اک برگِ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ
اک برگِ سبز شاخ سے کر کے جدا بھی دیکھ میں پھر بھی جی رہا ہوں میرا حوصلہ بھی دیکھ مانا کہ تیرا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ملنے کے بعد مجھ سے ذرا آئینہ بھی دیکھ ذرّے کی شکل میں مجھے سمٹا ہوا نہ جان صحرا کے روپ میں مجھے پھیلا ہوا بھی دیکھ تُو نے تو مشتِ خاک سمجھ کے اُڑا دیا اب مجھ کو اپنی راہ میں بکھرا ہوا بھی دیکھ خوابوں کے سلسلے تو گھروندے ہیں ریت کے بیدار ہو کے جسم کا یہ فاصلہ بھی دیکھ تیرے لیے تو صرف اشاروں کا کھیل تھا مجھ کو جو پیش آیا ہے، وہ حادثہ بھی دیکھ اوروں کے پاس جا کے مری داستاں نہ پوچھ جو کچھ ہے میرے چہرے پہ لکھا ہوا بھی دیکھ ہموار راستوں پہ مرا ساتھ چھوڑ کر آگے نکل گیا ہے تو اب راستہ بھی دیکھ چہرے کی چاندنی پہ نہ اتنا بھی مان کر وقتِ سحر تو رنگ کبھی چاند کا بھی دیکھ