ہے اُدھر پھر وہی شب خوں کا ارادہ برلاس
ہے اُدھر پھر وہی شب خوں کا ارادہ برلاس اور ادھر مشغلہئ بربط و بادہ برلاس پہلے بھی ایسی ہی شب تھی کہ قیامت ٹوٹی پھر وہی رُت وہی منزل وہی جادہ برلاس کیا اثر اس پہ ہو اعجازِ مسیحائی کا جس کا جینے کا نہ ہو اپنا ارادہ برلاس جس کو قربان کریں شاہ بچانے کے لیے ہم ہیں شطرنج کی بازی کے پیادہ برلاس ایسی بستی کو زمیں چاٹ لیا کرتی ہے ظلم بڑھ جائے جہاں حد سے زیادہ برلاس اپنے ملبوسِ دریدہ کو چھپانے کے لیے پہنے پھرتے ہو تصنع کا لبادہ برلاس تنگ دل، تنگ نظر لاکھوں ہوں دنیا والے تم رکھو دامنِ دل اپنا کشادہ برلاس اُس سے وابستہ رکھیں ساری امیدیں تم نے جس سے ایفا نہ ہوا کوئی بھی وعدہ برلاس