کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغازِ باب ہوگا
کتاب سادہ رہے گی کب تک کہیں تو آغازِ باب ہوگا جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی کبھی تو ان کا حساب ہوگا وہ دن گئے جب ہر اک ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چپ تھے اٹھی جواب کوئی اینٹ ہم پر، تو اس کا پتھر جواب ہوگا سحر کی خوشیاں منانے والو، سحر کے تیور بتا رہے ہیں ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہوگا سکوتِ صحرا میں بسنے والو، ذرا رُتوں کا مزاج سمجھو جو آج کا دن سکوں سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہوگا نہیں کہ یہ صرف شاعری ہے غزل تو تاریخِ بے حسی ہے جو آج شعروں میں کہہ دیا ہے یہ کل شریکِ نصاب ہوگا