مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

ساز خاموش ہوئے سوزِ گلو باقی ہے

    ساز خاموش ہوئے سوزِ گلو باقی ہے میری آواز کے کاسے میں لہو باقی ہے اس گزرتے ہوئے موسم کو ہے افسوس تو یہ چند پودوں میں بھی کیوں ذوقِ نمو باقی ہے دوپہر بیت گئی، پھر بھی جھلستا ہے بدن گرچہ سورج میں تمازت نہیں، لُو باقی ہے آب و گل میں وہ جراثیم خرد نے گھولے رنگ باقی نہ کسی پھول میں بُو باقی ہے ہم ہیں وہ شاخ کہ جس پر کوئی پتہ ہے نہ پھل ہاں مگر شاخِ ثمر بار کی خو باقی ہے