لچک
لچک
بسم الله الرحمٰن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمین والصلٰوة والسلام علیٰ خیر خلقہ محمد وآلہ واصحابہ اجمعین۔
اما بعد۔ برادرانِ اسلام ۔ میں آج اپنی اس تقریر میں آپ سے کچھ باتیں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ تقسیم ہنداب ایک حقیقت بن چکی ہے اور دو مملکتوں کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے، مگر میں پھر بھی ڈنکے کی چوٹ کہوں گا کہ یہ تقسیم سراسر غیر فطری ، خلاف حقیقت اور فتنہ انگیزہے۔
برادران اسلام ۔ اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک ہزار برس سے مشترک زندگی بسر کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ہماری تہذیب، ہماری معاشرت، ہمارا لباس ، ہمارا رہن سہن ، ہماری زبان، ہماری شاعری، ہمارا ادب غرض زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس پر ہماری متحد قومیت کی چھاپ نہ لگ چکی ہو۔
رہامذہب، تو میرے دوستو اگر بچشم غور دیکھو گے تو اسلام اور ہندو دھرم میں کچھ زیادہ مغائرت بھی نہ پاؤ گے۔ کون نہیں جانتا کہ عیسائیوں موسائیوں کی طرح ہندو بھی اہل کتاب ہیں اور رام چندر جی اور کرشن مہاراج نبیوں کا سا درجہ رکھتے ہیں ۔ ہندوؤں کے سبھی فرقے توحید الہٰی کے بارے میں متفق ہیں ۔ وہ فنائے عالم ، نیک و بد کی سزا و جزا اور حشر و نشر کے قائل ہیں ۔ یادرکھو! ان کی بت پرستی شرک کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کا یہ عمل ’’تصور شیخ‘‘ کے فلسفے سے مشابہت رکھتا ہے جو ہمیشہ سے صوفیائےاسلام کا شعار رہا ہے۔
جب اس حی وقیوم اور قادرِ مطلق ذات نے کائنات کو تخلیق کیا۔ تو اپنے ایک فرشتے بر ہما کے وسیلے سے نوع بشر کی ہدایت کے لیے ایک کتاب مسمی بہ دید نازل کی ۔ وید میں چار دفتر ہیں اور امرو نہی کے احکام اور ماضی و مستقبل کے واقعات ہیں۔
دھرم شاستر سے مراد علم کلام ہے ۔ کرم شاستر سے علم فقہ ۔ ڈنڈوت سے مراد سجدہ ہے جو ماں باپ مرشد اور استاد کی تعظیم کے لیے رائج ہے ۔ اور یہ اسلام میں بھی ’’سجدہ تعظیم‘‘ کے نام سے جائزہے۔
حضرت خضر علیہ السلام اور ناردمنی جی میں جو مماثلت ہے وہ اہل دانش سے پوشیدہ نہیں ہے۔
پس اے میرے دوستو! کفرودین کا جھگڑا بے معنی ہے ۔ حقیقت میں ایک ہی چراغ سے کعبہ و بت خانہ روشن ہیں.....
۲
برادران اسلام ! آج میں پھر آپ سے مخاطب ہوں ۔ جن مسلمانوں نے پاکستان بنانے کا منصوبہ بنایا تھا وہ تو پاکستان جاچکے اور جو آئندہ جانا چاہیں گے چلے جائیں گے۔ مگر چھ کروڑ مسلمان کسی صورت ہندوستان کو نہیں چھوڑ سکتے ۔ ہندوستان آج بھی مسلمانوں کا ویسا ہی وطن ہے، جیسا ہندوؤں کا ہے۔ اور اس پر مسلمانوں کا بھی ویسا ہی حق ہے ، جیسا ہندوؤں کا ہے۔ ہمیں تو یہیں رہنا ، یہیں جینا ،یہیں مرنا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں کو یہاں رہنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ پھر ان کو اپنے حقوق کا ایسا تحفظ بھی حاصل نہیں ہے جیسا ہندوؤں کو حاصل ہے۔ پھر یہ بھی درست ہے کہ ہمارے بعض نا سمجھ برادران وطن ہمیں مٹانے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ ہماری دل آزاری کی جارہی ہے۔ شہروں قصبوں اور دیہات میں فسادات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ہماری بستیوں کو آگ لگائی جا رہی ہے۔ ہزاروں مرد عورتیں اور بچے موت کے گھاٹ اتارے جارہے ہیں ۔
مگر میں کہوں گا کہ موجودہ فرقہ وارانہ تلخی ہندوستان کی زندگی کا محض ایک عارضی باب ہے ، اور جیسے ہی مسلمان اپنے ہندو بھائیوں پر یہ ثابت کر دیں گے کہ ان کے دلوں میں بھی بھارت ماتا کی اتنی ہی حرمت ہے جتنی کہ ہندوؤں کے دلوں میں ہے۔ اور وہ وقت آنے پر کٹ مریں گے مگر مادر وطن کی ناموس پر آنچ نہ آنے دیں گے، تو اے میرے دوستو! یہ سب کچھ خود بخود ختم ہو جائے گا۔
٣
برادران اسلام ! ہندوستان کی حیثیت اس وقت ایک سیکولر اسٹیٹ یعنی لادینی مملکت کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں سرکاری طور پر نہ تو اسلام کی کوئی حیثیت ہے، نہ ہندو دھرم کی اور نہ عیسائیوں سکھوں اور پارسیوں کے مذہب کی اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ سیدھا اور سچا راستہ ہے جس پر چل کر ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے اور ہم اپنے آئے دن کے مذہبی جھگڑوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ آج سیکولرزم ہماری ایک ضرورت بھی ہے اور ہمارا ایک آسرا بھی ، اور سیکولرزم ہی میں ہمارے دیس کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
برادران اسلام ! نے ہندوستان میں جو حالات پیدا ہو چکے ہیں ان کا تقاضا ہے کہ اسلام پر نظر ثانی کی جائے۔ علماء کی روایتی شریعت موجودہ زمانے کے دماغوں کو مطمئن نہیں کر سکتی ۔ چناں چہ وقت کی ضرورت اور زمانے کے رجحانات کو نظر میں رکھتے ہوئے کیا ہمارے لیے یہ مناسب نہ ہوگا کہ ہم شریعت میں ایسی لچک پیدا کر لیں۔ کہ اس میں حکومت وقت کے ہر قانون کو قبول کرنے اور اپنانے کی صلاحیت پائی جائے.....
بھائی مسلمانو! جیسا کہ میں نے پچھلی دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ، ہمارے دیش میں دنگے فساد کا سلسلہ برابر جاری ہے اور مسلمانوں کی جائیداد یں برابرلوٹی جارہی ہیں ۔ ان کی بستیوں کو برابر آگ لگائی جارہی ہے اور جو لوگ بھاگنا چاہتے ہیں ان کو برچھیاں اور بلم مار مار کر چتاؤں میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ہزاروں مسلمان جھوٹ موٹ کے الزاموں میں جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بڑے کھٹور پن کا برتاؤ ہو رہا ہے۔
بھائی مسلمانو! جانتے بھی ہو اس کا کارن کیا ہے؟ اس کا کارن یہ ہے کہ ہمارے بھائی ابھی تک ہم کو بڑے شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کو ہم پر بھروسہ نہیں ہے۔ حالاں کہ ہم کوئی غیر تھوڑا ہی ہیں ۔ ہم میں سے بہت سوں کی رگوں میں ہندو خون دوڑ رہا ہے اور اگر چھان بین کی جائے تو اکثر مسلم خاندانوں کا شجرۂ نسب کسی نہ کسی ہندو گھرانے ہی سے جاملے گا۔
مگر ہمارے بھائی ہم سے کہتے ہیں، کہ ہندو سماج میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے۔ تم نے یہاں چاہے کتنی صدیاں حکومت کی ہو ، مگر تمہاری حیثیت ہمیشہ ایک اجنبی اور بیرونی حملہ آور کی رہی ہے ۔ اب تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ یا تو یہاں سے نکل جاؤ یا خود کو ہندو سماج میں سمو دو ۔ اپنے اسلامی ناموں کو بدل دو ۔ مکے مدینے کو بھول جاؤ اور رام لچھمن اور سیتاجی کے آستانوں پر سر جھکاؤ۔ بھئی مسلمانو! میں نے تم کو وقت کے تقاضے سے خبر دار کر دیا ہے ۔ اب اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا تمہارا کام ہے۔ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں تو زندگی کی آخری گھڑی تک ہندوستان ہی میں رہنے اور یہیں ہر قسم کے دکھ سہنے کو تیار ہوں۔ کیوں کہ ہندوستان میرا دیش ہے اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ وطن کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔
کیا ہرج ہے اگر میں آج چھپ کر بھی گائے کی قربانی نہ کر سکوں ۔ یہ کوئی پن کا کام تو ہے نہیں اور پھر کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑے گا اگر میں اردو کو دیوناگری رسم الخط میں پڑھنے لگوں ۔ خط لاکھ بدل جائے مگر مضمون تو وہی رہے گا ۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ کوئی ہندوستانی کپڑے اتار کر انگریزی لباس پہن لے۔ اس سے ہیت شاید بدل جائے مگر روح تھوڑا ہی بدل سکتی ہے!
اور پھر اگر میں ہولی کے دنوں میں گھر سے باہر نکلوں اور میرے بھائی مجھ پر کیچڑ یا گندگی اچھال دیں اور میرا منہ کالا کر دیں تو اس سے میرا دم تھوڑا ہی نکل جائے گا.....
٤
متر و تتھا دیش بھگتو !
مہاتما گاندھی کی مہما کون کہہ سکے۔ ان کا چرترات ینت ہی اپور وہ تھا آدرمان تھا ۔ ان کے الوکک تیاگ نے ہی ان کو د یو تلیہ بنادیا تھا۔ پیٹرت منش یتو کا پکش لے کر اس کے کشٹ کونشٹ کرنے کے کارن سویم نانا پر کار کی وپیتوں کا دھیر یہ پوروک سہن کرتے رہنا ہی ان کے چرتر کی وشیشتاتھی ستیہ کا انوسندھان کرنا ہی ان کے جیون کا مول منتر تھا۔
جس بات کو وہ متھیا تتھا انیائے یکت سمجھتے تھے ان کا یتھا سادھیہ پریتن کر کے جب تک سدھار نہ کر لیتے تب تک و شرام نہیں لیتے تھے۔ اور اپنے اسی آدرش کا پالن کرتے ہوئے انت میں وہ اپنے جیون کی بھینٹ دے کر امر ہو گئے ۔
سنسار میں کرم ویر، دھرماتما تتھا تیاگی ویکتیوں کا ابھاؤ نہیں ہے ۔کشو ان کے سمان کرم ویر تتھا دھرم ویر تتھا تیاگی ہو نا در لبھ ہے ۔ یدھے پی ..... تدھےپی ...تتھا..... تتھا.....