روحی
روحی
اے میرے بچپن کے دوست !
ایک طویل مدت کے بعد تمہارا خط ملا۔ میں تو تمہاری طرف سے مایوس ہی ہو چکا تھا مگر تمہارے اس خط کو پا کر مجھے ایسی خوشی ہوئی کہ اس کا اظہار مشکل ہے۔ تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ تم بفضل خدا ابھی تک تندرست و توانا ہو اور پیرانہ سالی کے باوجود نہ تو جہاں گردی سے تمہارا جی بھرا ہے اور نہ سیر و سیاحت سے تمہارے پاؤں ہی تھکے ہیں۔
تم نے پچھلا خط روم سے لکھا تھا۔ اس امر کو دس برس گزر چکے ہیں اور اب تم ہونولولو میں ہو جہاں سے تم نے یہ خط لکھا ہے۔ میں تمہارا شکر گزار ہوں کہ طویل وقفوں کے بعد سہی مگر تم مجھے یاد تو کر ہی لیتے ہو۔ میں تمہارے سیر و سیاحت اور تمہاری مہم جوئی کے حالات بڑی دلچسپی سے پڑھتا ہوں ۔ میں خوش ہوں کہ تم بھی میرے معاملات سے دلچسپی رکھتے ہو۔ کیوں کہ تم نے میری زندگی کے پچھلے دس برس کے واقعات پوری تفصیل کے ساتھ دریافت کیے ہیں۔ تم نے لکھا ہے کہ تم تین ماہ تک مندرجہ پتہ پر میرے جواب کا انتظار کرو گے، لہٰذا تعمیل ارشاد کرتا ہوں ۔
میں اب خاصہ بوڑھا ہو چکا ہوں ۔ میرے سر کے بال تقریباً سفید ہو گئے ہیں، کمر میں کسی قدر خم بھی آ گیا ہے۔ شاید کچھ ایسی ہی کیفیت تمہاری بھی ہو ۔ مگر میرے تصور میں تو تم اب بھی وہی جوان رعنا ہو جو آج سے تقریباً نصف صدی قبل میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کالج کی گراؤنڈ میں گھوما کرتا تھا۔ تم جانتے ہو کہ جہاں تک شعر و ادب، فنون لطیفہ بالخصوص موسیقی و مصوری کا تعلق ہے ہماری طبیعتوں میں بڑی مماثلت رہی ہے۔ مگر ساتھ ہی ایک بڑا فرق بھی رہا ہے وہ یہ کہ تم ہمیشہ سے مہم جو اور سیلانی ٹھہرے ہو اور میں ہمیشہ سے آرام طلب اور سہل انگار ہوں۔ تم نے اپنی آزادی طبع کو ہر چیز سے متقدم جانا اور اسی وجہ سے عمر بھر خود کو تاہل کی زنجیر میں نہیں جکڑا اور میں نے تعلیم کے بعد ملا زمت میں منسلک ہوتے ہی ایک چھوٹا سا گھر بسا لیا۔
تم کو عابدہ کی موت یاد ہوگی اور یہ بھی یاد ہو گا کہ کس طرح وہ شادی کر کے دوسرے ہی برس مجھے ایک بچی کا تحفہ دے کر ہمیشہ کے لیے مجھ سے رخصت ہوگئی تھی ۔ میں اس بچی سے نفرت بھی کرتا تھا اور محبت بھی۔ نفرت اس لیے کہ اس کی وجہ سے میں ایک متاع عزیز سے محروم ہو گیا تھا اور محبت اس لیے کہ وہ آخر تھی تو میرا خون ہی ۔ میں نے اس کی خاطر دوسری شادی کا خیال ہی ترک نہیں کر دیا تھا بلکہ جنس لطیف کی طرف سے اپنی آنکھیں ہی بند کر لی تھیں ۔
میں دل و جان سے سلیمہ کی پرورش کرتا رہا۔ میں نے اس کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ جب وہ جوان ہوئی تو ہو بہو اپنی ماں کی تصویر تھی۔ ویسے ہی خدو خال ، ویسے ہی بھورے بال ، ویسے ہی دراز قامت۔ اس کی ذمہ داری اس وقت تک مجھ پر رہی جب تک کہ اس کی شادی نہ ہو گئی ۔ اسے یونی ورسٹی کے زمانے ہی میں اپنے ایک ہم سبق سے دل بستگی ہوگئی تھی ۔ یہ صاحبزادہ خاصے خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ شادی کے بعد وہ دونوں دو سال تک اپنے ہی ملک میں رہے ۔ پھر شوہر کا تبادلہ کا روبار کے سلسلے میں ممالک غیر میں ہو گیا جہاں وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہےہیں۔
سلیمہ کی شادی کے بعد میں نے اس بوڑھی ماما کو جسے عابدہ نے ملازم رکھا تھا اور جس نے اس کی موت کے بعد سلیمہ کی پرورش میں میری مدد کی تھی اپنے پاس ہی رہنے دیا، البتہ اب وہ میرا دونوں وقت کا کھانا پکا کر سر شام اپنے بیٹے اور بہو کے پاس چلی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ میرا پرانا خدمت گار خدا بخش بھی تھا جو مالی کا کام بھی کرتا تھا اور میری دیکھ بھال بھی۔
پچپن برس کی عمر کو پہنچ کر میں ملازمت سے سبکدوش ہو گیا ۔کوئی نیا کام شروع کرنے کو نہ تو جی ہی چاہا اور نہ اس کی ضرورت ہی محسوس ہوئی ۔ ماہانہ پنشن اور ملازمت کے دوران بچائی ہوئی پونجی کی بدولت مجھے ہر ماہ اتنی رقم مل جاتی کہ میں اس سے خاصی آرام و آسائش کی زندگی گزار سکوں ۔ مکان جس میں میں رہتا تھا وہ بھی میری ہی ملکیت تھا جسے میں نے ملازمت کے ابتدائی برسوں ہی میں سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تعمیر کرالیا تھا۔ اس مکان میں مجھے پہلی مرتبہ وہ سکون اور تنہائی نصیب ہوئی جس کا میں عمر بھر خواہاں رہا تھا۔ میرا زیادہ تر وقت مطالعہ میں صرف ہوتا ۔ گھر سے بہت کم با ہر نکلتا ، نہ کہیں آتا نہ جاتا۔ جب بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو اپنے بنگلے کے چھوٹے سے باغیچے میں چہل قدمی کر لیا کرتا۔
میرے دوست ! شاید تم پوچھو کہ اس مکان میں چوبیس گھنٹے تن تنہا رہتے ہوئے تمہارا جی گھبرانہ جاتا ہوگا ۔ نہ کوئی دوست، نہ کوئی ساتھی ، نہ محرم راز، نہ غمگسار ۔ یہ پہاڑ سے دن ، یہ سونی سونی راتیں تنہا کیسے کٹتی ہوں گی ! تمہارا یہ سوال دنیا والوں کے نقط خیال سے شاید درست ہومگر شاید تمہیں یادر ہا ہو کہ میری طبیعت شروع ہی سے تنہائی پسند رہی ہے۔ جب اسکول میں پڑھتا تھا تو اکثر چھٹی کے روز کتاب لے کر گھر سے نکل جاتا اور باغ کا کوئی سنسان گوشہ تلاش کر کے دن بھر مطالعہ میں مصروف رہتا۔ کالج کے زمانے میں بھی جیسا کہ تم جانتے ہو میں دوسرے طلباء سے الگ تھلگ ہی رہا،تم البتہ وہ واحد شخص ہو جس کی دوستی اور رفاقت میرے لیے خوشیوں کا سرچشمہ بنی۔
پھر جب میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوا تو اپنی رفیقہ ٔحیات کو جنون کی حد تک چاہنے لگا اور اس کی خاطر مجھے اپنے کئی اصول توڑنے اور اپنی عادتیں بدلنی پڑیں۔ مگر یہ میری انتہا درجہ کی بد قسمتی تھی کہ عابدہ جلد ہی میرا ساتھ چھوڑ گئی اور سلیمہ کی تعلیم و تربیت کا سارا بوجھ مجھ پر پڑ گیا۔ اس کی دیکھ بھال اور دفتر کی مصروفیت نے اتنی مہلت ہی نہ دی کہ میں دوبارہ لذت تنہائی سے بہرہ مند ہو سکتا۔ آخر جب سلیمہ کی شادی خیر و خوبی سے انجام پاگئی تو میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ یہ سچ ہے کہ سلیمہ کے چلے جانے کے بعد کچھ دنوں مجھے یہ گھر بہت سونا سونا معلوم ہوا لیکن پھر جلد ہی مجھے محسوس ہونے لگا جیسے میری کوئی کھوئی ہوئی چیز رفتہ رفتہ مجھے واپس مل رہی ہے۔ پھر جب میں ملازمت سے سبکدوش ہوا تو میری مسرت کا ٹھکانہ ہی نہ تھا کیوں کہ لامحدود و فراغت کا ایک طویل زمانہ میرے سامنے تھا۔
تم لوگ جو عورت کو دنیا جہان کی مسرت کا گہوارہ سمجھتے ہو، تم کو کیا معلوم کہ عورت کے سوا د نیا میں اور بھی کئی دل کو لبھا لینے والی چیزیں ہیں جن سے روح کو تسکین اور دماغ کو فرحت ملتی ہے۔ شاعری! کون ہے کہ میر، غالب، حافظ، عمر خیام، کیٹس، شیلی کے نغمات سن کر اس کے ساز دل کے تار جھنجھنانہ اٹھیں ۔ یہی حال مصوری، موسیقی اور دوسرے فنون لطیفہ کا ہے۔
تم کبھی یہاں آؤ تو دیکھو کہ میں نے دنیا بھر کے شعر وادب کے کیسے کیسے شاہ کار اپنے گھر میں جمع کر رکھے ہیں جن کے مطالعہ کو میں مدتوں ترستا رہا ہوں ۔ دنیا بھر کے با کمال مصوروں کی تصویریں میرے گھر کی زینت ہیں۔ میں انہیں پہروں دیکھتارہتا ہوں ۔ میں ان سے باتیں کرتا ہوں ۔ میں ان کی خاموشی کا راز سمجھتا ہوں۔
پھر دنیا بھر کی کلاسیکی موسیقی کے ریکارڈ میرے پاس ہیں ۔ ان کو سنتا ہوں تو مجھ پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے کائنات کے سربستہ راز مجھ پر عیاں ہو ہے ہیں۔ انسان کے جذبات و حسیات ،حسن و عشق ، نفرت و محبت ، گناہ و ثواب، صلح و جنگ کی کیسی کیسی تمثیلیں ان شاعروں، مصوروں اور موسیقی دانوں نے اپنے اپنے فن کے ذریعے پیش کی ہیں۔ کیسے کیسے ناول اور ڈرامے لکھے گئے جن کو پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی ان کے کرداروں کے ساتھ ساتھ اسی ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ صناعی کے یہ شاہ کار عورت ذات سے کتنے مختلف ہیں، نہ یک بیک ساتھ چھوڑ دینے والے، نہ دغا فریب دینے والے، نہ کچھ طلب کرنے والے!۔۔۔۔۔ پیارے دوست معاف کرنا میں نہ جانے کدھر بھٹک گیا۔
میری ملازمت سے سبکدوشی کو چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ بوڑھی ماما جس کا نام نصیبن بوا تھا اپنے گھر سے آئی تو باورچی خانے میں جانے کے بجائے سیدھی میرے کمرے میں چلی آئی ۔ وہ کچھ گھبرائی ہوئی سی تھی ، سانس پھولا ہوا تھا۔ میں نے اس کے چہرے سے بھانپ لیا کہ وہ مجھ سے کوئی خاص بات کہنا چاہتی ہے۔
’’ نصیبن بوا! کیا بات ہے، خیریت سے تو ہو؟‘‘ میں نے بڑی نرمی سے پوچھا۔
نصیبن بوانے اپنی گھبراہٹ پر کسی قدر قابو پاتے ہوئے کہا۔ ’’خدا حضور کو سلامت رکھے ویسے تو سب خیریت ہے مگر ایک معاملے میں حضور کی مدد کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔‘‘
’’کس معاملے میں؟“
’’بڑا نیکی کا کام ہے حضور ۔ خدا آپ کو اس کا بڑا اجر دے گا ۔“
’’بتاؤ تو سہی نصیبن بوا میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘
بہت سوال و جواب کے بعد معلوم ہوا کہ نصیبن بوانے پچھلے دو تین دن سے ایک بے سہارا لڑکی کو اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے۔ یہ لڑ کی یتیم ہے اور اس کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔ پڑھی لکھی ہے اور ایک اسکول میں بچوں کو پڑھاتی ہے۔ اس کام سے اسے اپنے گزارے کے لیے خاصی رقم مل جاتی ہے۔ وہ پچھلے دس ماہ سے اسی اسکول کی ایک بڑی استانی کے ساتھ رہتی تھی ۔ اس استانی نے نوکری چھوڑ دی اور کسی اور شہر چلی گئی چناں چہ اس لڑکی کو بھی اپنا کمرہ خالی کرنا پڑا ۔نصیبن بوا اس لڑکی کو اپنے محلے میں پریشان حال پھرتے دیکھ کر ، اور اس پر ترس کھا کر اپنے گھر لے گئی۔ وہ دو دن سے شہر کے کئی علاقوں میں اس لڑکی کے لیے کرایہ پر کمرہ تلاش کرتی رہی ہے مگر اسے کامیابی نہیں ہوئی ۔ جن گھروں نے اسے کمرہ دینے پر آمادگی ظاہر کی انہیں نصیبن بوانے لڑکی کی کم عمری کے سبب (اس کی عمر صرف بیس سال ہے) مناسب نہیں سمجھا۔ ان میں یا تو مردوں کی کثرت تھی ، یا ان کا رہن سہن مشکوک تھا۔ وہ دو ایک ہوٹلوں میں بھی گئی مگر ان میں بھی کوئی جگہ خالی نہیں ملی۔ آخر میں نصیبن بوانے مجھ سے درخواست کی کہ وہ کمرہ جو سلیمہ بی بی کی شادی کے بعد سے اب تک خالی پڑا ہے ، اس میں اس لڑکی کو دو ایک مہینے کے لیے ٹھہرا لیا جائے۔ اس عرصے میں وہ لڑکی کوئی نہ کوئی ٹھکانہ تلاش کر ہی لے گی۔
میں بوڑھی ماما کی یہ بات سن کر بھونچکا سارہ گیا ۔ میں کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اپنے اسی نرم لہجہ میں جس سے میں ہمیشہ اس سے مخاطب ہوتا تھا، کہا:
’’نصیبن بوا! ذرا سوچو تو ۔ جس مکان میں ایک مرد اکیلا رہتا ہو اس میں ایک نوجوان بن بیاہتا لڑکی کیسے رہ سکتی ہے؟ آس پاس کے لوگ کیا کہیں گے۔ طرح طرح کی چہ میگوئیاں نہ ہوں گی ! یہ گھر بدنام نہ ہو جائے گا! مجھے حیرت ہے کہ تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہی کیوں کر ہوا!‘‘
”حضور میں جانتی ہوں کہ یہ معاملہ ذرا مشکل ہے لیکن میں تیس برس سے حضور کا نمک کھا رہی ہوں۔ میں نے حضور جیسا شریف اور نیک دل انسان کہیں نہیں دیکھا۔ حضور کے بارے میں کوئی برا خیال دل میں لا ہی نہیں سکتا۔ رہا دنیا والوں کا معاملہ تو ایک نیک کام کے لیے حضور کو دنیا والوں کی باتوں کا کچھ خیال نہیں کرنا چاہیے۔ اس لڑکی کا چال چلن دیکھیے ۔ اگر اسکول والوں کو اس کے بارے میں ذرا سا بھی شبہ ہوتا تو وہ اسے استانی کی نوکری دیتے ہی کیوں؟ اس لڑکی کی آنکھوں میں حیا ہے، شرم ہے۔ میں عورت ہوں۔ وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی نظریں جھکائے ہی رکھتی ہے۔ اس کی صورت ایسی بھولی بھالی ہے کے بے اختیار اس پر ترس آتا ہے۔ اگر میری کوٹھڑیا اس قابل ہوتی تو میں اسے اپنے پاس ہی رکھ لیتی۔ اسے یہاں ہمیشہ تھوڑا ہی رہنا ہوگا حضور، بس دو ایک مہینے ہی کی تو بات ہے، اللہ حضور کو اس کا اجر دے گا اور وہ لڑکی بھی عمر بھر دعائیں دے گی۔“
پیارے دوست!نصیبن بوا کی اس درخواست نے مجھے عجب خلجان میں ڈال دیا ہے۔ جب عابدہ نے اسے ملازم رکھا تھا تو وہ ایک کم عمر بیوہ تھی جس کا تین چار سال کا ایک لڑکا تھا۔ وہ دیہات کی رہنے والی ان پڑھ عورت تھی مگر عابدہ نے چند ہی مہینوں میں اسے تربیت دے کر خاصا مطلب کا بنالیا تھا۔ اس نے لڑکے کو تو اپنے بھائی بھاوج کے پاس چھوڑ ا اور خود ہمارے پاس رہنے لگی تھی ، پھر جب عابدہ نے انتقال کیا تو سلیمہ کی پرورش زیادہ تر اسی نے کی تھی۔ اس لحاظ سے میں اس کا بڑا احسان مند تھا چناں چہ میں ہمیشہ اس سے نرمی کا سلوک کیا کرتا تھا۔ اس کی تیس سالہ ملازمت کے دوران مجھے کبھی اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی تھی ، اسے نہ تو چوری کی عادت تھی نہ جھوٹ بولنے کی ۔ اسے سلیمہ سے سچی محبت تھی چناں چہ جب شادی کے بعد ہم نے اسے رخصت کیا تو نصیبن بواایسی پھوٹ پھوٹ کر روئی جیسے یہ اس کی اپنی لخت جگر ہو ، پھر جب تک اس کے اپنے لڑکے کی شادی نہ ہوگئی، وہ میرے ہی گھر میں رہتی رہی۔ لڑکے کی شادی کے بعد البتہ وہ میری اجازت سے رات کو بیٹے اور بہوکے پاس چلی جاتی کیوں کہ بیٹا اپنی بیوی کو اکیلا نہیں چھوڑ نا چاہتا تھا۔ نصیبن بوا کی ایک بات اور بھی تھی وہ یہ کہ اس سے پہلے اس نے مجھ سے کبھی کوئی درخواست نہیں کی تھی اور یہ درخواست بھی اس نے مجبوری کے عالم میں اور مجھ پر پورا بھروسہ کر کے کی تھی ، چناں چہ اس کا دل توڑنا میرے لیے بہت مشکل ہو گیا۔
اچانک ایک خیال میرے ذہن میں آیا کہ شاید نصیبن بوا کو اس لڑکی کا کھانا وغیر ہ بھی پکا نا پڑتا ہو اور اس طرح اسے کچھ مالی فائدہ پہنچنے کی امید ہومگر دوسرے ہی لمحے میں نے اس خیال کو دل سے نکال دیا کیوں کہ نصیبن بوالا بچی ہرگز نہ تھی تاہم میں نے تھوڑی سی مدافعت اور کی مگر بالآخر میں نے نصیبن بوا کے آگے ہتھیار ڈال ہی دیے۔
اگلے روز کوئی عام تعطیل تھی ۔ اسکول اور دفاتر بند تھے۔ میں ابھی اپنی خواب گا ہی میں تھا کہ بر آمدے اور بڑے کمرے میں تیز اور سبک قدموں کی آواز سن کر مجھے احساس ہوا کہ گھر میں کوئی تیسرا آدمی بھی موجود ہے۔ میری بیٹی کا کمرہ جو اس کی شادی کے بعد سے اب تک بند پڑا تھا کھلوایا اور صاف کرایا گیا۔ یہ کمرہ بنگلے کے سامنے کے رخ ایک گوشے میں تھا۔ یہاں سے باغیچے کا منظراور بنگلے کا پھاٹک نظر آتا تھا۔ میرا کمرہ بنگلے کے دوسرے گوشے میں تھا ۔ ان دونوں کمروں کے درمیان وسیع برآمدہ تھا جس سے ملحق ایک بڑا کمرہ تھا جو بیک وقت ڈرائنگ روم اور ڈائیننگ روم دونوں کا کام دیتا تھا۔ اس کے برابر میں ایک اور بیڈ روم تھا جسے میں نے لائبریری میں تبدیل کر لیا تھا۔ یہ یک منزلہ مکان زیادہ بڑا نہیں تھا مگر میری آسائشوں کے لیے کافی تھا۔
تھوڑی دیر بعد میرے کمرے کے دروازے پر دستک کے ساتھ نصیبن بوا کی آواز سنائی دی:
’’ناشتہ تیار ہے، سرکار ۔“
اور پھر جب میں ڈائیننگ روم میں ناشتہ کر رہا تھا تو بوڑھی مامانے مسکراتے ہوئے کہا:
’’ روحی آگئی ہے سرکار، کیا آپ اسے دیکھنا پسند کریں گے؟“
’’نہیں نہیں ۔‘‘ میں نے جلدی سے کہا۔ ”آج نہیں ۔ پھر کبھی دیکھا جائے گا۔“
تو اس لڑکی کا نام روحی ہے! میں نے دل میں کہا۔
میں دن بھر حسب معمول اپنے مشاغل میں مصروف رہا اور وہ لڑکی بھی دن بھر اپنے کمرے ہی میں بند رہی ۔ کھانا بھی اس نے اپنے کمرے ہی میں کھایا۔ اگلے روز میں صبح جلدی بیدار ہو گیا تا کہ جب وہ اسکول جانے لگے تو میں کھڑکی کے پردے کے پیچھے سے اس کی ایک جھلک دیکھ سکوں ۔ میرے دوست شاید تم میری اس بات پر ہنسو لیکن یہ محض ایک انسانی جذبہ تھا جسے تجسس نے خود بخود میرے دل میں پیدا کر دیا تھا۔
مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ میں نے دیکھا کہ ایک دبلی پتلی لمبے قد کی لڑکی سفید رنگ کی قمیض پہنے، دو پٹہ اوڑھے، ہاتھ میں سیاہ ہینڈ بیگ لیے جلد جلد قدم اٹھاتی با غیچے سے گزری اور پھاٹک کا چھوٹا درواز کھول کر باہر نکل گئی۔ میں اس کی شکل صورت بالکل نہ دیکھنے پایا۔
اسی روز سہ پہر کو جب نصیبن بوا چائے کی ٹرے لیے لائبریری میں آئی جہاں میں عموماً چائے پیا کرتا تھا تو وہ بڑی خوش معلوم ہوتی تھی۔ کہنے لگی:
’’خدا حضور کو سلامت رکھے۔ روحی یہاں بہت خوش ہے۔ اسے بہت آرام ملا ہے۔ یہ بنگلہ اس کے اسکول سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں۔ رکشا ٹیکسی آسانی سے مل جاتی ہے اور نہ ملے تو پیدل بھی آجاسکتی ہے۔“
ایک ہفتہ گزر گیا۔ اس کے دوران میں میرا اور روحی کا آمنا سامنا نہ ہوسکا۔ دو ایک مرتبہ اور میں نے صبح اٹھ کر اپنے کمرے سے اس کو اسکول جاتے ہوئے دیکھا مگر مجھے اس کی صرف پشت ہی دکھائی دی ،صورت نہ دیکھ سکا۔
یہ بھی کوئی چھٹی ہی کا دن تھا جب میں اپنی لائبریری میں گیا تو وہاں اس لڑکی کو پایا۔ وہ شیلفوں میں رکھی ہوئی کتابوں کو بڑی اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ میرے اچانک وہاں آجانے سے وہ ایک دم گھبر اسی گئی ، اور سر پر اپنے دو پٹے کو درست کرنے لگی۔
’’سر‘‘ اس نے بڑی لجاجت سے کہا۔ ”معافی چاہتی ہوں کہ آپ کی اجازت کے بغیر آپ کی لائبریری میں آگئی ، ویسے بڑی بی نے مجھے اجازت دے دی تھی اور کہا تھا کہ میں خود صاحب سے اجازت لے لوں گی ۔ شاید وہ آپ سے کہنا بھول گئیں ۔‘‘
’’کوئی بات نہیں۔ کوئی بات نہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ اس میں بعض شیلف مقفل ہیں جن میں قلمی کتا بیں یا نا یاب نسخے ہیں۔ باقی شیلف کھلے ہیں ، ان میں سے آپ جونسی کتاب چاہیں نکال کر پڑھ سکتی ہیں۔‘‘
’’ بہت بہت شکر یہ!‘‘
آج جب پہلی مرتبہ میں نے اس کی صورت دیکھی تو اچانک مجھے احساس ہوا کہ نصیبن بوانے یقیناً ایک بات مجھ سے چھپائی تھی وہ یہ کہ یہ لٹر کی غیر معمولی طور پر حسین تھی ۔ اس کے خدو خال میں بلا کی جاذبیت تھی۔ آنکھوں میں ذہانت کی چمک شائستہ لہجہ، مجھ سے گفتگو کے دوران اس نے اپنی نظریں جھکائے رکھی تھیں۔
’’آپ کس قسم کی کتابیں پڑھتی ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سر مجھے فرانسیسی ادب سے خاص طور پر دلچسپی ہے اور کسی قدر انگریزی شاعری سے بھی ۔ کالج کے زمانے ہی سے مجھے ادب کے مطالعے کا شوق پیدا ہو گیا تھا مگر ابا جان کے انتقال پر مجھے کالج چھوڑ دینا پڑا اور نوکری تلاش کرنی پڑی۔ امی جان کا پہلے ہی کئی سال ہوئے انتقال ہو چکا تھا۔ ۔ ۔“
میں نے اس نا خوشگوار موضوع کو بدلنے کے لیے قطع کلام کرتے ہوئے پوچھا:’’ آپ کو فرانسیسی ادب میں کون سی کتاب سب سے اچھی لگی ؟‘‘
"سر ۔مجھے فلو بیر کی ’’مادام بواری‘‘ بہت پسند ہے، اس کو انگریزی میں پڑھنے کے بعد میں نے کالج میں فرانسیسی زبان کو بھی ایک سبجیکٹ کے طور پر لے لیا تھا اور فرانسیسی سے کچھ شد بد بھی ہوگئی تھی ۔“
میں نے کہا :’’ میرے کتب خانے میں فلو بیر کی قریب قریب تمام کتابیں موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں بالزاک، زولا ، وکٹر ہیوگو، موپاساں کی بھی متعد دکتابیں ہیں ۔ روسی مصنفین میں آپ کو ترگنیف ، ٹالسٹائی، دوستوئفسکی ، چیخوف اور گورکی کی کتابیں ملیں گی۔“
جب میں یہ نام گنوا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ہر نام پر روحی کی آنکھیں چمک چمک اٹھتیں تھیں۔
’’سر۔ کیا مجھے ان کتابوں کو پڑھنے کی اجازت ہوگی؟“
”ہاں ۔ کیوں نہیں۔“
’’اپنے ساتھ اسکول لے جانے کی بھی؟ مجھے وہاں ہر روز کوئی نہ کوئی پیریڈ خالی مل جاتا ہے ۔ میں کتابوں کو بڑی حفاظت سے پڑھتی ہوں۔ میں ان پر اخباری کا غذ چڑھا لیتی ہوں تاکہ سر ورق میلا نہ ہونے پائے۔‘‘
’’ آپ کو جس کتاب کی ضرورت ہو بے جھجک الماری سے نکال کر لے جاسکتی ہیں۔“
’’تھینک یوسر۔‘‘
اس ملاقات کے بعد کوئی آٹھ دس روز تک میں اس سے دوبارہ نہیں مل سکا۔ البتہ جب وہ اسکول چلی جاتی تو میں لائبریری میں جا کر دیکھتا کہ وہ کون سی کتاب اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ اس نے پہلے تو شولوخوف کی ’’کنواری زمین‘‘ کے دونوں حصے پڑھے اور اس کے بعد دوستوئفسکی کی ’’احمق‘‘کا مطالعہ شروع کیا۔ میں یہ بھی دیکھتا کہ ہر روز رات کو اس کے کمرے کی بتی دیر تک روشن رہتی ہے۔
ایک دن سہ پہر کو میں اپنے باغیچے میں ٹہل رہا تھا جس کو خدا بخش نے خاصا سرسبز بنا رکھا تھا کہ اتنے میں ایک ٹیکسی بنگلے کے پھاٹک پر رکی۔ روحی بنگلے میں داخل ہوئی۔ پل بھر کے لیے ہماری نظریں ملیں پھر جھٹ اس نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ میں تھوڑی دیر تک اور باغیچے میں ٹہلتا رہا، پھر لائبریری میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ پہلے سے وہاں موجود ہے۔ مجھے دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی ۔ مگر جلد ہی اس نے خود کو سنبھال لیا۔
’’سر۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’میں آپ کی نوازشوں سے کچھ زیادہ ہی فائدہ اٹھانے لگی ہوں ۔آپ مجھے باعث زحمت تو نہ سمجھتے ہوں گے!‘‘
میں نے کہا:’’ہرگز نہیں۔ کوئی ادب سے دلچسپی رکھتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے، پھر آپ کے ذوق و شوق پر تو مجھے اور بھی مسرت ہے۔“
’’سر میرا جی چاہتا ہے کہ کبھی کبھی زیر مطالعہ کتاب کے بارے میں آپ کی رہنمائی بھی حاصل کروں ۔ بعض دفعہ کتاب پڑھ کر دل میں طرح طرح کے سوال پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب مجھے نہیں سوجھتا۔ مثال کے طور پر دوستوئفسکی کے ناول ’’احمق‘‘ میں پرنس مش کن کے کردار نے مجھے خاصا الجھن میں ڈال دیا ہے۔ یہ شخص بیک وقت دیوانہ بھی ہے اور فرزانہ بھی ۔ دنیاوی معاملات سے لاتعلق بھی ہے اور دنیا داری کا خواہش مند بھی۔ محبت کا جذبہ اس کے دل میں بڑی شدت سے ابھرتا ہے مگر اپنی ناکامی پر اسے کوئی خاص افسوس بھی نہیں ہوتا بلکہ اپنے رقیب تک سے بڑی دردمندی سے باتیں کرتا ہے جس نے اس کی اور اپنی دونوں کی محبوبہ کوقتل کر دیا ہے۔ کیا دنیا میں سچ مچ ایسے لوگ ہوتے ہیں؟‘‘
جس وقت وہ یہ کہہ رہی تھی تو بیچ بیچ میں رک رک بھی جاتی تھی جیسے سوچ سوچ کے کہہ رہی ہو۔
میں نے کہا: ” دوستوئفسکی نے یہ بڑا عجوبہ کردار اختراع کیا ہے۔ ایسے لوگ اس دنیا میں شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔ دراصل اس نے پرنس مشن کن کے روپ میں انسان کامل کا ایک نمونہ پیش کیا ہے اور تمام اعلیٰ وارفع صفات اس کی ذات میں بھر دی ہیں ۔ جیسے سچ بولنا، صاف دل ہونا ، انسان کی بھلائی چاہنا ، اس سے محبت کرنا اس کی خطاؤں کو بخش دینا۔ مال وزر اور عزت و جاہ سے بے نیاز ہونا وغیرہ۔ وہ بظاہر سادہ لوح نظر آتا ہے مگر کوئی اسے بیوقوف نہیں بنا سکتا ، کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں کا حال جانتا ہے۔ اس کردار کا المیہ یہ ہے کہ ایسے انسان کامل کو بھی آخر میں ناکامی ہی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
روحی بظاہر اس جواب سے مطمئن معلوم ہوتی تھی ، وہ چند لمحے خاموش رہی پھر بولی۔
’’سر دوستوئفسکی کی ناول نگاری کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘
میں نے کہا: ” میں اسے دنیا کا عظیم ترین ناول نگار سمجھتا ہوں ۔ اگر دنیا کے سات بہترین ناول چنے جا ئیں تو ان میں سے تین بلا شبہ دوستوئفسکی ہی کے ہوں گے اور ان تین میں ’’احمق‘‘ ضرور شامل ہوگا۔اس کے ناولوں کے بارے میں یہ بات بھی یادرکھنی چاہیے کہ وہ بہت جلدی میں لکھے گئے اور ان پر مصنف کو زیادہ غور و خوض کا موقع بھی نہیں ملا۔ ایک مرتبہ تو وہ قرضوں کے بوجھ تلے ایسا دب گیا کہ اس کے جیل جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا چناں چہ اس صورت حال سے بچنے کے لیے اسے ایک پبلشر سے ایک ماہ میں ایک نیا ضخیم ناول لکھ دینے کا معاہدہ کرنا پڑا ۔ اس کام کے سلسلے میں شارٹ ہینڈ جاننے والی لڑکی کی خدمت حاصل کی گئیں، بس پھر کیا تھا وہ تیزی سے بولتا جاتا تھا اور وہ لڑ کی شارٹ ہینڈ میں سمجھتی جاتی تھی اور یوں ایک مہینے کے بجائے چھبیس ہی دن میں یہ ناول مکمل کر لیا گیا۔ اس واقعہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب یہ ناول تخلیق ہورہا تھا تو اس دوران میں دوستوئفسکی اور اس لڑکی میں جو اس سے عمر میں پچیس تیس برس چھوٹی تھی، قلبی رشتہ استوار ہو گیا اور انہوں نے جلد ہی شادی کر لی۔‘‘
روحی میری باتوں کو بہت غور سے سن رہی تھی ۔ میرے آخری جملے پر وہ ذراٹھٹکی۔ پل بھر کے لیے اس کے ہونٹوں پر ایک لطیف تبسم نمودار ہوا اور وہ’’ تھینک یوسر“ کہہ کے لائبریری سے چلی گئی۔
رفتہ رفتہ اب ہم میں باہمی حجاب اٹھنے لگا تھا۔ میں اب اس سے ’’آپ‘‘ کے بجائے ’’تم‘‘ کہہ کے مخاطب ہونے لگا تھا۔ اگر چہ وہ ہمیشہ مجھے ”سر‘‘ ہی کہا کرتی ۔ ہم اکثر لائبریری میں یا کبھی باغیچے میں ادب ، شاعری، موسیقی اور مصوری پر گفتگو کیا کرتے ۔ ہر چند روحی کو موسیقی اور مصوری سے کوئی عملی دلچسپی نہ تھی مگر وہ اچھے کلاسیکل گانوں کے ریکارڈ بہت شوق سے سنا کرتی اور دنیا کے نامی گرامی مصوروں کی تصاویر کو غور سے دیکھتی ۔ میں ان فنون کی باریکیاں بیان کرتا تو وہ میری باتوں کو ایسی توجہ سے سنتی گویا ایک ایک نکتے کو اپنے دل میں اتار لینا چاہتی ہے۔
میرے دوست ! تم تصور کر سکتے ہو کہ جس شخص نے تیس برس تک کسی عورت کے جسم کو چھوا تک نہ ہو ، وہ ہر روز ایک خوش شکل ، خوش ذوق ، ذہین ، شائستہ خاتون کو اس قدر قریب سے دیکھتا ہو کہ بعض دفعہ تصاویر کو دیکھنے یا کسی کتاب کی عبارت کو مل کر پڑھنے کے دوران چہروں کے درمیان صرف انچ کا فاصلہ رہ جاتا ہو تو اس کے دل کی کیا کیفیت ہوتی ہوگی۔ میری تنہائی کی زندگی میں اس لڑکی کا آنا ایسا تھا جیسے کوئی کسی پرانے تالاب میں پتھر پھینک دے اور اس میں بھنور پڑنے لگیں۔
اس طرح دو مہینے گزر گئے !
ایک دن جب روحی اسکول کو روانہ ہوئی تو نصیبن بوا میرے پاس آئی اور بڑے گنبھیر لہجہ میں کہنے لگی : ” صاحب۔ روحی کو ہمارے پاس رہتے ہوئے دو مہینے گزر چکے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ اب اسے کوئی اور ٹھکانہ دیکھنا چاہیے ورنہ میں آپ کی نظروں میں جھوٹی بن جاؤں گی۔‘‘
میں ششدر رہ گیا۔
’’میں سمجھتی ہوں ۔‘‘ وہ پھر بولی ۔ ” اس کے لیے سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ وہ کسی شریف مرد کو دیکھ کر اس سے شادی کرلے مگر مصیبت یہ ہے کہ اسے مردوں سے کوئی خاص دلچسپی ہی معلوم نہیں ہوتی یا یہ کہ ابھی تک کوئی مرد اس کی نظروں میں جچا ہی نہیں۔“
میں نے کہا: ” نصیبن بوا، جہاں تک اس کے یہاں رہنے کا تعلق ہے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ، کیوں کہ شروع شروع میں اس کے متعلق جو اندیشے پیدا ہوئے تھے وہ سب بے بنیاد ثابت ہوئے۔ وہ واقعی بہت شریف سیدھی سادی لڑکی ہے۔ رہا اس کی شادی کا معاملہ، تو اس میں نہ تم اس کی مدد کر سکتی ہو نہ میں۔ اس لیے میری رائے میں جب تک اس کی رہائش کا کوئی مناسب انتظام نہ ہو جائے وہ یہیں رہ سکتی ہے۔“
یہ سن کر نصیبن بوا کچھ دیر تک کھوئی کھوئی نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی پھر اس نے ایک لمبا سانس لیا اور باورچی خانے میں چلی گئی۔ معاملے کے اس پہلو کی طرف میرا کبھی دھیان ہی نہیں گیا تھا، جیسے کوئی سہانا خواب دیکھنے میں محو ہو اور اچانک اس کی آنکھ کھل جائے ۔
دو تین روز کے بعد نصیبن بوا پھر میرے پاس آئی اور کہنے لگی:
’’صاحب ۔ روحی بی بی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ آئندہ دونوں وقت کا کھانا اور شام کی چائے خود آپ کو دیا کرے۔ ناشتہ اس لیے نہیں کہ اسے صبح ہی صبح اسکول جانا ہوتا ہے اور صاحب سچی بات تو یہ ہے کہ اب میں خود بھی بہت بوڑھی ہوگئی ہوں ۔ زیادہ کام کی مجھ میں ہمت نہیں رہی ۔ میں دونوں وقت کھانا پکا دیا کروں تو یہ بھی بڑی بات ہے۔“
میں نے کہا : ’’نصیبن بوا اگر تمہاری اور اس لڑکی کی یہی مرضی ہے تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔‘‘
نصیبن بوا مجھے دعائیں دیتی ہوئی خوش خوش چلی گئی ۔ اس کے جانے کے بعد میں نے دل میں کہا روحی بہت خود دار لڑکی ہے ۔ شروع شروع میں جب اس نے نصیبن بوا کے ذریعے کمرے کے کرائے اور کھانے پینے کے خرچ کے سلسلے میں کچھ رقم پیش کرنی چاہی تھی تو میں نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ دو ایک ماہ کی عارضی رہائش ہے۔ اس عرصے کے لیے اس کی حیثیت اس گھر میں ایک مہمان کی سی ہوگی مگر اب جب نصیبن بوا نے اس سے میری اور اپنی تازہ بات چیت کا تذکرہ کیا ہوگا تو اس کی غیرت نے گوارا نہ کیا ہوگا کہ وہ آئندہ بھی یہاں مفت ہی رہے اور مفت ہی کھائے پیئے ، لہٰذا اس کے بدلے میں اس نے اپنی خدمات پیش کی ہوں گی ۔ بہرحال صورت حال کچھ بھی ہو میں نے اس نئے انتظام کو اپنے لیے ایک خوشگوار تبد یلی تصور کیا۔
میرے دوست! مجھے اعتراف ہے کہ جب سے روحی اس گھر میں آئی تھی میرے معمولات رفتہ رفتہ بدلتے جارہے تھے ۔ میں نے ہر وقت آرام کرسی پر بیٹھے کتاب پڑھتے رہنے یا موسیقی سنتے رہنے کی عادت کو بڑی حد تک ترک کر دیا تھا۔ میں اب اکثر اپنے چھوٹے سے باغیچے میں پھولوں اور پودوں کی نشو و نما میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ میں پودوں کی سوکھی پتیوں کو اپنے ہاتھ سے نوچ نوچ کر الگ کرتا۔ میں خدا بخش کو نئے نئے پھول اگانے ، کیاریوں میں تبدیلیاں کرنے ، پودوں کو جھاڑ جھنکار سے صاف کرنے کی ہدایتیں دیتا۔ غرض آرام طلبی کی زندگی چھوڑ کر کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کا ولولہ سا میرے دل میں اٹھنے لگا۔
اس میں شک نہیں کہ روحی کے غیر معمولی حسن و جمال ، اس کے متناسب اعضاء، اس کی جوانی ،اس کی مشرقی شرم و حیا، اس کی ذہانت ، اس کی سلیقہ مندی کا میرے دل پر گہرا اثر ہوا تھا۔ مجھے اس سے جو لگاؤ پیدا ہو گیا تھا اس میں روز بہ روز اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس جذبے کو کیا نام دوں ۔ اس زمانے میں میری جو کیفیت تھی اسے میں تمہاری دلچسپی کے لیے عقل و دل کے ایک مکالمے کی صورت میں لکھتا ہوں :
عقل : بڑے میاں ! تم عمر کے جس حصے سے گزررہے ہو اس میں احتیاط کی بے حد ضرورت ہے۔
دل :کیوں نہیں ۔ پوری احتیاط برت رہا ہوں ۔
عقل: تو پھر تمہارے معمول زندگی میں فرق کیوں آگیا ہے؟ یا تو تم آٹھ آٹھ دن تک ڈاڑھی نہیں مونڈ تے تھے یا اب ہر روز بلا ناغہ شیو کرنے لگے۔ اب تم پہلے سے کہیں زیادہ وقت نہانے دھونے میں صرف کرتے ہو۔ ہر وقت صاف ستھرے رہتے ہو۔ دن میں دو دو مرتبہ لباس تبدیل کرتےہو ۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟
دل: کوئی خاص وجہ نہیں ۔ انسان پر طرح طرح کے دور آتے رہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی میری زندگی کا ایک دور ہے۔
عقل : اور یہ آئینے کے سامنے دیر دیر تک کھڑے اپنی صورت کیوں دیکھتے رہتے ہو؟
دل: میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ کیا میں شکل صورت سے بھی اتنا ہی بوڑھا لگتا ہوں جتنا کہ عمر کے لحاظ سے ہوں۔
عقل : آخر یہ معلوم کرنے کی کوئی وجہ !دیکھو بڑے میاں خود کو دھوکا نہ دو۔ اصل بات یہ ہے کہ روحی تمہارے دل کو بھا گئی ہے اور یہ کوئی عجیب بات بھی نہیں کیوں کہ مردوں کو اکثر بڑھاپے میں جوان لڑکیوں سے عشق ہو جاتا ہے۔
دل: نہیں، یہ بات نہیں۔ سچ یہ ہے کہ مجھے اس لڑکی کی بے کسی پر اس سے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے جیسے اپنے کسی عزیز یا دوست سے پیدا ہو جاتی ہے۔
عقل: نہیں ، یہ ہمدردی نہیں ۔ اس کا نام ہے محبت ، لگاوٹ !تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ تمہاری اور روحی کی عمروں میں کتنا فرق ہے، پینتیس سال کا ، بڑے میاں پینتیس سال کا! اور یہ اتنی طویل مدت ہے کہ اس میں اپنی اولا د خود بڑی ہو کر صاحب اولاد بن جاتی ہے، اور پھر تم نے یہ بھی سوچا کہ تمہارے متعلق فریق ثانی کا کیا خیال ہے؟ یہ سچ ہے کہ روحی تمہارا بڑا احترام کرتی ہے، ہمیشہ نظریں جھکا کر تم سے بات کرتی ہے۔ ممکن ہے وہ تم کو ایک مخیر شریف بزرگ یا شاید اپنا باپ سمجھ کر ایسا کرتی ہو۔ اکثر لڑکیاں جو باپ کی شفقت سے محروم ہو جاتی ہیں ان میں انسیت کا یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جسے یہ بوڑھے لگاوٹ تصور کر لیتے ہیں مگر جب ان پر لڑکی کے اصلی جذبات عیاں ہوتے ہیں تو انہیں ایک دھچکے کے ساتھ اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔
اور حضرت دل سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا۔
پیارے دوست! اس مکالمے سے تمہیں اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اس زمانے میں میرے دل پر کیا گزر رہی تھی بے شک میں روحی کو والہانہ طور پر چاہنے لگا تھا۔ لیکن میں نے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ میں کسی اشارے کنائے سے بھی روحی پر یہ بات ظاہر نہ ہونے دوں گا۔ روحی کے آنے سے پہلے میں بڑی پرسکون زندگی بسر کر رہا تھا۔ شعر وادب ، موسیقی، مصوری، میرے یہ مشاغل مجھے اپنی تنہائی کا احساس ہی نہ ہونے دیتے تھے اور میں اپنی زندگی سے پورے طور پر مطمئن تھا مگر جب سے روحی سے مجھے وابستگی پیدا ہوئی تھی ، ان مشاغل سے میری طبیعت اچاٹ سی ہوگئی تھی ۔ بس ایک خیال تھا جو میرے دماغ پر مسلط ہو گیا تھا، وہ یہ کہ میں تنہا ہوں، میں تنہا ہوں ۔ مجھے برسوں پہلے کسی ایسے مونس کو تلاش کر لینا چاہیے تھا، جس سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا، جو میرے دکھ درد میں شریک ہوتا، جس کی موانست میرے لیے راحت جاں ہوتی۔
جب سے روحی نے مجھے کھانا وغیرہ کھلانے کی خدمت اپنے ذمے لی تھی میں اسکول سے واپس آنے سے گھنٹوں پہلے اس کا منتظر رہنے لگا تھا، بالآخر جب وہ بنگلے میں داخل ہوتی تو میرے کان دور ہی سے اس کے سبک قدموں کی آواز کو سن لیتے ۔ میں دل ہی دل میں تصور کرنے لگتا کہ اب وہ اپنے کمرے میں پہنچی ہوگی۔ اب اس نے اپنا بیگ میز پر رکھا ہوگا ۔ اب اس نے لباس تبدیل کیا ہوگا ۔ اب وہ باورچی خانے میں گئی ہوگی۔ اب اس نے نصیبن بوا سے پوچھا ہوگا کہ کھانا تیار ہے۔اب وہ میز پر کھانا چن رہی ہوگی ۔ اب وہ میرے کمرے کی طرف چلی ہوگی ۔اب وہ دروازے پر دستک دے گی :’’ سر کھانا کھا لیجیے ۔‘‘ میرے اندازے میں صرف ایک آدھ منٹ ہی کا فرق ہوتا تھا۔ میں جب تک کھانا کھاتا رہتا وہ میرے آس پاس کھڑی رہتی ، ایک دو مرتبہ میں نے اس سے کہا بھی :
’’ روحی !تم بھی میرے ساتھ ہی کیوں نہیں کھانا کھا لیا کرتیں ۔ اسکول سے آکر تمہیں بھوک لگتی ہوگی۔‘‘ مگر اس نے انکار کر دیا۔
’’نہیں سر! مجھے اسکول سے آکر فوراً بھوک نہیں لگتی۔ آپ پہلے کھانا کھا لیجیے میں بعد میں کھالوں گی۔‘‘
رات کا کھانا بھی وہ خود ہی میز پر چنتی مگر میرے اصرار کے باوجود وہ کھانے میں شریک نہ ہوتی ، البتہ سہ پہر کی چائے ہم دونوں ایک ساتھ ہی پیتے ، اور یہی وقت ہوتا تھا گفتگو کرنے کا ۔ ہم کبھی شعر وادب کی باتیں کرتے، کبھی پھول پودوں کی، کبھی موسموں کی تبدیلیوں کی ، میں اکثر بیچ بیچ میں خاموش ہو جاتا اور وہ حیرانی سے میرے جواب کے انتظار میں میرا منہ تکتی رہتی۔ میں جلد ہی ہوش میں آجا تا اور اپنے کو لعن طعن کرتا کہ میں نے ایسا کیوں کیا، کیوں کہ میں کسی طور بھی روحی کو اپنی حالت زار سے واقف ہونے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔
اسی طرح ایک مہینہ اور گزر گیا۔
اس دوران میں میری حالت پہلے سے بھی ابتر ہوگئی۔ میری صحت روز بہ روز گرنے لگی۔ مجھے کھانے پینے سے کچھ رغبت نہ رہی۔ دل ہر وقت بے چین رہنے لگا۔ راتوں کو دیر دیر تک جاگتا رہتا اور جب نیند آتی تو سوتے سوتے چونک اٹھتا مگر میں نے روحی کو اپنی حالت سے کسی طرح خبر دار نہ ہونے دیا۔ وہ میری کم خوری کی شکایت کرتی تو میں بد ہضمی یا کوئی اور بہانہ کر کے ٹال دیا کرتا۔
کبھی کبھی مجھے اپنے پر غصہ بھی آتا کہ یہ مصیبت میں نے خود اپنے ہاتھوں مول لی ہے۔ مجھے نصیبن بوا کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہیے تھا مجھے بڑی سختی کے ساتھ صاف صاف اس سے کہہ دینا چاہیے تھا کہ بڑی بی جو تم چاہتی ہو یہ ممکن ہی نہیں۔ وہ شاید کچھ ٹسوے بہاتی یا شاید کچھ دنوں چپ چپ رہتی یا شاید نوکری ہی چھوڑ دیتی۔ میں یہ سب کچھ سہہ لیتا مگر روحی اس گھر میں نہ آنے پاتی اور میں اس مصیبت میں گرفتار نہ ہوتا۔
اپنی اس محرومی و مایوسی کی زندگی میں اچانک ایک نیا جذبہ میرے دل میں پیدا ہونا شروع ہوا اور یہ تھاغم کھانے کی لذت کا جذبہ۔ اس لذت نے جلد ہی ایک نشے کی سی صورت اختیار کر لی ۔ اپنی پر سکون زندگی میں میں شاید دس پندرہ سال اور زندہ رہتا۔ یہاں تک کہ موت آکر مجھے ہمیشہ کی نیند سلا دیتی مگر یہ کیسی حسرت و افسوس کی بات ہوتی کہ میں اس لذت غم سے ہمیشہ نا آشنا ہی رہتا۔ میری یہ محرومی و مایوسی کی زندگی، میری گذشتہ پر سکون زندگی سے اس لحاظ سے بہتر تھی ، کہ ہر چند نا کام ہی سہی مگر دل میں تمنائیں تو پیدا ہوتی ہیں ، ولولے تو اٹھتے ہیں اپنی حرماں نصیبی سے یوں سمجھوتہ کر لینے کےبعد میرے دل کی بے کلی بڑی حد تک دور ہوگئی اور میں نے اسے اپنا مقدر سمجھ کر تسلیم کر لیا۔
اب جاڑوں کا موسم شروع ہو چکا تھا۔ موسلا دھار بارش جو ہوئی تو اس کے تھمتے ہی سردی اپنی انتہا کو پہنچ گئی ۔ اسی زمانے میں ایک رات میں اپنی خواب گاہ میں سور ہا تھا کہ کوئی تین بجے کے قریب میری آنکھ کھل گئی۔ غسل خانے میں گیا مگر بے احتیاطی سے خود کو کسی گرم چادر میں نہیں لپیٹا۔ گرم گرم لحاف سے نکلا تھا ، اچانک ہوا لگ گئی۔ پلنگ پر واپس آیا تو میری آنکھوں سے پانی جاری تھا۔ سانس کچھ پھولا ہوا تھا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے پانچ چھ چھینکیں آئیں ۔ میں نے لحاف میں سر کو چھپا لیا مگر اس سے اور دم گھٹنے لگا۔ منہ باہر نکالا تو آنکھوں کے ساتھ ناک سے بھی پانی بہنے لگا،سخت گھبراہٹ ہونے لگی ، سانس لینا دشوار ہو گیا مگر میں نے جیسے تیسے رات کا بقیہ حصہ کاٹ ہی لیا۔
صبح کو نصیبن بوا آئی تو میری یہ حالت دیکھ کر بہت گھبرائی ، دوڑی دوڑی جا کر روحی کو بلا لائی۔ وہ بھی مجھے اس حال میں دیکھ کر سخت پریشان ہوئی ۔ اس نے اسی وقت لبادہ اوڑھا اور گھر سے نکل گئی ۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ شہر کے ایک مشہور ڈاکٹر کو لے کر آ گئی۔ ڈاکٹر نے میری نبض دیکھی ، میرے سینے کا معائنہ کیا اور فوراً ایک انجیکشن لگایا۔ کہا ” معلوم ہوتا ہے انہیں سخت نمونیہ ہو گیا ہے، بہت احتیاط کرنی ہوگی۔ دیکھ بھال کے لیے ایک نرس کی بھی ضرورت ہوگی ۔۔۔۔“
روحی فوراً بول اٹھی ” میں خود ان کی نرسنگ کروں گی۔ میں نے کالج کے زمانے میں نرسنگ کا ابتدائی کو رس بھی پاس کر لیا تھا۔ میں ٹیکہ لگانا بھی جانتی ہوں۔‘‘
میں اس وقت تیز بخار میں پھنک رہا تھا۔ مجھ پر نیم بے ہوشی کی کیفیت طاری تھی ۔ میں سب کچھ سن رہا تھا، مگر مجھ میں بولنے کا یارا نہ تھا۔
ڈاکٹر نے کئی دوائیں اور انجیکشن تجویز کیے جنہیں لانے کے لیے روحی ڈاکٹر کے ہمراہ ہی چلی گئی ۔ اس دن وہ اسکول نہیں گئی۔
پیارے دوست ! اس قصے کو کہاں تک طول دوں ۔ مختصر یہ کہ میں کوئی دو ہفتے تک بستر پر پڑا رہا۔ اس دوران میں روحی نے دل و جان سے میری تیمار داری کی ، وہ اپنا زیادہ تر وقت میرے ہی کمرے میں گزارتی ، وقت پر مجھے دوائیں پلاتی ، اور بڑی احتیاط سے انجیکشن لگاتی تاکہ مجھے کم سے کم تکلیف ہو، اس نے اسکول سے دو ہفتوں کی چھٹی لے لی تھی، سچ یہ ہے کہ یہ اس کی خدمت گزاری ہی تھی جس نے اس مہلک مرض سے میری جان بچائی۔
بیماری کے دوران میں جب مجھے کچھ کچھ افاقہ ہونے لگا تو جب کبھی میں اس کی طرف دیکھتا، اس کے ہونٹوں پر ایک دل آویز مسکراہٹ نمودار ہوتی جسے میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسکراہٹ دواؤں سے کہیں زیادہ زوداثر ثابت ہوئی اور میں جلد جلد اچھا ہونے لگا۔
اگر چہ اب میں غسل خانے میں خود اٹھ کر جانے لگا تھا مگر میری کمزوری کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹرنے دو تین دن تک اور بستر پر آرام کرنے کی ہدایت کی تھی ۔
ایک دن شام کو روحی میری دوائیں وغیرہ خرید نے بازارگئی تو مجھے بستر پر لیٹے لیٹے وحشت سی ہونے لگی۔ میں بستر سے اٹھا اور چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ گھر میں ادھر ادھر چلنے پھرنے لگا۔ میں لائبریری میں بھی گیا جہاں پچھلے پندرہ روز سے میں نے قدم نہیں رکھا تھا۔ میں شیلفوں پر نظر ڈال رہا تھا کہ لائبریری کی بڑی میز پر مجھے سیاہ رنگ کی ایک کتاب نظر آئی ۔ یقیناً میری لائبریری کی کوئی کتاب اس سے ملتی جلتی نہ تھی ، بلاشبہ یہ کتاب روحی ہی کی ہو سکتی ہے۔ میں اسے میز سے اٹھا کر اس کے ورق الٹنے لگا۔ یہ روحی کی ڈائری تھی جس میں وہ روز مرہ کے واقعات پر اپنے تاثرات لکھا کرتی تھی ۔ معلوم ہوتا ہے میری دوائیں لانے کی جلدی میں وہ اسے یہیں بھول گئی تھی۔
پیارے دوست! پہلے تو مجھے خیال آیا کہ اسے وہیں میز پر جوں کا توں رکھ دوں کیوں کہ کسی کی پرائیوٹ تحریر کو پڑھنا سخت اخلاقی جرم ہے، لیکن میرے دل میں روحی کی محبت کا جوش بھڑک رہا تھا۔ اس نے مجھے اخلاقیات سے بے پروا بنا دیا۔ میں وہیں میز کے قریب کرسی پر بیٹھ کر اس کی ڈائری کے اوراق الٹنے پلٹنے لگا۔ بعض تاثرات میرے لیے موجب حیرت تھے ۔اس ڈائری کے چند اقتباسات یہاں درج کرتا ہوں:
خدا کا شکر ہے کہ آخر مجھے سر چھپانے کو جگہ مل گئی۔ اگر نصیبن بوا میری مدد نہ کرتیں تو میرا کیا حشر ہوتا ، یہ سوچتے ہوئے بھی دل کا نپنے لگتا۔
٭٭٭
میں اس گھر میں کتنی خوش ہوں۔ صاحب کا کتب خانہ کتنا بڑا ہے! کیسی کیسی نادر کتا بیں اس میں موجود ہیں جن کو پڑھنے کو میرا دل تڑپتا ہے۔ صاحب نے کیسی فراخ دلی سے ان کتابوں کو پڑھنے کی اجازت دے دی ہے لیکن میں یہاں اپنی عارضی رہائش کے دوران آخر کتنی کتابیں پڑھ سکوں گی !
٭٭٭
صاحب کتنے خوش اخلاق ،شریف الطبع اور نیک نفس ہیں ۔ ان کا مطالعہ کتنا وسیع ہے۔ انہوں نے کیسی خوبی سے ان الجھنوں کو دور کر دیا ہے جو دوستوئفسکی کے ناول ”احمق‘‘ کے پڑھنے سے میرے دل میں پیدا ہو گئی تھیں۔
٭٭٭
وہ شارٹ ہینڈ جاننے والی لڑکی دوستوئفسکی سے پچیس تیس سال چھوٹی تھی ، پھر بھی وہ اس سے محبت کرنے لگی ۔ کیا محبت کا تعلق عمر سے بھی ہوتا ہے؟ کیا صرف ہم عمر ہی ایک دوسرے سے محبت کرسکتے ہیں؟
٭٭٭
میں صاحب کی بیماری میں ان کی جو خدمت کر رہی ہوں ، یہ اس احسان کا بدلہ نہیں ہے جو صاحب نے اپنے ہاں پناہ دے کر مجھ پر کیا ہے۔ اس میں انسانی ہمدردی کو بھی کچھ زیادہ دخل نہیں ہے، تو کیا دوستوئفسکی کی اس شارٹ ہینڈ جاننے والی لڑکی کی طرح میرے خیالات بھی ڈانواں ڈول ہورہے ہیں ۔۔۔؟
٭٭٭
میں نے ڈائری بند کر دی اور اسے اسی جگہ میز پر رکھ دیا جہاں سے میں نے اٹھایا تھا۔
اگلی صبح روحی کو نوکری پر اسکول جانا تھا کیوں کہ اس کی دو ہفتے کی چھٹی ختم ہو چکی تھی ۔ جب وہ مجھے دوا پلا کر جانے لگی تو میں نے دل کو مضبوط کر کے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ میں نے کہا:
’’ اب تمہیں کبھی اسکول جانے کی ضرورت نہ ہوگی ۔‘‘
وہ پہلے تو کچھ دیر حیرانی سے میرا منہ تکتی رہی پھر رفتہ رفتہ اس کے ہونٹوں پر وہی دلآویز مسکراہٹ پھیلنے لگی جس کا مشاہدہ میں نے بیماری کے دوران میں کیا تھا۔
دو ماہ کے بعد ہماری شادی ہوگئی۔ دوست، یہ نہ سمجھنا کہ میں نے شادی سے پہلے اس کی ہر طرح رضامندی حاصل نہیں کر لی تھی۔ میں نے تو اسے یہ بھی بتا دیا تھا کہ میں اس سے عمر میں پینتیس سال بڑا ہوں اور یہ کہ میری بیٹی عمر میں اس سے بھی کئی سال بڑی ہے۔
اس نے کہا:
’’سر! عمر میں چھوٹا بڑا ہونا کوئی بات نہیں ۔ سچی خوشی کی چند گھڑیاں ، عمر بھر کی طویل بے کیف اور پر مصائب زندگی سے لاکھ درجہ بہتر ہیں۔“
ہم نے دو سال بڑی محبت و رفاقت میں گزارے۔ ہم شہروں شہروں گھومتے پھرے ۔اس دوران میں اس کا حسن پہلے سے بھی زیادہ نکھر آیا تھا اور میں پھر ایک بچی کا باپ بن گیا تھا۔
لیکن پیارے دوست ! میری زندگی کا یہ عجیب المیہ ہے کہ ازدواجی زندگی مجھے راس نہیں اور میری قسمت میں ہمیشہ تنہار بنا ہی لکھا ہے۔ ایک صبح روحی اچانک نہ جانے کس طرح ایک پر اسرار مرض وائرس کا شکار ہوگئی اور پھر چند ہی گھنٹوں میں میرے اور ڈاکٹروں کے دیکھتے دیکھتے اس نے دم توڑ دیا موت کے وقت بھی اس کے ہونٹوں پر اس کی مخصوص دل آویز مسکراہٹ تھی ۔
جیسا کہ عابدہ کے مرنے پر میں نے اپنے ہاتھوں اپنا خاتمہ کر لینے کا ارادہ کیا تھا مگر سلیمہ کے خیال نے مجھے زندہ رہنے پر مجبور کیا تھا بالکل اسی طرح روحی کی موت پر بھی میرے دل میں زندہ رہنے کی کوئی تمنا نہ رہی تھی مگر ننھی یا سمین نے مجھے خود کشی کے خیال سے باز رکھا۔ وہ اس حادثے سے بے نیاز جو اس پر گزرا تھا، ہنستی ،کھلکھلاتی میری گود میں آکر بیٹھ گئی۔
روحی کی موت کو اب سات برس گزر چکے ہیں اور یا سمین جس کی عمر اب آٹھ برس ہے میرے دل کی راحت اور میری آنکھوں کا نور ہے۔
فقط
تمہارا۔۔۔۔