مرتضی برلاس

مرتضی برلاس

حوصلہ مجھ میں ہے سننے کا خدارا کہیے

    حوصلہ مجھ میں ہے سننے کا خدارا کہیے مستحق جس کا ہوں بے شک مجھے ویسا کہیے آنکھ سے آنکھ ملائے تو قیامت ٹوٹے دشمنِ جاں ہے بضد اس کو مسیحا کہیے طبعِ نازک پہ گراں گزریں گی سچی باتیں مصلحت اب ہے اسی میں ”سبھی اچھا“ کہیے بس تعلق ہے مفادات کی حد تک سب کا اب جو کہیے تو یہاں پر کسے اپنا کہیے اصطلاحاً میں جسے کہتا ہوں صحرا میں سراب آپ چاہیں تو اسے شوق سے دریا کہیے مرکزِ شعر کی تشریح بھی کر دیجے، جناب! پھر بصد شوق مجھے شاعرِ رسوا کہیے یہ بھی کیا کم ہے تعلق کا ہے پہلو کچھ تو خود کو گل کہیے مجھے شوق سے کانٹا کہیے