ہمارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے
ہمارے قول و عمل میں تضاد کتنا ہے مگر یہ دل کہ خوش اعتقاد کتنا ہے کہ جیسے رنگ ہی لے آئے گا لہو اپنا وفا پہ اپنی ہمیں اعتماد کتنا ہے یہ جانتا ہے کہ وعدہ شکن ہے وہ پھر بھی دل اس کے وعدہئ فردا پہ شاد کتنا ہے وہ جس نے مجھ کو فراموش کر دیا یکسر وہ شخص مجھ کو مگر اب بھی یاد کتنا ہے ہے اب تو سارے مراسم کا انحصار اس پر کسی کی ذات سے ہم کو مفاد کتنا تھا ہر ایک سوچ ہے آلودۂ ہوس یارو رگوں میں قطرہئ خوں کا فساد کتنا ہے ہے یوں تو میرے رقیبوں میں اختلاف بہت مرے خِلاف مگر اتّحاد کتنا ہے