کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا
کس شے پہ یہاں وقت کا سایہ نہیں ہوتا اک خوابِ محبت ہے کہ بوڑھا نہیں ہوتا وہ وقت بھی آتا ہے جب آنکھوں میں ہماری پھرتی ہیں وہ شکلیں جنہیں دیکھا نہیں ہوتا بارش وہ برستی ہے کہ بھرجاتے ہیں جل تھل دیکھو تو کہیں ابر کا ٹکڑا نہیں ہوتا گھِر جاتا ہے دل درد کی ہر بند گلی میں چاہو کہ نکل جائیں تو رستہ نہیں ملتا یادوں پہ بھی جم جاتی ہے جب گردِ زمانہ ملتا ہے وہ پیغام کہ پہنچا نہیں ہوتا تنہائی میں کرنی تو ہے اک بات کسی سے لیکن وہ کسی وقت اکیلا نہیں ہوتا کیا اس سے گلہ کیجیے بردبادی دل کا ہم سے بھی تو اظہارِ تمنا نہیں ہوتا