غور کر تو اپنے ہی برتاؤ پر
-
غور کر تو اپنے ہی برتاؤ پر ہم نے تو عزت لگا دی داؤ پر غمگساری دوستوں نے کی تو، یوں جیسے خنجر رکھ دیا ہو گھاؤ پر دل کی قیمت اِک تبسم اور بس آؤ سودا طے کریں اس بھاؤ پر موجِ سطحِ آب میں تیزی وہی موجِ زیریں لاکھ ہے ٹھہراؤ پر پہلے خواہش تھی جنہیں تسخیر کی اب پریشاں ہیں وہی پھیلاؤ پر امن کی تشہیر کرنے کے لیے فاختہ کو مار کر لے آؤ پر کچھ مسافر پھینک دو منجدھار میں بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ناؤ پر فخر ہے اِس دور کے مظلوم کو قائد اعظم، خمینی، ماؤ پر