اچانک ملنا معجزے سے کم نہیں ہوتا
اچانک ملنا معجزے سے کم نہیں ہوتا مگر جب چاہیے یہ معجزہ اس دم نہیں ہوتا محبت ہو کہ نفرت ہو مگر اکثر یہ دیکھا ہے یہ شعلہ جب بھڑک اُٹھے تو پھر مدھم نہیں ہوتا نہ اعجازِ یدِ بیضا، نہ اعجازِ عصا پھر بھی کسی فرعون کے آگے مرا سرخم نہیں ہوتا ستم یہ ہے کہ منزل پر لٹا ہے قافلہ اپنا اگر رستے میں لٹ جاتا تو اتنا غم نہیں ہوتا ہر اک بستی پہ اَب تو ملگجی سی دھوپ رہتی ہے وہ رنگ و نور کا برسوں سے کیوں موسم نہیں ہوتا نظر ملتے ہی دل کی دھڑکنوں کا تیز ہوجانا بہت ہی شاذ ہوتا ہے کہ یوں پیہم نہیں ہوتا کوئی پھر کس طرح سمجھے ہمیں یک جان دو قالب تری باتوں میں ”میں“ ہوتا ہے لیکن ”ہم“ نہیں ہوتا ضرورت کیا تھی خنجر کی اگر لہجے کا رُوکھا پن لگاتا زخم جومِنت کشِ مرہم نہیں ہوتا کوئی ان شوقیہ جدت پسندوں کو یہ سمجھا دے کہ زندہ شعر وہ رہتا ہے جو مبہم نہیں ہوتا