ،چٹائیاں بننا ،مٹی کے برتن اور کھلونے بنانا ۔ یہ چیزیں قصبے کے نچلے طبقے کے دکان داران سے سستے داموں خرید لے جاتے ۔ رفتہ رفتہ انہوں نے کھدر بننے اور دریاں اور پلنگ پوش بنانے کا کام بھی شروع کر دیا ۔ بعض لوگوں نے مرغیاں اور بکریاں پال لیں ۔ مرغیوں کے انڈے وہ قصبے والوں کے ہاتھ بیچ دیتے اور بکریوں کے دودھ کو وہ اپنے بچوں کے استعمال میں لاتے ۔
اس کالونی کی عورتوں نے جن کی ایک عمر پردے میں گزری تھی اور جن میں اب زیادہ تعداد بیواؤں کی تھی ، ضرورت وقت کو دیکھتے ہوئے پردہ ترک کر دیا تھا۔ وہ محنت مشقت کے کاموں میں مردوں کے برابر حصہ لیتیں ۔ دستکاری کا کام زیادہ تر ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔ علاوہ ازیں کنوئیں سے پانی بھی وہی بھرتی تھیں۔
ابراہیم کی بیوی اور بھاوج بھی یہ سارے کام کرتیں۔ بلقیس کو اپنے شوہر اور دو جوان لڑکیوں کے شہید ہو جانے کے بعد جینے کی کوئی خواہش نہ رہی تھی عمر ننھی سارہ کے لیے وہ زندہ رہنے پر مجبور تھی۔ وہ کبھی کبھی اس کی قلقاریوں کی نغمگی میں گم ہو کر اپنا غم بھول جاتی ۔ ادھر آمنہ کے غم زدہ دل کوبھی جلد ہی اس امید نے بہلا نا شروع کر دیا کہ وہ پھر ایک بچے کی ماں بننے والی ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس حمل سے اسے کسی قسم کی تکان یا تکلیف یا بھاری پن کا احساس نہ ہوتا تھا۔ جوں جوں اس کے وضع حمل کا زمانہ قریب آتا جا رہا تھا اس کا روپ نکھرتا آرہا تھا۔ اس محنت و جفاکشی کی زندگی کے باوجود وہ ہر وقت چونچال نظر آتی تھی۔ وہ بھاری بھاری بوجھ آسانی سے اٹھا لیتی اور اس کا شوہر ، اس کی بھاوج یا کالونی کی کوئی اور عورت اسے منع کرتی تو وہ کہتی :
’’مجھ میں بڑی طاقت پیدا ہوگئی ہے اور یہ کام تو مجھے بڑے ہلکے پھلکے معلوم ہوتے ہیں۔“
سنبھل کے مسلمانوں کو جب اس کالونی میں آباد ہوئے نو مہینے گزر لیے تو ایک شب ابراہیم کی جھونپڑی میں ایک ننھی سی جان کا اضافہ ہوا۔ رات کا پچھلا پہر تھا۔ چودہویں کا چاند جو سر شام ہی نمودار ہو گیا تھا،اپنا سفر طے کرتا ہوا آسمان کے ایک سرے سے دوسرے پر پہنچ گیا تھا۔ اس کی روشنی سے اس وقت ٹوٹے پھوٹے مکان اور جھونپڑے تک خوش نما معلوم ہو رہے تھے۔ اچانک ایک نئی آواز نے اس خاموشی کو توڑ دیا جو اس کا لونی پر چھائی تھی۔ ابراہیم جواپنی جھونپڑی کے باہر ایک جھلنگی کھٹیا پر بے چینی سے کروٹیں بدل رہا تھا جلدی سے اٹھ کر اندر گیا۔ دیکھتا کیا ہے کہ آمنہ چٹائی پر چادر اوڑھے لیٹی ہے اور بلقیس کالونی کی ایک عورت کی مدد سے خون میں لت پت بچے کا جسم چیتھڑوں سے پونچھ رہی ہے۔
ابراہیم کو دیکھ کر بلقیس بول اٹھی:
”بھیا تمہیں بیٹا مبارک ہو!“
ابراہیم کی آنکھوں میں ایک چمک پیدا ہوئی ۔ اس نے اپنی بیوی کے چہرے کی طرف دیکھا۔ آمنہ ہلکے ہلکے کراہ رہی تھی مگر جیسے ہی دونوں کی نظریں ملیں ایک خفیف سی مسکراہٹ آمنہ کے ہونٹوں پر پھیل گئی ۔ ابراہیم چٹائی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا ۔ بلقیس نے بچے کو جو تھوڑی دیر رونے کے بعد چپ ہو گیا تھا، ایک پرانے مگر صاف کپڑے میں لپیٹ کر اس کی گود میں لٹا دیا۔
یہ بچہ بڑا ہی خوبصورت اور پیارا پیارا تھا۔ اس کے بال سنہرے اور گنگھریالے تھے ۔ اور چہرہ بھی کندن کی طرح دمکتا تھا۔ ابراہیم جوں جوں اسے دیکھتا گیا اس کی حیرت بڑھتی گئی ۔ آخر اسے اور تو کچھ نہ سوجھا اس نے بچہ بھاوج کو دے دیا اور خود سجدے میں گر پڑا ۔
رفتہ رفتہ بچہ پرورش پانے لگا۔ اس کا نام حمزہ رکھا گیا۔ ابراہیم کی خستہ حالی ،غذا کی کمی اور کالونی کے گندے ماحول کے باوجود زچہ اور بچہ دونوں بڑے تندرست تھے۔ آمنہ بچے کے سر پر ایک کالا کپڑا باندھ اس کے بالوں کو چھپائے رکھتی تا کہ اڑوس پڑوس کی عورتوں کی نظر نہ لگے ۔ حمزہ جلد جلد بڑا ہونے لگا ۔ جلد ہی آس پاس کی جھونپڑیوں میں اس کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں ۔ چند ہی مہینوں میں اس نے چلنا شروع کر دیا اور ابھی سال بھر کا نہ ہوا تھا کہ باتیں بھی کرنے لگا۔ وہ سارہ کے ساتھ جو اس سے ڈیڑھ سال بڑی تھی دن بھر کھیلتا رہتا۔ وہ بڑا خوش مزاج بچہ تھا۔ کبھی روتا بلکتا نہ تھا۔ نہ کسی چیز کے لیے ضد کرتا تھا۔
جب وہ پانچ برس کا ہوا تو مکتب جانے لگا جو ایک نیک دل مولوی صاحب نے کالونی کی ایک جھونپڑی میں کھول رکھا تھا تا کہ کالونی کے بچے علم سے بے بہرو نہ رہیں ۔ وہ ایسا ذہین تھا کہ چند ہی ہفتوں میں اس نے بغدادی قاعدہ ختم کر کے قرآن مجید کا پہلا پارہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اس کی ذہانت اور شوق کو دیکھ کر مولوی صاحب بھی اسے بڑی توجہ سے پڑھانے لگے۔
اس نے بڑی فیاض طبعیت پائی تھی۔ ماں اسے کوئی اچھی سی چیز کھانے کو دیتی تو وہ مکتب میں لے آتا۔ اور اپنے ننھے منے ہم سبقوں میں بانٹ کر کھاتا۔
آٹھ برس کی عمر میں حمزہ نے کلام مجید ختم کر لیا۔ اس خوشی میں اس کے باپ نے کالونی کی ساری جھونپڑیوں میں لڈو بانٹے ۔ حمزہ پڑھنے لکھنے ہی میں نہیں کھیل کود میں بھی سب لڑکوں سے آگے رہتا تھا۔ جب وہ دس برس کا ہوا تو کالونی کا کوئی لڑکا کشتی کبڈی یا تیز دوڑنے میں اس سے بازی نہیں لے جا سکتا تھا۔ وہ اونچے اونچے پیڑوں پر ایسی پھرتی سے چڑھ جاتا کہ اس کے ساتھی تکتے کے تکتے رہ جاتے۔
اسی زمانے میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس کا کالونی میں بہت دنوں چر چا رہا۔ ہوا یہ کہ حمزہ حسب عادت ایک بہت اونچے پیڑ پر چڑھ گیا۔ اس پیڑ کی اوپر کی ٹہنیاں کمزور تھیں ۔ اس نے جیسے ہی ایک ٹہنی کو پکڑنا چاہا وہ اچانک ٹوٹ گئی ۔ اور حمزہ بیس پچیس فٹ کی بلندی سے نیچے آ رہا ۔ سب لڑ کے خوف زدہ ہو کر بھاگ گئے۔ مگر حمزہ کپڑے جھاڑ کر اٹھ بیٹھا اور مسکراتا ہوا اپنے ساتھیوں سے آ ملا۔ اسے کھڑینچ تک نہ لگی تھی۔
جب حمزہ نے علم دین کے ساتھ ساتھ کسی قدر اردو اور ریاضی کی بھی تعلیم حاصل کر لی ۔ تو باپ نے اسے مکتب سے اٹھا لیا۔ اور اسے اپنا آبائی پیشہ سکھانے لگا۔ ابراہیم نے اپنی جھونپڑی کے آگے پھونس کا سائبان ڈال کر ایک چھوٹی سی لوہار کی دکان کھول رکھی تھی دونوں باپ بیٹے صبح سے شام تک اس میں کام کرتے ۔ حمزہ دھونکنی دھونکتا، ہتھوڑا چلاتا اور ابراہیم کھیتی باڑی کے آلات طرح طرح کے اوزار اور دوسری کارآمد چیزیں بناتا۔
یہ دس بارہ سال کا زمانہ ہندوستان کے اور شہروں اور قصبوں میں تو نہیں البتہ سنبھل کی اس کالونی میں نسبتاً امن کا گزرا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان یہاں بڑی پستی کی حالت میں تھے ۔ اور وہ اسی میں رضائے الہٰی سمجھ کر صبر شکر سے گزر بسر کیے جا رہے تھے ۔ وہ کالونی سے باہر شاذ ہی نکلتے ۔اور جب سنبھل یا آس پاس کے قصبوں کے ہندو بیو پاری ان سے مال خرید نے آتے تو وہ ان سے بڑی عاجزی سے بات کرتے۔ اور انہیں کبھی شکایت کا موقع نہ دیتے۔ ان کی دستکاریوں نے اب خاصی ترقی کرلی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گائے بھینسیں بھی پالنی شروع کر دی تھیں اور آس پاس کے قصبوں کو دودھ مہیا کرنے لگے تھے۔
کالونی کے مسلمانوں نے اب تک اپنے اسلامی طور طریقے قائم رکھے تھے ۔ ایک بڑا سا جھونپڑ ا مسجد کا کام دیتا تھا جہاں پانچوں وقت نماز ادا کی جاتی تھی ۔ علاوہ ازیں وہ عید بقرعید اور دوسرے تہوار بھی منایا کرتے تھے مگر خاموشی کے ساتھ ۔ ایک دن ایسا ہی کوئی تہوار تھا۔ ابراہیم نے اپنی دکان بند رکھی تھی۔ حمزہ کو کوئی کام تو تھا نہیں۔ وہ گھومتا پھرتا گھاٹی سے دور نکل گیا۔ ایک سمت اسے آبادی کے کچھ آثار نظر آئے اور وہ بغیر سوچے سمجھے اس طرف چل دیا۔ قریب پہنچا تو دیکھا کہ ایک میدان میں بہت سے لڑ کے کھیل رہے ہیں۔ کہیں گیند بلے کا میچ ہو رہا ہے ۔ تو کہیں کبڈی اور کہیں کشتی کے داؤں پیچ۔ وہ دیر تک بڑی دلچسپی سے ان لڑکوں کے کھیل دیکھتا رہا۔
یہ سنبھل کے باہر والا وہ میدان تھا جہاں قصبے کے لڑکے کھیلنے آیا کرتے تھے۔ حمزہ کی دیہاتی وضع قطع کو دیکھ کر کچھ لڑکوں نے سمجھا کہ یہ آس پاس کے کسی گاؤں سے آیا ہوگا۔ کیوں کہ یہ تو وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ مسلمانوں کی کالونی کے کسی لڑکے کو تن تنہا یہاں آنے کی جرأت ہوگی اور انہوں نے حمزہ کو بھی کھیلنے کو کہا جسے اس نے فوراً منظور کر لیا۔
تھوڑی ہی دیر میں سنبھل کے ہندولڑکوں کو بخوبی اندازہ ہو گیا کہ پھرتی ، ہوشیاری ، چالاکی ، داؤں پیچ یا زور آزمائی میں ان میں سے کوئی اس کے پاسنگ بھی نہیں۔ چناں چہ پے درپے ہزیمتیں اٹھانے کے بعد وہ دھاندلی پر اتر آئے اور ایک ہی دفعہ بہت سے لڑکوں نے اس پر ہلہ بول دیا ۔ حمزہ ذرانہ گھبرایا۔ وہ انہیں اٹھا اٹھا کر یوں پٹخنے لگا جیسے وہ روئی کے گالے ہوں ۔ جس لڑکے کو ایک دفعہ اس کا گھونسا پڑ جاتا پھر وہ اس کے قریب آنے کا نام نہ لیتا۔ آخر سب پٹ پٹا کر دور دور ہٹ گئے اور اسےوہاں سے چلے جانے دیا۔
کالونی میں پہنچ کرحمزہ نے اس واقعے کا ذکر اپنے ماں باپ یا کسی دوست سے نہیں کیا ، کیوں کہ اسے ڈر تھا کہ اگر اس واقعے کا چرچا ہوا تو ممکن ہے اس کی خبر قصبے تک پہنچ جائے اور قصبے والے بدلہ لینے کے لیے کالونی پر دھاوا بول دیں یا کسی اور طریقے سے ان لوگوں کا جینا حرام کر دیں۔
اب حمزہ اٹھارہ برس کا ہو گیا تھا ۔ وہ بڑا سجیلا نو جوان تھا ۔ بالا قامت ، چوڑا سینہ ، سڈول بازو، بھرا ہوا جسم، سر پر بال کیا تھے جیسے کسی نے سونا بکھیر دیا تھا۔ گورا رنگ ، ابھر واں نقشہ بڑی بڑی آنکھیں جیسے کنول کی ادھ کھلی کھلیاں۔ کالونی کی جس لڑکی نے بھی ایک مرتبہ اس کی جھلک دیکھ لی پھر وہ اس کا نقش کبھی دل سے مٹا نہ سکی اور سارہ تو اس پر جان چھڑکتی تھی۔ وہ خود بھی دبلی پتلی نازنین تھی ، پھول کی طرح مسکراتا ہوا چہرہ، نشیلی نشیلی سی آنکھیں جن کی پتلیاں شربتی رنگ کی تھیں ۔ یہ جوڑا بے حد موزوں تھا اور جب کبھی گھر میں ذکر چھڑتا کہ ان کے لیے دوسرے گھروں میں رشتے کی جستجو نہ کرنی پڑے گی ، تو سارہ شرم سے سر جھکا لیتی ۔ کالونی کی ساری لڑکیاں اس کی خوش قسمتی پر رشک کرتی تھیں ۔
اگر چہ حمزہ نے اسی کالونی میں آنکھ کھولی تھی اور وہ بچپن ہی سے اپنے ماں باپ اور کالونی کے دوسرے مسلمانوں کو بڑی پستی کی زندگی بسر کرتے دیکھتا آرہا تھا اور رفتہ رفتہ ان حالات کا عادی ہو چکا تھا۔ مگر اب جیسے ہی وہ سن بلوغت کو پہنچا۔ اسے اپنی قوم کی تذلیل کا احساس بڑی شدت سے ہونے لگا۔ وہ سنبھل کے مسلمانوں کے قتل عام کے دہشت ناک واقعات سن چکا تھا کہ کس طرح اس کے ماں باپ اور دوسرے مسلمان ہندو غنڈوں کے ہاتھوں اپنے بھرے پرے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور کس طرح اس کا تایا اسحاق ، اس کی دو جوان تایا زاد بہنیں ، اور اس کے دو کم عمر چچاہندوؤں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے اور کس طرح اس کے دو سالہ معصوم بھائی اصغر کو ماں کی آنکھوں کے سامنے سفا کی کے ساتھ تہہ تیغ کر دیا گیا۔ ایسی ہی ہولناک کہانیاں اس نے کالونی کے دوسرے گھروں کے بارے میں بھی سن رکھی تھیں ۔ اب ان کو یاد کر کر کے اس کا خون کھولنے لگا۔ پھر وہ یہ بھی دیکھتا کہ اس کالونی کے مردو زن کو اپنا اور بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کس قدر محنت اور جفاکشی کرنی پڑتی ہے اور دوسری طرف ہندو ہیں کہ ان کے یہاں اچھوتوں کی طرح رہنے کے بھی روادار نہیں اور جب مسلمان یہاں جھونپڑیاں بنارہے تھے تو ان میں آگ لگا لگا کے انہیں یہاں سے بھگانے کی کیسی کیسی کوششیں کی گئی تھیں۔
ان باتوں کو سوچ سوچ کر وہ اندر ہی اندر گھلنے لگا۔ اس کا جی کسی کام میں نہ لگتا۔ وہ ہر وقت چپ چپ اور کھویا کھویا سارہنے لگا۔ اس کا کھانا پینا چھوٹ گیا اور جب سارہ اور گھر کے دوسرے لوگ بڑی فکر مندی کے ساتھ اس تغیر کا سبب پوچھتے تو وہ کوئی جواب نہ دے پاتا ۔ سارہ کڑھتی مگر کچھ نہ کرسکتی۔ اس کی محبت بھی حمزہ کا یہ دکھ دور نہ کر سکی۔
جب اسی طرح کئی دن گزر گئے تو ایک دن وہ خود اپنے ماں باپ کے پاس گیا اور کہنے لگا:’’میرا دل یہاں رہتے رہتے اچاٹ ہو گیا ہے۔ میں پردیس جانا چاہتا ہوں ۔ میں اب اتنا بڑا ہو گیا ہوں کہ اپنی دیکھ بھال خود کر سکوں۔ میں جہاں کہیں جاؤں گا محنت مزدوری کر کے روزی پیدا کر لوں گا۔ میں ہندوانہ بھیس بنا کے جاؤں گا اس لیے مجھے کوئی نقصان نہ پہنچائے گا ۔ آپ لوگ میری فکر نہ کریں۔
ابراہیم اور اس کی بیوی حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے ۔سارہ نے بے حجابانہ اس کا دامن پکڑ لیا۔ اور روروکر کہنے لگی:
’’تم مجھے چھوڑ کر کہاں جارہے ہو؟ تمہارے بغیر میں کیسے زندہ رہ سکوں گی ؟“
”سارہ گھبراؤ نہیں“۔ اس نے دل جوئی کرتے ہو کہا۔ ” میں جلد واپس آجاؤں گا۔ میں تمہارے لیے اچھے اچھے کپڑے اور زیور لاؤں گا۔‘‘
’’مجھے نہ کپڑے چاہئیں نہ زیور ۔ بس تم کہیں نہ جاؤ“۔
مگر اس نے ایک نہ سنی۔ اس کے ماں باپ اور بلقیس نے بھی بہتیرا روکنا چاہا مگر وہ نہ رکا۔ اسی روز وہ کچھ کپڑوں اور ضروری چیزوں کی ایک گٹھڑیسی بنا سفر پر روانہ ہو گیا۔
دن پر دن گزرتے گئے مگر حمزہ واپس نہ آیا۔ جب چھ مہینے تک اس کے گھر والوں نے اس کی صورت نہ دیکھی تو انہیں یقین ہو گیا کہ ضرور کسی نے اسے پہچان کر مار ڈالا ہے ۔ تینوں عورتیں اس کی یاد میں بلک بلک کر روتیں اور اس کا باپ گردن جھکائے ایک سائے کی طرح کا لونی میں ادھر ادھر پھرتا رہتا۔ اس کی دکان سونی سونی رہتی۔ وہ نہ کسی سے بات کرتا نہ کسی کی بات کا جواب دیتا۔
جب حمزہ کو گھر سے نکلے پورا ایک سال ہو گیا۔ تو ایک رات وہ اچانک واپس آ گیا۔ اس کے گھر والوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آتا تھا وہ اس سے لپٹ گئے ۔عورتیں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ ابراہیم نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ مگر حمزہ بت بنا کھڑا رہا۔ اپنے عزیزوں کو دیکھ کر نہ تو اس کی آنکھوں میں چمک ہی پیدا ہوئی اور نہ ہونٹوں پر مسکراہٹ ہی آئی ۔
اس کے گھر والوں نے دیکھا کہ وہ سوکھ کر کانٹا ہو گیا ہے اس کی آنکھیں بجھی بجھی سی ہیں ۔ چہرے پر مردنی سی چھائی ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے اسے کوئی سخت روگ لگ گیا ہے۔ انہوں نے اس سے طرح طرح کے سوال کرنے شروع کیے مگر اس نے کسی کا جواب نہ دیا۔ جیسے وہ سن ہی نہیں رہا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے سامنے کھانا لا کر رکھا۔ مگر اس نے نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھا۔جھونپڑی میں ایک طرف ایک ٹوٹی ہوئی کھٹیا پڑی تھی۔ وہ اس پر لیٹ گیا اور تھوڑی ہی دیر میں سو گیا ۔ اس کے گھر والےاسے رات بھر نیند میں کراہتے اور بڑ بڑاتے سنا کیے۔
اگلی صبح کو وہ اٹھا تو اس کے چہرے پر کچھ کچھ سکون کے آثار تھے ۔ ماں نے اسے بکری کے تازہ دودھ کا گلاس بھر کے دیا ۔ جسے اس نے بلا حیل و حجت پی لیا۔ اب اس کے گھر والوں نے پھر اس پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ۔ وہ پہلے تو کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور آخر اپنی کہانی یوں سنانی شروع کی:
’’ آپ لوگوں سے رخصت ہو کر میں نے بہت سے شہروں کی سیر کی ۔ میں دن بھر مزدوری کرتا اور رات کو کسی سرائے میں یا کسی مندر کے باہر پڑ رہتا۔ میں نے ہندوانہ لباس کے ساتھ ہندی کے کچھ الفاظ بھی اپنی بول چال میں شامل کر لیے تھے۔ اس لیے کسی کو مجھ پر شک نہ گزرتا تھا۔ میں جہاں کہیں گیا میں نے مسلمانوں کو بڑی مظلومیت، کسمپرسی اور بے چارگی کی حالت میں دیکھا ۔ وہ ہر وقت ڈرے سہمے رہتے ۔ ان کی مسجدوں ، اولیاء کے مزاروں اور ان کے قبرستانوں کو مسمار کیا جا تا مگر وہ دم نہ مار سکتے ۔ ہندوستان کا کوئی شہر ایسا نہ تھا جہاں آئے دن مسلمانوں پر بلوے نہ ہوتے رہتے ۔ان بلوؤں میں ہزاروں بے گناہ زن و مرد بچے بوڑھے موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ۔ان کی جائیداد یں اور املاک لوٹ لی جاتیں ۔ جو مسلمان زندہ بچ رہتے ان پر سخت ظلم ڈھائے جاتے اور انہیں بڑی ذلت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جاتا۔ خدا جانے گنگا جمنا نربدا اور تاپتی کے پانیوں میں کتنا خون بے گناہ مسلمانوں کا مل گیا ہے!
’’میں ایک دفعہ ایک بڑے شہر کے ریلوے اسٹیشن پر مزدوری کرنے گیا وہاں میں نے ایک بڈھے کو دیکھا جو میری طرح مزدوری کرنے آیا تھا ۔ اس کے جبڑوں کی ہڈیاں ابھری ہوئی تھیں اور آنکھیں دھنسی ہوئی ۔ میں نے اس سے زیادہ مظلوم چہرہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ گو اس نے ہندوؤں کی طرح دھوتی باندھ رکھی تھی مگر مجھے فورا ًخیال آیا کہ کہیں یہ بھی میری طرح مسلمان ہی نہ ہو ۔ چناں چہ میں نے جرأت کر کے اسلامی طریق پر اسے سلام کیا ۔ اس پر وہ بڈھا تھر تھر کانپنے اور خوفزدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھنے لگا ۔ جب میں نے اس کی ڈھارس بندھائی تو اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کر لیا۔
’’شخص ایک خاصا خوش حال تاجر تھا۔ اس کے کئی جوان لڑکے اور لڑکیاں تھیں ۔ جب اس کے شہر میں مسلمانوں پر بلوے ہونے شروع ہوئے تو اس کے مکان کو بھی گھیر لیا گیا ۔ ہندو غنڈے دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر گھر کے اندر گھس آئے ۔ اس شخص کو رسیوں سے جکڑ دیا گیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے پہلے اس کی معصوم کنواری لڑکیوں کی آبرولوٹی گئی۔ بعد میں ان لڑکیوں اور ان کے بھائیوں کو نہایت بے دردی کے ساتھ ذبح کر دیا گیا۔ جب اس پر بھی ہندو غنڈوں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا تو انہوں نے مکان کے چاروں طرف مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ دم بھر میں شعلے بلند ہونے لگے اور اس کی بیوی، اس کے بوڑھے باپ اور دوسرے لواحقین کی آہ و بکا درودیوار میں گم ہو کے رہ گئی۔ یہ شخص بڑا سخت جان تھا کہ پھر بھی کسی طرح زندہ بچ رہا۔ وہ اب مزدوری کر کے پیٹ پالتا ہے مگر خود کو ہندو ظاہر کرتا ہے کیوں کہ اس کے بغیر اسے مزدوری نہیں مل سکتی ۔
”میں نے ایسے واقعات سنے ہی نہیں اپنی آنکھوں سے بھی دیکھے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان مظلوموں کی شکلیں سوتے جاگتے میری آنکھوں کے سامنے پھرتی رہتی ہیں اور مجھ پر ہر وقت ایک اضطراب کی کیفیت طاری رکھتی ہیں۔ میں تم لوگوں کو اپنی شکل دکھانے آ گیا ہوں تا کہ تم کو اطمینان ہو جائے کہ میں زندہ ہوں۔ لیکن میں یہاں ٹھہر نہ سکوں گا۔ میرے دل میں کوئی بیٹھا کہہ رہا ہے کہ اٹھ اور چل ۔ لیکن کہاں ؟ یہ ابھی مجھے بھی معلوم نہیں ۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے عنقریب مجھ سے کوئی بڑا اہم کام لیا جانےوالا ہے۔‘‘
ابراہیم ، آمنہ بلقیس اور سارہ چاروں مبہوت ہو کر حمزہ کی زبان سے یہ ماجرا سنتے رہے۔ اگلی صبح جب ان کی آنکھ کھلی تو حمزہ کی کھٹیا خالی پڑی تھی۔
وہ فتنہ جو ایک عرصے سے خوابیدہ تھا اچانک بیدار ہو گیا۔ کسی نے قصبے میں یہ شوشہ چھوڑ دیا کہ کالونی کے ملیچھ مسلمان ہندوؤں کے متبرک کنوئیں سے پانی بھر کر اسے ناپاک کرتے ہیں ۔اس بات کو وہ کٹر ہندو لے اڑے جو مسلمانوں کے وجود کو کسی صورت ہندوستان کی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور اسے ایک تحریک کی شکل دے دی گئی۔ پھر کیا تھا کئی ہندو کنو ئیں پر پہنچ گئے اور مسلمان عورتوں سے جو پانی بھرنے آئی تھیں چھیڑ چھاڑ کرنے لگے۔ جب یہ بے چاری پانی بھرے بغیر چلی گئیں تو انہوں نے کنوئیں پر باقاعدہ پہرا بٹھا دیا۔ یہ ہندو جو والنٹیر کہلاتے تھے صبح سے آدھی رات تک باری باری مندر کے آس پاس پہرہ دیتے رہے۔
کالونی والوں کے لیے یہ بڑا نازک مسئلہ تھا۔ وہ دنیا کی ہر مصیبت جھیل سکتے تھے مگر پانی کے بغیر زندہ نہ رہ سکتے تھے۔ چناں چہ جب ہندو پہرے دار چلے جاتے تو رات کے پچھلے پہر کالونی کی عورتیں چپکے سے جا کر پانی بھر لاتیں۔ یہ سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ مگر آخر ہندوؤں کے کان میں اس کی بھنگ پڑ گئی اور ایک رات پچھلے پہر کے سناٹے میں جب یہ عورتیں پانی بھرنے آئیں ۔ تو بہت سے ہندوؤں نے جو مسلح ہو کر آئے تھے اور مندر میں چھپے بیٹھے تھے ایکا ایکی ان پر حملہ کر دیا۔ وہ گل مچاتے اور نعرے لگاتے بھوکے بھیڑیوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑے اور کیا کنواری اور کیا بیا ہتا سب کی آبرو لینے لگے ۔ جو ذرا مزاحمت کرتی اس کے سینے میں چھرا بھونک دیا جاتا۔
رات کی خاموشی میں جب ان عورتون کی چیخیں غنڈوں کے قہقہوں میں ملی ہوئی کالونی میں پہنچیں تو سارے مرد جھونپڑیوں سے باہر نکل آئے اور لٹھ ڈندا یا کلہاڑی جو بھی ہاتھ میں آیا لے کنوئیں کی طرف دوڑے۔ ہند و پہلے تو ان کو دیکھ کر ڈرے اور بھاگنے کی سوچنے لگے ۔ مگر جب دیکھا کہ ان کی تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہیں ہے تو ان کے قدم رک گئے اور وہ اپنی پوری جمعیت کے ساتھ جس کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی تھی مسلمانوں سے مقابلے کے لیے تیار ہو گئے ۔ مسلمان بڑی بہادری سے لڑے اور بہت سے ہندوؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مگر ایک ایک آدمی دس دس کا مقابلہ کب تک کر سکتا تھا۔ چناں چہ تھوڑی ہی دیر میں کئی مسلمان لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ۔ جو زندہ بچے وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ ہندوؤں نے ان پر جلد ہی قابو پالیا۔ ابراہیم بھی ان بچے کھچے لوگوں میں تھا۔ اس کے جسم پر بہت سے زخم آئے تھے جن سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا۔
ہندوؤں نے ان مسلمان مردوں اور عورتوں کو رسیوں سے جکڑ دیا۔ وہ جوش انتقام سے دیوانے ہور ہے تھے کیوں کہ مسلمانوں کی آٹھ دس لاشوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کی بیس پچیس لاشیں بھی زمین پر لوٹ رہی تھیں ۔ چناں چہ انہوں نے صلاح ٹھہرائی کہ ایک بہت بڑا الا ؤلگا یا جائے اور ان ملیچھوں کو اس میں زندہ جلا دیا جائے۔
کئی ہندو اسی وقت دوڑے دوڑے قصبے میں گئے اور ٹال کھلوا چھکڑوں میں لکڑیاں بھر لائے۔ تھوڑی ہی دیر میں مندر کے سامنے ایک بہت بڑا الا ؤ لگا دیا گیا۔ دم بھر میں شعلے آسمان کی خبرلانے لگے۔
سارہ جو اپنی ماں اور چچی کے ساتھ رسیوں سے بندھی زمین پر پڑی تھی اس بھیا نک منظر کی تاب نہ لا سکی۔ اس کی دہشت زدہ نظریں مرد قیدیوں میں جو اس سے ذرا ہٹ کے رسیوں میں جکڑے پڑے تھے ، اپنے چچا کو ڈھونڈنے لگیں ۔ آخر اس نے ابراہیم کو تلاش کر لیا۔ جو زخموں سے چور زمین پر پڑا سسک رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر سارہ کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔ ابراہیم نے نقاہت کے باوجود یہ چیخ سن لی اور اس نے بڑی مشکل سے گردن اٹھا کر قیدی عورتوں پر نظر ڈالی۔ آخر چچا بھتیجی کی نظریں مل گئیں اور وہ دونوں بڑی بے بسی کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
اب ہند و غنڈوں نے قیدی مردوں کے جسموں میں بھالوں کی انیاں چھو چھو کر پہلے انہیں الاؤ کی طرف لے جانا شروع کیا۔ ابراہیم سب سے آگے تھا۔ بہت سا خون نکل جانے سے وہ ایسا نحیف ہوگیا تھا کہ ایک قدم بھی چل نہ سکتا تھا۔ اس پر دو تین ہندو والنٹیر اسے گھیٹتے ہوئے الاؤ کے قریب لے گئے اور آگ میں دھکا دے دیا۔ سارہ کے منہ سے ایک مرتبہ پھر چیخ نکل گئی۔ مگر یہ چیخ پہلی سے کہیں زیادہ بلند اور کرب ناک تھی۔ اس چیخ کا سنائی دینا تھا کہ یک بارگی آسمان پر بڑے زور کا کڑ کا ہوا جس سے زمین کانپنے لگی اور اس کے ساتھ ہی الاؤ کی آگ خود بخود بجھ گئی۔ یہ دیکھ کر ہندو ایسے سراسیمہ ہوئے کہ اندھا دھند ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔ اتنے ہی میں آسمان میں ایک بہت بڑا شگاف ہو گیا اور اس میں سے دم دار تارے کی شکل کی کوئی چیز نمودار ہوئی ۔ جس میں سے اس قدر تیز روشنی پھوٹ رہی تھی کہ زمین و آسمان جگمگااٹھے تھے۔
یہ چیز بڑی تیزی کے ساتھ اس مندر کی طرف آنے لگی۔ جوں جوں وہ قریب آتی جاتی تھی روشنی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کے اپنی آنکھوں کو چھپانے لگے۔ آن کی آن میں وہ چیز ہندوؤں کے سروں کے بالکل قریب آکر ٹھہر گئی۔
اگر چہ روشنی اس قدر تیز تھی کہ نظر اس پر نہ ٹھہر تی تھی ۔ پھر بھی ان لوگوں نے اپنی آنکھوں کو کبھی بند کر کے اور کبھی کھول کے یہ دیکھ ہی لیا کہ یہ ایک بڑا سندر سجیلا نوجوان ہے۔ جو ایک دودھ ایسے سفید گھوڑے پر سوار ہے۔ اس کے دہنے ہاتھ میں ایک لمبی تلوار ہے۔ جس سے یہ ساری روشنی نکل رہی ہے۔ اس کے سر پر بڑا خوبصورت مکٹ ہے۔ جس میں جگمگاتے ہوئے لعل، ہیرے، زمرد، پکھراج، نیلم اور دوسرے بے بہا جواہر جڑے ہیں۔ گلے میں بڑے بڑے موتیوں کی کئی کئی مالا ئیں ہیں۔ اس کے گھوڑے کا ساز ویراق بھی جواہر سے مزین ہے۔ سر پر اونچی کلغی ہے۔ گھوڑے کی سامنے کی ٹانگوں پر گردن کے قریب دو بڑے بڑے پر ہیں ۔ جو مور کے پروں سے بھی زیادہ رنگین اور خوش نما ہیں۔ یہ پر تھر تھرا ر ہے ہیں جس کی وجہ سے گھوڑا ہوا میں معلق ہے۔
اس عجیب و غریب گھڑ سوار کو دیکھ کر ہندوؤں کی گھگھی بندھ گئی ۔ بعض نے اضطراری حالت میں پوجا پاٹ شروع کر دی ۔ بعض ہاتھ جوڑ جوڑ کر اسے ڈندوت کرنے لگے ۔ ادھر ابراہیم نے بھی جسے آگ نے ذرا گزند نہ پہنچایا تھا سر اٹھا کر اس سوار کو دیکھا اور وہ تکتے کا تکتا رہ گیا۔ یہی حال سارہ کا تھا جو ایک حیرت کے عالم میں کبھی اپنے چچا ابراہیم کی طرف دیکھتی تھی اور کبھی اس سندر سجیلے گھڑ سوار کی طرف۔
اب اس سوار نے گنبھیر مگر بڑی سریلی آواز میں ہندوؤں کے مجمع سے یوں خطاب کرنا شروع کیا:
’’میں ہی ہوں وہ کلکی اوتار ۔ جس کے آنے کی خبر شاستروں میں دی گئی تھی ۔ میں وشنو بھگوان کا دسواں اور آخری اوتار ہوں ۔ مجھے کل جگ کے ختم ہونے پر ظاہر ہونا تھا جس کی مدت چار لاکھ بتیس ہزار سال ہے ۔ مگر آج سنسار پر ادھرم اور پاپ کا ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے مقررہ وقت سے بہت پہلے یہاں آنا پڑا ہے۔
’’میں وشنو ہوں ۔ جب کبھی سنسار میں نیکی گھٹ جاتی ہے اور بدی غلبہ پالیتی ہے تو میں دیو لوک میں اپنے استھان کو چھوڑ کر یہاں آتا ہوں تا کہ نیکوں کی حفاظت کروں اور بدکاروں کو ان کے کیے کی سزا دوں۔ میں نو مرتبہ مختلف اوتاروں کے روپ میں دھرتی پر آچکا ہوں ۔ مگر جیسا ظلم وستم میں آج اس اندھیر نگری میں دیکھ رہا ہوں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا ۔ تم انسان نہیں بھیڑیوں سے بھی بدتر ہو۔ پرتھوی جس نے تمہیں پالا ہے تمہارے کرتوتوں سے ایسی دکھیا ہے کہ وہ تمہاری صورت تک دیکھنا نہیں چاہتی۔ وہ پاتال میں چلی جانا چاہتی ہے۔ دھرتی تو دھرتی آکاش کے دیوتا بھی تم پر نفرین کرتے ہیں ۔ کیوں کہ تم نے ان کے بھگت ہو کر ان کے نام پر کلنک کا ٹیکہ لگایا ہے۔
’’تم شاستروں کے احکام کے مخالف ہو۔ تم ویدوں سے منحرف ہو گئے ہو۔ ہندو دھرم جوسب دھرموں میں بڑا اونچا درجہ رکھتا تھا تم نے اس کو بٹہ لگایا ہے ۔ ہندو دھرم جو اتنا جیور کشک ہے کہ اس میں ایک چیونٹی کی ہتھیا بھی مہا پاپ ہے تم نے اس دھرم میں رہ کر لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے۔ تم نے عورتوں کو بے آبرو کیا ہے ۔ تم نے ان کو ننگا کر کے بازاروں میں پھرایا ہے ۔ تم نے ان کی چھاتیاں اور ناک کان کاٹ کے انہیں زندہ چتاؤں میں جلایا ہے۔ تم نے ان کے بچوں کو بھالوں کی انیوں پر لٹکایا ہے۔ کیا ہندو دھرم کا یہی کر تو یہ ہے ؟
’’ اور پھر ان لاکھوں انسانوں کا قصور کیا تھا؟ محض یہ کہ انہوں نے اپنی نجات کے لیے جو راہ منتخب کی تھی وہ تمہاری راہ سے مختلف تھی۔ ان کا طریق عبادت اور طرز حیات تم سے جدا گا نہ تھا۔ کیا یہ اتنا بڑا قصور تھا کہ انہیں دائرہ انسانیت سے خارج کر کے نیست و نابود کر دیا جاتا ؟
’’ کیا تم نہیں جانتے کہ دنیا کے تمام مذاہب ایک ہی مقصد رکھتے ہیں یعنی سفر آخرت ۔ ہر شخص مسافر ہے اور اپنے اپنے طریق پر سفر کرتا ہے۔ مگر منزل سب کی ایک ہی ہے۔ اور ایک ہی روشنی ہے جو مختلف رنگوں میں نمودار ہوتی ہے مگر سب کے لیے مشعل راہ ہے۔
’’مجھ سے پہلے رام چندر جی ، کرشن جی اور گوتم بدھ آئے تھے جو میرے ہی تین سروپ تھے۔ انہوں نے تم کو سچائی ، دیانت ، عدل و انصاف، ایثار، حلم وصبر کی تعلیم دی تھی ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سنسار میں سکھ شانتی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے تم کو نصیحت کی تھی کہ کسی کا دل نہ دکھاؤ۔ یگانوں بیگانوں کی سیوا کرو۔ کسی سے نفرت نہ کرو۔ محبت سب چیزوں کا سرچشمہ ہے ۔ عارف کی نظر میں برہمن، گائے ، ہاتھی، کتا اور چنڈال برابر ہیں ۔ سب سے اونچا شخص وہ ہے جو دوست دشمن ،نیک و بد سب کو ایک نظر سے دیکھے۔
’’ مگر تم نے ان کی تعلیمات کو بھلا دیا۔ تم جاہ و حشمت، حرص و ہوا کے بندے بن گئے ۔ عناد ،تعصب ، نفرت اور غرور تمہاری گھٹی میں پڑ گئے ۔ اگیان نے تمہاری آنکھوں پر پردے ڈال دیے ۔تم بس کو امرت اور شعلے کو پھول سمجھنے لگے۔ تم یہ بھول گئے کہ یہ جگت کچھ بھی نہیں محض ایک سراب ہے۔ جیسے آکاش نیلے رنگ کا نظر آتا ہے مگر بچار کرنے سے یہ بھرم مٹ جاتا ہے۔
’’ یہ بھی سن لو کہ تقدس ، معصومیت ، شرافت ، خلوص اور حق شناسی کے جو ہر کسی ایک قوم کو ودیعت نہیں ہوئے۔ بلکہ ساری کائنات کے حصے میں آئے ہیں۔ اسی طرح دیوتا بھی کسی خاص مذہب وملت سے تعلق نہیں رکھتے ۔ بلکہ وہ ساری انسانیت کے لیے ہیں۔ اور تمام موجودات میں ان کی ذات کا پر تاؤ ہے ۔ چناں چہ میں نے اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے اب کے کسی ہندو راج محل میں نہیں بلکہ ایک غریب مسلمان لوہار کے جھونپڑے میں جنم لیا ہے...