احمد مشتاق

احمد مشتاق

دیکھئے کب ہوتی ہے نشوونما پانی کی

    دیکھئے کب ہوتی ہے نشوونما پانی کی ہم نے اک اشک سے ڈالی ہے بنا پانی کی اپنی قسمت میں ہے اک دشتِ بلا کا منظر اور اطراف سے آتی ہے صدا پانی کی دستِ خالی کے سوا ان کے تصرف میں ہے کیا کیا کریں لوگ جو مانگیں نہ دعا پانی کی اس سے پہلے کہ ترس جائیں نمی کو آنکھیں لوحِ دل پر کوئی تصویر بنا پانی کی