احمد مشتاق

احمد مشتاق

دل بوقتیکہ وہ خورشیدِ جمال آیا ہو

    دل بوقتیکہ وہ خورشیدِ جمال آیا ہو عین ممکن ہے کہ ہم کو بھی دکھا لایا ہو کشتۂ عشق کو عیسیٰ َفَسوں کے آگے موت آجائے جو جینے کا خیال آیا ہو دل کی حالت سے تو لگتا ہے کہ جیسے یہ جواں بارِ کونین اکیلا ہی اٹھا لایا ہو دیکھ لینا جو کہیں موجۂ بادِ سحری چمنِ غیب سے اُس گل کا پتا لایا ہو جذبِ افلاک سے مٹی نے ستارے اُگلے جیسے اک صاحبِ اسرار کو حال آیا ہو آج نکلا ہے کوئی دشت سے خورشید بکف جیسے ہر ذرّے کو اندر سے اجال آیا ہو