وقتِ ایجابِ دعا تھا کوئی نعمت مانگتے
وقتِ ایجابِ دعا تھا کوئی نعمت مانگتے سامنے جابر کے سچ کہنے کی جرأت مانگتے کھل کے خواہش بھی نہ کی اور ہاتھ بھی پھیلا رہا مانگنا ہی تھا تو پھر حسبِ ضرورت مانگتے جن کی آنکھیں تھیں انہیں بھی کچھ نظر آتا نہ تھا ایسے اندھے شہر میں ہم کیا بصارت مانگتے اُن سے کیوں امید رکھتے جن کے کام آئے تھے ہم کیا خلوصِ دل کی ہم دنیا سے قیمت مانگتے تم تو نقدِ وصل دے کر بھی نہ کر پاتے ادا ہم اگر اس کارِ جاں سوزی کی اُجرت مانگتے چارہ جوئی کیسے کرتے خواہشوں کے قتل کی منصفینِ وقت تو عینی شہادت مانگتے تھا بضد بیٹا کہ وہ ٹیلے پہ اب محفوظ ہے پھر نزولِ قہر کی ہم کیسے مہلت مانگتے