یاد آئے جو ماضی کے لمحات بہت رویا
یاد آئے جو ماضی کے لمحات بہت رویا میں چاند نکلتے ہی کل رات بہت رویا ساون کی گھٹا جیسے برسی مری آنکھوں سے میں اب کے برس پوری برسات بہت رویا نغمائی ہوئی رُت میں کوئی تو سبب ہوگا سوچو، کہ میں کیوں آخر بن بات بہت رویا گلدان سجانے کو جب کوئی کلی توڑی ہر شاخ بہت چیخی، ہر پات بہت رویا میں صرفِ نظر کرتا کب تک غمِ فرقت سے جب ہوگئے بے قابو جذبات بہت رویا اس ضبط کے پیکر کو تم کاش سمجھ سکتے جو ہنستا رہا دن بھر اور رات بہت رویا انصاف نہ ہو جن میں مٹ جاتی ہیں وہ قومیں میں سوچ کے فردا کے حالات بہت رویا