احمد مشتاق

احمد مشتاق

اک پھول کہیں مہک رہا ہے

    اک پھول کہیں مہک رہا ہے موسم پلکیں جھپک رہا ہے کل رات کی برف کو بھرا پیڑ ہولے ہولے جھٹک رہا ہے اب دھوپ ہے اور ایک رخسار کندن کی طرح دہک رہا ہے اب شہر میں شام ہو رہی ہے پیمانہ جاں چھلک رہا ہے ہنستی ہوئی رات میں کوئی ساز بچوں کی طرح بلک رہا ہے