اشک بن کر یہیں جذب ہوجائیں گے، خاک ہو کر یہیں ہم بکھر جائیں گے
اشک بن کر یہیں جذب ہوجائیں گے، خاک ہو کر یہیں ہم بکھر جائیں گے دشتِ غربت! تری وسعتوں کی قسم، اب تجھے چھوڑ کر ہم کدھر جائیں گے تم تو ہم سے ملے تھے بہت سرسری، یہ نہ سوچا تھا تم نے مگر، اجنبی ہم تو دھڑکن ہیں، دل میں سما جائیں گے، ہم ہیں نشّہ بدن میں اتر جائیں گے کل کی نسلیں نہ ہم پر تَاسُّف کریں، بے حسی پر نہ اِس دور کی تُف کریں دوستو! ہم تو اوراقِ تاریخ میں ورثہئ اشکِ غم چھوڑ جائیں گے اپنی محرومیوں کا نہیں کوئی غم، داغِ حسرت بنائیں گے خورشید ہم تیری تصویر میں، صبح ارضِ وطن! ہم تو ایثار کا رنگ بھر جائیں گے دشمنانِ محبت میں شامل ہیں وہ جن کو اپنا سمجھتے تھے قاتل ہیں وہ کوئی دھڑکا نہیں، کوئے قاتل میں ہم سر بکف جائیں گے بے سپر جائیں گے