غلام عباس

غلام عباس

دھنک

    دھنک

    ١

    یہ بیسویں صدی کے اواخر کی ایک شب کا ماجرا ہے۔ ہوٹل موہن جو داڑو کی اکہترویں منزل پر جو سب سے اونچی اور ’’باغیچہ آویزاں‘‘ کے نام سے موسوم ہے، ارباب حکومت کی جانب سے ایک پر تکلف ضیافت نیم شبی دی جارہی ہے۔ مہمانوں میں دنیا بھر کے ملکوں کے سفیر،مفکر اورصحافی شامل تھے۔

     ہوٹل کی چھت پر کھلے آسمان کے نیچے کمخواب کا ایک شامیانہ جس کے کناروں پر موتیوں کی خوش نما جھالر لگی تھی جڑ او استادوں پر نصب کیا گیا ہے۔ شامیانے کے نیچے رنگا رنگ قالینوں کا فرش بچھا ہے۔ یہ وہی قالین ہیں جو پٹ سن کے سنہرے ریشے سے بنائے جاتے ہیں ۔ اور اپنی نفیس بنت پائیدار اور نقش و نگار کی دل آویزی کے باعث دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں۔ ان قالینوں پر تھوڑے تھوڑے فصل سے کشادہ اور آرام دہ مخملی صوفے رکھے ہیں جن پر معزز مہمان اپنی بیگمات کے ساتھ متمکن ہیں۔

     یہ مہمان جو پانچ بر اعظموں کے مختلف تمدنوں کی نمائندگی کرتے ہیں اپنا اپنا پر وقار قومی لباس پہنے ہوئے ہیں۔ ان کے جدا جدا ناک نقشے ، ان کی مخصوص حرکات وسکنات ، ان کی الگ الگ بولیاں ہر ملک کی عورتوں کا جداگانہ حسن، اس کی مختلف طرز آرائش و زیبائش، اس کے مخصوص کرشمہ واداد یکھنےوالوں پر ایک محویت کا عالم طاری کر دیتے ہیں۔

    ہر چند بظاہر کوئی ہنڈا، بلب ، گیس یا ٹیوب لائٹ دکھائی نہیں دیتی۔ پھر بھی سارا پنڈال بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ جابجا فوارے چھوٹ رہے ہیں جن کی پھواروں پر رنگ برنگی شعائیں پڑ رہی ہیں ۔ ”باغیچہ آویزاں‘‘ میں قسم قسم کے پیڑ پودے کثرت سے لگائے گئے ہیں۔ جن کے پھولوں کی ملی جلی خوشبو دلوں میں ایک نشاط کی کیفیت پیدا کر رہی ہے۔

     مہمانوں کے وسط میں ایک اونچی گول میز پر جو کار چوبی کے کام کے ایک بیش قیمت میز پوش سے مزین ہے، ایک بڑا سا خوبصورت ریڈیوسٹ رکھا ہے۔ اس سٹ کے اندر چاروں طرف اسپیکر اس ترکیب سے لگائے گئے ہیں کہ ہر شخص کو خواہ وہ کسی سمت بیٹھا ہو آواز صاف سنائی دے سکے۔

     اس وقت ریڈیو سے آرکسٹرا کی موسیقی نشر ہو رہی ہے جس کی دھن اس تقریب کے لیے خاص طور پر باندھی گئی ہے۔ اور وہ تقریب کیا ہے؟ وہ یہ کہ آج رات پونے دو سے لے کر دو بجے کے درمیان کسی وقت پاکستان کا پہلا خلا پیما چاند پر اتر جائے گا۔ اور اس کی اس بے نظیر کامیابی کا حال اور چاند پراس کے مشاہدات براہ راست اس کی زبان سے نشر کیے جائیں گے۔

    گو دنیا کے بعض مملک پچھلے کئی برس سے چاند پر پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر اس امر میں اولیت حاصل کرنا پاکستان کی قسمت میں لکھا تھا۔ جب پاکستان نے تسخیر قمر کے سلسلے میں اپنے عزم کا اعلان کیا تو پہلے تو ان ملکوں کے سربراہوں کو یقین ہی نہیں آیا کہ پاکستان نے اس میدان میں اس قدر ترقی کر لی ہے۔ مگر جب ان کے سفیروں نے جو پاکستان میں مقیم تھے پاکستان کے اس ارادے کی تصدیق کر دی تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ اور انہوں نے اپنے اپنے ہاں کے سائنسدانوں اور دانشوروں کو اس تقریب کا حال بچشم خود دیکھنے کے لیے یہاں بھیج دیا۔

    اس وقت رات کا ایک بج چکا ہے مگر دنیا کے دور دراز حصوں سے آئے ہوئے ان مہمانوں میں سے کسی کے چہرے سے بھی تھکاوٹ یا کسل مندی کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔اس کے برعکس جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ چاق و چوبند نظر آرہے ہیں۔

    ہوٹل کے خدام زرنگار وردیاں پہنے ہلکے پھلکے طعام اور مشروبات کے طشت اٹھائے مہمانوں کی تواضع میں مصروف ہیں ۔ کچھ لوگ باہم گفتگو کر رہے ہیں ۔ کچھ ریڈیو کی موسیقی سن رہے ہیں جس کا سلسلہ کبھی کبھی منقطع ہو جاتا ہے اور اناؤنسر آج رات کے پروگرام کی تفصیل یا کوئی مقرر چاند کی مہم کے سلسلے میں ابتدائی کامیابیوں کا حال سنانے لگتا ہے۔ کچھ مہمان جب بیٹھے بیٹھے اکتا جاتے ہیں تو شامیانے سے باہر نکل کر ’’باغیچہ آویزاں‘‘ کی پر فضا روشوں پر ٹہلنے یا گرد ونواح کا منظر دیکھنے لگتے ہیں ۔ یوں تو شہر میں کئی عمارتیں ہوٹل موہن جو ڈارو سے بھی اونچی اونچی ہیں ،مگر مضافات اور سمندر کا جیسا دلفریب نظارہ ”باغیچہ آویزاں‘‘ سے دکھائی دیتا ہے اور کہیں سے دکھائی نہیں دیتا۔ خصوصاً رات کے وقت تو جہازوں اور جزیروں کے مکانوں کی روشنیاں دور سے جھلملاتی ہوئی بہت ہی بھلی معلوم ہوتی ہیں۔

    اس وقت فروری کا چاند اپنی پوری تابندگی کے ساتھ روئے زمین پر خنک چاندنی بکھیر رہا ہے۔اس کا نظارہ بجائے خود ایک جاذبیت رکھتا ہے۔ مہمانوں کی نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور وہ موجودہ تقریب کی مناسبت سے اور بھی محویت کے ساتھ اسے دیکھنے لگتے ہیں۔

     آخر ڈیڑھ بجے کے قریب ریڈیو پر اعلان کیا گیا کہ سب مہمان اپنی اپنی نشستوں پر آکر بیٹھ جائیں ۔ اس وقت مہمانوں کے اشتیاق کی کیفیت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، خصوصاً بعض خواتین پر تو اضطراب کی سی حالت طاری ہے جس پر قابو پانے کے لیے انہوں نے اپنی مٹھیاں بھینچ رکھی ہیں ۔ دم بھر میں سب لوگ جو ادھر ادھر بکھرے ہوئے تھے اپنے اپنے صوفوں پر آکر بیٹھ گئے ۔ سب نے کان ریڈیو کی آواز پر لگا دیے ۔ کچھ وقت اور انتظار میں گزرا۔ اس کے بعد اناؤنسر کی آواز یہ اعلان کرتی ہوئی سنائی دی:

    ’’اب ہم اپنے سننے والوں کو چاند پر لیے چلتے ہیں جہاں اس وقت اجرام فلکی پر انسانی فتوحات میں ایک نیا اور انوکھا اضافہ ہونے کو ہے۔ لیجیے ہمارے خلا پیما جو اس مہم کو سر کر رہے ہیں آپ سےمخاطب ہوتے ہیں۔‘‘

     اس اعلان کے ساتھ ہی ریڈیو سے ایسی گھڑ گھڑاہٹ سنائی دینے لگی جیسی کسی دور دراز ملک کے اسٹیشن کو پکڑتے وقت سنائی دیا کرتی ہے۔ اس فضائی گڑ بڑ کا سلسلہ چند لمحےجاری رہا۔ اس کے بعد ایک انسانی آواز اس شور میں سے ابھرنی شروع ہوئی۔ پہلے پہل الفاظ صاف سنائی نہ دیے مگر رفتہ رفتہ واضح ہوتے گئے :

    ’’ میں کیپٹن آدم خان سکنہ ضلع جھنگ عمر پینتیس ( ۳۵) سال آپ سے مخاطب ہوں ۔ میرا خلائی جہاز اس وقت چاند کی سطح سے صرف ہزارفٹ کی بلندی پر رہ گیا ہے۔ جہاز کی رفتار پچھتر میل فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔ مجھ کو چاند کی سطح بہت صاف نظر آ رہی ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جسے سائنسداں طوفانوں کے سمندر کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ عجیب نظارہ ہے پر ہول بھی اور دلکش بھی ۔ لیجیے اب بلندی صرف دو ہزار فیٹ رہ گئی ہے۔ جہاز کی رفتار چالیس میل فی گھنٹہ ہے۔ مجھے اس سفر میں بحمد اللہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا۔ خدا نے چاہا تو میرا جہاز حسب توقع آہستگی کے ساتھ چاند پر اتر جائے گا۔۔۔اب میں ایک ہزار فیٹ سے بھی کم بلندی پر ہوں ۔ جہاز کی رفتار بتدریج بہت کم کی جارہی ہے۔۔۔ لیجیے اب میں صرف سات سوفٹ چاند کی سطح سے بلند ہوں۔۔۔ پانچ سو فیٹ ۔۔۔ رفتار دس میل فی گھنٹہ۔۔۔ صرف اڑھائی سوفیٹ ۔۔۔سوفیٹ ۔۔۔ الحمدللہ کہ میرا خلائی جہاز صحیح سلامت چاند کی سطح پر اتر گیا ہے۔۔۔ اس وقت پاکستانی گھڑیوں کے مطابق رات کا ایک بج کر اڑتالیس منٹ اور چار سیکنڈ آئے ہیں۔ پاکستان زندہ باد!‘‘

     جلسے کے تمام شرکا نے جو دم سادھے بیٹھے تھے اور جن کے دل کی دھڑکن پل پل میں تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی ایک ساتھ اطمینان کا لمبا سانس لیا۔ ریڈیو سے خلا پیما کی آواز سنائی دینی بند ہو گئی۔ اور اس کے بجائے قومی ترانہ بجنا شروع ہوا۔ سب لوگ تعظیماً کھڑے ہو گئے ۔ جب ترانہ ختم ہوا تو جلسے کا پنڈال تالیوں کے شور اور نعرہ ہائے تحسین و آفرین سے گونج اٹھا۔ غیر ملکی سفیر، سائنسداں اور اہل دانش اپنی نشستوں سے اٹھ اٹھ کر ارباب حکومت کے پاس جانے ان سے مصافحہ کرنے اور انہیں مبارک باد دینے لگے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر جاری رہا۔ اس کے بعد ریڈیو سے پھر پہلے کی طرح گھڑ گھڑاہٹ سنائی دینے لگی۔ سب مہمان جلدی سے پھر اپنی اپنی جگہ آبیٹھے اب کے کیپٹن آدم خان کی آواز پہلے سے بھی زیادہ صاف سنائی دی:

    ’’ ابھی ابھی میں نے اپنا قومی پرچم طوفانوں کے سمندر کی سرزمین پر گاڑ دیا ہے۔ چاند کی سطح جمی ہوئی بھوبل کی طرح ہے، کہیں سخت کہیں نرم مگر اس میں پاؤں نہیں دھنستے ۔ جا بجا دراڑیں اور گڑھے ہیں ۔ کہیں کہیں یہ گڑھے بہت بڑے بڑے ہیں جیسے آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے ہوں ۔ پر چم گاڑنے کے مقدس فریضے سے فارغ ہو کر میں نے سب سے پہلے اس کے سائے میں اس خدائے لم یزل کے حضور نماز شکرانہ ادا کی جس کے فضل و کرم سے آج ہمارے ملک نے اپنا صحیح مقام پالیا ہے۔ اور اب وہ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان پائندہ باد!‘‘

    جلسے کا پنڈال ایک مرتبہ پھر نعرہ ہائے تحسین و آفرین سے گونج اٹھا۔ جب شور تھا تو خلا پیما کی آواز یہ کہتی ہوئی سنائی دی:

    ’’آپ کو یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ چاند میں دو ہفتے کا دن ہوتا ہے اور دو ہفتے کی رات ۔ یہاں اس وقت دن ہے جس کو شروع ہوئے ہمارے حساب سے تقریباً چھتیس گھنٹے گزر چکے ہیں ۔ میرے پاس اتنی آکسیجن موجود ہے کہ میں یہاں چاند کا پورا ایک دن بسر کر سکوں ۔ اور میرے خلائی جہاز میں اتنا ایندھن ہے کہ وہ مجھے بفضل خدا خیر وعافیت کے ساتھ وطن پہنچا سکے۔۔۔

    ’’ لیجیے اب میں آپ سے یہاں کے گردو پیش کے حالات اور اپنے مشاہدات بیان کرتاہوں۔۔۔‘‘

    ٢

    ابھی سپیدہ  سحرنمودار نہیں ہوا تھا کہ کراچی سے سینکڑوں میل دور ایک قصبے کی چھوٹی سی مسجد میں ایک ملا نماز فجر کے بعد نمازیوں سے کہہ رہے تھے :

    ’’ابھی ابھی میں نے اپنے ٹرانسسٹر پر یہ اعلان سنا ہے کہ پاکستان کا کوئی مرد و دشخص چاند پر پہنچ گیا ہے۔ خدا اس کو غارت کرے۔ ’’برادران اسلام ۔ یہ صریح کفر ہے کہ جن اشیاء پر مشیت ایزدی نے اسرار و رموز کے حجاب ڈال رکھے ہیں انہیں سائنس اور نام نہاد ترقی کے نام پر بے نقاب کیا جائے۔

     ”بھائیو ۔ ہم نے اپنی اس چھچھوری حرکت سے باری تعالیٰ کی جانب میں سخت گستاخی کی ہے۔ میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ عنقریب ہم پر خدائے قہار کا غضب نازل ہونے والا ہے۔۔۔“

    گاؤں اور قصبوں ہی کے نہیں شہروں کے ملاؤں میں بھی اس خبر سے ہلچل مچ گئی ۔ چناں چہ ایک شہر کی درسگاہ میں ایک ملا صاحب جو درپردہ شعر وسخن کا بھی مذاق رکھتے تھے ، یوں نکتہ سنج تھے:

    ’’ باری تعالیٰ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنا کر بھیجا اور یہ اختیار بخشا کہ جاو ہاں جو جی میں آئے کرتا پھر ۔مگر انسان کا ناشکرا پن اور اس کی ہوس ملک گیری دیکھو کہ اسے زمین کی لامحدود وسعتیں اپنے اعمال وافعال کے لیے تنگ معلوم ہو ئیں۔ اور اس نے اپنے خالق ہی کے آستانہ خاص ، اس کی آسمانی مملکت ہی پر جو چاند سورج اور ستاروں پر محیط ہے، غاصبانہ قبضہ جمانے کی ٹھان لی ہے۔۔۔

    ’’ اللہ اللہ ! انسان کے جنون نخوت کا کچھ ٹھکانہ ہے کہ اس نے فرشتوں کو تو صید زبوں قرار دےکر چھوڑ دیا اور خود یزداں ہی پر کمندیں پھینکنی شروع کر دیں۔ نعوذ بااللہ من ذالک۔۔۔ ‘‘

    اور پھر اگلے جمعہ کو دارالسلطنت کی وسیع جامع مسجد میں جہاں ہزاروں مسلمان نماز جمعہ کے لیے جمع ہوئے تھے شہر کے ایک شیوہ بیان خطیب للکار للکار کر اپنے خطبہ میں کہہ رہے تھے:

    ’’مسلمانو!  تمہاری درسگاہوں میں جو شیطانی علوم پڑھائے جا رہے ہیں جانتے بھی ہو ان کا لب ولباب کیا ہے؟ ان کا لب لباب یہ ہے کہ مادہ مثل ذات باری تعالیٰ ازلی ہے۔ یا ذات باری تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) خود مادی ہے۔ تم نے دیکھا ان علوم نے رفتہ رفتہ کیا گل کھلایا ! میرا اشارہ تسخیر قمر کی طرف ہے جس کی خبر تم نے ریڈیو پرسنی اور اخباروں میں پڑھی ہوں گی۔ ہماری حکومت جو مغرب کی پیروی میں لادینیت کا شکار ہوگئی ہے اپنی اس کامیابی پر پھولی نہیں سماتی حالاں کہ یہ سخت کافرانہ وملحدانہ فعل ہے جس کے مرتکب شریعت کی رو سے واجب القتل ہے۔۔۔

    ’’مسلمانو! آج ہر طرف فسق و فجور کا بازار گرم ہے۔ زمین فتنہ و فساد کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔ بے دینی ، بے غیرتی ، بے حیائی ، فحاشی ، عیاشی اور کفر والحاد کا دور دورہ ہے۔ اللہ کا کلمہ نیچا اور کفر کا بول بالا ہورہا ہے۔ آلات لہو لعب اور ناچ گانے کا عام رواج ہو گیا ہے۔ عورت کی آنکھ سے حیا اور جسم سے لباس کی قید اٹھ گئی ہے۔ یہ ساری علامتیں قرب قیامت کی ہیں۔۔۔

    مسلمانوں۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب کلام اللہ دلوں ، زبانوں اور کاغذوں سے اٹھا لیا جائے گا۔ زمین جابجاشق ہو جائے گی۔ سمندر ابل پڑیں گے۔ پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تیز ہوا سے ریت کی طرح اڑنے لگیں گے ۔ گردو غبار اور آندھیوں سے جہان تیرہ و تار ہو جائے گا۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔۔۔

    مسلمانوں ۔ جاؤ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، شہر شہر لوگوں کو خبر دار کر دو کہ انسان من حیث القوم تو بہ و استغفار کر لے کیوں کہ قیامت آنے والی ہے۔۔۔‘‘

     اور اس طرح ملاؤں نے اپنی لسانی اور زور خطابت سے عوام کو قرب قیامت کا ایسا یقین دلا دیا کہ ہر شخص ڈرا ڈرا سہما سہما نظر آنے لگا۔ حکومت کے خلاف ہر طرف ایک بددلی سی پھیلنے لگی۔ ملاؤں کی تحریک روز بروز زور پکڑنے لگی ۔ ملک بھر میں جگہ جگہ پہلے چھوٹے چھوٹے پھر بڑے بڑے جلوس نکلنے لگے۔ اسی طرح ان کے جلسوں کے شرکا کی تعداد بھی جلد جلد بڑھنے لگی ۔ جلد ہی دارالسلطنت میں ایک بھاری جلسہ منعقد کیا گیا جس میں حسب ذیل قراداد منظور کی گئی:

    ’’پاکستان کے عوام موجودہ نظام حکومت کو سخت کافرانہ اور فاسد اصولوں پر قائم تصور کرتے ہیں جس سے ہولناک نتائج نکلنے کا شدید خطرہ درپیش ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ کہ اس نظام کو فوراً بدلا جائے۔ اور اس کے بجائے ملک میں قانون خداوندی رائج کیا جائے۔“

    اس قرارداد نے یک بیک ارباب حکومت کو جیسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جب تک ملاؤں کی تحریک تسخیر قمر کی مخالفت تک محدود رہی تھی ، انہوں نے اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا تھا۔ اور سچ یہ ہے کہ شروع شروع میں ان کے پاس اس طرف دھیان دینے کے لیے وقت بھی نہ تھا۔ ان کی توجہ تو تمام تر اس خراج تحسین کو وصول کرنے میں لگی ہوئی تھی جو ساری دنیا اس محیر العقول کامیابی اور سائنس میں ان کی پیش روی پر انہیں ادا کر رہی تھی۔ اور پھر وہ یہ بھی جاننا چاہتے تھے کہ اس کا عالمی سیاست اور خصوصاً ہمسایہ ممالک پر کیا اثر پڑا ہے۔ وہ ظاہر میں کیا کہتے ہیں اور در پر دہ  ان کا رد عمل کیا ہے۔

    چناں چہ ملاؤں کی اس تحریک پر عام طور پر خیال کیا گیا کہ ان لوگوں کا کیا ہے۔ یہ تو سائنس کے ہر انکشاف ، ہر نئی اختراع کی شروع شروع میں ایسے ہی مخالفت کیا کرتے ہیں ۔ مگر پھر رفتہ رفتہ خود بھی اس کو قبول کر لیتے اور اپنے تصرف میں لانے لگتے ہیں ۔ چناں چہ آج بڑے بڑے خرقہ و عمامہ والے ملاؤں میں سے شاید ہی کسی کا گھر ٹیلیفون ، ریڈیو یا ٹیلی ویژن سے خالی ہوگا۔ یا ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جو دینی نشریات میں اپنے لیے وافر حصے کا طلب گار نہ ہو ۔ یا جو کسی سرکاری یا قومی دورے کے سلسلے میں ہوائی جہاز کو نقل وحرکت کے دوسرے ذرائع پر ترجیح نہ دیتا ہو۔

    اور تو اور آج مساجد تک میں لاؤڈ سپیکر جسے یہ لوگ تلفظ کی سہولت کے لیے ’’آلہ مكبر الصوت‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ، اذان ، خطبہ اور دینی تقریبات کی تشہیر کا ایک جز ولا ینفک ہے۔ اس لیے عجب نہیں کے چند ہی روز میں وہ تسخیر قمر کو بھی قبول کر لیں ۔ اور پھر کون کہہ سکتا ہے کہ آئندہ جب کبھی چاند میں سب سے پہلی مسجد کے افتتاح کا موقع آئے تو ہر ملا اس مقدس فریضہ کے ادا کرنے کا خود کو دوسروں سے کہیں زیادہ اہل ظاہر نہ کرے گا۔

     لیکن اب جو اس تحریک نے ایک نیا ہی رنگ اختیار کر لیا تو ارباب حکومت کو سخت تشویش ہوئی۔ اور انہوں نے اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے حکومت کا موقف واضح کرنے کی کوشش کی ۔ اسی سلسلے میں ایک مفکر سے ’’سائنس اور اسلام‘‘کے عنوان سے ریڈیو پر ایک زور دار تقریر بھی نشر کرائی۔ جس میں مفکر نے کہا:

     ”ہمارے ملا صاحبان سائنس کو کفر و الحاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور اس کے درس و تدریس کو گناہ قرار دیتے ہیں۔ حلاں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں جا بہ جا ارشاد فرمایا ہے کہ کائنات کو مسخر کرو۔ ہواؤں پر حکم چلاؤ۔ چاند اور سورج کی شعاعوں کو اپنی گرفت میں لاؤ۔ زمین کے سینے سے اس کے ان گنت خزانے نکالو۔ اور سمندر کی طوفانی موجوں کو تابع فرمان بناؤ۔۔۔ تسخیر قمران ہی ارشادات خداوندی کی تعمیل کی ایک کوشش ہے۔۔۔‘‘

    ایک پمفلٹ میں جس کا عنوان ” برچھی سے ایٹم بم تک‘‘ تھا، مضمون نگار نے موجودہ زمانے کے تقاضوں پر یوں روشنی ڈالی:

     حضور سرور کائنات کے زمانے میں تیراندازی، شمشیر زنی اور شہسواری کی مہارت مسلمانوں کے لیے ایک مقدس فریضے کی حیثیت رکھتی تھی ۔ کیوں کہ اس سے دین حق کی حفاظت مقصود تھی ۔ اگر آنحضرت ﷺ موجودہ زمانے میں ہوتے اور دیکھتے کہ کس طرح باطل کی قوتیں چاروں طرف سے اسلام کو اپنے نرغے میں لینا چاہتی ہیں تو وہ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ٹینک اور ہوائی جہاز تو کیا

    راکٹ، میزائل بلکہ ایٹم بم تک کے استعمال کو ہر مومن کے ایمان کا جز وقرار دیتے ۔۔۔‘‘

     مگر ملاؤں کی تحریک اب اس قدر زور پکڑ چکی تھی کہ محض بیانات سے اس کا مداویٰ مشکل تھا۔

     ادھر جب کیپٹن آدم خان چاند کی مہم سر کر کے اپنے خلائی جہاز سمیت صحیح سلامت وطن واپس پہنچ گیا تو اس کی بڑی آو بھگت کی گئی۔ اسے قومی ہیرو قرار دیا گیا۔ اس کا استقبال ایک فاتح کی حیثیت سے کیا گیا۔ اور اس کے فوجی مناصب میں جلد جلد ترقی دے کر اسے پہلے میجر اور پھر کر نیل بنا دیا گیا۔علاوہ ازیں ملکی و غیر ملکی اخبارات میں اس کی ان گنت تصویریں اور انٹر ویو چھاپے گئے ۔ ایک تصویر جو خاص طور پر بڑی مقبول ہوئی اس موقع کی تھی جب کہ ایک غیر ملکی سفیر کی بیوی پاکستانی خلا پیما کی اس عدیم النظیر بہادری پر وفور جذبات سے مغلوب ہو کر اس کا منہ چوم رہی تھی ۔ ہر چند اس میں بڑا معصوم سا جذبہ کار فرما تھا۔ مگر ملاؤں نے جو آدم خان کو مردود اور گردن زدنی سمجھتے تھے ، اسے کچھ اور ہی معنی پہنا کے خوب خوب اچھالا ۔ اور اسی سلسلے میں حزب اختلاف کے بعض اراکین سے ساز باز کر کے قومی اسمبلی میں ایک تحریک التوا بھی پیش کروا ڈالی ۔

    اس سے ملک میں اور بھی انتشار پھیل گیا۔ ملاؤں کے حوصلے پہلے سے بھی بڑھ گئے۔ اور انہوں نے جلد ہی اپنا ایک ملک گیر کنونشن منعقد کر ڈالا ۔ جس میں متفقہ طور پر حکومت کے ارباب حل وعقد سے مطالبہ کیا گیا کہ چوں کہ وہ کافر و بے دین ہیں۔ اور مملکت خدا داد پاکستان کی سر براہی کی اہلیت نہیں رکھتے ، اس لیے ان کو فوراً مستعفی ہو جانا چاہیے۔

     جس عظیم الشان جلسے میں یہ قرار داد پیش کی گئی اس میں بڑی بڑی جو شیلی تقریریں سننے میں آئیں۔ ایک ملا صاحب حاضرین سے یوں خطاب کر رہے تھے:

    ’’ حیف صد حیف کہ ارباب حکومت نے ہماری تنبیہ کو پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دی۔ لیکن دوستواب تنبیہات کا وقت گزر چکا ہے اور وہ ساعت آ پہنچی ہے کہ ملک کی زمام کار ملحدوں اور خدا کے باغیوں سے چھین لی جائے ۔ اور حکومت کی سر براہی مؤمنین اور صالحین کے ہاتھوں میں ہو ۔ پس اے مسلمانو اٹھو ۔ اس کا فرانہ تہذیب کے علم برداروں سے عنان اقتدار چھین لو ۔ اور چار دانگ عالم میں دین الہٰی کا ڈنکا بجادو۔۔۔

    ’’ کیا تم جاننا چاہتے ہو کہ ہم کیسی حکومت چاہتے ہیں ؟ آؤ میں تمہیں اس کی ایک جھلک دکھاؤں۔ اس حکومت میں کوئی فقیر نہیں ہوگا ، لاوارث نہیں ہوگا کیوں کہ یہ حکومت خود اس کا مائی باپ ہوگی۔ زمین کا مالک اللہ اور صرف اللہ ہوگا ۔ نہ مزارع ہوگا نہ زمیندار۔۔۔اگر ایسی بادشاہت چاہتے ہو تو مسلمانو اس زور سے نعرہ تکبیر لگاؤ کہ ایوان کفر کے در و بام متزلزل ہو جائیں۔‘‘

     اور واقعی حاضرین جلسہ نے اس زور سے نعرہ تکبر بلند کیا کہ دور دور تک راہ گیر چلتے چلتے تھم گئے ۔ اور گردنیں اٹھا اٹھا کے دیکھنے لگے کہ یہ شور کیسا ہے!

     اس کے بعد ایک چھوٹے سے قد کے ملا جن کی تقریر کا موضوع ” فی سبیل اللہ جہاد‘‘ تھا بڑے جوش سے اچھل اچھل کر کہنے لگے : ہم اللہ کے سپاہی ہیں ۔ حکومت نے ہم کو سمجھا کیا ہے۔ وہ ہماری طاقت سے بے خبر ہے ۔ اگر ہم نہ چاہیں تو نہ کہیں شادی بیاہ ہو، نہ میت کی تجہیز وتکفین عمل میں آئے ۔ حکومت لاکھ اعلانات کرتی پھرے میں کہتا ہوں دور بینیں لگا لگا کے دیکھے۔ ہوائی جہازوں میں بادلوں سے اوپر اوپر پرواز کرے۔ ٹیلیفون کے ذریعے دوسرے شہروں سے شہادتیں فراہم کرائے مگر جب تک ہم اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے ہلال کو نہ دیکھ لیں نہ عید کی خوشی ہو نہ محرم کا سوگ ۔ حکومت اس باب میں بارہا ہم سے متصادم ہو کر ہماری طاقت کا اندازہ کر چکی ہے۔۔۔ ‘‘

    جب یوں کھلم کھلا نعرہ بغاوت بلند ہونے لگے تو کون حکومت اسے ٹھنڈے پیٹوں گوارا کر لے گی ! چناں چہ ان تمام مقررین کو جنہوں نے اس جلسے میں اشتعال انگیز تقریریں کی تھیں نقص امن کے خطرے کے تحت راتوں رات ان کے ٹھکانوں سے گرفتار کر لیا گیا۔ اور ملک بھر میں دفعہ ۱۴۴ ( ایک سو چوالیس ) نافذ کر دی گئی جس کی رو سے لاٹھیوں ، تلواروں، برچھی بھالوں اور دوسرے ہتھیاروں کو لے کر چلنا، اینٹ پتھر، تیزاب اور سوڈے کی بوتل کو دنگے فساد کی غرض سے جمع کرنا، پانچ یازیادہ اشخاص کا اکھٹا ہونا ممنوع قرار دیا گیا۔

    ان گرفتاریوں نے اور بھی آگ بھڑ کا دی۔ حکومت کے اس فعل کو مداخلت فی الدین سمجھا گیا۔ لوگ اپنے مذہب سے خواہ کتنے ہی بے گانہ کیوں نہ ہوں ،مگر ایک مرتبہ جب ان کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ ان کے دین کی حرمت کا سوال ہے۔ تو یکبارگی ان کے مذہبی احساسات بیدار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ ایک جنون کی سی کیفیت میں دین کی خاطر جان تک دے دینے سے دریغ نہیں کرتے ۔ یہی حال اس تحریک کا ہوا ۔ عوام میں ہر طرف ناراضگی پھیل گئی لیکن چوں کہ جلسوں جلوسوں پر پابندی عائد تھی اور وہ بر ملاغم وغصے کا اظہار نہ کر سکتے تھے اس لیے وہ ایک ایک دو دو کر کے مسجدوں میں پہنچنے لگے۔ اور خود کو ملاؤ ں کی تحریک سے وابستہ کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ تمام مسجدیں سیاسی کارروائیوں کا مرکز بن گئیں۔ دن رات رہنماؤں میں مشورے ہونے لگے۔ نمازیوں کو کھلم کھلا سرکشی پر آمادہ کیا جانے لگا۔ جب ملاؤں کو یقین ہو گیا کہ عوام پورے طور پر ہمارے ساتھ ہیں تو انہوں نے ایک خاص دن ان گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے مقرر کر دیا۔ اعلان میں کہا گیا کہ اس روز سارے ملک میں ہڑتال کی جائے گی۔ اور حکومت کی نافذ کردہ دفعہ ۱۴۴ ( ایک سو چوالیس ) کو توڑنے کے لیے شہر کی ہر مسجد سے نماز فجر کے بعد جتھے روانہ ہوں گے جن میں شرکا کی تعداد پانچ سے کسی صورت میں کم نہ ہوگی۔

     یوم احتجاج کی صبح کو ابھی اندھیرا ہی تھا کہ حکومت نے شہر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد کے باہر پولیس کی بھاری جمعیتیں متعین کر دیں۔ حسب اعلان نماز فجر کے بعد نمازیوں کے جتھے مسجدوں سے نکلنے شروع ہوئے۔ ہر شخص کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے تھے۔ اور اس کے کپڑوں پر عرق گلاب چھڑ کا گیا تھا۔ پولیس نے ان لوگوں کو دھڑا دھڑ اگر فتار کرنا شروع کر دیا۔ صرف ایک گھنٹے کے اندر ملک کے طول و عرض میں دس ہزار سے اوپر گرفتاریاں عمل میں آچکی تھیں۔ پھر بھی ان جتھوں کے کم ہونے کے آثار نظر نہ آتے تھے۔ لوگ تھے کہ خود کو گرفتار کرانے کے شوق میں جوق در جوق چلے آتے تھے۔ شہروں سے قصبوں سے ، دیہات سے ۔ بعض سروں پر کفن باندھے ہوئے تھے، بعض درود شریف پڑھتے چلے آتے تھے۔ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی جولا مکھی پہاڑ پھٹ پڑا ہے جس سے انسانی لاوا بہتا چلا آ رہا ہے۔

     یہ تو تھا دفعہ ۱۴۴ ( ایک سو چوالیس) کے توڑنے والوں کا حال ۔ اب ہڑتال کرانے والوں کا ماجرا سنیے ۔ یہ لوگ جن میں بہت سا عنصر غنڈوں اور آوارہ گر دلڑکوں کا شامل ہو گیا تھا، صبح ہوتے ہی بازاروں اور گلی کوچوں میں چکر لگانے لگے۔ رضا کاروں نے گزشتہ رات ہی کو شہر کے ہر حصے میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے دکان دار فساد کے ڈر سے گھروں ہی سے نہ نکلے۔ اور اگر کچھ لوگوں نے پولیس کے اصرار اور حفاظت کی یقین دہانی پر دکا نیں کھولیں بھی تو ہڑتالیوں کے مشتعل گروہ فوراً موقع پر پہنچ گئے ۔ اور لوٹ مار کی دھمکی دے کر دکانوں کو بند کرادیا۔ اگر کہیں پولیس نے مزاحمت کی تو اس پر اینٹیں اور پتھر برسائے گئے ۔ پولیس نے پہلے زیادہ سختی اختیار نہ کی ۔ جب اس کے سمجھانے بجھانے سے ہجوم منتشر نہ ہوتا ۔ تو وہ ہلکا سا لاٹھی چارج کر دیتی ۔ لوگ ادھر ادھر بکھر جاتے لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوتے ۔ رفتہ رفتہ دونوں طرف تندی اور درشتی پیدا ہونے لگی ، حالات نازک صورت اختیار کرنے لگے۔

    یہ ہڑتالی دکانیں ہی بند نہیں کرا رہے تھے بلکہ بسوں ،ٹیکسیوں اور رکشاؤں کو روک بھی رہے تھے۔ ان ہنگاموں میں دو بسوں اور آٹھ رکشاؤں کو جلا دیا گیا۔ جن بسوں کے شیشے توڑے گئے ان کا تو کچھ حساب ہی نہ تھا۔

     کچھ لوگوں نے سرکاری دفتروں اور غیر ملکی سفارت خانوں کا رخ کیا۔ اور انہیں آگ لگانے لگے ۔ حکومت کے لیے یہ بڑا نازک وقت تھا۔ جب پولیس کا لاٹھی چارج اور آنسو گیس اس سیلاب کو نہ روک سکا تو فوج بلوائی گئی۔ یہی واقعہ کئی شہروں میں پیش آیا۔ ہر جگہ کرفیو لگا دیا گیا ۔ مگرفتنہ وفساد اور بلووں کا سلسلہ ختم نہ ہوا۔ شام ہوتے ہوتے تقریباً پچاس ہزار رضا کارگرفتار ہو چکے تھے ۔ اور سینکڑوں جانیں آتشیں اسلحہ کی نذر ہو گئی تھیں ۔۔۔

    ٣

    ملاؤں نے روئے زمین پر خدا کی بادشاہت کا جو تصور پیش کیا تھا وہ اب حقیقت بن چکا ہے۔

    پچھلی حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد سب سے پہلے بالغ رائے دہندگان کے ووٹوں سے ایک امیر چنا گیا۔ اور اسے دنیا پر خدا کے نائب کی حیثیت دی گئی ۔ انتخاب کا مسئلہ بڑا ہنگامہ خیز ثابت ہوا تھا ۔ اور سارا ملک جیسے ایک بحران کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ جب تک ملا صاحبان حکومت سے برسر پیکار رہے، ان میں اتحاد بھی رہا اور یک جہتی بھی۔ مگر جیسے ہی عام انتخاب منعقد کرنے کا اعلان ہوا ہر شخص حصول اقتدار کے لیے مضطرب ہو گیا۔

     ملک بھر میں بہت سی جماعتیں الیکشن لڑنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔ ہر جماعت نے اپنا اپنا لائحہ عمل ، اپنے اپنے قواعد وضوابط اور اپنی اپنی مخصوص وردی وضع کر لی۔ اور پھر جتھے بنا بنا کر اپنے اپنے امیر کے گن گاتی گلی گلی، کوچے کوچے پھرنے لگی ۔ جلسے جلوس ، پوسٹر بازی غرض وہ وہ ہنگامے ہوئے کہ باید وشابد ۔ الیکشن میں جن جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ان میں سبز پوش ، سرخ پوش، نیلی پوش، پیلی پوش ، سیاہ پوش اور سفید پوش خاص طور پر قابل ذکر تھیں ۔ موخر الذکر جماعت زیادہ تر دیہاتیوں پرمشتمل تھی۔

    اس الیکشن میں جو خوش نصیب ملا بر سراقتدار آیا وہ سبز پوشوں کی جماعت کا امیر تھا۔ زبان وقلم کا دھنی۔ آتش بیاں، زو درقم اس نے اپنے خطبوں اور پمفلٹوں سے ملک میں ہلچل سی مچادی۔ اور اپنی آواز کو ملک کے گوشے گوشے میں پہنچادیا۔ غرض اس زور شور سے پروپیگنڈا کیا کہ انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹ اسی کو ملے ۔ اور سرخ پوش، نیلی پوش، پیلی پوش، سیاہ پوش اور سفید پوش امیدوار منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔

    سبز پوشوں کے امیر نے انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سوچا کہ ان مخالف جماعتوں کے نمائندوں کو مجلس شوریٰ میں شامل کر لینا بہتر ہوگا۔ اس طرح ایک تو ان کی اشک سوئی ہو جائے گی دوسرے وہ ملک میں فتنہ و فساد پھیلانے سے باز رہیں گے۔

    امیر نے کہا: ” الگ الگ رنگ بجائے خود کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ لیکن جب یہی رنگ یکجا ہو جاتے ہیں تو دیکھو کیسی خوبصورت دھنک بن جاتی ہے۔“

    یہ مصالحت بڑی کار آمد ثابت ہوئی ۔ چناں چہ مجلس شوریٰ جس کا کام امور رسلطنت میں امیر کو مشورت دینا تھا پوری قوم کی نمائندہ بن کر اپنا کام بڑی دل جمعی کے ساتھ انجام دینے لگی ۔ امیر نے مجلس شوریٰ کے اجلاس اور دیگر انتظامی امور سرانجام دینے کے لیے شہر کی جامع مسجد کو پسند کیا۔ اور اسی کے ایک حجرے میں بود و باش اختیار کی ۔ چناں چہ دن رات جامع مسجد میں مجلس شوریٰ کے جلسے ہونے لگے۔ اور حکومت کا اصلاحی اور تعمیری کام بڑی سرگرمی سے شروع ہو گیا۔

     مجلس شوریٰ نے سب سے پہلے اپنی توجہ اس امر پر مرکوز کی کہ پچھلی حکومت کے زیر اثر معاشرے کے رگ و پے میں مغربی تہذیب و تمدن کا جو زہر سرایت کر گیا ہے اس کو زائل کیا جائے۔ چناں چہ تمام انگریزی طور طریقے ، لباس ، آدب معاشرت یک قلم موقوف کر دیے گئے ۔ بلکہ اس اقدام کو زیادہ موثر بنانے کے لئے ” نہ رہے بانس نہ باجے بانسری“ کے مصداق انگریزی زبان کی تحصیل ہی کو نصاب تعلیم سے خارج کر دیا گیا۔

    ملک کی زمام کار امیر نے خود اپنے ہاتھ میں لی اور پچھلی حکومت کے انتظامی امور کے طریقے، سکرٹریٹ اور اس کے ماتحت جملہ شعبے منسوخ کر دیے گئے ۔ اور ان کی پچھلی فائیلوں اور تمام ریکارڈ ز کو نذر آتش کر دیا گیا۔ البتہ پولیس اور چنگی کے محکمے بحال رکھے گئے ۔