مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

تم نے ہی ساتھ دینے کا وعدہ وفا نہیں کیا

    تم نے ہی ساتھ دینے کا وعدہ وفا نہیں کیا ہم نے تو آج تک تمہیں دل سے جدا نہیں کیا ہم ہی وہ کم نصیب تھے، مانگے ملی نہ موت بھی آپ کا کیا قصور ہے آپ نے کیا نہیں کیا دشتِ طلب میں ہر صدا گونج بنی، بکھر گئی کس کو سلگتی ریت نے آبلہ پا نہیں کیا وہ تو یہ کہیے سخت جاں ہم تھے کہ وار سہہ گئے تم نے وگرنہ ایک بھی تیر خطا نہیں کیا قول و قسم کو توڑ کے جب وہ گیاتھا چھوڑ کے تو نے خدایا! اس گھڑی حشر بپا نہیں کیا آج وفا کا واسطہ دیتا ہے وہ وفا شکن جس نے غرورِ حُسن میں خوفِ خدا نہیں کیا موم ہوئے پگھل گئے، سنگ بنے چٹخ گئے پھر بھی زباں سے آج تک ہم نے گلہ نہیں کیا ویسے تو ہر کوئی یہاں مٹی کا ہے قصیدہ خواں مٹی کا جس پہ قرض ہے اس نے ادا نہیں کیا