احمد مشتاق

احمد مشتاق

چپکے چپکے گھر میں بیٹھے عاشقی کرتے رہے

    چپکے چپکے گھر میں بیٹھے عاشقی کرتے رہے چھاؤں میں بیٹھ کر عبادت دھوپ کی کرتے رہے اس لیے گھر سے نہ نکلے تم نہ آجاؤ کہیں تم نہ آئے عمر بھر ہم یاد ہی کرتے رہے یوں تو پندارِ خدائی تھا پر اس کے باوجود چھوٹی چھوٹی خواہشوں کی بندگی کرتے رہے کاش ہم نے بھی سنی ہوتی کبھی دل کی پکار چاہتی تھی ہم سے جو دنیا وہی کرتے رہے اب بتائیں بھی تو کیسے دل کے بجھنے کا سبب ہم کہ اپنے آپ سے پہلو تہی کرتے رہے مطمئن تو خیر کیا ہوں گے مگر نادم نہیں دل میں جب تک آگ تھی ہم روشنی کرتے رہے