مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

ہمارے یاروں کا صحنِ گلشن پہ جب کبھی اختیار ہوگا

    ہمارے یاروں کا صحنِ گلشن پہ جب کبھی اختیار ہوگا اسی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے جو شجر سایہ دار ہوگا تمام حلقہ نشیں ہوں جس کے ستائشِ ناروا کے عادی جو بات سچی کہو گے اس سے تو دشمنوں میں شمار ہوگا ہمارے اشکوں کی بارشوں سے نہ پیڑ پنپے نہ پھول مہکے لہو کا چھینٹا ہی اب تو شاید، پیامِ فصلِ بہار ہو گا بہار میں صرف غنچہ و گل ہی نازش ِ گلستاں رہیں گے خزاں جو آئی تو سب سے پہلے چمن پہ سبزہ نثار ہوگا جو بارِ خاطر ہے لب کشائی تو شعرکہہ کہہ کے چھپ کے رو لو جو بوجھ ہلکا ہوا نہ دل کا تو ذہن میں انتشار ہوگا