ضبط کرتے رہیں حالِ دلِ مضطر نہ کہیں
ضبط کرتے رہیں حالِ دلِ مضطر نہ کہیں یہ بھی ہے پاسِ وفا، تجھ کو ستمگر نہ کہیں میرے احبا ب کا اس دور میں معیار ہے یہ پیٹھ پیچھے جو کہیں، وہ مرے منہ پر نہ کہیں ہم جو کہتے ہیں نشے میں ہمیں کہہ لینے دو عین ممکن ہے کہ پھر ہوش میں آ کر نہ کہیں گونج اپنی سہی، تائید میں آواز تو ہے کیوں ترے شہر سے ہم دشت کو بہتر نہ کہیں بات اتنی ہے کہ ہم اذنِ تکلم چاہیں آپ کے حلقہ نشیں بات بڑھا کر نہ کہیں ذات کے خول میں ہر شخص مقیّد ہے یہاں کیا کہیں اس کو اگر عرصہئ محشر نہ کہیں گرد اتنی ہے کہ پہچان نہ پائیں خود کو جبر ہے، پھر بھی فضاؤں کو مکدّر نہ کہیں یوں تو اظہارِ غمِ دل کی اجازت ہے ہمیں شرط یہ بھی ہے کہ پتھر کو بھی پتھر نہ کہیں ہم ہیں فنکار، مقابر کے مؤرخ تو نہیں ہم کو ہوتا ہے جو محسوس وہ کیونکر نہ کہیں